کہتے ہیں حیضرت فاروق رضی ا تعالی عنہ فرمایا
کرتے تھے۔ کہ یہ دولت انسان کو یا تو بالکل خدا کے
نزدیک کر دیتی ہے یا خدا سے بہت دور لے جاتی ہے۔
یعنی اگر دولت کو جس طرح کہ باری تعالی کا حکم
ہے کہ لن تنالو البرحتی تنفقوا جو کجہ تمہارے پاس
ہے ا کی راہ میں خرچ کرو اور غریبوں۔ مسکینوں۔
بیکسوں۔ لوارثوں پر ۔۔۔۔۔ دولت سے ۔۔۔۔۔۔ احسان کرو
تو تم ا کے نزدیک ہو جاؤ گے۔
ان ا یحب المحسنین ا تعالی احسان کرنے والوں
سے محبت کرتا ہے۔ اور اگر تم نے اس دولت کو ا
کی مرضی کے برعکس کیا اور اس کو فضول
خرچیوں میں اڑا ڈال تو ان ا ل یحب المسرفین فضول
خرچ کرنے والوں سے ا تعالی ہرگز محبت نہیں کرتا
تو معلوم ہوا کہ واقعی یا تو دولت ایک سیڑھی ہے کہ
اس کے ذریعے آدمی خدا تک پہنچ سکتا ہے۔ اور یا یہ
ایک آگ ہے کہ اپنی کشش سے اپنے مقام دوزﺥ تک
لے جاتی ہے۔ فاعتبروایا اولی البصار
ص101
کہے چار دیہاڑے ایہہ موج والے اگا ویکھیا نہیں
کسے جا میاں
ایسے خیالت والے لوگوں سے ا تعالی پناہ دے۔ یہ
لوگ دراصل خدا کے احکام کو جھٹلنے والے رسول
کے فرمان سے روگردانی کرنے والے قرآن اور حدیث
کو نہ ماننے والے اور بالکل درست معنوں میں اخوان
الشیاطین ۔۔۔ شیطان کےبھائی ہوتے ہیں۔
ہم ا کے بندے ہیں نبی کریم صلی ا علیہ وسلم کی
امت ہیں۔ ا تعالی نے محض ہماری بھل اور رہنمائی
کے لیے قرآن مجید کو اتارا اور فرمایا ذالک الکتاب ل
ریب فیہ یعنی اس کتاب میں کوئی ایسی چیز نہیں جس
پر شک کیا جائے والذین یومنوں باالغیب ایماندار ہیں
جنہوں نے میری بتائی ہوئی باتوں کو بغیر دیکھے
اور سوچے تسلیم کر لیا۔اولئک ھم المفلحون وہی لوگ
ہیں جن کو ہم فلح و بہبودی اور نجات دے دیں گے۔
ا باری عزاسمہ کا فرمان ہے فاتقوالنار التی وقودھا
الناس والحجارتہ اعدت للکفرین ڈرو اس دوزﺥ کی آگ
سے جس میں آدمی اور پتھر ڈالے جائیں گے اور یہ
کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ بعض آدمی جنھوں
نے ا کے اور فرمان رسول سے منہ موڑا۔ پتھر وہ
جن کی لوگوں نے پوجا کی۔ یہی کافر کا لفظ اس حدیث
میں موجود ہے من ترک الصوتہ متعمدا فقد کفر یعنی
جس جان بوجھ کر نماز ترک ڈالی وہ کافر ہو گیا۔۔۔۔۔اور
کافر کا مقام دوزﺥ ہے ۔۔۔۔۔۔۔اور رسول کا فرمان بھی
خدا کا فرمان ہے۔ پہلے کہیں لکھا جا چکا ہے کہ من
یتبعوالرسول فقد اطاع ا۔ یعنی جس کو ا کی
تابعداری کرنی منظور ہے وہ پہلے رسول ا صلی ا
علیہ وسلم کی تابعداری کرے۔ کیا نبی نے معراج کے
دن دوزﺥ و بہشت نہیں دیکھا اور ہم کو اس کی جزا و
سزا سے آگاہ نہیں فرمایا۔ پس جان اس قسم کے
کلمے کہنے والے لوگ کافر اور دوزﺥ کا بالن ہیں۔ ان
سے بچو یا انہیں بچاؤ۔
ص104۔
منع گوشت کھانا بھائی دا
بھائی دا گوشت کھان تھیں مراد کسے آدمی دی چغلی
بخیلی کرنا ہوندی اے۔
ص 118
اول جان اسلم تے قائم ہونا فطرت جان اسلم انسان
پیارے
فطرتہ ا التی فطرالناس علیہا ل تبدیل لکلمتہ ا
انسان ا ہی کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور ا کی
باتیں تبدیل نہیں ہوا کرتیں ۔۔۔۔قرآن مجید ۔۔۔۔۔۔ کل مولود
یولد علی فطرتہ فابواہ یھودایہ اوینصرنہ او یہجنسادنہ
ہر ایک انسان اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔جو ا
نے بنا دی اور وہ اسلم ہے کیونکہ دنیا کا سب سے
پہل انسان ۔۔۔۔۔آدم علیہ السلم۔۔۔۔۔ مسلمان پیدا کیا اور
اس کے بعد کل بنی نوع اپنے قدیمی والد۔۔۔۔ آدم ۔۔۔۔۔ کی
اولد کہلتے ہیں چونکہ آدم علیہ السلم کی فطرت
اسلم تھی اس لیے ہر ایک پیدا ہونے وال آدم کی
فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد اوس کے والدین
اس کو یہودی یا نصاری بنا دیتے ہیں۔
سب سے پہلے ا تبارک تعالی نے آدم علیہ السلم کو
اپنی قدرت کاملہ سے پیدا کیا۔ باقی بنی نوع انسان آدم
کی اولد کہتے ہیں چونکہ آدم علیہ السلم کو ا نے
اپنی فطرت پر پیدا کیا تھا اس لئے آدم کی فطرت ا
ہی کی فطرت ہے اور چونکہ ا کی فطرت اسلم ہے
اس لئے آدم کی فطرت بھی اسلم ہی ہو سکتی ہے
چونکہ ہر پیدا ہونے والے کی فطرت اول اسلم ہی
ہوتی ہے اسی لئے وہ پہلے پہل گناہوں سے پاک و
صاف کہلتا ہے۔ پھ ہوش آنے کے بعد مجلسی فطرت
اس میں آتی ہے۔ یا تو وہ یہودی بن جاتا ہے۔ یا دہریا۔
یا ہندو وغیرہ
ص129
اک امی یتیم تے جنگل دا واسی کیتا نظر منظورسرکار
پیارے
امی ناخواندے آدمی کو بھی کہتے ہیں۔ مگر عام طور
پر یہ لفظ نبی کریم صلی ا علیہ وسلم کے متعلق
مشہور ہے۔ نیز نبی کریم صلی ا علیہ وسلم کو امی
اس لئے بھی کہتے ہیں کہ آپ مکہ شریف کے رہنے
والے ہیں اور مکہ مکرمہ کو ام القری بھی کہتے ہیں۔
قری پنڈ کو کہا جاتا ہے۔ یا تو یہ تمام پنڈوں اور گاؤں
کی ماں ہے اور یا یہ کہ حضرت فاطمتہ الزہرہ رضی
ا عنہا چونکہ تمام مومنین کی ماں ہیں اور آپ مکہ
شریف کی رہنے والی ہیں اس لئے مکہ کا نام ام
القری ہو گیا یعنی ماں کے رہنے وال گاؤں یا پنڈ اسی
لحاظ سے نبی عالم صلی ا علیہ وسلم کو امی کہا
جاتا ہے یعنی ام القری کے رہنے والے۔
ص131
واہ فقیرئے کرم بخشا اصلی بھید نؤں گئے چھپا شاہا
کہتے ہیں کہ فقر تین حروف سے بنتا ہے ف ق اور ر
سے اور فقر کا دعوی میں تین اوصاف ہونے ضروری
ہیں۔ فقر وہ جو فاقہ کا عادی ہو۔ اگر کچھ کھانے کو
مل گیا تو چند لقمےکھا لئے ورنہ کسی کے آگے
سوال نہ کرئے۔کیونکہ طاقت اور ہمت ہوتے ہوئے جو
آدمی سوال کرتا ہے قیامت کے روز اس کے منہ پر
گوشت نہ ہو گا بلکہ مردے کی طرح ہڈیاں ہی ہونگی
یہی سبب ہے کہ گداگر خدا کے ہاں مقبول نہیں ہوتے۔
فقیر کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ میری قسمت
بہرحال مجہکو مل کر ہی رہے گی اسی لئے وہ دست
سوال دراز نہیں کرتا ہر وقت ا کی یاد میں مشغول
رہتا ہے۔ اور ا ہی کے حکم کی تابعداری اس کا پیشہ
ہوتا ہے جب وہ ا کا ہو جاتا ہے تو ا اس کا ہو جاتا
ہے کیونکہ شیخ سعدی کا مقول ہے کہ
تو ہم گردن از حکم دارد ہیچ کہ گردن نہ
پیچد ز حکم تو ہیچ
یعنی تو خدا کے حکم سے گردن نہ پھیر اور کوتاہی نہ
کر۔ اورتیرے حکموں سے کوئی روگردانی نہیں کریگا۔
دیکھئے خلقت فقیر کی تابع فرمان ہو گی جو ا کا
تابع فرمان ہو گا۔ فقیر ا کے فرمان کے ماتحت اور
نبی کریم صلی ا علہ وسلم کے نقش قدم پر چلتا ہے
