The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2017-03-29 09:05:26

f-1 (1)

f-1 (1)

‫ادبی ج ئزے‬

‫مقصود حسنی‬

‫ابوزر برقی کت خ نہ‬
‫م رچ‬

‫کرشن چندر کی سوچ ک اف ‪-‬‬

‫رفی احمد نقش‪ :‬افس نوی کردار' مث لی ادی ‪ -‬ایک ج ئزہ ‪-‬‬

‫خوش بو میں نہ ت رنگ‪ ......‬ایک ج ئزہ ‪-‬‬
‫حضرت س ئیں سچل سر مست ک پنج بی کلا ک اردو ک ‪-‬‬

‫تن ظر میں مط ل ہ‬

‫ب ب فرید کی ش ری زب ن ک ' اردو ک تن ظر میں لس نی تی ‪-‬‬
‫مط ل ہ‬

‫اردو اور دیگر زب نوں ک لس نی تی اشتراک ‪-‬‬

‫اردو اور س دی ب وچست ن ک ب وچی کلا ک لس نی تی ‪-‬‬
‫اشتراک‬

‫اردو ک تن ظر میں حضرت بوع ی ق ندر ک ف رسی کلا ک ‪-‬‬
‫لس نی تی مط ل ہ‬

‫حضرت خواجہ م ین الدین چشتی کی ف رسی ش عری اور اردو زب ن‪-‬‬

‫حضرت امیر خسرو ک ایک گیت اور جدید گ ئیکی‪-‬‬
‫ایک قدی ی د گ ر ب رہ ام ‪-‬‬

‫س ختی ت اور اس ک حدود ایک ج ئزہ ‪-‬‬
‫ب راں م ہ غلا حضور ش ہ ‪-‬‬
‫شجرہ ق دریہ ۔۔۔۔۔ ایک ج ئزہ ‪-‬‬

‫کرشن چندر کی سوچ ک اف‬

‫کرشن چندر بیسویں صدی ک بڑا قد آور افس نہ نگ ر ہ ۔‬
‫شخصیت کی طرح اس کی ادبی خدم ت بھی ق بل تحسین ہیں۔‬
‫اس ن زندگی کی ت خ اور کٹھور حقیقتوں کو قرط س فن پر‬
‫رکھت خو صورت اور مط بقتی زب ن ک انتخ کی ہ ۔ جو‬
‫چیز جتن اور جس قدر قری ہو گی وہ اتنی ہی کشش آور ہو گی۔‬
‫زندگی س انتہ ئی قری رہن ک ب عث کرشن چندر کو ہر‬
‫طبقہءفکر ک لوگوں س م ن ک موقع ملا۔ یہ ہی وجہ ہ کہ‬
‫اس ن اپن افس نوں میں ہر طبقہ ک لوگوں کو جگہ دی ہ‬
‫اور ان ہی س داد وتحسین وصول کی ہ ۔ اس ن ن زک اور‬
‫حس س آبگینوں کو بڑی مہ رت اور س یقہ س چھیڑا ہ ۔ اس‬
‫ک کرداروں میں ق ری کو اپنی شخصیت کی پررچھ ئی نظر آتی‬
‫ہ ۔ اتنی اوریجنل فوٹوگرافی اس ل ظوں ک مصور بن دیتی ہ ۔‬

‫کرشن چندر انس نی ن سی ت س خو خو آگ ہ ہ ۔ وہ دل کی‬
‫دھڑکنوں تک کو گنن کی مہ رت رکھت ہ ۔ بدلت ح لات اور‬
‫بدلتی ذہنیت ک مط ل ہ کرن پر مہ رت رکھت ہ ۔ وہ م مولی‬
‫اورغیرمحسوس تبدی ی کو بھی نظروں س اوجھل ہون نہیں‬

‫دیت ۔ اس ک مش ہدے کی خوردبین بڑی ک رکش ہ ۔ یہ ہی‬
‫سچ ' کھرے اور بڑے فن ک ر کی پہچ ن ہوتی ہ ۔ وہ بدلت‬
‫ح لات بدلتی قدروں اور بدلت رویوں کی ج نچ کر لیت ہ ۔ ایسی‬

