The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-03-17 10:40:46

maqalay

maqalay

‫کہتے ہیں حیضرت فاروق رضی ا تعالی عنہ فرمایا‬
‫کرتے تھے۔ کہ یہ دولت انسان کو یا تو بالکل خدا کے‬
‫نزدیک کر دیتی ہے یا خدا سے بہت دور لے جاتی ہے۔‬
‫یعنی اگر دولت کو جس طرح کہ باری تعالی کا حکم‬
‫ہے کہ لن تنالو البرحتی تنفقوا جو کجہ تمہارے پاس‬
‫ہے ا کی راہ میں خرچ کرو اور غریبوں۔ مسکینوں۔‬
‫بیکسوں۔ لوارثوں پر ۔۔۔۔۔ دولت سے ۔۔۔۔۔۔ احسان کرو‬

‫تو تم ا کے نزدیک ہو جاؤ گے۔‬
‫ان ا یحب المحسنین ا تعالی احسان کرنے والوں‬
‫سے محبت کرتا ہے۔ اور اگر تم نے اس دولت کو ا‬

‫کی مرضی کے برعکس کیا اور اس کو فضول‬
‫خرچیوں میں اڑا ڈال تو ان ا ل یحب المسرفین فضول‬
‫خرچ کرنے والوں سے ا تعالی ہرگز محبت نہیں کرتا‬
‫تو معلوم ہوا کہ واقعی یا تو دولت ایک سیڑھی ہے کہ‬
‫اس کے ذریعے آدمی خدا تک پہنچ سکتا ہے۔ اور یا یہ‬
‫ایک آگ ہے کہ اپنی کشش سے اپنے مقام دوزﺥ تک‬

‫لے جاتی ہے۔ فاعتبروایا اولی البصار‬
‫ص‪101‬‬

‫کہے چار دیہاڑے ایہہ موج والے اگا ویکھیا نہیں‬
‫کسے جا میاں‬

‫ایسے خیالت والے لوگوں سے ا تعالی پناہ دے۔ یہ‬
‫لوگ دراصل خدا کے احکام کو جھٹلنے والے رسول‬

‫کے فرمان سے روگردانی کرنے والے قرآن اور حدیث‬
‫کو نہ ماننے والے اور بالکل درست معنوں میں اخوان‬

‫الشیاطین ۔۔۔ شیطان کےبھائی ہوتے ہیں۔‬
‫ہم ا کے بندے ہیں نبی کریم صلی ا علیہ وسلم کی‬
‫امت ہیں۔ ا تعالی نے محض ہماری بھل اور رہنمائی‬
‫کے لیے قرآن مجید کو اتارا اور فرمایا ذالک الکتاب ل‬
‫ریب فیہ یعنی اس کتاب میں کوئی ایسی چیز نہیں جس‬
‫پر شک کیا جائے والذین یومنوں باالغیب ایماندار ہیں‬
‫جنہوں نے میری بتائی ہوئی باتوں کو بغیر دیکھے‬
‫اور سوچے تسلیم کر لیا۔اولئک ھم المفلحون وہی لوگ‬
‫ہیں جن کو ہم فلح و بہبودی اور نجات دے دیں گے۔‬
‫ا باری عزاسمہ کا فرمان ہے فاتقوالنار التی وقودھا‬
‫الناس والحجارتہ اعدت للکفرین ڈرو اس دوزﺥ کی آگ‬
‫سے جس میں آدمی اور پتھر ڈالے جائیں گے اور یہ‬
‫کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ بعض آدمی جنھوں‬
‫نے ا کے اور فرمان رسول سے منہ موڑا۔ پتھر وہ‬
‫جن کی لوگوں نے پوجا کی۔ یہی کافر کا لفظ اس حدیث‬
‫میں موجود ہے من ترک الصوتہ متعمدا فقد کفر یعنی‬
‫جس جان بوجھ کر نماز ترک ڈالی وہ کافر ہو گیا۔۔۔۔۔اور‬
‫کافر کا مقام دوزﺥ ہے ۔۔۔۔۔۔۔اور رسول کا فرمان بھی‬
‫خدا کا فرمان ہے۔ پہلے کہیں لکھا جا چکا ہے کہ من‬

‫یتبعوالرسول فقد اطاع ا۔ یعنی جس کو ا کی‬
‫تابعداری کرنی منظور ہے وہ پہلے رسول ا صلی ا‬

‫علیہ وسلم کی تابعداری کرے۔ کیا نبی نے معراج کے‬
‫دن دوزﺥ و بہشت نہیں دیکھا اور ہم کو اس کی جزا و‬

‫سزا سے آگاہ نہیں فرمایا۔ پس جان اس قسم کے‬
‫کلمے کہنے والے لوگ کافر اور دوزﺥ کا بالن ہیں۔ ان‬

‫سے بچو یا انہیں بچاؤ۔‬
‫ص‪104‬۔‬

‫منع گوشت کھانا بھائی دا‬
‫بھائی دا گوشت کھان تھیں مراد کسے آدمی دی چغلی‬

‫بخیلی کرنا ہوندی اے۔‬
‫ص ‪118‬‬

‫اول جان اسلم تے قائم ہونا فطرت جان اسلم انسان‬
‫پیارے‬

‫فطرتہ ا التی فطرالناس علیہا ل تبدیل لکلمتہ ا‬
‫انسان ا ہی کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور ا کی‬
‫باتیں تبدیل نہیں ہوا کرتیں ۔۔۔۔قرآن مجید ۔۔۔۔۔۔ کل مولود‬
‫یولد علی فطرتہ فابواہ یھودایہ اوینصرنہ او یہجنسادنہ‬
‫ہر ایک انسان اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔جو ا‬
‫نے بنا دی اور وہ اسلم ہے کیونکہ دنیا کا سب سے‬
‫پہل انسان ۔۔۔۔۔آدم علیہ السلم۔۔۔۔۔ مسلمان پیدا کیا اور‬
‫اس کے بعد کل بنی نوع اپنے قدیمی والد۔۔۔۔ آدم ۔۔۔۔۔ کی‬
‫اولد کہلتے ہیں چونکہ آدم علیہ السلم کی فطرت‬

‫اسلم تھی اس لیے ہر ایک پیدا ہونے وال آدم کی‬
‫فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد اوس کے والدین‬

‫اس کو یہودی یا نصاری بنا دیتے ہیں۔‬
‫سب سے پہلے ا تبارک تعالی نے آدم علیہ السلم کو‬
‫اپنی قدرت کاملہ سے پیدا کیا۔ باقی بنی نوع انسان آدم‬
‫کی اولد کہتے ہیں چونکہ آدم علیہ السلم کو ا نے‬
‫اپنی فطرت پر پیدا کیا تھا اس لئے آدم کی فطرت ا‬
‫ہی کی فطرت ہے اور چونکہ ا کی فطرت اسلم ہے‬

‫اس لئے آدم کی فطرت بھی اسلم ہی ہو سکتی ہے‬
‫چونکہ ہر پیدا ہونے والے کی فطرت اول اسلم ہی‬
‫ہوتی ہے اسی لئے وہ پہلے پہل گناہوں سے پاک و‬
‫صاف کہلتا ہے۔ پھ ہوش آنے کے بعد مجلسی فطرت‬
‫اس میں آتی ہے۔ یا تو وہ یہودی بن جاتا ہے۔ یا دہریا۔‬

‫یا ہندو وغیرہ‬
‫ص‪129‬‬

‫اک امی یتیم تے جنگل دا واسی کیتا نظر منظورسرکار‬
‫پیارے‬

‫امی ناخواندے آدمی کو بھی کہتے ہیں۔ مگر عام طور‬
‫پر یہ لفظ نبی کریم صلی ا علیہ وسلم کے متعلق‬
‫مشہور ہے۔ نیز نبی کریم صلی ا علیہ وسلم کو امی‬

‫اس لئے بھی کہتے ہیں کہ آپ مکہ شریف کے رہنے‬
‫والے ہیں اور مکہ مکرمہ کو ام القری بھی کہتے ہیں۔‬

‫قری پنڈ کو کہا جاتا ہے۔ یا تو یہ تمام پنڈوں اور گاؤں‬
‫کی ماں ہے اور یا یہ کہ حضرت فاطمتہ الزہرہ رضی‬
‫ا عنہا چونکہ تمام مومنین کی ماں ہیں اور آپ مکہ‬

‫شریف کی رہنے والی ہیں اس لئے مکہ کا نام ام‬
‫القری ہو گیا یعنی ماں کے رہنے وال گاؤں یا پنڈ اسی‬
‫لحاظ سے نبی عالم صلی ا علیہ وسلم کو امی کہا‬

‫جاتا ہے یعنی ام القری کے رہنے والے۔‬
‫ص‪131‬‬

‫واہ فقیرئے کرم بخشا اصلی بھید نؤں گئے چھپا شاہا‬
‫کہتے ہیں کہ فقر تین حروف سے بنتا ہے ف ق اور ر‬
‫سے اور فقر کا دعوی میں تین اوصاف ہونے ضروری‬
‫ہیں۔ فقر وہ جو فاقہ کا عادی ہو۔ اگر کچھ کھانے کو‬

‫مل گیا تو چند لقمےکھا لئے ورنہ کسی کے آگے‬
‫سوال نہ کرئے۔کیونکہ طاقت اور ہمت ہوتے ہوئے جو‬
‫آدمی سوال کرتا ہے قیامت کے روز اس کے منہ پر‬
‫گوشت نہ ہو گا بلکہ مردے کی طرح ہڈیاں ہی ہونگی‬
‫یہی سبب ہے کہ گداگر خدا کے ہاں مقبول نہیں ہوتے۔‬

‫فقیر کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ میری قسمت‬
‫بہرحال مجہکو مل کر ہی رہے گی اسی لئے وہ دست‬
‫سوال دراز نہیں کرتا ہر وقت ا کی یاد میں مشغول‬
‫رہتا ہے۔ اور ا ہی کے حکم کی تابعداری اس کا پیشہ‬
‫ہوتا ہے جب وہ ا کا ہو جاتا ہے تو ا اس کا ہو جاتا‬

‫ہے کیونکہ شیخ سعدی کا مقول ہے کہ‬
‫تو ہم گردن از حکم دارد ہیچ کہ گردن نہ‬
‫پیچد ز حکم تو ہیچ‬

‫یعنی تو خدا کے حکم سے گردن نہ پھیر اور کوتاہی نہ‬
‫کر۔ اورتیرے حکموں سے کوئی روگردانی نہیں کریگا۔‬