شریعت کا پابند ہوتا ہے غیر شریعت باتوں سے دور
رہتا ہےبرعکس آجکل کے فقرا کے کہ نام کے فقیر
ہیں بھنگ وغیرہ پر بھیک مانگنے سے اور بےہوش
پڑے رہنے سے تعلق اور بس
فقر کے ق سے قناعت مراد ہے یعنی اگر مل گیا تو
الحمد ل اور اگر کئی دن تک نہ مل تو صبر ہے اور
جو مل اسی پر قناعت ہے۔ نہ ملنے پر ذکر ربانی ہی
ان کی غذا بنا رہتا ہے۔ دوکان دوکان اور گھر کی خاک
چھانے سے انہیں سخت نفرت ہوتی ہے
فقر کا تیرا حرف ر ہے جس سے مراد ریاضت ہے۔
یعنی اگر ا کی اپنی دی ہوئی نعمت سے کچھ حصہ
مل وہ کھایا اور ذکر میں مشغول ہو گئے یا ا کی پیدا
کی ہوئی مخلوق کے بگڑے کام سنوارنے پر کمر باندھ
لی اور جہاں کہیں کسی کا کام بگڑتا دیکھا وہیں جا
گھسے یا کسی کو کسی مصیبت میں پھنسا دیکھا تو
اس کے دوست بن گئے اور اپنے ا کے فضل سے
مصیبت کو ٹال دیا۔ نہ تکیہ اور دارا کے فقیر کی طرح
کہ مانگ کر لئے کھایا اور خواب خرگوش میں پڑے
ہیں خوائے کوا آنکھ نکال کر لے جائے انہیں دنیا و
مافیہا کا کچھ پتہ نہیں۔ کھانا زندہ رہنے کیلئے ہے اور
زندہ رہنا ا کی عبادت کیلئے ہے نہ یہ کہ کھانا
صحت کیلئے اور صحت بھیک مانگنے کیلئے۔
یہاں ایک اور سوال پیدا ہو گیا یعنی عبادت وما خلقت
الجن و النس ال لیعبدون یعنی ا نے آدمی اور جنوں
کو عبادت کے لئے پیدا ہے۔۔۔۔۔ یہاں یہ ڈر لگتا ہے کہ
کہیں مجھ پر وہابی یا لمذہبی کا فتوی نہ لگ جائے ا
تعالی محفوظ رکھے۔۔۔۔۔ نماز کا پڑھنا۔ روزہ کا رکھنا۔
حج کرنا۔ زکواتہ دینا عبادت نہیں۔ بلکہ یہ احکام الہی
فرضیت کا دعوی رکھتے ہیں جو ان چیزوں سے
روگردانی کرتا ہے وہ کفر تک جا پہنچتا ہے جس کے
لئے خدائی جیل خانہ یعنی جہنم تیار ہے۔ عبادت اس
چیز کا نام ہے جس کیلئے ا تعالی نے تاکیدی حکم
نہیں دیا۔ نفل پڑھنا۔ غریب کی نگہداشت کرنا مخلوق
خدا کی ہمدردی۔ خلق۔ پنچگانہ کے علوہ نمازیں
پڑھنا۔ اپنے بچوں کی پرورش اس نیت سے کرنا۔
مسجد کی حفاظت و نگہدشت رکھنا۔ مسافروں کے آرام
کیلئے سرائے یا کنواں بنانا وغیرہ اس قسم کے
کاموں کا نام عبادت ہے وا اعلم بااصواب سید محمد
حسین شاہ مشتاق عرف شاہ جی کاتب
ص136
اپنا اٹھا نہ سکے ضامن بنے لوکائیدا
یہ غالبا امام مسجدوں کی طرف اشارہ ہے۔ کہ خود تو
بیچارے سراپا گناہوں سے بھرپور ہوتے ہیں اور
دوسروں کی وکالت کرنے کے لئے امام بن جاتے ہیں۔
خود گناہ کرتے ہیں اور دوسرونکو ہدایت کرتے ہیں۔
خود یتیموں کا مال کھاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اگر کوئی آدمی
چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ کر مر جائے تو بچے یتیم
ہو گئے اور گھر کی جائیداد میں ان کا حصہ ہوتا ہے۔
اور انکی ماں یا ان کا کوئی بڑا بھائی اس مشترکہ
جائیداد سے تیسرے ساتے اور چالیسویں وغیرہ
کرتے ہیں اس طرح بڑوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے
یتیموں کا حق بھی جاتا ہے جسکو عام لوگ عموما
اور ملں لوگ خصوصا بڑے مزے اور دلچسپی سے
ہضم کر جاتے ہیں۔ اسمیں بعض عالم ربانی مستثنے
ہیں کہ وہ اس قسم کے مال کے نزدیک تک نہیں
جاتے۔۔۔۔۔۔ اور لوگوں کو اس سے منع کرتے ہیں۔ خود
تو حرام کھانے ہیں۔۔۔۔۔ جوا کھیلنے والوں کی کمائی
حرام رشوت لینے والے کی کمائی حرام شراب بیچنے
والے بھنگ چرس وغیرہ بیچنے والے کی کمائی حرام
ہوتی ہے اور ملں لوگ ان کے ہاں کا کھانا بغیر کسی
ملل کے چٹ کر جاتے ہیں اور حرام خور بن جاتے
ہیں وغیرہ۔۔۔۔۔ اور لوگوں کو حرام سے بچنے کی تلقین
کرتے ہیں۔ خود تو عیب جوئی اور بخیلی کرے میں
ذرا شرم نہیں کرتے لیکن عوام کو منع کرتے ہیں۔ ا
تعالی محفوظ رکھے
دوسرا اشارہ غالبا پیروں کی طرف ہے۔ یہاں پیروں کا
مختصر حال بیان کرنا بےجا نہ ہو گا۔ پیر کے معنی
ہیں پرہیزگار۔ پارسا اور بزرگ۔ لیکن پنجاب میں جہاں
کی آب و ہوا۔ تمدن۔ اخلق۔ ذہنیت۔ خیالت کچھ دوسری
دنیا سے نرالے ہیں بعض بعض الفاظ کے معنی بھی
نرالے ہیں۔ یہاں پیر کے معنی پیروں وال لئے جاتے
ہیں جو سفر کرنے وال ہو اسکو پیر کہا جاتا ہے۔ یا
جو لوگوں کو اپنا خادم بنائے اس کو پیر کہا جاتا ہے۔
ہندوستان کی زمین عموما پنجاب کی زمین خصوصا
اپنی ذرخیزی کے لحاظ سے ثانی نہیں رکھتی اور ایک
سال میں کئی کئی فصلیں دیتی ہے اسی ذرخیزی کی
برکت سے پیر بھی پیدا ہوتا ہے۔ اس خطہ ۔۔۔۔۔
منطقہءپیراں۔۔۔۔ میں پیروں کی بہت سی قسمیں ہیں۔
سہ ماہی پیر۔۔۔ششماہی پیر ۔۔۔۔۔ سالنہ پیر۔ وہ پیر جو
تین ماہ کے بعد مریخ کی طرح گردش کرتے ہیں۔ اور
وہ پیر جو سال میں دو دفعہ زحل کی طرف دورہ کرتے
ہیں اور سال میں ایک دفعہ دورہ کرنے والے۔ یعنی
چھوٹے بڑے اور سب سے بڑے پیر۔ پھر اس میں
بہت سی قسمیں ہیں میراثیوں کے پیر۔ جولہوں کے
پیر۔ کشمیریوں کے پیر۔ لوہاروں۔ ترکھانوں۔ موچیوں
کے پیر۔ زمینداروں کے پیر۔ امیروں کے پیر وغیرہ
وغیرہ غالبا آپ مطلب نہ سمجھے ہوں۔ میراثیوں سے
مانگنے والے۔ جولہوں سے مانگنے والے۔ موچیوں
سے مانگنے والے پیر ان کے مانگنے کی بھی کئی
قسمیں ہیں زکواتہ مانگنے والے۔ صدقہ مانگنے
والے۔ خیرت مانگنے والے۔ گیارہویں مانگنے والے
اور اپنی شرنی یعنی نیاز مانگنے والے۔ کون۔ پیر۔
گیارہویں مانگنے والے پیر ہر قمری ماہ کی 5-4کو
نکلتے ہیں۔ اور مریدوں کو کہتے پھرتے ہیں کہ اگر
تم نے گیاہویں دینی ہے تو لؤ ہم خو پکا دیں گے۔۔۔
اپنے بچونکو۔۔۔۔۔ صدقہ خیرات اور نذر نیاز لینے والے
پیر عموما چار پانچ ماہ کے بعد دورہ شروع کرتے
ہیں اور کہتے ہیں کہ۔ لؤ بھائی کوئی صدقہ یا خیرات
یعنی کوئی منت میں مانی ہوئی اور نیاز مانی ہوئی
تمہاری طرف سے ہم پکا دیں گے۔۔۔۔دینگے کسکو۔۔۔۔
بعض صرف زکوتہ ہی لینے نکلتے ہیں اور سال کے
بعد نکلتے ہیں۔ یہ پیر اپنے پاک مکام سے صرف
لینے کے لئے ہی آتے ہیں اور جب تک کچہ مل نہ
جائے واپس نہیں ہوتے برابر غریب کی دہلیز پکڑے
رہتے ہیں نہ نماز سے سروکار۔ نہ کسی نیک کام سے
واسطہ۔ اگر تعلق ہے تو اپنی نیاز سے اور گھر پر
کبوتر بازی۔ مرغ بازی۔ اور کئی قسم کی اور بازی
سے اور شوق اور ہوس یہ کہ حلقہءمریداں فراﺥ ہو
اور خوب آمدن ہو یہ سلسلہ بعیت بہت مشکل ہے۔ اس
کے معنی ہیں کسی کا ضامن بننا جیسا کہ منشی کرم
بخش رح نے فرمایا۔ دنیا کے مصائب سے نجات دلنا
اور نیکی کی رغبت دل کر عاقبت کو سرخرو کرانا۔