‫صورت میں جو کچھ بھی ق اور برش کی گرفت میں آئ گ‬
‫سچ اور ہو بو ہو گ ۔ م م کو ج نن ک لی قی فیہ ی‬

‫م روضہ ہی ک فی نہیں ہوت ۔ اس ک لی م م کی جڑ کی‬
‫مٹی تک ج ن پڑت ہ ۔ اندازے اور قی ف مخمصوں ک دروزے‬

‫کھولت ہیں۔ انہیں کسی بھی صورت میں سچ ئی اور حقیقت ک‬
‫درجہ نہیں دی ج سکت ۔‬

‫کرشن چندر ک کردار قی ف ی اندازے س تشکیل نہیں پ ئ ۔‬
‫وہ گ ی ب زار اور گھروں میں چ ت پھرت نظر آت ہیں۔ اس‬

‫ک ہ ں ہر طبق ک کردار دیکھن کو م ت ہیں۔ مخت ف‬
‫نوعیت ک سوچ پر گرفت حیرت انگیز عمل ہ ۔ اس ک کہن ہ ۔‬

‫انس ن کی ذہنی کی یتیں سمندر ک مدوجزر کی طرح دل ک‬
‫س حل پر اترتی ہیں اور عموم یہ مبہ سی تصویروں ک‬

‫دوسرے ری میں یوں فن ہو ج تی ہی کہ پھر ان ک ن و نش ن‬
‫بھی نہیں پ سکت ۔ ی پھر نئ نقوش اپنی تزئین امتزاج س‬

‫نئی جم لی تی کی یتیں کر دی ک آغوش میں اس س حل کی ریت‬
‫ک ہر ذرہ ہ کی ۔ اس س پہ بھی زندگی تھی ی یہ نغمہ‬

‫اضط ری ل ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ب ض نقوش اس قدر ن پیدار اورمبہ‬
‫نہیں ہوت اور س حل حی ت پر ایسی تصویریں کھینچ دیت ہیں‬

‫جو مدت تک ق ئ رہتی ہیں۔‬

‫یہ پیرہ نثر لطیف ک درج پر ف ئز ہ ۔ کرشن چندر ن اس‬
‫پیرے میں لطیف ن پیدار اور مکمل کی یتوں ک بڑی خو صورتی‬

‫س ذکر کی ہ ۔ اس س یہ حقیقت کھل ج تی ہ کہ وہ لطیف‬
‫کی یتوں اور جذبوں پر بھی گہری نظر رکھت ہیں۔ اگرچہ‬

‫کی یتیں م دی وجود س م ورا ہوتی ہیں لیکن کرشن چندر کی‬
‫نظریں ان کی ب ریک ریکھ ؤں تک چ ی ج تی ہیں اور وہ انہیں‬

‫ل ظوں ک کیمرے میں مح وظ کر لیت ہ ۔‬

‫جس طرح زندگی دکھ سکھ محبت اور محبت ک آمیزہ ہ اسی‬
‫طرح کرشن چندر ک افس ن زندگی ک مخت ف رنگوں ک گل‬

‫دستہ ہیں۔ اس گل دست میں ک نٹ بھی ہیں۔ اس آمیزے س‬
‫ہر رنگ الگ کرن آس ن نہیں۔ س دھو ی حکی کی س وف میں کی‬
‫کچھ ہ ج نن آس ن ک نہیں۔ ب لکل اسی طرح زندگی ک آمیزے‬
‫س ان ح لتوں کو الگ کرن آس ن ک نہیں۔ کرشن چندر کو یہ‬
‫کم ل ح صل ہ کہ وہ انہیں الگ الگ کرک اپن افس نوں میں‬

‫کم ل مہ رت س پیش کرت ہ ۔‬

‫‪1973‬‬

‫رفی احمد نقش‪ :‬افس نوی کردار' مث لی ادی ‪ -‬ایک ج ئزہ‬

‫ب دش ہ سیٹھ اور ان ک جدی پشتی کنقری ' ط شدہ بڑی‬
‫مخ و ہوتی ہ ۔ اسی طرح ان ک بچ خلائی مخ و ہوت‬
‫ہیں۔ ضرورت' ح لات ی ح دث تی کنکبوتی بھی ت ریخ و اد میں‬
‫بڑے ٹھہرت ہیں۔ گوی ان ک بڑا ہون پہ س ط شدہ ہ ۔‬
‫کسی بھی شدہ پر کلا کی گنج ئش نہیں ہوتی' کیوں کہ ان کی‬