‫دیکھئے خلقت فقیر کی تابع فرمان ہو گی جو ا کا‬
‫تابع فرمان ہو گا۔ فقیر ا کے فرمان کے ماتحت اور‬
‫نبی کریم صلی ا علہ وسلم کے نقش قدم پر چلتا ہے‬
‫شریعت کا پابند ہوتا ہے غیر شریعت باتوں سے دور‬
‫رہتا ہےبرعکس آجکل کے فقرا کے کہ نام کے فقیر‬
‫ہیں بھنگ وغیرہ پر بھیک مانگنے سے اور بےہوش‬

‫پڑے رہنے سے تعلق اور بس‬
‫فقر کے ق سے قناعت مراد ہے یعنی اگر مل گیا تو‬
‫الحمد ل اور اگر کئی دن تک نہ مل تو صبر ہے اور‬
‫جو مل اسی پر قناعت ہے۔ نہ ملنے پر ذکر ربانی ہی‬
‫ان کی غذا بنا رہتا ہے۔ دوکان دوکان اور گھر کی خاک‬

‫چھانے سے انہیں سخت نفرت ہوتی ہے‬
‫فقر کا تیرا حرف ر ہے جس سے مراد ریاضت ہے۔‬
‫یعنی اگر ا کی اپنی دی ہوئی نعمت سے کچھ حصہ‬
‫مل وہ کھایا اور ذکر میں مشغول ہو گئے یا ا کی پیدا‬
‫کی ہوئی مخلوق کے بگڑے کام سنوارنے پر کمر باندھ‬
‫لی اور جہاں کہیں کسی کا کام بگڑتا دیکھا وہیں جا‬
‫گھسے یا کسی کو کسی مصیبت میں پھنسا دیکھا تو‬

‫اس کے دوست بن گئے اور اپنے ا کے فضل سے‬
‫مصیبت کو ٹال دیا۔ نہ تکیہ اور دارا کے فقیر کی طرح‬
‫کہ مانگ کر لئے کھایا اور خواب خرگوش میں پڑے‬
‫ہیں خوائے کوا آنکھ نکال کر لے جائے انہیں دنیا و‬
‫مافیہا کا کچھ پتہ نہیں۔ کھانا زندہ رہنے کیلئے ہے اور‬

‫زندہ رہنا ا کی عبادت کیلئے ہے نہ یہ کہ کھانا‬
‫صحت کیلئے اور صحت بھیک مانگنے کیلئے۔‬
‫یہاں ایک اور سوال پیدا ہو گیا یعنی عبادت وما خلقت‬
‫الجن و النس ال لیعبدون یعنی ا نے آدمی اور جنوں‬
‫کو عبادت کے لئے پیدا ہے۔۔۔۔۔ یہاں یہ ڈر لگتا ہے کہ‬
‫کہیں مجھ پر وہابی یا لمذہبی کا فتوی نہ لگ جائے ا‬
‫تعالی محفوظ رکھے۔۔۔۔۔ نماز کا پڑھنا۔ روزہ کا رکھنا۔‬
‫حج کرنا۔ زکواتہ دینا عبادت نہیں۔ بلکہ یہ احکام الہی‬
‫فرضیت کا دعوی رکھتے ہیں جو ان چیزوں سے‬
‫روگردانی کرتا ہے وہ کفر تک جا پہنچتا ہے جس کے‬
‫لئے خدائی جیل خانہ یعنی جہنم تیار ہے۔ عبادت اس‬
‫چیز کا نام ہے جس کیلئے ا تعالی نے تاکیدی حکم‬
‫نہیں دیا۔ نفل پڑھنا۔ غریب کی نگہداشت کرنا مخلوق‬
‫خدا کی ہمدردی۔ خلق۔ پنچگانہ کے علوہ نمازیں‬
‫پڑھنا۔ اپنے بچوں کی پرورش اس نیت سے کرنا۔‬
‫مسجد کی حفاظت و نگہدشت رکھنا۔ مسافروں کے آرام‬
‫کیلئے سرائے یا کنواں بنانا وغیرہ اس قسم کے‬
‫کاموں کا نام عبادت ہے وا اعلم بااصواب سید محمد‬

‫حسین شاہ مشتاق عرف شاہ جی کاتب‬
‫ص‪136‬‬

‫اپنا اٹھا نہ سکے ضامن بنے لوکائیدا‬
‫یہ غالبا امام مسجدوں کی طرف اشارہ ہے۔ کہ خود تو‬

‫بیچارے سراپا گناہوں سے بھرپور ہوتے ہیں اور‬
‫دوسروں کی وکالت کرنے کے لئے امام بن جاتے ہیں۔‬
‫خود گناہ کرتے ہیں اور دوسرونکو ہدایت کرتے ہیں۔‬

‫خود یتیموں کا مال کھاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اگر کوئی آدمی‬
‫چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ کر مر جائے تو بچے یتیم‬
‫ہو گئے اور گھر کی جائیداد میں ان کا حصہ ہوتا ہے۔‬

‫اور انکی ماں یا ان کا کوئی بڑا بھائی اس مشترکہ‬
‫جائیداد سے تیسرے ساتے اور چالیسویں وغیرہ‬
‫کرتے ہیں اس طرح بڑوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے‬
‫یتیموں کا حق بھی جاتا ہے جسکو عام لوگ عموما‬
‫اور ملں لوگ خصوصا بڑے مزے اور دلچسپی سے‬
‫ہضم کر جاتے ہیں۔ اسمیں بعض عالم ربانی مستثنے‬
‫ہیں کہ وہ اس قسم کے مال کے نزدیک تک نہیں‬
‫جاتے۔۔۔۔۔۔ اور لوگوں کو اس سے منع کرتے ہیں۔ خود‬
‫تو حرام کھانے ہیں۔۔۔۔۔ جوا کھیلنے والوں کی کمائی‬
‫حرام رشوت لینے والے کی کمائی حرام شراب بیچنے‬
‫والے بھنگ چرس وغیرہ بیچنے والے کی کمائی حرام‬
‫ہوتی ہے اور ملں لوگ ان کے ہاں کا کھانا بغیر کسی‬

‫ملل کے چٹ کر جاتے ہیں اور حرام خور بن جاتے‬
‫ہیں وغیرہ۔۔۔۔۔ اور لوگوں کو حرام سے بچنے کی تلقین‬

‫کرتے ہیں۔ خود تو عیب جوئی اور بخیلی کرے میں‬
‫ذرا شرم نہیں کرتے لیکن عوام کو منع کرتے ہیں۔ ا‬

‫تعالی محفوظ رکھے‬
‫دوسرا اشارہ غالبا پیروں کی طرف ہے۔ یہاں پیروں کا‬
‫مختصر حال بیان کرنا بےجا نہ ہو گا۔ پیر کے معنی‬
‫ہیں پرہیزگار۔ پارسا اور بزرگ۔ لیکن پنجاب میں جہاں‬
‫کی آب و ہوا۔ تمدن۔ اخلق۔ ذہنیت۔ خیالت کچھ دوسری‬
‫دنیا سے نرالے ہیں بعض بعض الفاظ کے معنی بھی‬
‫نرالے ہیں۔ یہاں پیر کے معنی پیروں وال لئے جاتے‬
‫ہیں جو سفر کرنے وال ہو اسکو پیر کہا جاتا ہے۔ یا‬
‫جو لوگوں کو اپنا خادم بنائے اس کو پیر کہا جاتا ہے۔‬
‫ہندوستان کی زمین عموما پنجاب کی زمین خصوصا‬
‫اپنی ذرخیزی کے لحاظ سے ثانی نہیں رکھتی اور ایک‬
‫سال میں کئی کئی فصلیں دیتی ہے اسی ذرخیزی کی‬

‫برکت سے پیر بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس خطہ ۔۔۔۔۔‬
‫منطقہءپیراں۔۔۔۔ میں پیروں کی بہت سی قسمیں ہیں۔‬
‫سہ ماہی پیر۔۔۔ششماہی پیر ۔۔۔۔۔ سالنہ پیر۔ وہ پیر جو‬
‫تین ماہ کے بعد مریخ کی طرح گردش کرتے ہیں۔ اور‬
‫وہ پیر جو سال میں دو دفعہ زحل کی طرف دورہ کرتے‬
‫ہیں اور سال میں ایک دفعہ دورہ کرنے والے۔ یعنی‬
‫چھوٹے بڑے اور سب سے بڑے پیر۔ پھر اس میں‬

‫بہت سی قسمیں ہیں میراثیوں کے پیر۔ جولہوں کے‬
‫پیر۔ کشمیریوں کے پیر۔ لوہاروں۔ ترکھانوں۔ موچیوں‬
‫کے پیر۔ زمینداروں کے پیر۔ امیروں کے پیر وغیرہ‬
‫وغیرہ غالبا آپ مطلب نہ سمجھے ہوں۔ میراثیوں سے‬
‫مانگنے والے۔ جولہوں سے مانگنے والے۔ موچیوں‬
‫سے مانگنے والے پیر ان کے مانگنے کی بھی کئی‬

‫قسمیں ہیں زکواتہ مانگنے والے۔ صدقہ مانگنے‬
‫والے۔ خیرت مانگنے والے۔ گیارہویں مانگنے والے‬
‫اور اپنی شرنی یعنی نیاز مانگنے والے۔ کون۔ پیر۔‬
‫گیارہویں مانگنے والے پیر ہر قمری ماہ کی ‪ 5-4‬کو‬
‫نکلتے ہیں۔ اور مریدوں کو کہتے پھرتے ہیں کہ اگر‬
‫تم نے گیاہویں دینی ہے تو لؤ ہم خو پکا دیں گے۔۔۔‬
‫اپنے بچونکو۔۔۔۔۔ صدقہ خیرات اور نذر نیاز لینے والے‬
‫پیر عموما چار پانچ ماہ کے بعد دورہ شروع کرتے‬
‫ہیں اور کہتے ہیں کہ۔ لؤ بھائی کوئی صدقہ یا خیرات‬
‫یعنی کوئی منت میں مانی ہوئی اور نیاز مانی ہوئی‬
‫تمہاری طرف سے ہم پکا دیں گے۔۔۔۔دینگے کسکو۔۔۔۔‬
‫بعض صرف زکوتہ ہی لینے نکلتے ہیں اور سال کے‬
‫بعد نکلتے ہیں۔ یہ پیر اپنے پاک مکام سے صرف‬
‫لینے کے لئے ہی آتے ہیں اور جب تک کچہ مل نہ‬
‫جائے واپس نہیں ہوتے برابر غریب کی دہلیز پکڑے‬
‫رہتے ہیں نہ نماز سے سروکار۔ نہ کسی نیک کام سے‬
‫واسطہ۔ اگر تعلق ہے تو اپنی نیاز سے اور گھر پر‬