اور جنت دلنا۔ اور یہ اوپر والے پیر بھل نیکی کو کیا
جانیں۔ خود کبھی کی نہیں دوسرونکو ہدایت دی نہیں۔
اسی لئے مصنف نے کہا ہے کہ تو اپنا بوجھ اٹھا نہیں
سکتا دوسروں کا ضامن کیوں بنتا ہے۔
پیر جو واقعی پیر ہیں وہ اول تو اپنا حلقہ مریداں اتنا
وسیع نہیں کرتے اور اگر کسی کو مرید کریں بھی تو
اس کے پوری طرح محافظ ۔ ضامن بنتے ہیں وہ مرید
کو یہ نہیں پوچھا کرتے تیرا نام کیا ہے میں بھول گیا
ہوں۔ توں کہاں سے آیا ہے۔ کب سے مرید ہوا ہے۔
بلکہ ان کے فیض نورانی کی شعائیں سورج کی کرنوں
کی طرح سب مریدوں پر بیک وقت اور یکساں پڑتی
ہیں۔ کسے کے ہاں جا کر مانگتے نہیں۔ اور اگر کہیں
جانا بھی پڑ جائے تو کھانا بڑی تحقیق کے بعد تناول
فرماتے ہیں ان کو گوشت۔ پلؤ سے پرہیز ہوتا ہے
نفس کی بجائے روح کو تازہ رکھتے ہیں۔ ہمیشہ ذکر
الہی کی یاد میں مصرف رہتے ہیں۔
سید محمد حسین شاہ مشتاق
ص153
تشبیہ رب دی دیہہ نہ غیر تائیں صفت کر رب غفار
پیارے
ل یضرب ا المثال یعنی ا کے ساتھ کسی کو تشبیہ
مت دو۔ کسی پیر یا بزرگ کا حد سے زیادہ اعتقاد
رکھنے والے بعض جہل اکثر ایسا کرتے ہیں .مثل یہ
کہدیا کہ جس طرح خدا اپنی شان و صفات میں واحد
ہے اسی طرح یہ ۔۔۔۔بزرگ یا پیر۔۔۔۔ بھی اپنی مثال یا
ثانی نہیں رکھتے۔ کسی بزرگ نے چلہ میں اناج کھانا
چھوڑ دیا تو جاہل معتقد کہہ دیتے ہیں۔ کہ یہ ا کے
نیک بندے ہیں۔ ا بھی نہیں کھاتا۔ یہ بھی کچھ نہیں
کھاتے۔ یا کوئی جاہل بزرگ بننے کا شوقین شب
بیداری کرے تو کہتا ہے کہ چونکہ میرا ا نہیں سوتا
ہم بھی نہیں سوتے۔ اس قسم کے کلمات خدا کے سات
مقابلے میں آتے ہیں لہذا یہ کلمے کہنا یا کوئی ایسا
اور کلمہ کہہ دینا کفر تک پہنچا دیتا ہے اس لئے خدا
کا کوئی ثانی نہیں۔ اسی لئے ارشاد ہوا کہ ل یضرب
ا المثال ص155
نیکی بدی کولوں کیتا خوب واقف کیتا تدوں انسان
اعتبار سائیں
قدتبین الرشد من الغنیی فمن یکفر باالطاغون فیومن
باا ہم نے انسان کو نیکی اور بدی سے واقف کر دیا
ہے اب جس کی مرضی ہو نیکی اختیار کرے اور جس
کی مرضی ہو بدی اختیار کرے
ص167
مردہ دین آ زندہ کیتا پیر محبوب الہی
حضرت کے متعلق مشہور ہے کہ آپ نے ایک دفعہ
ایک برات کے ڈوبے ہوئے بیڑے کو گیارہ برس کے
بعد دریا سے باہر نکال۔ حالنکہ معتبر کتابوں میں ہے
کہ آپ نے دین کے ڈوبے ہوئے بیڑے کو باہر نکال
اور دین محمدی زندہ کیا۔
ص171
عاشق سوئی جو موت بن فوت ہووے زندہ رہن دا
دبول دہیان ہووے
موالوا قبل انت موتوا موت آنے سے پہلے مر جاؤ
ص177
کرم چھوڑ نماز رواج سندی نائیں اس تھیں بری دوکان
ہووے
رواجی نماز دکھاوے کی نماز کو کہا گیا ہے جو کہ
صرف اس نیت سے پڑھی جاوے کہ لوگ مجھے
نمازی اور پارسا سمجہیں۔ لیکن یو یہ یاد رہے کہ دنیا
و عاقبت کیلئے اس سے بڑھکر بری دوکان اور کوئی
نہیں
کل بیحیائی نوں روکدی اے جیکر رب دا خوف دہیان
ہووے
نماز کا اصلی مقصد یہ ہے کہ انسان برے کاموں سے
بچے۔ ظاہری اور باطنی پلیدی سے پاک ہو کر ا کے
درگاہ میں حاضر ہو۔ جب یہ ظاہری پلیدی سے پاک ہو
کر دل کو پاک کرنے کی غرض سے ا کےحضور
میں جائے گا تو اک نور مسرت حاصل کرے گا جس
کی لذت دنیا میں نہیں مل سکتی۔ اس لذت کو دوبارہ
حاصل کرنے کی خاطر دل میں حب رکھیگا اور برے
کاموں سے بچتا رہے گا اسی لئے فرمایا ان الصوتہ
تنھی عن الفحشاء وامنکر یعنی حقیقی نماز انسان کو
برے کاموں سے بجاتی ہے
ص184
دیکے رب بہشت خرید کیتو توں غلم عاجز بولنہار
ناہیں
ان ا اشتری من المومنین انفسھم واموالھم بان لھم
لجنتہ یعنی ا جل جلل نے مومنین کی جانیں اور مال
جنت کے عوض خرید لیا ہے۔ سبحان ا کیسی عجیب
خوشخبری ہے کہ ا تعالی نے ہم سے یہ سودا کیا
ہے کہ تم اپنی جانیں اور مال ا کے سپرد کر دو اور
ا سے جنت لے لو۔ اور دائمی خوشی اور مسرت اور
بےفکری کے مالک بن جاؤ۔
آپ کو معلوم ہو گا۔ کہ پہلے زمانے میں نبی اکرم صلی
ا علیہ وسلم فداہ ابی امی کے مقدس زمانہ میں بھی
غلم خریدتے کا رواج عام تھا۔ غریب لوگ اپنی جانیں
اور مال امیروں کے ہاتھ کچھ پیسے یا روپے لیکر
بیچ دیتے تھے اور وہ غلم تازیست اپنے مالک کے
پاس رہتا۔ مالک کا کام بغیر تنخواہ کے کرتا۔ یا مالک
اسے کہیں مزدوری یا تجارت وغیرہ کیلئے بھیجتا تو
وہ اپنی حاصل کردہ مزدوری یا تجارت کا نفح ل کر من
وعن مالک کے حوالے کر دیتا۔ اور اس میں سے کچہ
نقدی وغیرہ اپنے پاس رکھنے یا اپنے لوحقین کو
دینے کا مجاز نہ ہوتا۔ مالک اس سے جب چاہتا کام
لیتا۔ جو چاہتا کام کراتا۔ سخت سردی اور بارش یا برف
کے موسم میں اور شدت کی گرمی کے دنوں میں رات
ہو یا دن چاندنی ہو یا اندھیرا خواہے کیسا بھی موسم
ہوتا غلم کو انکار کی گنجائش نہ ہوتی۔ مالک کو
اختیار ہوتا کہ اس کی بیماری کو ملحوظ رکھے یا نہ
رکھے۔ اچھا کھانہ دے یا خراب حتی کہ مالک کو کسی
کام کے کرانے کی رکاوٹ نہ ہوتی اور غلم کو انکار
کی جگہ نہ ہوتی۔
مثال کے طور پر گو یہ مثال یہاں اچھی نہیں مگرعوام
کو سمجہانے کے لئے خوب کام دے گی۔ آپ اپنے
جانوروں کو دیکھئے۔ آپ جب چاہیں ہل جوتیں۔ کوئیں
میں جوتیں کولہو میں لگائیں۔ گاڑی میں باندھیں۔
ماریں پیٹیں۔ چارہ اچھا دیں یا برا۔ سردی میں کام لیں
یا گرمی میں بوجھ لدیں یا سواری کریں ذبح کریں یا
کچہ بھی اور جسیا بھی چاہیں ان سے کام لیں انہیں
عذر کی گنجائش۔ بیٹا اپنے باپ کے سامنے ایک وقت
انکار کر سکتا ہے۔ ملزم غیر حاضری کر سکتا ہے
اور ایک وقت کام سے انکار بھی کر سکتا ہے۔ لیکن
غلم ایک منٹ کیلئے نہیں۔ بلکہ ایک لمحہ بھر کیلئے
بھی اپنے مالک سے سرتابی نہیں کر سکتا کیونکہ وہ
خریدا ہوا ہوتا ہے۔ بکا ہوا ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے
کہ رحم دل آقا یا مالک غلم سے سخت کام نہ لے۔ اور
یہ عموما ہوتا ہے کہ رحم دل مالکوں کے غلموں کو
کئی قسم کی سہولتیں ہوتیں۔۔۔۔۔ بشرظیکہ وہ سچے
غلم اور مالک کے حکم کو بخوشی و بطبیت کے
خاطر ماننے والے ہوتے یہی نہیں بلکہ دیکھا گیا کہ
اس قسم کے غلم اکثر فوج کے علم بردار ہوتے۔ سپہ
سالر ہوتے۔ بلکہ بادشاہ وقت بھی ہوتے۔ اور یہ باتیں
آپ صرف کہانی یا وعظ نہ سمجہیں بلکہ اسلمی
بادشاہوں کی تاریخوں میں پڑھئے۔ خلفائے راشدہ کی
سوانح حیات ملحظہ کیجئے آپ کو یہ سب کچھ مل