‫حیثیت پہ س سمجھی سمجھ ئی ہوتی ہ ۔ چوری خور‬
‫مورکھ بھی ان ک ن وہ کچھ لکھ ج ت ہ ' جس ک انہوں ن‬
‫خوا تک نہیں دیکھ ہوت ی اس نوع ک خوا سوچن کی بھی‬
‫گست خی نہیں کی ہوتی۔ اگر اچھ ئی کی سوچ' ان ک قری س‬
‫بھی گزر ج ئ ' تو جدی پشتی بڑوں کی صف س ہی نک ل ب ہر‬

‫کی ج ئیں۔ ی یوں کہہ لیں' اچھ ئی ان ک لی ریورس ک‬
‫دروازے کھول سکتی ہ ۔‬

‫ن ن جدی پشتی بڑے' ضروری نہیں' بڑے شہروں مح وں ی‬
‫بنگ وں میں جن لیں۔ وہ اپنی کوشش' زہ نت' سچی لگن اور جہد‬
‫مس سل ک بل پر' بڑے قرار پ ت ہیں۔ انہیں زندگی ک ہر موڑ‬

‫پر' تندی ب د مخ لف س نبردآزم ہون پڑت ہ ۔ ان کی ٹ نگیں‬
‫کھنچن وال ' اطراف میں موجود رہت ہیں۔ اس کھنچو کھنچی‬
‫میں' ان ک قد بڑھت ہی چلا ج ت ہ ۔ الله ان کی محنت اور خ وص‬
‫نیتی کو' برکت عط فرم ت ہ ۔ وہ کسی سرک ری' سیٹھی ی ش ہی‬

‫گم شت ک ' ن خواندہ اعزاز و اکرا ک محت ج نہیں رہت ۔‬
‫اصل حقیقت یہ بھی ہ ' کہ زمین ک کسی وڈیرے کی عط ئی‬
‫برکی' ان کی فکری اپروچ ک لی ' س ق تل س ک نہیں ہوتی۔‬
‫سرک ری برکی ن ' فردوسی کو عوامی نم ئندہ نہ رہن دی ۔ اس‬
‫ک کہ کو' اس عہد کی ش ہی ج ہ و حش ک گواہ قرار دی ج‬
‫سکت ہ ۔ اس عوا ک دکھ سکھ ک شہ دتی قرار دین ' اس کی‬

‫عظمت پر ک لک م ن ک مترادف ہو گ ۔‬

‫رفی احمد نقش ک شم ر ان لوگوں میں ہوت ہ ' جو جھونپڑوں‬
‫س اٹھ کر بھوک و پی س ک اژدھوں س ' نبردآزم ہوت‬

‫ہوئ ' محنت اور مشقت کی پرخ ر وادیوں س گزرت ' شن خت‬
‫ک ج وہ کدوں میں اپنی اق مت ک س م ن کرت ہیں۔ محل‬
‫من رے' آج کی ش ن ہوت ہیں اور کل ک کھنڈرات۔ کت ب‬

‫ن صرف وہ ں بسیرا کرت ہیں' بل کہ وہ ان کی غلاظت گ ہ بھی‬
‫ٹھہرت ہیں۔ آت وقتوں میں ان ک لی مرک ۔۔۔۔۔ سن ہ ۔۔۔۔۔۔‬

‫است م ل میں آت ہ ۔ ان کی شخصی پہچ ن خت ہو ج تی ہ ۔‬
‫رفی احمد نقش ن ' جس بستی میں بسیرا کی وہ ں کی شن خت'‬

‫گ رے چون س بنی عم رتیں نہیں ہیں بل کہ اس عہد' اس‬
‫عہد ک لوگوں اور ان ک م ملات س مت شہ دتیں ہوتی‬
‫ہیں۔ ل ظوں س ت میر ہون وال یہ پیکر' حرفکر کی شن خت‬
‫ہوت ہیں۔ ان ک س من ت ج محل اور نور محل سی خون خور‬