‫کبوتر بازی۔ مرغ بازی۔ اور کئی قسم کی اور بازی‬
‫سے اور شوق اور ہوس یہ کہ حلقہءمریداں فراﺥ ہو‬
‫اور خوب آمدن ہو یہ سلسلہ بعیت بہت مشکل ہے۔ اس‬
‫کے معنی ہیں کسی کا ضامن بننا جیسا کہ منشی کرم‬
‫بخش رح نے فرمایا۔ دنیا کے مصائب سے نجات دلنا‬
‫اور نیکی کی رغبت دل کر عاقبت کو سرخرو کرانا۔‬
‫اور جنت دلنا۔ اور یہ اوپر والے پیر بھل نیکی کو کیا‬
‫جانیں۔ خود کبھی کی نہیں دوسرونکو ہدایت دی نہیں۔‬
‫اسی لئے مصنف نے کہا ہے کہ تو اپنا بوجھ اٹھا نہیں‬

‫سکتا دوسروں کا ضامن کیوں بنتا ہے۔‬

‫پیر جو واقعی پیر ہیں وہ اول تو اپنا حلقہ مریداں اتنا‬
‫وسیع نہیں کرتے اور اگر کسی کو مرید کریں بھی تو‬
‫اس کے پوری طرح محافظ ۔ ضامن بنتے ہیں وہ مرید‬
‫کو یہ نہیں پوچھا کرتے تیرا نام کیا ہے میں بھول گیا‬
‫ہوں۔ توں کہاں سے آیا ہے۔ کب سے مرید ہوا ہے۔‬
‫بلکہ ان کے فیض نورانی کی شعائیں سورج کی کرنوں‬
‫کی طرح سب مریدوں پر بیک وقت اور یکساں پڑتی‬
‫ہیں۔ کسے کے ہاں جا کر مانگتے نہیں۔ اور اگر کہیں‬
‫جانا بھی پڑ جائے تو کھانا بڑی تحقیق کے بعد تناول‬
‫فرماتے ہیں ان کو گوشت۔ پلؤ سے پرہیز ہوتا ہے‬
‫نفس کی بجائے روح کو تازہ رکھتے ہیں۔ ہمیشہ ذکر‬

‫الہی کی یاد میں مصرف رہتے ہیں۔‬

‫سید محمد حسین شاہ مشتاق‬
‫ص‪153‬‬

‫تشبیہ رب دی دیہہ نہ غیر تائیں صفت کر رب غفار‬
‫پیارے‬

‫ل یضرب ا المثال یعنی ا کے ساتھ کسی کو تشبیہ‬
‫مت دو۔ کسی پیر یا بزرگ کا حد سے زیادہ اعتقاد‬

‫رکھنے والے بعض جہل اکثر ایسا کرتے ہیں‪ .‬مثل یہ‬
‫کہدیا کہ جس طرح خدا اپنی شان و صفات میں واحد‬
‫ہے اسی طرح یہ ۔۔۔۔بزرگ یا پیر۔۔۔۔ بھی اپنی مثال یا‬
‫ثانی نہیں رکھتے۔ کسی بزرگ نے چلہ میں اناج کھانا‬
‫چھوڑ دیا تو جاہل معتقد کہہ دیتے ہیں۔ کہ یہ ا کے‬
‫نیک بندے ہیں۔ ا بھی نہیں کھاتا۔ یہ بھی کچھ نہیں‬

‫کھاتے۔ یا کوئی جاہل بزرگ بننے کا شوقین شب‬
‫بیداری کرے تو کہتا ہے کہ چونکہ میرا ا نہیں سوتا‬
‫ہم بھی نہیں سوتے۔ اس قسم کے کلمات خدا کے سات‬
‫مقابلے میں آتے ہیں لہذا یہ کلمے کہنا یا کوئی ایسا‬
‫اور کلمہ کہہ دینا کفر تک پہنچا دیتا ہے اس لئے خدا‬
‫کا کوئی ثانی نہیں۔ اسی لئے ارشاد ہوا کہ ل یضرب‬

‫ا المثال ص‪155‬‬
‫نیکی بدی کولوں کیتا خوب واقف کیتا تدوں انسان‬

‫اعتبار سائیں‬
‫قدتبین الرشد من الغنیی فمن یکفر باالطاغون فیومن‬

‫باا ہم نے انسان کو نیکی اور بدی سے واقف کر دیا‬
‫ہے اب جس کی مرضی ہو نیکی اختیار کرے اور جس‬

‫کی مرضی ہو بدی اختیار کرے‬
‫ص‪167‬‬

‫مردہ دین آ زندہ کیتا پیر محبوب الہی‬
‫حضرت کے متعلق مشہور ہے کہ آپ نے ایک دفعہ‬
‫ایک برات کے ڈوبے ہوئے بیڑے کو گیارہ برس کے‬
‫بعد دریا سے باہر نکال۔ حالنکہ معتبر کتابوں میں ہے‬
‫کہ آپ نے دین کے ڈوبے ہوئے بیڑے کو باہر نکال‬

‫اور دین محمدی زندہ کیا۔‬
‫ص‪171‬‬

‫عاشق سوئی جو موت بن فوت ہووے زندہ رہن دا‬
‫دبول دہیان ہووے‬

‫موالوا قبل انت موتوا موت آنے سے پہلے مر جاؤ‬
‫ص‪177‬‬

‫کرم چھوڑ نماز رواج سندی نائیں اس تھیں بری دوکان‬
‫ہووے‬

‫رواجی نماز دکھاوے کی نماز کو کہا گیا ہے جو کہ‬
‫صرف اس نیت سے پڑھی جاوے کہ لوگ مجھے‬
‫نمازی اور پارسا سمجہیں۔ لیکن یو یہ یاد رہے کہ دنیا‬
‫و عاقبت کیلئے اس سے بڑھکر بری دوکان اور کوئی‬

‫نہیں‬
‫کل بیحیائی نوں روکدی اے جیکر رب دا خوف دہیان‬

‫ہووے‬
‫نماز کا اصلی مقصد یہ ہے کہ انسان برے کاموں سے‬
‫بچے۔ ظاہری اور باطنی پلیدی سے پاک ہو کر ا کے‬
‫درگاہ میں حاضر ہو۔ جب یہ ظاہری پلیدی سے پاک ہو‬

‫کر دل کو پاک کرنے کی غرض سے ا کےحضور‬
‫میں جائے گا تو اک نور مسرت حاصل کرے گا جس‬
‫کی لذت دنیا میں نہیں مل سکتی۔ اس لذت کو دوبارہ‬
‫حاصل کرنے کی خاطر دل میں حب رکھیگا اور برے‬
‫کاموں سے بچتا رہے گا اسی لئے فرمایا ان الصوتہ‬
‫تنھی عن الفحشاء وامنکر یعنی حقیقی نماز انسان کو‬

‫برے کاموں سے بجاتی ہے‬
‫ص‪184‬‬

‫دیکے رب بہشت خرید کیتو توں غلم عاجز بولنہار‬
‫ناہیں‬

‫ان ا اشتری من المومنین انفسھم واموالھم بان لھم‬
‫لجنتہ یعنی ا جل جلل نے مومنین کی جانیں اور مال‬
‫جنت کے عوض خرید لیا ہے۔ سبحان ا کیسی عجیب‬

‫خوشخبری ہے کہ ا تعالی نے ہم سے یہ سودا کیا‬
‫ہے کہ تم اپنی جانیں اور مال ا کے سپرد کر دو اور‬
‫ا سے جنت لے لو۔ اور دائمی خوشی اور مسرت اور‬

‫بےفکری کے مالک بن جاؤ۔‬
‫آپ کو معلوم ہو گا۔ کہ پہلے زمانے میں نبی اکرم صلی‬

‫ا علیہ وسلم فداہ ابی امی کے مقدس زمانہ میں بھی‬
‫غلم خریدتے کا رواج عام تھا۔ غریب لوگ اپنی جانیں‬
‫اور مال امیروں کے ہاتھ کچھ پیسے یا روپے لیکر‬
‫بیچ دیتے تھے اور وہ غلم تازیست اپنے مالک کے‬
‫پاس رہتا۔ مالک کا کام بغیر تنخواہ کے کرتا۔ یا مالک‬
‫اسے کہیں مزدوری یا تجارت وغیرہ کیلئے بھیجتا تو‬
‫وہ اپنی حاصل کردہ مزدوری یا تجارت کا نفح ل کر من‬
‫وعن مالک کے حوالے کر دیتا۔ اور اس میں سے کچہ‬

‫نقدی وغیرہ اپنے پاس رکھنے یا اپنے لوحقین کو‬
‫دینے کا مجاز نہ ہوتا۔ مالک اس سے جب چاہتا کام‬
‫لیتا۔ جو چاہتا کام کراتا۔ سخت سردی اور بارش یا برف‬
‫کے موسم میں اور شدت کی گرمی کے دنوں میں رات‬
‫ہو یا دن چاندنی ہو یا اندھیرا خواہے کیسا بھی موسم‬
‫ہوتا غلم کو انکار کی گنجائش نہ ہوتی۔ مالک کو‬
‫اختیار ہوتا کہ اس کی بیماری کو ملحوظ رکھے یا نہ‬
‫رکھے۔ اچھا کھانہ دے یا خراب حتی کہ مالک کو کسی‬
‫کام کے کرانے کی رکاوٹ نہ ہوتی اور غلم کو انکار‬

‫کی جگہ نہ ہوتی۔‬
‫مثال کے طور پر گو یہ مثال یہاں اچھی نہیں مگرعوام‬

‫کو سمجہانے کے لئے خوب کام دے گی۔ آپ اپنے‬
‫جانوروں کو دیکھئے۔ آپ جب چاہیں ہل جوتیں۔ کوئیں‬

‫میں جوتیں کولہو میں لگائیں۔ گاڑی میں باندھیں۔‬
‫ماریں پیٹیں۔ چارہ اچھا دیں یا برا۔ سردی میں کام لیں‬