جائیگا کہ برے غلم ہمیشہ تکلیف مصیبتوں میں رہے
اور بھلے غلم تخت شاہی پر جلوہ افروز نظر آئے اور
شننشاہ نظر آئے۔ وتعز من تشاء و تزل من تشاء۔ بعینہ
یہی حال آپ کا اور ا تعالی کا ہے۔ ا تعالی نے آپ
کو خریدا ہوا ہے ۔۔۔۔۔ مگر ہاں بھئی ایک فرق ہے۔ اور
وہ یہ غلموں کے مالک ان کو خرید کر ان کے
لواحقین کو پیسے دیتے تھے۔ اور یہاں کون لواحق۔
بیٹے بھی غلم والدین بھی غلم تو دام کسے دئے
جائیں۔ یہاں ان داموں کے مالک خود غلم ہی ہیں۔
مگر بھئی سوچو تو ا ہمیں تھوڑی سی محنت اور
اس کی اپنی دی ہوئی جان کے بدلے ہمیں دیتا کیا ہے۔
بہشت جیسی بےبہا نعمت۔ روپیہ پیسہ فانی چیز نہیں
بلکہ ہمیشہ کے لئے باقی رہنے والی اور مسرت دینے
والی عیش و عشرت کرنے والی۔ خدمتیں۔۔ اور ا
اکبر۔ ا کا دیدار کرانے والی۔ کیا۔ بہشت بھائی بہشت۔
بہشت جانتے ہو کسے کہتے ہیں۔ نام ہے ایک باغ کا
جس میں ہمارے لئے خدمتگار موجود ہیں۔ طرح طرح
کے میوے اور شربت و شہد کی نہریں موجود ہیں
جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے اور یہ ایک فضول بات
نہیں بلکہ یہ ایک ہو کر رہنے والی بات ہے۔ ہاں تو
ہماری جانیں اور مال تو لے لیا ا نے اور ہمیں بنا لیا
غلم اب ہمیں ا کہتا کیا ہے۔ کرنا کیا ہے۔سنئے! ا
کا سب سے پہل حکم اتکم الرسول فخذہ اور اطیعوا
و رسول۔۔۔۔۔ یعنی ا اور اس کے رسول کی اطاعت
کرو اور جو کچہ رسول کھے اس کا کہا مانو۔
اقیموالصلوہ۔ نمازیں پڑھو واتوالزکوتہ زکوتہ دو۔ فاما
الیتلیم فل تقھر یتیم کو برا نہ کہو اور نہ ذلیل سمجہو۔
امانت میں خیانت نہ کرو۔ جوٹ بول کر ا کی لعنت نہ
لو۔ وقولواقولسدید جو منہ سے نکلے اچھی نکلے۔
یصلح لکم اعمالکم اچھے کام کرو۔ یغفر لکم ذنوبکم
تمہاری بھول کر کی ہوئی غلطیاں ا معاف کر دے گا۔
ومن یطع ا ورسولہ اور اگر تم اسی طرح ا اور اس
کے فرمانبداری کرتے رہے توفقد ناز فوزا عظیما ا
تمہاری شان اور عزت بلند کر دے گا۔ اور عجیب نہیں
کہ تمہیں بھی فوج کا سالر یا بادشاہ بنا دے۔ اور
لیکلف ا نفسا ال وسعھا اور ا تعالی کسی کو اس
کی ہمت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اور یہ سب انعام
فرمانبردار بندوں کیلئے ہیں۔ ظالموں سے ا تمہیں
بچا رکھے گا کیونکہ وہ بہترین نگہبان ہے۔ اور دین و
دنیا کی راحتیں اور مسرتیں صرف نیکوکاروں کے
لئے ہیں۔ فاعتبروایااولی الصبار
ص196-195
بےخیالی نماز ہووے خیال والی نہ پڑھن جیہی مندی
کار ہووے
ل صلوتہ ال بحضور قلب۔ یعنی جب تک دل کا رجوع نہ
ہو نماز نہیں ہوتی۔ جہل کا طبقہ جن کو کہ نہ کچھ علم
سے واسطہ ہے اور نہ نماز کا شوق اور نہ احکام
خداوندی کی پرواہ ۔ وہ نمازیوں کو اکثر یہ طعن دیا
کرتے ہیں۔ کہ میاں جب کہ تمہارا وجود نماز میں کھڑا
ہے اور دل تمہارا ادھر ادھر دنیا کی سیر کر رہا ہے
تو تمہیں نماز پڑھنے کا کیا فائدہ ۔ ایسی نماز سے نہ
پڑہنی بتر ہے۔ للیاذ باا کیا فضول بات ہے ذرا
سوچیے اور غور کجئے -1علماء کے اس طبقے کو
لیجئے جو کہ ہر قسم کے علوم سے مال مال ہوں۔ جب
وہ نماز پڑہیں گے اورنماز کے معنی کی طرف جائیں
گے تو پہلے وہ کہیں گے الحمد ل رب العمین۔ یعنی
اس ا کی تعریف جو کہ دوجہانوں کو پالنےوال نہیں
بلکہ دنیاومافیہا کی اٹھارہ ہزار قسم کی مخلوق کا
پالنے وال ہے۔ جب رب العلمین پڑھینگے تو یہ اٹھارہ
ہزار قسم کی مخلوق انکی آنکھوں کے سامنے آ لے
گی۔ اور جب الرحمن الرحیم تو یقینا ا کی رحمت اور
بخشش کا عدیم المثال سمندر ان کے سامنے ٹھاٹھیں
مارتا ہوا ہو گا۔ اور جب مالک یوم الدین پر آئیں گے
تو قیامت وہ دن ان کے سامنے ہوگا جس دن ا
عزاسمہ کی قدرت کامل برسر عدالت ہو گی کوئی
دوزﺥ میں جائیگا کوئی بہشت کی سیر کریگا۔ کوئی
گرمی آفتاب و عذاب جہنم اور جبروتی باری تعالی کے
خوف سے نفسا نفسی پکاریگا اور جنت کی خوشبوؤں
اور اس میں ا تعالی کے دیدار کے شوق میں امتی
امتی کی صدا بلند کریگا۔ اور آگے چل کر جب ایاک
نعبد و ایاک نستعین پر پہنچیگا تو اپنی عاجزی ظاہر
کرکے اپنے گناہ بخشانے اور فراﺥ دستی اور جنت
حاصل کرنے کی خاطر ا سے مد مانگے گا۔ اور
اھدناالصراط المستقیم یعنی سیدہے اور ہدایت والے
رستہ پر چلنے کیلئے توفیق مانگے گا اور درخواست
کریگا کہ صراط الذین انعمت علیہم کہ یا ا مجھے ان
لوگوں کے نقش قدم پر چلنے کی ہمت اور استطاعت
کہ جنہوں نے اس رستہ پر چل کر تیری خوشنودی
حاصل کی اور تو نے خوش ہو کر ان کو انعامات دئے
اس کے ساتھ ہی اس قسم کے مقرب الی ا لوگ اور
انکی فہرست سامنے آئیگی جن پر عزاسمہ خوش ہوا
یعنی اولیائے گراماور انبیاء عظام اور پھر یہ بھی
کہیگا کہ غیرالمضوب علیھم ولالضالین یعنی یا ا جن
ترا غضب ہوا مجھے ان میں سے نہ کرنا جیسا کہ
فرعون۔ نمرود۔ قوم نوح وغیرہ اور نہ مجھے انکا
ساتھی بنانا جو کہ گمراہ ہو گئے اور تجھے بھول
گئے۔ یہ سب باتیں کہہ چکنے کے بعد امین بھی کہیگا
یعنی یا ا میں نے جو کچھ کہا ہے میری ان
درخواستوں اور التجاؤں اور دعاؤں تو سن اور
منظور کر۔سوچنے کا مقام ہے کہ نماز میں یہ خیالت
نہیں تھے۔ نماز کیلئے آئے اور کہاں سے کہاں تک
پہنچے۔
2-
اس قسم کی اور مثالوں کو چھوڑ کر صرف یہ ہی
کافی ہو گی۔ کہ تم نے چار رکعت نماز کی نیت باندھی۔
اور یہ کیسے معلوم رہاکہ میں نے اب ایک رکعت پڑھ
لی۔ اب دو پڑھ لیں اب تین ہوئیں اب چار ہوئیں۔ اور
اگر نماز میں کہیں بھول گیا تو سہو کا سجدہ کیسے
یاد رہا۔ یا اگر امام کے ساتھ کسی التحیات پر مل تو
سلم کے بعد تمہیں اپنی باقی رکعتوں کی ترتیب کس
طرح یاد رہی کیا نماز میں خیال نہیں تو اور کیا ہے۔
میاں ادھر کے خیالت تو سکرات والوں کو نہیں آتے
لیکن اس حالت میں انہیں نماز ہی معاف ہے یہ یاد
رکھو کہ ہر ایک کام خیال سے ہوتا ہے۔ بیخیالی سے
کوئی کام سرانجام نہیں ہوتا۔ مگر ہاں! ایک بات ضرور
یاد رہے کہ لصلوتہ ال بحضور القلب یعنی نماز کے
وقت اگر خیالت آئیں تو اسی قسم کے ہوں کہ جیسا کہ
ذکر ہو چکا ہے کہیں اپنے بیل اور خچروں میں نہ
لگے رہنا اور دل کا رجحان پورا پورا ا کے حضور
میں کھڑے ہو کر اسی کی طرف رکھنا پھر آپکی
خیالوں بھرپور نماز بھی بےخیالی نماز ہو گی وا
اعلم باالصواب
ص216-215
منصور ہو مست الست عاشق اناالحق دا نام سنا گئے
اناالحق کے معنی بعض لوگ ....مین خدا ہوں....