‫عم رتیں' شرمندگی کی علامت بنی ہوتی ہیں۔‬

‫اس ذیل میں رفی احمد نقش ک یہ ش ر ملاحظہ ہو‪:‬‬

‫بہ ر میں جو گرائ درخت ا ک‬

‫کھدے ہوئ تھ کئی ن س تھ س تھ ان پر‬

‫درخت چھ ؤں آکسیجن اور ہری لی فراہ کرت ہیں۔ یہ ح دث تی‬
‫طور گرے نہیں' بل کہ گرائ گئ ہیں۔ ل ظ درخت ک علامتی‬

‫است م ل' بڑی گری ت ہی ک تق ض کرتی ہ ۔‬

‫ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش' ک اردو ک ب دار مغز اہل ق میں‬
‫شم ر ہوت ہ ۔ س س بڑی ب ت یہ کہ وہ ش ہ ی ش ہ ک‬

‫کنکبوتیوں س ' دور ک شخص ہیں۔ وہ ک اور ک پر یقین‬
‫رکھن والوں میں س ہیں۔ میری اس ب ت ثبوت کت‬

‫۔۔۔۔۔۔ رفی احمد نقش‪ :‬افس نوی کردار' مث لی کردار۔۔۔۔۔۔‬

‫ہ اس کت کو دیکھت اور پڑھت ہوئ ' اندازہ ہوت ہ ' کہ‬
‫بندے ن ک کی ہ اور ج ن م ری ہ ۔ انہوں ن ' کت کو‬
‫بڑے س یق اور ہنرمندی س مخت ف حصوں میں تقسی کی‬
‫ہ۔‬

‫کت ک آغ ز ن ت و سلا س کی گی ہ ۔ یہ دونوں رفی احمد‬
‫نقش ک ق ک نتیجہ ہیں۔ عقیدت احتر اور آق کری س محبت'‬

‫اپنی جگہ لس نی تی اعتب ر س بھی' یہ دونوں ق پ رے کچھ ک‬
‫نہیں ہیں۔ نمونہ ک فقط ایک ش ر ملاحظہ ہو۔ اس ایک ش رس '‬

‫اندازہ ہو ج ت ہ کہ وہ زب ن پر کس سطع کی دسترس رکھت‬
‫تھ ۔‬

‫اسی کی ذات ہ ہر طرح س تق ید ک ق بل‬

‫کہ وہ مح ل نشیں بھی ہ وہی خ وت گزیں بھی ہ‬

‫تکرار حرفی و تکرار ل ظی ک س تھ دو مرکب ت' مصرع ث نی‬
‫میں دو ہ صوت ل ظوں ک است م ل' ج کہ صن ت تض د ک کم ل‬

‫خوبی س است م ل کی گی ۔ صرف اس ایک ش ر س ' اس امر‬
‫ک ب خوبی اندازہ کی ج سکت ہ ' کہ مرحو اردو زب ن اور اس‬

‫کی جڑوں س کتن اور کس قدر قری تھ ۔‬

‫پہلا حصہ رفی احمد نقش کی حی ت اور ی دوں س مت ہ ۔‬
‫اس میں ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش سمیت' اکتیس جید اہل ق کی‬
‫تحریریں ش مل ہیں۔ انہیں پڑھ کر' رفی احمد نقش کی حی ت اور‬
‫ع دات و اطوار س مت ' بہت سی م وم ت' دستی ت ہو سکتی‬

‫ہیں۔ ان تحریروں کی حصولی' جمع بندی اور ترتی ک لی‬
‫انہوں ن ' بلاشبہ بڑی محنت اور خ وص نیتی س ک لی ہ ۔‬
‫اس حوالہ س ' ان کی تحسین نہ کرن زی دتی ک مترادف ہو گ ۔‬

‫چند اک اقتب س ب طور نمونہ ملاحظہ ہوں۔ ان مختصر ٹکڑوں‬
‫ک مط ل ہ س ' رفی نقش کی شخصیت ک بہت س پہ و'‬