‫یا گرمی میں بوجھ لدیں یا سواری کریں ذبح کریں یا‬
‫کچہ بھی اور جسیا بھی چاہیں ان سے کام لیں انہیں‬
‫عذر کی گنجائش۔ بیٹا اپنے باپ کے سامنے ایک وقت‬
‫انکار کر سکتا ہے۔ ملزم غیر حاضری کر سکتا ہے‬
‫اور ایک وقت کام سے انکار بھی کر سکتا ہے۔ لیکن‬
‫غلم ایک منٹ کیلئے نہیں۔ بلکہ ایک لمحہ بھر کیلئے‬
‫بھی اپنے مالک سے سرتابی نہیں کر سکتا کیونکہ وہ‬
‫خریدا ہوا ہوتا ہے۔ بکا ہوا ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے‬
‫کہ رحم دل آقا یا مالک غلم سے سخت کام نہ لے۔ اور‬
‫یہ عموما ہوتا ہے کہ رحم دل مالکوں کے غلموں کو‬
‫کئی قسم کی سہولتیں ہوتیں۔۔۔۔۔ بشرظیکہ وہ سچے‬
‫غلم اور مالک کے حکم کو بخوشی و بطبیت کے‬
‫خاطر ماننے والے ہوتے یہی نہیں بلکہ دیکھا گیا کہ‬
‫اس قسم کے غلم اکثر فوج کے علم بردار ہوتے۔ سپہ‬
‫سالر ہوتے۔ بلکہ بادشاہ وقت بھی ہوتے۔ اور یہ باتیں‬

‫آپ صرف کہانی یا وعظ نہ سمجہیں بلکہ اسلمی‬
‫بادشاہوں کی تاریخوں میں پڑھئے۔ خلفائے راشدہ کی‬
‫سوانح حیات ملحظہ کیجئے آپ کو یہ سب کچھ مل‬
‫جائیگا کہ برے غلم ہمیشہ تکلیف مصیبتوں میں رہے‬
‫اور بھلے غلم تخت شاہی پر جلوہ افروز نظر آئے اور‬
‫شننشاہ نظر آئے۔ وتعز من تشاء و تزل من تشاء۔ بعینہ‬
‫یہی حال آپ کا اور ا تعالی کا ہے۔ ا تعالی نے آپ‬
‫کو خریدا ہوا ہے ۔۔۔۔۔ مگر ہاں بھئی ایک فرق ہے۔ اور‬

‫وہ یہ غلموں کے مالک ان کو خرید کر ان کے‬
‫لواحقین کو پیسے دیتے تھے۔ اور یہاں کون لواحق۔‬
‫بیٹے بھی غلم والدین بھی غلم تو دام کسے دئے‬
‫جائیں۔ یہاں ان داموں کے مالک خود غلم ہی ہیں۔‬
‫مگر بھئی سوچو تو ا ہمیں تھوڑی سی محنت اور‬
‫اس کی اپنی دی ہوئی جان کے بدلے ہمیں دیتا کیا ہے۔‬
‫بہشت جیسی بےبہا نعمت۔ روپیہ پیسہ فانی چیز نہیں‬
‫بلکہ ہمیشہ کے لئے باقی رہنے والی اور مسرت دینے‬
‫والی عیش و عشرت کرنے والی۔ خدمتیں۔۔ اور ا‬
‫اکبر۔ ا کا دیدار کرانے والی۔ کیا۔ بہشت بھائی بہشت۔‬
‫بہشت جانتے ہو کسے کہتے ہیں۔ نام ہے ایک باغ کا‬
‫جس میں ہمارے لئے خدمتگار موجود ہیں۔ طرح طرح‬
‫کے میوے اور شربت و شہد کی نہریں موجود ہیں‬
‫جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے اور یہ ایک فضول بات‬
‫نہیں بلکہ یہ ایک ہو کر رہنے والی بات ہے۔ ہاں تو‬
‫ہماری جانیں اور مال تو لے لیا ا نے اور ہمیں بنا لیا‬
‫غلم اب ہمیں ا کہتا کیا ہے۔ کرنا کیا ہے۔سنئے! ا‬
‫کا سب سے پہل حکم اتکم الرسول فخذہ اور اطیعوا‬
‫و رسول۔۔۔۔۔ یعنی ا اور اس کے رسول کی اطاعت‬

‫کرو اور جو کچہ رسول کھے اس کا کہا مانو۔‬
‫اقیموالصلوہ۔ نمازیں پڑھو واتوالزکوتہ زکوتہ دو۔ فاما‬
‫الیتلیم فل تقھر یتیم کو برا نہ کہو اور نہ ذلیل سمجہو۔‬
‫امانت میں خیانت نہ کرو۔ جوٹ بول کر ا کی لعنت نہ‬

‫لو۔ وقولواقولسدید جو منہ سے نکلے اچھی نکلے۔‬
‫یصلح لکم اعمالکم اچھے کام کرو۔ یغفر لکم ذنوبکم‬
‫تمہاری بھول کر کی ہوئی غلطیاں ا معاف کر دے گا۔‬
‫ومن یطع ا ورسولہ اور اگر تم اسی طرح ا اور اس‬
‫کے فرمانبداری کرتے رہے توفقد ناز فوزا عظیما ا‬
‫تمہاری شان اور عزت بلند کر دے گا۔ اور عجیب نہیں‬
‫کہ تمہیں بھی فوج کا سالر یا بادشاہ بنا دے۔ اور‬
‫لیکلف ا نفسا ال وسعھا اور ا تعالی کسی کو اس‬
‫کی ہمت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اور یہ سب انعام‬
‫فرمانبردار بندوں کیلئے ہیں۔ ظالموں سے ا تمہیں‬
‫بچا رکھے گا کیونکہ وہ بہترین نگہبان ہے۔ اور دین و‬
‫دنیا کی راحتیں اور مسرتیں صرف نیکوکاروں کے‬

‫لئے ہیں۔ فاعتبروایااولی الصبار‬
‫ص‪196-195‬‬

‫بےخیالی نماز ہووے خیال والی نہ پڑھن جیہی مندی‬
‫کار ہووے‬

‫ل صلوتہ ال بحضور قلب۔ یعنی جب تک دل کا رجوع نہ‬
‫ہو نماز نہیں ہوتی۔ جہل کا طبقہ جن کو کہ نہ کچھ علم‬

‫سے واسطہ ہے اور نہ نماز کا شوق اور نہ احکام‬
‫خداوندی کی پرواہ ۔ وہ نمازیوں کو اکثر یہ طعن دیا‬
‫کرتے ہیں۔ کہ میاں جب کہ تمہارا وجود نماز میں کھڑا‬
‫ہے اور دل تمہارا ادھر ادھر دنیا کی سیر کر رہا ہے‬

‫تو تمہیں نماز پڑھنے کا کیا فائدہ ۔ ایسی نماز سے نہ‬
‫پڑہنی بتر ہے۔ للیاذ باا کیا فضول بات ہے ذرا‬

‫سوچیے اور غور کجئے ‪ -1‬علماء کے اس طبقے کو‬
‫لیجئے جو کہ ہر قسم کے علوم سے مال مال ہوں۔ جب‬
‫وہ نماز پڑہیں گے اورنماز کے معنی کی طرف جائیں‬
‫گے تو پہلے وہ کہیں گے الحمد ل رب العمین۔ یعنی‬
‫اس ا کی تعریف جو کہ دوجہانوں کو پالنےوال نہیں‬

‫بلکہ دنیاومافیہا کی اٹھارہ ہزار قسم کی مخلوق کا‬
‫پالنے وال ہے۔ جب رب العلمین پڑھینگے تو یہ اٹھارہ‬
‫ہزار قسم کی مخلوق انکی آنکھوں کے سامنے آ لے‬
‫گی۔ اور جب الرحمن الرحیم تو یقینا ا کی رحمت اور‬
‫بخشش کا عدیم المثال سمندر ان کے سامنے ٹھاٹھیں‬
‫مارتا ہوا ہو گا۔ اور جب مالک یوم الدین پر آئیں گے‬

‫تو قیامت وہ دن ان کے سامنے ہوگا جس دن ا‬
‫عزاسمہ کی قدرت کامل برسر عدالت ہو گی کوئی‬
‫دوزﺥ میں جائیگا کوئی بہشت کی سیر کریگا۔ کوئی‬
‫گرمی آفتاب و عذاب جہنم اور جبروتی باری تعالی کے‬
‫خوف سے نفسا نفسی پکاریگا اور جنت کی خوشبوؤں‬
‫اور اس میں ا تعالی کے دیدار کے شوق میں امتی‬
‫امتی کی صدا بلند کریگا۔ اور آگے چل کر جب ایاک‬
‫نعبد و ایاک نستعین پر پہنچیگا تو اپنی عاجزی ظاہر‬
‫کرکے اپنے گناہ بخشانے اور فراﺥ دستی اور جنت‬
‫حاصل کرنے کی خاطر ا سے مد مانگے گا۔ اور‬

‫اھدناالصراط المستقیم یعنی سیدہے اور ہدایت والے‬
‫رستہ پر چلنے کیلئے توفیق مانگے گا اور درخواست‬
‫کریگا کہ صراط الذین انعمت علیہم کہ یا ا مجھے ان‬
‫لوگوں کے نقش قدم پر چلنے کی ہمت اور استطاعت‬

‫کہ جنہوں نے اس رستہ پر چل کر تیری خوشنودی‬
‫حاصل کی اور تو نے خوش ہو کر ان کو انعامات دئے‬
‫اس کے ساتھ ہی اس قسم کے مقرب الی ا لوگ اور‬
‫انکی فہرست سامنے آئیگی جن پر عزاسمہ خوش ہوا‬

‫یعنی اولیائے گراماور انبیاء عظام اور پھر یہ بھی‬
‫کہیگا کہ غیرالمضوب علیھم ولالضالین یعنی یا ا جن‬

‫ترا غضب ہوا مجھے ان میں سے نہ کرنا جیسا کہ‬
‫فرعون۔ نمرود۔ قوم نوح وغیرہ اور نہ مجھے انکا‬
‫ساتھی بنانا جو کہ گمراہ ہو گئے اور تجھے بھول‬
‫گئے۔ یہ سب باتیں کہہ چکنے کے بعد امین بھی کہیگا‬

‫یعنی یا ا میں نے جو کچھ کہا ہے میری ان‬
‫درخواستوں اور التجاؤں اور دعاؤں تو سن اور‬
‫منظور کر۔سوچنے کا مقام ہے کہ نماز میں یہ خیالت‬
‫نہیں تھے۔ نماز کیلئے آئے اور کہاں سے کہاں تک‬

‫پہنچے۔‬
‫‪2-‬‬

‫اس قسم کی اور مثالوں کو چھوڑ کر صرف یہ ہی‬
‫کافی ہو گی۔ کہ تم نے چار رکعت نماز کی نیت باندھی۔‬
‫اور یہ کیسے معلوم رہاکہ میں نے اب ایک رکعت پڑھ‬