کرتے ہیں یہ غلط ہے بلکہ اس کے معنی کہ میں سچا
ہوں
ص 258
خاک سار نے گذشتہ اوراق میں دل کی نماز پڑھنے
والوں کے متعلق کچھ تحریر کیا تھا۔ یہاں بھی قریب
قریب وہی مصیبت ہے۔ مصنف علیہ الرحمتہ نے نماز
کو شریعت طریقت۔ حقیقت اور معرفت کے رنگ میں
اس طرح ڈھال ہے ۔ کہ چشم بینا متاثر اور قلب سلیم
مسخر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مصنف رحمتہ ا
علیہ نے نماز کو شریعت طریقت۔ حقیقت اور معرفت کا
مجموعہ ظاہر فرمایا ہے جسکو نہ تو آجکل کے عالم
جانتے ہیں اور نہ فقیر بلکہ فقیر تو ل تقرب اصلوتہ
کی ایسی افیم پیئے ہوئے ہیں کہ فسانہ آزاد کے ملں
خوجی بھی مات ہیں۔
نماز ا تعالی کا فرمان ہے اور نبی اکرم صلی ا علیہ
وسلم کا من بھاتا دستورالعمل۔ جس طرح روٹی کے
ساتھ اگر سالن۔ اچار۔ چٹنی پانی نہ ہو تو روٹی کا مزہ
نہیں آتا۔ بلکہ عام لوگ تو اسے کھاتے ہی نہیں اسی
طرح شریعت طریقت۔ حقیقت اور معرفت کی روٹی کے
لوازمات ہیں۔ شریعت کی نماز نیت کر لینے کے بعد
حقیقت طریقت اور معرفت کے زور سے اپنے پرگندہ
خیالت کو دور کرنا۔ اپنے آپ کو صحیح اور درست
طریقہ سے ا کے حضور حاضر کرنا۔ اور بارگاہ
ایزدی سے انعامات و اکرامات حاصل کرنے کے معنی
نماز ہیں اور شریعت طریقت۔ حقیقت اور معرفت کی
یہی نماز
ص322-321
حضرت سائیں سچل سر مست
کے پنجابی کلم کا
اردو کے تناظر میں مطالعہ
برصغیر کے عظیم ہفت زبان شاعر' عبد الوہاب
المعروف سچل سرمست 1739میں' خیر پور کے
گاؤں درازا میں پیدا ہوئے۔ سچل' سچے یا سچ بولنے
والے کو کہا جاتا ہے' جب کہ سرمست' مستی اور
جذب کی حالت والے کو کہا جاتا ہے۔ وہ علمی ادبی
اور تصوف کی دنیا میں' اپنے قلمی اور اختیاری نام
سچل سرمست سے ہی معروف ہیں۔ لڑکپن میں ہی' ان
کے والد انتقال کر گیے۔ دیکھ بھال کا فریضہ' ان کے
چچا نے انجام دیا' جو بعد میں ان کے روحانی پیشوا
ٹھہرے۔ ان کی شادی' ان کی کزن سے ہوئی' جو
صرف دو سال ساتھ نبھا کر ا کو پیاری ہو گیئں۔ اس
کے بعد انہوں نے شادی نہ کی۔
بچپن میں' انہیں حضرت شاہ عبد الطیف بھٹائی اور
کئی دوسرے صوفی شعرا سے' ملنے کا اتفاق ہوا۔
انہوں نے پہلی نظر میں' حضرت سچل سرمست کو
پہچان لیا اور کہا' یہ لڑکا اپنا کام مکمل کرے گا۔ آتے
وقتوں میں یہ کہا سچ ثابت ہوا۔ حضرت سچل سرمست'
اپنے گاؤں سے کبھی کہیں نہیں گیے' لیکن ان کا
سچائی اور روحانیت کا پیغام' خوش بو کی طرح' جگہ
جگہ پہنچا اور اپنے خوش گوار اثرات چھوڑتا رہا۔
حضرت سچل سرمست نے' بڑی سادہ زندگی گزاری۔
سادہ عادات کے مالک تھے۔ کبھی پرآسائش بستر پر
استراحت نہیں فرمائی۔ خوراک بھی' عام سی لیتے
تھے۔ پرتکلف غذا' ان کے لئے کوئی معنویت نہ
رکھتی تھی۔ غذا میں سوپ اور دہی پسند فرماتے
تھے۔ وہ موسیقی کے دلدادہ تھے۔ یہ ہی وجہ ہے' کہ
ان کے کلم پر موسیقیت کا عنصر غالب ہے۔ انہوں
نے 14رمضان المبارک 1829میں' نوے برس کی
عمر میں انتقال فرمایا۔
وہ سات زبانوں پر دسترس رکھتے تھے۔ ان کا کلم
اردو' بلوچی' پنجابی' سرائیکی' سندھی' عربی اور
فارسی میں ملتا ہے۔ ان کا کلم' تصوف کے عناصر
سے لبریز ہے۔ اس تحریر میں ان کے پنجابی کلم کو'
اردو کے لسانیاتی تناظر میں دیکھنے کی ناچیز سی
سعی کی گئی ہے۔ ان کے کلم میں' چاشنی اور
شگفتگی کے ساتھ ساتھ شیفتگی' ورافتگی اور والہانہ
پایا جاتا ہے۔ عشق خدا کے ساتھ ساتھ' مرشد سے
محبت عروج پر نظر آتی ہے۔ ان کا کلم روح کو تازگی
اور روحانی حظ سے سرفراز کرتا ہے۔
حضرت سچل سرمست کے پنجابی کا اردو کے تناظر
میں
لسانیاتی مطالعہ
ان کے ہاں' بہت سے ایسے الفاظ استعمال میں آئے
ہیں' جو اردو میں اسی تلفظ اور معنوں کے ساتھ'
استعمال ہوتے آرہے ہیں۔ مثل
مونہہ وچ دو مہتاب نی روشن' یا وت نور کٹوریاں
خونی خون کرینداں سچل' تاں بھی سدا سگوریاں
.........
حاکم سخت' حکومت والیاں' سائیں آپ سنواریاں
........
سوہنا یار خراماں آیا' ناز غرور غماز کنوں
........
ویکھ عشاق بھی وقت اوہیں دم' سر دی چاون طمع
ان کی پنجابی شاعری کے بہت سے مصرعے' اردو
کے قریب ہیں۔ معمولی سی تبدیلی سے' وہ اردو کے
ذخیرہءشعر میں داخل کیے جا سکتے ہیں۔ باطور
نمونہ یہ مصرعے ملحظہ ہوں۔
میں طالب زہد نہ تقوی دا' ہک منگاں محبت مستی
........
لعل لباں یاقوت رمانی' عالی منصب والے
........