‫بلاتک ف اور لگی لپٹی س ب لا س من آ ج ئیں گ ۔‬

‫رفی احمد نقش ن‬

‫پندرہ م رچ ‪ 1959‬کو میرپور خ ص میں جن لی ۔ ص‪13 :‬‬

‫اردو زب ن و اد اور ہم ری اعلا اقدار ک یہ روشن ست رہ اپنی‬
‫روشنی س لوگوں ک ق و واذہ ن منور کرک ‪ 15‬مئی ‪2013‬‬

‫کو دائمی ابر آلودگی میں چھپ گی ۔ ص‪16 :‬‬

‫اردو اد ک حوال س رفی نقش ک بیش تر ک ش عری'‬
‫ترجم ' تنقیدی و تحقیقی مض مین' فنی تدوین اور ادارت س‬
‫مت ہ ۔‬

‫سوانح نقش پر ایک نظر از ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش ص ‪16‬‬

‫وہ بڑے ص ف گو ب کہ منہ پھٹ آدمی تھ ۔ لگی لپٹی ہرگز نہیں‬
‫رکھت تھ ۔ زم نہ س زی انہیں ہرگز نہیں آتی تھی۔‬

‫رفتید ول نہ از دل م از ڈاکٹر یونس حسنی ص‪17 :‬‬

‫سوال‪ :‬رفی نقش کی موت ک ب د آپ کی محسوس کرت ہیں۔‬

‫جوا ‪ :‬اردو ک بہت بڑا نقص ن ہوا ہ ۔ لوگوں کو اس ک احس س‬
‫نہیں ہ ۔ یہ میں ج نت ہوں۔ وہ لس نی ت ک آدمی تھ ۔ مجھ‬
‫ج کسی ل ظ ک ب رے میں م و کرن ہوت تو میں فون کرک‬

‫پوچھت تھ کہ است د یہ ل ظ کس طرح ہ ۔ وہ بت دی کرت تھ ۔‬

‫شکیل ع دل زادہ س گ تگو' ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش ص‪23 :‬‬

‫رات گئ اچ نک کوئی خی ل آت ی کسی کت ک سرا م ت تو ان‬
‫حضرات س بلاتک ف تب دلہءخی ل کرت اور کبھی ان ک لہج‬

‫میں ن گواری ک ت ثر محسوس نہیں ہوا۔‬

‫دو درویش از سید ج م ی ص‪29 :‬‬

‫وہ اکثر اتوار کو ریگل اور فریئر ب ل پرانی کت بیں خریدن ک‬
‫لی ج ت تھ ۔ کت بوں س انھیں جنون کی حد تک شو تھ ۔‬
‫ان کی ذاتی لائبریری میں دس ہزار س زی دہ کت بیں اور رس ل‬

‫ہیں۔‬

‫رفی احمد نقش ازایک من رد شخص ص‪35 :‬‬

‫اپن رفی ن تم عمر' اپنی انوکھی' من رد اور یکت وسیع‬
‫شخصیت کو جس ل ظ میں قید کرن پر صرف کر دی' وہ ل ظ‬

‫تھ اصول۔‬

‫رفتید ول نہ از دل م از ی قو خ ور ص‪38 :‬‬

‫رفی احمد نقش کت بوں ک تح ہ دین ک م م ہ میں بڑے فراخ‬
‫دل تھ ۔ وہ اپن دوستوں کو اد میں ہر وقت ف ل دیکھن پسند‬

‫کرت تھ ۔‬

‫ک غذی ہ پیرہن از بشیر عنوان ص‪55 :‬‬

‫رفی فل کمٹ منٹ ک آدمی تھ ۔ ایک اچھ ط ل ع اور‬
‫ایک اچھ است د' وہ ن صرف اپنی تدریسی ذمہ داری ں بڑی تن‬
‫دہی س نبھ ت ب کہ است دوں کی فلاح ک لی ک کرن والی‬

‫تنظیموں س بھرپور ت ون کرت ۔‬

‫رفیقوں ک رفی ' رفی احمد نقش از کرن سنکھ ص‪61 :‬‬

‫میں ن اپنی س ری زندگی میں ص ف گوئی میں رفی ک کوئی ہ‬
‫سر نہیں دیکھ ۔ برجستگی اس ک وسیع مط ل کی مرہون‬
‫منت تھی' ج کہ ح گوئی اس ک سچ اور صرف سچ پر‬
‫مکمل ایم ن ک ثبوت تھی۔‬