‫لی۔ اب دو پڑھ لیں اب تین ہوئیں اب چار ہوئیں۔ اور‬
‫اگر نماز میں کہیں بھول گیا تو سہو کا سجدہ کیسے‬
‫یاد رہا۔ یا اگر امام کے ساتھ کسی التحیات پر مل تو‬
‫سلم کے بعد تمہیں اپنی باقی رکعتوں کی ترتیب کس‬
‫طرح یاد رہی کیا نماز میں خیال نہیں تو اور کیا ہے۔‬
‫میاں ادھر کے خیالت تو سکرات والوں کو نہیں آتے‬
‫لیکن اس حالت میں انہیں نماز ہی معاف ہے یہ یاد‬
‫رکھو کہ ہر ایک کام خیال سے ہوتا ہے۔ بیخیالی سے‬
‫کوئی کام سرانجام نہیں ہوتا۔ مگر ہاں! ایک بات ضرور‬
‫یاد رہے کہ لصلوتہ ال بحضور القلب یعنی نماز کے‬
‫وقت اگر خیالت آئیں تو اسی قسم کے ہوں کہ جیسا کہ‬
‫ذکر ہو چکا ہے کہیں اپنے بیل اور خچروں میں نہ‬
‫لگے رہنا اور دل کا رجحان پورا پورا ا کے حضور‬
‫میں کھڑے ہو کر اسی کی طرف رکھنا پھر آپکی‬
‫خیالوں بھرپور نماز بھی بےخیالی نماز ہو گی وا‬

‫اعلم باالصواب‬
‫ص‪216-215‬‬

‫منصور ہو مست الست عاشق اناالحق دا نام سنا گئے‬
‫اناالحق کے معنی بعض لوگ‪ ....‬مین خدا ہوں‪....‬‬
‫کرتے ہیں یہ غلط ہے بلکہ اس کے معنی کہ میں سچا‬

‫ہوں‬
‫ص ‪258‬‬

‫خاک سار نے گذشتہ اوراق میں دل کی نماز پڑھنے‬
‫والوں کے متعلق کچھ تحریر کیا تھا۔ یہاں بھی قریب‬
‫قریب وہی مصیبت ہے۔ مصنف علیہ الرحمتہ نے نماز‬
‫کو شریعت طریقت۔ حقیقت اور معرفت کے رنگ میں‬
‫اس طرح ڈھال ہے ۔ کہ چشم بینا متاثر اور قلب سلیم‬
‫مسخر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مصنف رحمتہ ا‬
‫علیہ نے نماز کو شریعت طریقت۔ حقیقت اور معرفت کا‬
‫مجموعہ ظاہر فرمایا ہے جسکو نہ تو آجکل کے عالم‬
‫جانتے ہیں اور نہ فقیر بلکہ فقیر تو ل تقرب اصلوتہ‬
‫کی ایسی افیم پیئے ہوئے ہیں کہ فسانہ آزاد کے ملں‬

‫خوجی بھی مات ہیں۔‬
‫نماز ا تعالی کا فرمان ہے اور نبی اکرم صلی ا علیہ‬

‫وسلم کا من بھاتا دستورالعمل۔ جس طرح روٹی کے‬
‫ساتھ اگر سالن۔ اچار۔ چٹنی پانی نہ ہو تو روٹی کا مزہ‬
‫نہیں آتا۔ بلکہ عام لوگ تو اسے کھاتے ہی نہیں اسی‬
‫طرح شریعت طریقت۔ حقیقت اور معرفت کی روٹی کے‬
‫لوازمات ہیں۔ شریعت کی نماز نیت کر لینے کے بعد‬
‫حقیقت طریقت اور معرفت کے زور سے اپنے پرگندہ‬
‫خیالت کو دور کرنا۔ اپنے آپ کو صحیح اور درست‬

‫طریقہ سے ا کے حضور حاضر کرنا۔ اور بارگاہ‬
‫ایزدی سے انعامات و اکرامات حاصل کرنے کے معنی‬
‫نماز ہیں اور شریعت طریقت۔ حقیقت اور معرفت کی‬

‫یہی نماز‬
‫ص‪322-321‬‬

‫حضرت سائیں سچل سر مست‬
‫کے پنجابی کلم کا‬

‫اردو کے تناظر میں مطالعہ‬

‫برصغیر کے عظیم ہفت زبان شاعر' عبد الوہاب‬
‫المعروف سچل سرمست ‪ 1739‬میں' خیر پور کے‬
‫گاؤں درازا میں پیدا ہوئے۔ سچل' سچے یا سچ بولنے‬
‫والے کو کہا جاتا ہے' جب کہ سرمست' مستی اور‬
‫جذب کی حالت والے کو کہا جاتا ہے۔ وہ علمی ادبی‬
‫اور تصوف کی دنیا میں' اپنے قلمی اور اختیاری نام‬
‫سچل سرمست سے ہی معروف ہیں۔ لڑکپن میں ہی' ان‬
‫کے والد انتقال کر گیے۔ دیکھ بھال کا فریضہ' ان کے‬
‫چچا نے انجام دیا' جو بعد میں ان کے روحانی پیشوا‬

‫ٹھہرے۔ ان کی شادی' ان کی کزن سے ہوئی' جو‬
‫صرف دو سال ساتھ نبھا کر ا کو پیاری ہو گیئں۔ اس‬

‫کے بعد انہوں نے شادی نہ کی۔‬

‫بچپن میں' انہیں حضرت شاہ عبد الطیف بھٹائی اور‬
‫کئی دوسرے صوفی شعرا سے' ملنے کا اتفاق ہوا۔‬
‫انہوں نے پہلی نظر میں' حضرت سچل سرمست کو‬
‫پہچان لیا اور کہا' یہ لڑکا اپنا کام مکمل کرے گا۔ آتے‬
‫وقتوں میں یہ کہا سچ ثابت ہوا۔ حضرت سچل سرمست'‬
‫اپنے گاؤں سے کبھی کہیں نہیں گیے' لیکن ان کا‬
‫سچائی اور روحانیت کا پیغام' خوش بو کی طرح' جگہ‬
‫جگہ پہنچا اور اپنے خوش گوار اثرات چھوڑتا رہا۔‬

‫حضرت سچل سرمست نے' بڑی سادہ زندگی گزاری۔‬
‫سادہ عادات کے مالک تھے۔ کبھی پرآسائش بستر پر‬
‫استراحت نہیں فرمائی۔ خوراک بھی' عام سی لیتے‬

‫تھے۔ پرتکلف غذا' ان کے لئے کوئی معنویت نہ‬
‫رکھتی تھی۔ غذا میں سوپ اور دہی پسند فرماتے‬
‫تھے۔ وہ موسیقی کے دلدادہ تھے۔ یہ ہی وجہ ہے' کہ‬
‫ان کے کلم پر موسیقیت کا عنصر غالب ہے۔ انہوں‬
‫نے ‪ 14‬رمضان المبارک ‪ 1829‬میں' نوے برس کی‬

‫عمر میں انتقال فرمایا۔‬

‫وہ سات زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ ان کا کلم‬
‫اردو' بلوچی' پنجابی' سرائیکی' سندھی' عربی اور‬
‫فارسی میں ملتا ہے۔ ان کا کلم' تصوف کے عناصر‬
‫سے لبریز ہے۔ اس تحریر میں ان کے پنجابی کلم کو'‬
‫اردو کے لسانیاتی تناظر میں دیکھنے کی ناچیز سی‬

‫سعی کی گئی ہے۔ ان کے کلم میں' چاشنی اور‬
‫شگفتگی کے ساتھ ساتھ شیفتگی' ورافتگی اور والہانہ‬

‫پایا جاتا ہے۔ عشق خدا کے ساتھ ساتھ' مرشد سے‬
‫محبت عروج پر نظر آتی ہے۔ ان کا کلم روح کو تازگی‬

‫اور روحانی حظ سے سرفراز کرتا ہے۔‬

‫حضرت سچل سرمست کے پنجابی کا اردو کے تناظر‬
‫میں‬

‫لسانیاتی مطالعہ‬

‫ان کے ہاں' بہت سے ایسے الفاظ استعمال میں آئے‬
‫ہیں' جو اردو میں اسی تلفظ اور معنوں کے ساتھ'‬

‫استعمال ہوتے آرہے ہیں۔ مثل‬

‫مونہہ وچ دو مہتاب نی روشن' یا وت نور کٹوریاں‬

‫خونی خون کرینداں سچل' تاں بھی سدا سگوریاں‬
‫‪.........‬‬

‫حاکم سخت' حکومت والیاں' سائیں آپ سنواریاں‬
‫‪........‬‬

‫سوہنا یار خراماں آیا' ناز غرور غماز کنوں‬
‫‪........‬‬

‫ویکھ عشاق بھی وقت اوہیں دم' سر دی چاون طمع‬

‫ان کی پنجابی شاعری کے بہت سے مصرعے' اردو‬
‫کے قریب ہیں۔ معمولی سی تبدیلی سے' وہ اردو کے‬

‫ذخیرہءشعر میں داخل کیے جا سکتے ہیں۔ باطور‬
‫نمونہ یہ مصرعے ملحظہ ہوں۔‬

‫میں طالب زہد نہ تقوی دا' ہک منگاں محبت مستی‬
‫‪........‬‬

‫لعل لباں یاقوت رمانی' عالی منصب والے‬
‫‪........‬‬

‫استقبال تے ماضی کیا ہے' حال ڈس دل خستاں نوں‬

‫مہاجر الفاظ کا اشتراک ہی نہیں' خالص اردو کے الفاظ‬
‫بھی' ان کی پنجابی شاعری میں' پڑھنے کو ملتے ہیں۔‬

‫مثل‬

‫استقبال بھی چھوڑ ماضی کوں' سچل منگ سرمستی‬
‫عشق دی آیت پڑھی عاشقاں' حسن والے ابیاض کنوں‬

‫موتی مول مرصع ناہیں' سو چٹسالی دے نقطے‬
‫حاکم سخت' حکومت والیاں' سائیں آپ سنواریاں‬

‫مترادف اور ہم معنی لفظوں کا استعمال ملحظہ ہو۔ یہ‬
‫لفظ' اردو کے لیے' غیرمانوس نہیں ہیں۔‬

‫ل نفی دا کلمہ سانوں' مرشدی آپ پڑھایا‬
‫‪........‬‬

‫صورت نال ستارے چمکن' رنگ کریندے مکھ دے‬

‫انہوں نے' پنجابی کو نئے مرکبات دیے ہیں اور یہ‬
‫مرکبات' اردو والوں کے لیے بھی' غیرمانوس یا ناقابل‬