استقبال تے ماضی کیا ہے' حال ڈس دل خستاں نوں
مہاجر الفاظ کا اشتراک ہی نہیں' خالص اردو کے الفاظ
بھی' ان کی پنجابی شاعری میں' پڑھنے کو ملتے ہیں۔
مثل
استقبال بھی چھوڑ ماضی کوں' سچل منگ سرمستی
عشق دی آیت پڑھی عاشقاں' حسن والے ابیاض کنوں
موتی مول مرصع ناہیں' سو چٹسالی دے نقطے
حاکم سخت' حکومت والیاں' سائیں آپ سنواریاں
مترادف اور ہم معنی لفظوں کا استعمال ملحظہ ہو۔ یہ
لفظ' اردو کے لیے' غیرمانوس نہیں ہیں۔
ل نفی دا کلمہ سانوں' مرشدی آپ پڑھایا
........
صورت نال ستارے چمکن' رنگ کریندے مکھ دے
انہوں نے' پنجابی کو نئے مرکبات دیے ہیں اور یہ
مرکبات' اردو والوں کے لیے بھی' غیرمانوس یا ناقابل
فہم نہیں ہیں۔ مثل
جھلک جھلک رخسار' یاد گزشتاں' خام خیال' تیر
بارانی' میر امیراں' نور تجلی' خوش خورشیدی'
صحیح صحیفہ' رنگ ربوبی
قوافی میں' اردو میں استعمال ہونے والے الفاظ
ملحظہ ہوں۔
انگن اساڈے آویں پیارا' نہ تاں مراں مشتاق
اندر توں ہیں' باہر توں ہیں' سپہریں ہر پوشاک
سچو ہے تیڈے ڈیکھن کیتے' اکھاں کوں اشتیاق
........
موتی مونہہ اگوں شرمندے' ہیرے تھئے حیرانی
جھلک جھلک رخسار سوہنے دا' پرتو نور نشانی
سچل ویکھ تجل تنھں دا' ہوئی دل دیوانی
........
مارن ڈنگ نسنگ بلئیں' درد منداں کوں دم دم
چشماں قتل کریندیاں عاشق' پئیپنبیاں دی رم جم
سچل سو سکندر جیئے' بانہاں بدھے جم جم
........
ڈٹھا میں رخسار سوہنے دا' خوش خورشیدی خوبی
اکھاں قاتل تھون قہاری' مشعل مونہہ محبوبی
عشاقاں کوں آ کرے اسیری' عشق والی اسلوبی
نہ مخلوق اکھیجے سچل' سارا رنگ ربوبی
صنعت تضاد میں استعمال ہونے والے الفاظ' اردو میں
مستعمل ہیں۔ مثل
اندر توں ہیں' باہر توں ہیں' سپہریں ہر پوشاک
.........
سچل اوہ بادشاہ گدا تے میر امیراں موہن
تکرار لفظی میں بھی' اردو اور پنجابی کے مشترک
مستعل الفاظ سے' کام لیتے ہیں۔ مثل
قطرے قطرے آب عرق دے' یار دے مونہہ تے سوہن
.........
غیر دے خام خیال کنوں ہن' ہادی سانوں توبہ توبہ
آوازیں گرانا اور بڑھانا زبانوں میں عام سی بات ہے۔
یہ چلن پنجابی میں بھی ملتا ہے۔
مانگ سے منگ :استقبال بھی چھوڑ ماضی کوں' سچل
منگ سرمستی
چند تشبیہات ملحظہ ہوں۔ اردو سے فطری مماثلت
موجود ہے۔
مژگاں تیر بارانی' کردیاں ابرو کیش کمانی
مژگاں تیر بارانی' کریں ابرو کیش کمانی
........
حسن دی نور تجلی سچل' لعل یاقوتی رﺥ تے
حسن کی نور تجلی سچل' لعل یاقوتی رﺥ پر
........
مژگاں گزہن زور محب دیاں' ابرو کج کمانے
مژگاں گزہن زور محب دیاں' ابرو چھپا کمانے
اردو اور پنجابی کی مشترک اصطلحات ملحظہ
ملحظہ ہوں۔
زاہد' عابد' ملں' قاضی کر دے یاد گزشتاں نوں
.........
جمع الجمع کا بطور جمع استعمال دیکھیے۔
اسم اسما
اسامی اسما
........
عشاق عاشق
عشاقاں عشاق
........
عاشقاں' عشاق عاشق'
عشق دی آیت پڑھی عاشقاں' حسن والے ابیاض کنوں
عشاق عاشق
ویکھ عشاق بھی وقت اوہیں دم' سر دی چاون طمع
عشاقاں عشاق
عشاقاں کوں آ کرے اسیری' عشق والی اسلوبی
پنجابی کی تلمیحات اردو والوں کے لیے نئی نہیں۔ مثل
سچل سو سکندر جیئے' بانہاں بدھے جم جم
........
مونہہ محبوب دا صحیح صحیفہ' کردے دور نواباں
متعلق الفاظ کا استعمال اردو کے عمومی چلن سے
مخلتف نہیں۔ مثل
خوش ہوون خونریزی کولوں' چال ستم دی چلدے
چال' ستم' خونریزی
........
صورت نال ستارے چمکن' رنگ کریندے مکھ دے
صورت :رنگ
ستارے :چمکن
...................
خوش بو میں نہاتے رنگ ......ایک جائزہ
عطاءالرحمن قاضی اردو کے' خوش فکر اور خوش
زبان شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں' انسانی زندگی اور
انسانی منافق رویوں کی' بڑے اچھوتے انداز میں'
عکاسی ملتی ہے۔ تاہم کومل جذبوں کو بھی نظرانداز
نہیں کرتے۔ ان نرم و ملئم جذبوں کی حرف کاری'
قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور وہ لطف
اندوزی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ عطا
کے ہاں اصل کمال یہ ہے' کہ لفظوں کا انتخاب خیال
کے مطابق کرتے ہیں۔ ذرا یہ رباعی ملحظہ فرمائیں۔
مہتاب چرا لئے تھے ہم رات گئے
چندراب چرا لئے تھے ہم رات گئے
اس چشم فسوں کار سے چپکے سے عطا
اک خواب چرا لئے تھے ہم رات گئے
عطا' عصری شخص کے عمومی چلن اور طور کی'
بڑے ہی خوب صورت انداز میں' عکاسی کرتے ہیں۔
لفظ اندر کا استعارتی استعمال' ان کے کلم کو فصاحت
و بلغت ہی میسر نہیں کرتا' بل کہ اسے وجاہت سے
بھی' سرفراز کرتا ہے۔ اس ذیل میں ذرا :یہ شعر
ملحظہ فرمائیں
اندر سے نکلتا نہیں کوئی باہر
دیکھو جسے' خود میں وہ سراسر گم ہے
لفظ اندر کا استعمال' اپنے وجود میں معنویت کا رواں
دریا رکھتا ہے۔ کسی کلم کے بلیغ ہونے میں' ایسی
باریکیاں ہی اپنا کمال دیکھاتی ہیں۔
عطا نے' عصری شیوﺥ کے دوہرے اطوار اور چلن
کو' ایک حوالے کے تحت واضح کیا ہے۔
رندوں کے حضور یہ دو رنگی' یا شیخ
رسم شرب الیہود' آخر کب تک!
عطا اپنی رباعیوں میں' عالم گیر سچائیوں کا بڑے
خوب صورت انداز میں' اظہار کرتے ہیں۔ مثل
کھوئی ہوئی توقیر کہاں ملتی ہے
گم گشتہ تقدیر کہاں ملتی ہے
ہر پھول میں ہوتی نہیں خوشبو یارو
ہر خواب کی تعبیر کہاں ملتی ہے
.......
یوں دور سے مت دیکھ' تماشا چپ چاپ
اے موج فنا! مجھ میں اتر جا چپ چاپ
کس گھاٹ اترنا ہے عطا' کیا معلوم!
بہتا جاتا ہوں کب سے تنہا' چپ چاپ
محلت کی نسبت شاہوں سے رہی ہے۔ ان کے سوا
بڑوں کی رہائش و عیش گاہوں کے لیے' کوٹھیاں'
بنگلے' بڑے مکان' اونچے مکان وغیرہ سے لفظ یا
مرکبات مستعمل رہے ہیں۔ ہر دو امرجہ نخوت کدے'
رہے ہیں۔ ایک سے اطوار رکھتے ہوئے' ان میں لفظی
شناخت باقی رہی ہے۔ لفظ محل' بادشاہ کے لیے ہی
تحریر اور عرف میں رہا ہے۔۔ حالں کہ تکبر اور
عوامی استحصال کی ذیل میں' دونوں متوازی چلے
آتے ہیں۔ یہ عوام کا معاملہ نہیں رہا' کہ کون کس کا
بنایا یا کس کے ماتحت رہا ہے۔ عطا نے اس تخصیص
کو ختم کیا ہے۔ گویا ان کے ہاں لفظ محل وسیع اور
بلیغ معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ لمحدود بات' صیغہء
محدود میں کہی گئی ہے۔ کہتے ہیں
ہر کنگرہءکبر' زمیں بوس ہوا
اڑتی ہے محلت میں اب خاک یہاں
مرکب کنگرہءکبر کا' نخوت پسند مزاج پر اطلق بھی
بےمزا نہیں رہے گا۔ حرف کار وہ ہی قابل تحسین
ہے' جو سچ کہتا اور لکھتا آیا ہے۔ ان دو مصرعوں
میں کہا گیا' عالم گیر سچائی کے درجے پر فائز ہے۔
شخص کے یقین اور اس کے کردار کےحوالہ سے'
اس کے شخصی المیے کی' بڑے دردناک انداز میں
عکاسی کی ہے۔ کہتے ہیں
ہاتھوں میں خوش آہنگ دعا ہوتے ہوئے
محروم یقین رہے' خدا ہوتے ہوئے
حیرت سے دیکھتا رہا اپنا زوال
کردار' کہانی سے جدا ہوتے ہوئے
یا پھر یہ دو مصرعے ملحظہ ہوں
اک موج گماں نے یوں بڑھائی پینگیں
سب اہل یقیں' غرقہءاوہام ہوئے
شخصی تنہائی کا بڑے ہی باریک انداز میں اظہار
کرتے ہیں۔ مثل
........