‫رفی احمد نقش کی ص ف گوئی اور برجستگی از ڈاکٹر نصیر‬
‫احمد ن صر ص‪63 :‬‬

‫رفی کی زندگی میں جتنی بھی عورتیں آئیں وہ ی تو خوش فہ‬
‫تھیں ی غ ط فہمی ک شک ر ہوئیں۔ رفی ن اگر کسی س اچھ‬
‫برت ؤ کی تو غ ط م نی اخذ کر لین یقین ب وقوفی تھی اور ہ ۔‬
‫جس طرح میری کوئی بھی ب ت رفی س پوشیدہ نہ تھی' اسی‬
‫طرح انہوں ن ہر چھوٹی بڑی ب ت س ب خبر رکھ ۔ یہ رفی کی‬
‫عظمت تھی کہ انھوں ن کبھی میری بڑی س بڑی بھول پر‬
‫بھی مجھ ط نہ نہ دی ' نہ خود س دور رکھ ۔ آفرین ہ اس‬

‫شخص پر' بہت بڑے حوص والا تھ ۔‬

‫ہر چند کہیں کہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔ از زکیہ س ط نہ ص‪73 :‬‬

‫مس سل مط ل ہ' ع کی پی س' دوسروں کو ع ب نٹن ‪ .‬اصول‬
‫پسندی اور اجتم عی سم جی خدمت جیسی خوبیوں ن رفی‬
‫احمد نقش کو ع و اد ک حقیقی است د بن دی تھ ۔‬

‫میرا دوست رفی احمد نقش از احمد س ید ق ئ خ نی ص‪:‬‬

‫وہ ب لوث' پرخ وص اور ہ درد انس ن تھ ۔ وہ حقیقی طور پر‬
‫مولوی عبدالح ک ج نشین نہیں تو اس ک رواں ک ایک فرد‬
‫ضرور تھ ۔‬

‫کچھ ی دیں از ڈاکٹر ممت ز عمر ص‪81 :‬‬

‫ب یک بورڈ پر روزانہ بہت خو صورت' اش ر لکھ کرت تھ ۔‬
‫اس کی لکھ ئی بھی بہت خو صورت تھی۔ وہ اکثر میرپور‬

‫خ ص س حیدرآب د آت تھ اور س رے رست کچھ ن کچھ پڑھت‬
‫ہوا ہی آت تھ ۔ کت س اس کی محبت ک اندازہ مجھ اس وقت‬

‫ہو گی تھ ۔ وہ ہم را جونیر تھ ۔‬

‫م ضی ک جھروک از ع ت ب نو ص‪82 :‬‬

‫رفی احمد نقش س بہت سی ب توں پر اختلاف ہون ممکن ہ ۔‬
‫ان س کچھ شک یتوں ک ہون سمجھ میں آت ہ ۔ ان س ن راض‬

‫ہون کی کئی وجوہ میں یقین م قولیت ہ ' لیکن ان س ک‬
‫ب وجود ہ اس لی ان کی قدر کرت ہیں' ان ک ذکر کرت ہیں'‬
‫ان کی مث ل دیت ہیں کہ وہ کئی روائتوں ک امین تھ ۔ انھوں‬

‫ن ان کی خدمت کی' ان کی ح ظت کی ہ ۔ ان ک وق ر ک‬
‫لی قرب نی ں دی ہیں۔ ان میں س ایک روایت پ بندی وقت ہ ۔‬

‫پ س دار از حسن غزالی ص‪17 :‬‬

‫نقش ایک کھ ی کت تھ ۔ جس ہر شخص پڑھ سکت تھ ۔ ایک‬
‫چشمہءرواں تھ ' جس س ہر ایک بقدر ظرف سیرا ہو سکت‬

‫تھ ۔ وہ محبتوں ک س یر تھ اور ش قت' دری دلی' سچ ئی خ وص‬
‫اور ہ دردی اس ک م تبر حوالہ تھیں۔‬