‫فہم نہیں ہیں۔ مثل‬

‫جھلک جھلک رخسار' یاد گزشتاں' خام خیال' تیر‬
‫بارانی' میر امیراں' نور تجلی' خوش خورشیدی'‬

‫صحیح صحیفہ' رنگ ربوبی‬

‫قوافی میں' اردو میں استعمال ہونے والے الفاظ‬
‫ملحظہ ہوں۔‬

‫انگن اساڈے آویں پیارا' نہ تاں مراں مشتاق‬
‫اندر توں ہیں' باہر توں ہیں' سپہریں ہر پوشاک‬
‫سچو ہے تیڈے ڈیکھن کیتے' اکھاں کوں اشتیاق‬

‫‪........‬‬

‫موتی مونہہ اگوں شرمندے' ہیرے تھئے حیرانی‬
‫جھلک جھلک رخسار سوہنے دا' پرتو نور نشانی‬

‫سچل ویکھ تجل تنھں دا' ہوئی دل دیوانی‬
‫‪........‬‬

‫مارن ڈنگ نسنگ بلئیں' درد منداں کوں دم دم‬
‫چشماں قتل کریندیاں عاشق' پئیپنبیاں دی رم جم‬
‫سچل سو سکندر جیئے' بانہاں بدھے جم جم‬

‫‪........‬‬
‫ڈٹھا میں رخسار سوہنے دا' خوش خورشیدی خوبی‬

‫اکھاں قاتل تھون قہاری' مشعل مونہہ محبوبی‬
‫عشاقاں کوں آ کرے اسیری' عشق والی اسلوبی‬

‫نہ مخلوق اکھیجے سچل' سارا رنگ ربوبی‬

‫صنعت تضاد میں استعمال ہونے والے الفاظ' اردو میں‬
‫مستعمل ہیں۔ مثل‬

‫اندر توں ہیں' باہر توں ہیں' سپہریں ہر پوشاک‬

‫‪.........‬‬
‫سچل اوہ بادشاہ گدا تے میر امیراں موہن‬

‫تکرار لفظی میں بھی' اردو اور پنجابی کے مشترک‬
‫مستعل الفاظ سے' کام لیتے ہیں۔ مثل‬

‫قطرے قطرے آب عرق دے' یار دے مونہہ تے سوہن‬
‫‪.........‬‬

‫غیر دے خام خیال کنوں ہن' ہادی سانوں توبہ توبہ‬

‫آوازیں گرانا اور بڑھانا زبانوں میں عام سی بات ہے۔‬
‫یہ چلن پنجابی میں بھی ملتا ہے۔‬

‫مانگ سے منگ‪ :‬استقبال بھی چھوڑ ماضی کوں' سچل‬
‫منگ سرمستی‬

‫چند تشبیہات ملحظہ ہوں۔ اردو سے فطری مماثلت‬
‫موجود ہے۔‬

‫مژگاں تیر بارانی' کردیاں ابرو کیش کمانی‬

‫مژگاں تیر بارانی' کریں ابرو کیش کمانی‬
‫‪........‬‬

‫حسن دی نور تجلی سچل' لعل یاقوتی رﺥ تے‬

‫حسن کی نور تجلی سچل' لعل یاقوتی رﺥ پر‬
‫‪........‬‬

‫مژگاں گزہن زور محب دیاں' ابرو کج کمانے‬

‫مژگاں گزہن زور محب دیاں' ابرو چھپا کمانے‬

‫اردو اور پنجابی کی مشترک اصطلحات ملحظہ‬
‫ملحظہ ہوں۔‬

‫زاہد' عابد' ملں' قاضی کر دے یاد گزشتاں نوں‬
‫‪.........‬‬

‫جمع الجمع کا بطور جمع استعمال دیکھیے۔‬
‫اسم اسما‬
‫اسامی اسما‬
‫‪........‬‬

‫عشاق عاشق‬
‫عشاقاں عشاق‬

‫‪........‬‬
‫عاشقاں' عشاق عاشق'‬
‫عشق دی آیت پڑھی عاشقاں' حسن والے ابیاض کنوں‬

‫عشاق عاشق‬
‫ویکھ عشاق بھی وقت اوہیں دم' سر دی چاون طمع‬

‫عشاقاں عشاق‬

‫عشاقاں کوں آ کرے اسیری' عشق والی اسلوبی‬

‫پنجابی کی تلمیحات اردو والوں کے لیے نئی نہیں۔ مثل‬

‫سچل سو سکندر جیئے' بانہاں بدھے جم جم‬
‫‪........‬‬

‫مونہہ محبوب دا صحیح صحیفہ' کردے دور نواباں‬

‫متعلق الفاظ کا استعمال اردو کے عمومی چلن سے‬
‫مخلتف نہیں۔ مثل‬

‫خوش ہوون خونریزی کولوں' چال ستم دی چلدے‬

‫چال' ستم' خونریزی‬
‫‪........‬‬

‫صورت نال ستارے چمکن' رنگ کریندے مکھ دے‬

‫صورت ‪ :‬رنگ‬
‫ستارے ‪ :‬چمکن‬
‫‪...................‬‬

‫خوش بو میں نہاتے رنگ‪ ......‬ایک جائزہ‬

‫عطاءالرحمن قاضی اردو کے' خوش فکر اور خوش‬
‫زبان شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں' انسانی زندگی اور‬

‫انسانی منافق رویوں کی' بڑے اچھوتے انداز میں'‬
‫عکاسی ملتی ہے۔ تاہم کومل جذبوں کو بھی نظرانداز‬
‫نہیں کرتے۔ ان نرم و ملئم جذبوں کی حرف کاری'‬
‫قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور وہ لطف‬
‫اندوزی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ عطا‬
‫کے ہاں اصل کمال یہ ہے' کہ لفظوں کا انتخاب خیال‬
‫کے مطابق کرتے ہیں۔ ذرا یہ رباعی ملحظہ فرمائیں۔‬

‫مہتاب چرا لئے تھے ہم رات گئے‬
‫چندراب چرا لئے تھے ہم رات گئے‬
‫اس چشم فسوں کار سے چپکے سے عطا‬
‫اک خواب چرا لئے تھے ہم رات گئے‬

‫عطا' عصری شخص کے عمومی چلن اور طور کی'‬
‫بڑے ہی خوب صورت انداز میں' عکاسی کرتے ہیں۔‬
‫لفظ اندر کا استعارتی استعمال' ان کے کلم کو فصاحت‬
‫و بلغت ہی میسر نہیں کرتا' بل کہ اسے وجاہت سے‬
‫بھی' سرفراز کرتا ہے۔ اس ذیل میں ذرا ‪:‬یہ شعر‬

‫ملحظہ فرمائیں‬

‫اندر سے نکلتا نہیں کوئی باہر‬
‫دیکھو جسے' خود میں وہ سراسر گم ہے‬

‫لفظ اندر کا استعمال' اپنے وجود میں معنویت کا رواں‬
‫دریا رکھتا ہے۔ کسی کلم کے بلیغ ہونے میں' ایسی‬

‫باریکیاں ہی اپنا کمال دیکھاتی ہیں۔‬

‫عطا نے' عصری شیوﺥ کے دوہرے اطوار اور چلن‬
‫کو' ایک حوالے کے تحت واضح کیا ہے۔‬

‫رندوں کے حضور یہ دو رنگی' یا شیخ‬
‫رسم شرب الیہود' آخر کب تک!‬

‫عطا اپنی رباعیوں میں' عالم گیر سچائیوں کا بڑے‬
‫خوب صورت انداز میں' اظہار کرتے ہیں۔ مثل‬

‫کھوئی ہوئی توقیر کہاں ملتی ہے‬
‫گم گشتہ تقدیر کہاں ملتی ہے‬

‫ہر پھول میں ہوتی نہیں خوشبو یارو‬
‫ہر خواب کی تعبیر کہاں ملتی ہے‬

‫‪.......‬‬
‫یوں دور سے مت دیکھ' تماشا چپ چاپ‬

‫اے موج فنا! مجھ میں اتر جا چپ چاپ‬
‫کس گھاٹ اترنا ہے عطا' کیا معلوم!‬
‫بہتا جاتا ہوں کب سے تنہا' چپ چاپ‬

‫محلت کی نسبت شاہوں سے رہی ہے۔ ان کے سوا‬
‫بڑوں کی رہائش و عیش گاہوں کے لیے' کوٹھیاں'‬
‫بنگلے' بڑے مکان' اونچے مکان وغیرہ سے لفظ یا‬
‫مرکبات مستعمل رہے ہیں۔ ہر دو امرجہ نخوت کدے'‬
‫رہے ہیں۔ ایک سے اطوار رکھتے ہوئے' ان میں لفظی‬
‫شناخت باقی رہی ہے۔ لفظ محل' بادشاہ کے لیے ہی‬
‫تحریر اور عرف میں رہا ہے۔۔ حالں کہ تکبر اور‬
‫عوامی استحصال کی ذیل میں' دونوں متوازی چلے‬
‫آتے ہیں۔ یہ عوام کا معاملہ نہیں رہا' کہ کون کس کا‬
‫بنایا یا کس کے ماتحت رہا ہے۔ عطا نے اس تخصیص‬
‫کو ختم کیا ہے۔ گویا ان کے ہاں لفظ محل وسیع اور‬
‫بلیغ معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ لمحدود بات' صیغہء‬

‫محدود میں کہی گئی ہے۔ کہتے ہیں‬

‫ہر کنگرہءکبر' زمیں بوس ہوا‬
‫اڑتی ہے محلت میں اب خاک یہاں‬

‫مرکب کنگرہءکبر کا' نخوت پسند مزاج پر اطلق بھی‬
‫بےمزا نہیں رہے گا۔ حرف کار وہ ہی قابل تحسین‬

‫ہے' جو سچ کہتا اور لکھتا آیا ہے۔ ان دو مصرعوں‬
‫میں کہا گیا' عالم گیر سچائی کے درجے پر فائز ہے۔‬

‫شخص کے یقین اور اس کے کردار کےحوالہ سے'‬
‫اس کے شخصی المیے کی' بڑے دردناک انداز میں‬

‫عکاسی کی ہے۔ کہتے ہیں‬

‫ہاتھوں میں خوش آہنگ دعا ہوتے ہوئے‬
‫محروم یقین رہے' خدا ہوتے ہوئے‬
‫حیرت سے دیکھتا رہا اپنا زوال‬
‫کردار' کہانی سے جدا ہوتے ہوئے‬