دریا نے بہت زور لگایا لیکن
صحرا مرے اندر سے نکال نہ گیا
آج شخص انا کے خول میں بند ہے۔ اس تلخ حقیقت کا
اظہار ملحظہ ہو۔
اک بوجھ اٹھائے' چار و ناچار چلے
آخر کو یہی کھل کہ بیکار چلے
اس قید انا سے کون باہر نکل
جس سمت بھی جائیے یہ دیوار چلے
عصری جبریت کا اظہار کرتے' ان کے لہجے میں
تلخی آ جاتی ہے۔
روشن ہیں کب آگہی کے فانوس یہاں
سب لوگ ہوئے ظلم سے مانوس یہاں
آنکھوں میں حیا رہی نہ کچھ دل میں خوف
چلتا ہے فقط سکہ سالوس یہاں
یہ ایک ازلی حقییقت ہے' کہ شخص اپنی شناخت
باالوسطہ حاصل کرتا ہے۔ عطا کے ہاں اس حقیقت کا
اظہار ملحظہ ہو۔
اس شوﺥ نے دیکھا جو مری سمت بغور
تب جا کے کہیں خود کو نظر آیا میں
واہ۔۔۔۔۔ واہ' بہت خوب....کیا بات ہے۔
تخلیق آدم بلشبہ بہت بڑا کمال ہے۔ علم آدم کا شرف
ٹھہرا۔ ان دو مصرعوں میں' اس واقعے کا اظہار
دیکھیے۔ ان دو مصرعوں کو' سورتہ والتین اور
سورتہ بقر کے تناظر میں' ملحظہ فرمائیں۔
مٹی میں رکھ دیا علو معراج
ہونے نہ دیا کبھی کسی کا محتاج
عطا نے ذومعنویت کا کمال چابک دستی استعمال کیا
ہے۔ مثل
دیوار گرانے سے جو کھلتا ہی نہ تھا
عقدہ وہی دیوار اٹھانے سے کھل
دیوار گرانا
دیوار اٹھانا
رباعی میں' چوتھا مصرع کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔
عطا کے ہاں' مختلف صورت بھی ملتی ہے۔ پہلے دو
یا آخری دو مصرعوں کو باقاعدہ شعر کے طور پر لیا
جا سکتا ہے۔ مثل
پہلے دو مصرعے
موجود بھی موجود سے بڑھ کر نکل
اک اور ہی منظر' پس منظر نکل
آخری دو مصرعے
مہتاب کو جھیل میں نہاتےہوئے' شب
افلک سے تاروں نے اتر کر دیکھا
غزل کا سا' حسن بیان اور نازک خیالی ملحظہ
فرمائیں
دیکھا ہے ترے حسن کا پر تو جب سے
آنکھوں میں کوئی نقش ٹھہرتا ہی نہیں
اعجاز آگہی کا حاصل ہے عطا
میں رات کے پردے میں سحر دیکھتا ہوں
عطا کے ہاں بات کے آغاز کے مختلف انداز ملتے ہیں۔
مصرعوں کا ہم صوت الفاظ سے آغاز کرتے ہیں۔
یوں دشت غزل میں خوش ہوائیں ناچیں
جوں تخت ہوا پہ اسپرائیں ناچیں
...........
اس قید انا سے کون باہر نکل
جس سمت بھی جائیے یہ دیوار چلے
...........
شعلہ کوئی پتھر سے نکال نہ گیا
نشہ کسی منظر سے نکال نہ گیا
دریا نے بہت زور لگایا لیکن
صحرا مرے اندر سے نکال نہ گیا
مصرعوں کا ایک ہی الفاظ سے آغاز
اے حرف خوش خصال' آ جا مجھ میں
اے کیف لزوال' آ جا مجھ میں
...........
مصرعوں کا ایک ہی لفظ سےآغاز' جب کہ دونوں
مصرعوں کا' دوسرا لفظ ہم صوت ہوتا ہے۔
اے نغمہءبےتاب' ذرا اور چمک
اے شعلہءنایاب ' ذرا اور چمک
.........
ہر جام میں اک عکس طلسم امکان
ہر گام یہ دشت غزل آہنگ کھل
...........
پہلے تین لفظ ایک ہی استعمال کرنے کا طور ملحظہ
ہو۔
اک اؤر ہی انقلب سوچا تھا مگر
اک اؤر ہی انقلب دیکھا میں نے
........
اب ہم مرتبہ لفظوں سے مصرعوں کا آغاز ملحظہ
ہو۔
قطرہ قطرہ حباب دیکھا میں نے
ذرا ذرا سراب دیکھا میں نے
پہلے مصرعے میں' متضاد لفظوں کا برجتسہ اور امر
واقع کے تحت استعمال
ملحظہ ہو:
جلتے بجھتے چراغ' لمحوں کی فصیل
...........
پھولوں کو کانٹوں میں پرونے والو
...........
کفایت لفظی کی دو صورتیں دیکھیے:
مہتاب چرا لئے تھے ہم رات گئے
چندراب چرا لئے تھے ہم رات گئے
اس چشم فسوں کار سے چپکے سے عطا
اک خواب چرا لئے تھے ہم رات گئے
........
قطرہ قطرہ حباب دیکھا میں نے
ذرہ ذرہ سراب دیکھا میں نے
اک اور ہی انقلب سوچا تھا مگر
اک اور ہی انقلب دیکھا میں نے
عطا نے اردو کی شعری زبان کو' بڑے خوب صورت
مرکب دیے ہیں۔ یہ مرکب' اچھوتے اور گہری معنویت
رکھتے ہیں۔ مختلف نوعیت کے چند مرکب دیکھیے۔
افق دل
اقلیم معنی
تخت ہوا
دشت غزل
طلسم امکان
علو معرج
قرطاس شب
قید انا
کیف لزوال
وسعت شب
پتھر کا سکوت
خوشبو کا جھرنا
تہذیب کے اوراق
شوق کی تکذیب
قرنوں کی دیوار
لمحوں کی فصیل
افلک پہ ساغر
لزماں وسعت
حرف خوش خصال
اہل زوال
اہل نیاز
زاویہ نشیں
لفظ پرست
شعلہءنایاب
کنگرہءکبر
نشہءپندار
ادائے کہکشانی
ورائے تشبیہ
عطا کی زبان کا محاورہ; شائستہ' شگفتہ' برمحل اور
نئی فکر کا حامل ہوتا ہے۔ چند مثالیں باطور نمونہ
ملحظہ ہوں۔
پلکیں بڑھانا :اک موج گماں نے یوں بڑھائی پینگیں
دیوار گرنا :دیوار گرانے سے جو کھلتا ہی نہ تھا
دیوار اٹھانا :عقدہ وہی دیوار اٹھانے سے کھل
سانچے میں اترنا :موجود کے سانچے میں اتر آیا میں
دل میں اتارنا :خوشبو بھرے لمحوں کو اتارا دل میں
بوجھ اٹھانا :اک بوجھ اٹھائے' چار و ناچار چلے
سکہ چلنا :چلتا ہے فقط سکہءسالوس یہاں
پلکوں سے اٹھانا :کیا خواب تھے پلکوں سے اٹھا
کے' جھونکے
عطا کی رباعیوں میں' مقامیت بھی پائی جاتی ہے۔
ساتھ میں' بہت بڑی حقیقت بیان کر گیے ہیں۔
پھوہڑ کی ہو جھاڑو کہ سگھڑ کا لیپا
چھپتے نہیں گو لکھ چھپائے کوئی
کہانی کہاوت بھی ان کی رباعیات میں نظر انداز نہیں
ہوئی۔ مثل
تہ خانے میں صندوق کے چاروں جانب
پہرا ہے کسی ناگ کا جانے کب سے
عطا تلمح کا تشبیہی استعمال' بڑے ہی طریفہ سلیقہ
سے کرتے ہیں۔ کئی ایک رومان پرور مناظر' آنکھوں
کے سامنے گھوم گھوم جاتے ہیں۔ ذرا تصور کیجیے'
مست ہواؤں میں سورگ کی الپسرائیں رقص کر رہی
ہوں' تو شخص اور دیوتا بن پیئے' نشہ کی حالت میں
آ جائیں گے۔
یوں دشت غزل میں خوش ہوائیں ناچیں
جوں تخت ہوا پہ اسپرائیں ناچیں
جناب عطاالرحمن قاضی کی زبان و فکر پر' دیانت
داری سے' بہت کچھ لکھا جا سکتا اور لکھا جانا
چاہیے .میں اپنی معروضات یہاں پر ختم کرتا ہوں' تا
کہ قاری بھی' اس ذیل میں' اپنی رائے دے سکے۔
دعا ہے ا کریم قاضی صاحب کے قلم میں' مزید
روانیاں رکھ دے' تا کہ وہ زبان و ادب کی خدمت کے
ساتھ ساتھ' عصری معاملت کو' کاغذ کے سپرد کر
سکیں۔ آتا کل شاہوں اور ان کے کنکبوتیوں کو ہی
نہیں' اس عہد کے دوسرے باسیوں کے احوال سے
آگاہ ہو بھی سکے۔
رفیق احمد نقش :افسانوی کردار' مثالی ادیب
ایک جائزہ
بادشاہ سیٹھ اور ان کے جدی پشتی کنقریب' طے شدہ
بڑی مخلوق ہوتی ہے۔ اسی طرح ان کے بچے خلئی
مخلوق ہوتے ہیں۔ ضرورت' حالت یا حادثاتی کنکبوتی
بھی تاریخ و ادب میں بڑے ٹھہرتے ہیں۔ گویا ان کا بڑا
ہونا پہلے سے طے شدہ ہے۔ کسی بھی شدہ پر کلم
کی گنجائش نہیں ہوتی' کیوں کہ ان کی حیثیت پہلے
سے سمجھی سمجھائی ہوتی ہے۔ چوری خور مورکھ
بھی ان کے نام وہ کچھ لکھ جاتا ہے' جس کا انہوں
نے خواب تک نہیں دیکھا ہوتا یا اس نوع کا خواب
سوچنے کی بھی گستاخی نہیں کی ہوتی۔ اگر اچھائی
کی سوچ' ان کے قریب سے بھی گزر جائے' تو جدی
پشتی بڑوں کی صف سے ہی نکال باہر کیے جائیں۔ یا
یوں کہہ لیں' اچھائی ان کے لیے ریورس کے دروازے
کھول سکتی ہے۔
نان جدی پشتی بڑے' ضروری نہیں' بڑے شہروں
محلوں یا بنگلوں میں جنم لیں۔ وہ اپنی کوشش' زہانت'
سچی لگن اور جہد مسلسل کے بل پر' بڑے قرار پاتے
ہیں۔ انہیں زندگی کے ہر موڑ پر' تندی باد مخالف سے
نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔ ان کی ٹانگیں کھنچنے والے'
اطراف میں موجود رہتے ہیں۔ اس کھنچو کھنچی میں'
ان کا قد بڑھتا ہی چل جاتا ہے۔ ا ان کی محنت اور
خلوص نیتی کو' برکت عطا فرماتا ہے۔ وہ کسی
سرکاری' سیٹھی یا شاہی گماشتے کے' ناخواندہ اعزاز
و اکرام کے محتاج نہیں رہتے۔ اصل حقیقت یہ بھی
ہے' کہ زمین کے کسی وڈیرے کی عطائی برکی' ان
کی فکری اپروچ کے لیے' سم قاتل سے کم نہیں ہوتی۔
سرکاری برکی نے' فردوسی کو عوامی نمائندہ نہ
رہنے دیا۔ اس کے کہے کو' اس عہد کی شاہی جاہ و
حشم کا گواہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسے عوام کے دکھ
سکھ کا شہادتی قرار دینا' اس کی عظمت پر کالک
ملنے کے مترادف ہو گا۔
رفیق احمد نقش کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے' جو
جھونپڑوں سے اٹھ کر بھوک و پیاس کے اژدھوں
سے' نبردآزما ہوتے ہوئے' محنت اور مشقت کی
پرخار وادیوں سے گزرتے' شناخت کے جلوہ کدوں
میں اپنی اقامت کا سامان کرتے ہیں۔ محل منارے' آج
کی شان ہوتے ہیں اور کل کے کھنڈرات۔ کتے بلے
ناصرف وہاں بسیرا کرتے ہیں' بل کہ وہ ان کی غلظت
گاہ بھی ٹھہرتے ہیں۔ آتے وقتوں میں ان کے لیے
مرکب۔۔۔۔۔ سنا ہے۔۔۔۔۔۔ استعمال میں آتا ہے۔ ان کی
شخصی پہچان ختم ہو جاتی ہے۔ رفیق احمد نقش نے'
جس بستی میں بسیرا کیا وہاں کی شناخت' گارے
چونے سے بنی عمارتیں نہیں ہیں بل کہ اس عہد' اس
عہد کے لوگوں اور ان کے معاملت سے متعلق
شہادتیں ہوتی ہیں۔ لفظوں سے تعمیر ہونے والے یہ
پیکر' حرفکر کی شناخت ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے
تاج محل اور نور محل سی خون خور عمارتیں'
شرمندگی کی علمت بنی ہوتی ہیں۔
اس ذیل میں رفیق احمد نقش کا یہ شعر ملحظہ ہو:
بہار میں جو گرائے درخت اب کے
کھدے ہوئے تھے کئی نام ساتھ ساتھ ان پر
درخت چھاؤں آکسیجن اور ہریالی فراہم کرتے ہیں۔ یہ
حادثاتی طور گرے نہیں' بل کہ گرائے گئے ہیں۔ لفظ
درخت کا علمتی استعمال' بڑی گری تفہیم کا تقاضا
کرتی ہے۔
ڈاکٹر ذوالفقار علی دانش' کا اردو کے بےدار مغز اہل
قلم میں شمار ہوتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ وہ
شاہ یا شاہ کے کنکبوتیوں سے' دور کے شخص ہیں۔
وہ کام اور کام پر یقین رکھنے والوں میں سے ہیں۔
میری اس بات ثبوت کتاب
۔۔۔۔۔۔ رفیق احمد نقش :افسانوی کردار' مثالی کردار۔۔۔۔۔۔
ہے اس کتاب کو دیکھتے اور پڑھتے ہوئے' اندازہ
ہوتا ہے' کہ بندے نے کام کیا ہے اور جان ماری ہے۔
انہوں نے' کتاب کو بڑے سلیقے اور ہنرمندی سے
مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہے۔
کتاب کا آغاز نعت و سلم سے کیا گیا ہے۔ یہ دونوں
رفیق احمد نقش کے قلم کا نتیجہ ہیں۔ عقیدت احترم
اور آقا کریم سے محبت' اپنی جگہ لسانیاتی اعتبار
سے بھی' یہ دونوں قلم پارے کچھ کم نہیں ہیں۔ نمونہ
کا فقط ایک شعر ملحظہ ہو۔ اس ایک شعرسے' اندازہ
ہو جاتا ہے کہ وہ زبان پر کس سطع کی دسترس
رکھتے تھے۔
اسی کی ذات ہے ہر طرح سے تقلید کے قابل
کہ وہ محفل نشیں بھی ہے وہی خلوت گزیں بھی ہے
تکرار حرفی و تکرار لفظی کے ساتھ دو مرکبات'
مصرع ثانی میں دو ہم صوت لفظوں کا استعمال' جب
کہ صنعت تضاد کا کمال خوبی سے استعمال کیا گیا۔
صرف اس ایک شعر سے' اس امر کا باخوبی اندازہ
کیا جا سکتا ہے' کہ مرحوم اردو زبان اور اس کی
جڑوں سے کتنا اور کس قدر قریب تھے۔
پہل حصہ رفیق احمد نقش کی حیات اور یادوں سے
متعلق ہے۔ اس میں ڈاکٹر ذوالفقار علی دانش سمیت'
اکتیس جید اہل قلم کی تحریریں شامل ہیں۔ انہیں پڑھ
کر' رفیق احمد نقش کی حیات اور عادات و اطوار سے
متعلق' بہت سی معلومات' دستیات ہو سکتی ہیں۔ ان
تحریروں کی حصولی' جمع بندی اور ترتیب کے لیے
انہوں نے' بلشبہ بڑی محنت اور خلوص نیتی سے
کام لیا ہے۔ اس حوالہ سے' ان کی تحسین نہ کرنا
زیادتی کے مترادف ہو گا۔ چند اک اقتباس باطور نمونہ
ملحظہ ہوں۔ ان مختصر ٹکڑوں کے مطالعہ سے'
رفیق نقش کی شخصیت کے بہت سے پہلو' بلتکلف
اور لگی لپٹی سے بال سامنے آ جائیں گے۔
رفیق احمد نقش نے
پندرہ مارچ 1959کو میرپور خاص میں جنم لیا۔ ص:
13
اردو زبان و ادب اور ہماری اعل اقدار کا یہ روشن
ستارہ اپنی روشنی سے لوگوں کےقلوب واذہان منور
کرکے 15مئی 2013کو دائمی ابر آلودگی میں چھپ
گیا۔ ص16 :
اردو ادب کے حوالے سے رفیق نقش کا بیش تر کام
شاعری' ترجمے' تنقیدی و تحقیقی مضامین' فنی
تدوین اور ادارت سے متعلق ہے۔
سوانح نقش پر ایک نظر از ڈاکٹر ذوالفقار علی دانش
ص 16
وہ بڑے صاف گو بلکہ منہ پھٹ آدمی تھے۔ لگی لپٹی