‫یا پھر یہ دو مصرعے ملحظہ ہوں‬

‫اک موج گماں نے یوں بڑھائی پینگیں‬
‫سب اہل یقیں' غرقہءاوہام ہوئے‬

‫شخصی تنہائی کا بڑے ہی باریک انداز میں اظہار‬
‫کرتے ہیں۔ مثل‬
‫‪........‬‬

‫دریا نے بہت زور لگایا لیکن‬
‫صحرا مرے اندر سے نکال نہ گیا‬

‫آج شخص انا کے خول میں بند ہے۔ اس تلخ حقیقت کا‬
‫اظہار ملحظہ ہو۔‬

‫اک بوجھ اٹھائے' چار و ناچار چلے‬
‫آخر کو یہی کھل کہ بیکار چلے‬
‫اس قید انا سے کون باہر نکل‬

‫جس سمت بھی جائیے یہ دیوار چلے‬

‫عصری جبریت کا اظہار کرتے' ان کے لہجے میں‬
‫تلخی آ جاتی ہے۔‬

‫روشن ہیں کب آگہی کے فانوس یہاں‬
‫سب لوگ ہوئے ظلم سے مانوس یہاں‬
‫آنکھوں میں حیا رہی نہ کچھ دل میں خوف‬

‫چلتا ہے فقط سکہ سالوس یہاں‬

‫یہ ایک ازلی حقییقت ہے' کہ شخص اپنی شناخت‬
‫باالوسطہ حاصل کرتا ہے۔ عطا کے ہاں اس حقیقت کا‬

‫اظہار ملحظہ ہو۔‬

‫اس شوﺥ نے دیکھا جو مری سمت بغور‬
‫تب جا کے کہیں خود کو نظر آیا میں‬

‫واہ۔۔۔۔۔ واہ' بہت خوب‪....‬کیا بات ہے۔‬

‫تخلیق آدم بلشبہ بہت بڑا کمال ہے۔ علم آدم کا شرف‬
‫ٹھہرا۔ ان دو مصرعوں میں' اس واقعے کا اظہار‬
‫دیکھیے۔ ان دو مصرعوں کو' سورتہ والتین اور‬
‫سورتہ بقر کے تناظر میں' ملحظہ فرمائیں۔‬

‫مٹی میں رکھ دیا علو معراج‬
‫ہونے نہ دیا کبھی کسی کا محتاج‬

‫عطا نے ذومعنویت کا کمال چابک دستی استعمال کیا‬
‫ہے۔ مثل‬

‫دیوار گرانے سے جو کھلتا ہی نہ تھا‬
‫عقدہ وہی دیوار اٹھانے سے کھل‬

‫دیوار گرانا‬
‫دیوار اٹھانا‬

‫رباعی میں' چوتھا مصرع کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔‬
‫عطا کے ہاں' مختلف صورت بھی ملتی ہے۔ پہلے دو‬
‫یا آخری دو مصرعوں کو باقاعدہ شعر کے طور پر لیا‬

‫جا سکتا ہے۔ مثل‬

‫پہلے دو مصرعے‬

‫موجود بھی موجود سے بڑھ کر نکل‬
‫اک اور ہی منظر' پس منظر نکل‬

‫آخری دو مصرعے‬

‫مہتاب کو جھیل میں نہاتےہوئے' شب‬
‫افلک سے تاروں نے اتر کر دیکھا‬

‫غزل کا سا' حسن بیان اور نازک خیالی ملحظہ‬
‫فرمائیں‬

‫دیکھا ہے ترے حسن کا پر تو جب سے‬
‫آنکھوں میں کوئی نقش ٹھہرتا ہی نہیں‬

‫اعجاز آگہی کا حاصل ہے عطا‬
‫میں رات کے پردے میں سحر دیکھتا ہوں‬

‫عطا کے ہاں بات کے آغاز کے مختلف انداز ملتے ہیں۔‬
‫مصرعوں کا ہم صوت الفاظ سے آغاز کرتے ہیں۔‬

‫یوں دشت غزل میں خوش ہوائیں ناچیں‬
‫جوں تخت ہوا پہ اسپرائیں ناچیں‬
‫‪...........‬‬

‫اس قید انا سے کون باہر نکل‬
‫جس سمت بھی جائیے یہ دیوار چلے‬

‫‪...........‬‬

‫شعلہ کوئی پتھر سے نکال نہ گیا‬
‫نشہ کسی منظر سے نکال نہ گیا‬

‫دریا نے بہت زور لگایا لیکن‬
‫صحرا مرے اندر سے نکال نہ گیا‬

‫مصرعوں کا ایک ہی الفاظ سے آغاز‬

‫اے حرف خوش خصال' آ جا مجھ میں‬
‫اے کیف لزوال' آ جا مجھ میں‬
‫‪...........‬‬

‫مصرعوں کا ایک ہی لفظ سےآغاز' جب کہ دونوں‬
‫مصرعوں کا' دوسرا لفظ ہم صوت ہوتا ہے۔‬
‫اے نغمہءبےتاب' ذرا اور چمک‬
‫اے شعلہءنایاب ' ذرا اور چمک‬

‫‪.........‬‬
‫ہر جام میں اک عکس طلسم امکان‬

‫ہر گام یہ دشت غزل آہنگ کھل‬
‫‪...........‬‬

‫پہلے تین لفظ ایک ہی استعمال کرنے کا طور ملحظہ‬
‫ہو۔‬

‫اک اؤر ہی انقلب سوچا تھا مگر‬
‫اک اؤر ہی انقلب دیکھا میں نے‬

‫‪........‬‬

‫اب ہم مرتبہ لفظوں سے مصرعوں کا آغاز ملحظہ‬
‫ہو۔‬

‫قطرہ قطرہ حباب دیکھا میں نے‬
‫ذرا ذرا سراب دیکھا میں نے‬

‫پہلے مصرعے میں' متضاد لفظوں کا برجتسہ اور امر‬
‫واقع کے تحت استعمال‬
‫ملحظہ ہو‪:‬‬

‫جلتے بجھتے چراغ' لمحوں کی فصیل‬

‫‪...........‬‬
‫پھولوں کو کانٹوں میں پرونے والو‬

‫‪...........‬‬

‫کفایت لفظی کی دو صورتیں دیکھیے‪:‬‬

‫مہتاب چرا لئے تھے ہم رات گئے‬
‫چندراب چرا لئے تھے ہم رات گئے‬
‫اس چشم فسوں کار سے چپکے سے عطا‬
‫اک خواب چرا لئے تھے ہم رات گئے‬

‫‪........‬‬

‫قطرہ قطرہ حباب دیکھا میں نے‬
‫ذرہ ذرہ سراب دیکھا میں نے‬
‫اک اور ہی انقلب سوچا تھا مگر‬
‫اک اور ہی انقلب دیکھا میں نے‬

‫عطا نے اردو کی شعری زبان کو' بڑے خوب صورت‬
‫مرکب دیے ہیں۔ یہ مرکب' اچھوتے اور گہری معنویت‬
‫رکھتے ہیں۔ مختلف نوعیت کے چند مرکب دیکھیے۔‬

‫افق دل‬

‫اقلیم معنی‬
‫تخت ہوا‬
‫دشت غزل‬
‫طلسم امکان‬

‫علو معرج‬
‫قرطاس شب‬

‫قید انا‬
‫کیف لزوال‬
‫وسعت شب‬

‫پتھر کا سکوت‬
‫خوشبو کا جھرنا‬
‫تہذیب کے اوراق‬
‫شوق کی تکذیب‬
‫قرنوں کی دیوار‬
‫لمحوں کی فصیل‬

‫افلک پہ ساغر‬

‫لزماں وسعت‬
‫حرف خوش خصال‬

‫اہل زوال‬
‫اہل نیاز‬

‫زاویہ نشیں‬
‫لفظ پرست‬

‫شعلہءنایاب‬
‫کنگرہءکبر‬
‫نشہءپندار‬

‫ادائے کہکشانی‬
‫ورائے تشبیہ‬

‫عطا کی زبان کا محاورہ; شائستہ' شگفتہ' برمحل اور‬
‫نئی فکر کا حامل ہوتا ہے۔ چند مثالیں باطور نمونہ‬

‫ملحظہ ہوں۔‬

‫پلکیں بڑھانا‪ :‬اک موج گماں نے یوں بڑھائی پینگیں‬
‫دیوار گرنا‪ :‬دیوار گرانے سے جو کھلتا ہی نہ تھا‬
‫دیوار اٹھانا‪ :‬عقدہ وہی دیوار اٹھانے سے کھل‬
‫سانچے میں اترنا‪ :‬موجود کے سانچے میں اتر آیا میں‬
‫دل میں اتارنا‪ :‬خوشبو بھرے لمحوں کو اتارا دل میں‬
‫بوجھ اٹھانا‪ :‬اک بوجھ اٹھائے' چار و ناچار چلے‬

‫سکہ چلنا‪ :‬چلتا ہے فقط سکہءسالوس یہاں‬
‫پلکوں سے اٹھانا‪ :‬کیا خواب تھے پلکوں سے اٹھا‬

‫کے' جھونکے‬

‫عطا کی رباعیوں میں' مقامیت بھی پائی جاتی ہے۔‬
‫ساتھ میں' بہت بڑی حقیقت بیان کر گیے ہیں۔‬

‫پھوہڑ کی ہو جھاڑو کہ سگھڑ کا لیپا‬
‫چھپتے نہیں گو لکھ چھپائے کوئی‬

‫کہانی کہاوت بھی ان کی رباعیات میں نظر انداز نہیں‬
‫ہوئی۔ مثل‬

‫تہ خانے میں صندوق کے چاروں جانب‬
‫پہرا ہے کسی ناگ کا جانے کب سے‬

‫عطا تلمح کا تشبیہی استعمال' بڑے ہی طریفہ سلیقہ‬
‫سے کرتے ہیں۔ کئی ایک رومان پرور مناظر' آنکھوں‬
‫کے سامنے گھوم گھوم جاتے ہیں۔ ذرا تصور کیجیے'‬
‫مست ہواؤں میں سورگ کی الپسرائیں رقص کر رہی‬
‫ہوں' تو شخص اور دیوتا بن پیئے' نشہ کی حالت میں‬

‫آ جائیں گے۔‬

‫یوں دشت غزل میں خوش ہوائیں ناچیں‬
‫جوں تخت ہوا پہ اسپرائیں ناچیں‬

‫جناب عطاالرحمن قاضی کی زبان و فکر پر' دیانت‬
‫داری سے' بہت کچھ لکھا جا سکتا اور لکھا جانا‬
‫چاہیے‪ .‬میں اپنی معروضات یہاں پر ختم کرتا ہوں' تا‬
‫کہ قاری بھی' اس ذیل میں' اپنی رائے دے سکے۔‬

‫دعا ہے ا کریم قاضی صاحب کے قلم میں' مزید‬
‫روانیاں رکھ دے' تا کہ وہ زبان و ادب کی خدمت کے‬
‫ساتھ ساتھ' عصری معاملت کو' کاغذ کے سپرد کر‬
‫سکیں۔ آتا کل شاہوں اور ان کے کنکبوتیوں کو ہی‬
‫نہیں' اس عہد کے دوسرے باسیوں کے احوال سے‬

‫آگاہ ہو بھی سکے۔‬

‫رفیق احمد نقش‪ :‬افسانوی کردار' مثالی ادیب‬
‫ایک جائزہ‬

‫بادشاہ سیٹھ اور ان کے جدی پشتی کنقریب' طے شدہ‬
‫بڑی مخلوق ہوتی ہے۔ اسی طرح ان کے بچے خلئی‬
‫مخلوق ہوتے ہیں۔ ضرورت' حالت یا حادثاتی کنکبوتی‬

‫بھی تاریخ و ادب میں بڑے ٹھہرتے ہیں۔ گویا ان کا بڑا‬
‫ہونا پہلے سے طے شدہ ہے۔ کسی بھی شدہ پر کلم‬
‫کی گنجائش نہیں ہوتی' کیوں کہ ان کی حیثیت پہلے‬
‫سے سمجھی سمجھائی ہوتی ہے۔ چوری خور مورکھ‬
‫بھی ان کے نام وہ کچھ لکھ جاتا ہے' جس کا انہوں‬
‫نے خواب تک نہیں دیکھا ہوتا یا اس نوع کا خواب‬
‫سوچنے کی بھی گستاخی نہیں کی ہوتی۔ اگر اچھائی‬
‫کی سوچ' ان کے قریب سے بھی گزر جائے' تو جدی‬
‫پشتی بڑوں کی صف سے ہی نکال باہر کیے جائیں۔ یا‬
‫یوں کہہ لیں' اچھائی ان کے لیے ریورس کے دروازے‬

‫کھول سکتی ہے۔‬

‫نان جدی پشتی بڑے' ضروری نہیں' بڑے شہروں‬
‫محلوں یا بنگلوں میں جنم لیں۔ وہ اپنی کوشش' زہانت'‬
‫سچی لگن اور جہد مسلسل کے بل پر' بڑے قرار پاتے‬
‫ہیں۔ انہیں زندگی کے ہر موڑ پر' تندی باد مخالف سے‬
‫نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔ ان کی ٹانگیں کھنچنے والے'‬
‫اطراف میں موجود رہتے ہیں۔ اس کھنچو کھنچی میں'‬
‫ان کا قد بڑھتا ہی چل جاتا ہے۔ ا ان کی محنت اور‬

‫خلوص نیتی کو' برکت عطا فرماتا ہے۔ وہ کسی‬
‫سرکاری' سیٹھی یا شاہی گماشتے کے' ناخواندہ اعزاز‬

‫و اکرام کے محتاج نہیں رہتے۔ اصل حقیقت یہ بھی‬
‫ہے' کہ زمین کے کسی وڈیرے کی عطائی برکی' ان‬

‫کی فکری اپروچ کے لیے' سم قاتل سے کم نہیں ہوتی۔‬
‫سرکاری برکی نے' فردوسی کو عوامی نمائندہ نہ‬

‫رہنے دیا۔ اس کے کہے کو' اس عہد کی شاہی جاہ و‬
‫حشم کا گواہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسے عوام کے دکھ‬

‫سکھ کا شہادتی قرار دینا' اس کی عظمت پر کالک‬
‫ملنے کے مترادف ہو گا۔‬

‫رفیق احمد نقش کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے' جو‬
‫جھونپڑوں سے اٹھ کر بھوک و پیاس کے اژدھوں‬
‫سے' نبردآزما ہوتے ہوئے' محنت اور مشقت کی‬
‫پرخار وادیوں سے گزرتے' شناخت کے جلوہ کدوں‬
‫میں اپنی اقامت کا سامان کرتے ہیں۔ محل منارے' آج‬
‫کی شان ہوتے ہیں اور کل کے کھنڈرات۔ کتے بلے‬
‫ناصرف وہاں بسیرا کرتے ہیں' بل کہ وہ ان کی غلظت‬
‫گاہ بھی ٹھہرتے ہیں۔ آتے وقتوں میں ان کے لیے‬
‫مرکب۔۔۔۔۔ سنا ہے۔۔۔۔۔۔ استعمال میں آتا ہے۔ ان کی‬
‫شخصی پہچان ختم ہو جاتی ہے۔ رفیق احمد نقش نے'‬
‫جس بستی میں بسیرا کیا وہاں کی شناخت' گارے‬
‫چونے سے بنی عمارتیں نہیں ہیں بل کہ اس عہد' اس‬
‫عہد کے لوگوں اور ان کے معاملت سے متعلق‬
‫شہادتیں ہوتی ہیں۔ لفظوں سے تعمیر ہونے والے یہ‬
‫پیکر' حرفکر کی شناخت ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے‬

‫تاج محل اور نور محل سی خون خور عمارتیں'‬

‫شرمندگی کی علمت بنی ہوتی ہیں۔‬

‫اس ذیل میں رفیق احمد نقش کا یہ شعر ملحظہ ہو‪:‬‬

‫بہار میں جو گرائے درخت اب کے‬
‫کھدے ہوئے تھے کئی نام ساتھ ساتھ ان پر‬

‫درخت چھاؤں آکسیجن اور ہریالی فراہم کرتے ہیں۔ یہ‬
‫حادثاتی طور گرے نہیں' بل کہ گرائے گئے ہیں۔ لفظ‬
‫درخت کا علمتی استعمال' بڑی گری تفہیم کا تقاضا‬

‫کرتی ہے۔‬

‫ڈاکٹر ذوالفقار علی دانش' کا اردو کے بےدار مغز اہل‬
‫قلم میں شمار ہوتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ وہ‬
‫شاہ یا شاہ کے کنکبوتیوں سے' دور کے شخص ہیں۔‬
‫وہ کام اور کام پر یقین رکھنے والوں میں سے ہیں۔‬

‫میری اس بات ثبوت کتاب‬
‫۔۔۔۔۔۔ رفیق احمد نقش‪ :‬افسانوی کردار' مثالی کردار۔۔۔۔۔۔‬
‫ہے اس کتاب کو دیکھتے اور پڑھتے ہوئے' اندازہ‬
‫ہوتا ہے' کہ بندے نے کام کیا ہے اور جان ماری ہے۔‬

‫انہوں نے' کتاب کو بڑے سلیقے اور ہنرمندی سے‬
‫مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہے۔‬

‫کتاب کا آغاز نعت و سلم سے کیا گیا ہے۔ یہ دونوں‬
‫رفیق احمد نقش کے قلم کا نتیجہ ہیں۔ عقیدت احترم‬
‫اور آقا کریم سے محبت' اپنی جگہ لسانیاتی اعتبار‬
‫سے بھی' یہ دونوں قلم پارے کچھ کم نہیں ہیں۔ نمونہ‬
‫کا فقط ایک شعر ملحظہ ہو۔ اس ایک شعرسے' اندازہ‬
‫ہو جاتا ہے کہ وہ زبان پر کس سطع کی دسترس‬

‫رکھتے تھے۔‬

‫اسی کی ذات ہے ہر طرح سے تقلید کے قابل‬
‫کہ وہ محفل نشیں بھی ہے وہی خلوت گزیں بھی ہے‬

‫تکرار حرفی و تکرار لفظی کے ساتھ دو مرکبات'‬
‫مصرع ثانی میں دو ہم صوت لفظوں کا استعمال' جب‬
‫کہ صنعت تضاد کا کمال خوبی سے استعمال کیا گیا۔‬
‫صرف اس ایک شعر سے' اس امر کا باخوبی اندازہ‬
‫کیا جا سکتا ہے' کہ مرحوم اردو زبان اور اس کی‬

‫جڑوں سے کتنا اور کس قدر قریب تھے۔‬

‫پہل حصہ رفیق احمد نقش کی حیات اور یادوں سے‬
‫متعلق ہے۔ اس میں ڈاکٹر ذوالفقار علی دانش سمیت'‬
‫اکتیس جید اہل قلم کی تحریریں شامل ہیں۔ انہیں پڑھ‬
‫کر' رفیق احمد نقش کی حیات اور عادات و اطوار سے‬
‫متعلق' بہت سی معلومات' دستیات ہو سکتی ہیں۔ ان‬

‫تحریروں کی حصولی' جمع بندی اور ترتیب کے لیے‬
‫انہوں نے' بلشبہ بڑی محنت اور خلوص نیتی سے‬
‫کام لیا ہے۔ اس حوالہ سے' ان کی تحسین نہ کرنا‬
‫زیادتی کے مترادف ہو گا۔ چند اک اقتباس باطور نمونہ‬
‫ملحظہ ہوں۔ ان مختصر ٹکڑوں کے مطالعہ سے'‬
‫رفیق نقش کی شخصیت کے بہت سے پہلو' بلتکلف‬

‫اور لگی لپٹی سے بال سامنے آ جائیں گے۔‬

‫رفیق احمد نقش نے‬
‫پندرہ مارچ ‪ 1959‬کو میرپور خاص میں جنم لیا۔ ص‪:‬‬

‫‪13‬‬
‫اردو زبان و ادب اور ہماری اعل اقدار کا یہ روشن‬
‫ستارہ اپنی روشنی سے لوگوں کےقلوب واذہان منور‬
‫کرکے ‪ 15‬مئی ‪ 2013‬کو دائمی ابر آلودگی میں چھپ‬

‫گیا۔ ص‪16 :‬‬

‫اردو ادب کے حوالے سے رفیق نقش کا بیش تر کام‬
‫شاعری' ترجمے' تنقیدی و تحقیقی مضامین' فنی‬
‫تدوین اور ادارت سے متعلق ہے۔‬

‫سوانح نقش پر ایک نظر از ڈاکٹر ذوالفقار علی دانش‬
‫ص ‪16‬‬

‫وہ بڑے صاف گو بلکہ منہ پھٹ آدمی تھے۔ لگی لپٹی‬


Click to View FlipBook Version