‫دل پہ نقش تری محبت ک نقش ہ از مجید ارشد ص‪116 :‬‬

‫میں ن رفی نقش کو بس اس قدر سمجھ ' آدمی ک مشین تھ ۔‬

‫دید و ب زدید از س ی اقب ل ص‪91 :‬‬

‫رفی نقش ایک پرخ وص اور محبت بھرا دل رکھن وال‬
‫انس ن تھ ' پھر ان کی ع می ق ب یت ن ان کو مزید م تبر بن‬

‫دی ۔‬

‫آہ! رفی احمد نقش از افروزہ خضر ص‪92 :‬‬

‫رفی بھ ئی ایک ایس شخص ک ن ہ جو مس سل کسی‬
‫نقط ' کسی ع می و ادبی اصطلاح' کوئی سم جی پہ و' کسی‬
‫ش ر کی ت ہی اور اس قس ک م ملات میں غور و فکر کرت‬
‫دکھ ئی دیں گ ۔ وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ سیکھن سکھ ن کی‬

‫جستجو میں رہت تھ ۔‬

‫دنی ہ اک سرائ کہ ں مستقل قی از نوید سروش ص‪95 :‬‬

‫رفی ص ح طنزومزاح ک ایک خ ص ذو رکھت تھ ۔ ج‬
‫کبھی موڈ میں ہوت تو خو لطی سن ت ۔ انھینب شم ر‬
‫لط ئف از بر تھ ۔ آپ ج گ تگو کرت تو مح ل کشت زع ران‬
‫بن ج تی۔ رنجیدہ ہون ' ان ک ہ ں ممنوع تھ ' وہ کسی کو دکھی‬

‫نہیندیکھ سکت تھ ۔ ہر کسی ک مس کو اپن مسگہ‬
‫سمجھت اور ہر ممکن مدد کرت ۔‬

‫س ک رفی از ص بر عدن نی ص‪125 :‬‬

‫وہ کہ کرت تھ کہ ہمیں حتی المقدور کوشش کرنی چ ہی کہ‬
‫اردو بولیں تو تم گ تگو اردو ہی میں ہو‬

‫۔ انگریزی ک غیر ضروری ال ظ ک است م ل س احتزاز‬
‫کریں۔ اسی طرح اگر انگریزی میں ب ت کی ج رہی ہو تو پھر‬
‫تم گ تگو انگریزی ہی میں ہو۔ آدھ تیتر آدھ بٹیر والی ب ت نہ‬

‫ہو۔‬

‫رفی اردو۔۔۔۔ رفی نقش از شکیل احمد بھوج ص‪132 '131 :‬‬

‫انھوں ن ت د مرگ طبق تی فر کو نہ صرف رد کی ب کہ اس ک‬
‫عم ی ثبوت بھی فراہ کی ۔‬

‫رفی احمد نقش; چند ت ثرات از ع بد ع ی ص‪137 :‬‬

‫رفی احمد نقش کی زندگی ک کئی پہ و تھ ۔ مراس ک خی ل‬
‫رکھن وال ' روایت پرست اور مذہ کی اعلا روای ت ک پ س‬

‫رکھن وال ۔‬

‫کچھ ی دیں نقش ہیں از عزیز احمد ص‪140 :‬‬

‫وہ جس انداز س ع کو فرو دے رہ تھ ' کسی کو کت‬
‫فراہ کر رہ ہیں' کسی کو کت بوں کی فوٹو ک پی کرا ک ع می‬

‫م ونت کر رہ ہیں۔ ایس لگت تھ کہ ع و اد ک ڈسٹری‬
‫بیوٹر ہیں۔‬

‫عظی محسن از رئیسہ شریف ص‪142 :‬‬

‫ان کی ایک ملاق ت واق ت ڈھیروں کت بیں پڑھن ک مترادف‬
‫تھی۔‬

‫ایک نقش خ ص از ع ز رحم ن ص‪144 :‬‬

‫بھ ئی ج ن ک عمری میں مذہبی بھی رہ ۔ وہ پ نچ وقت کی نہ‬
‫صرف نم ز پڑھت تھ ب کہ مسجد میں ازان بھی دین ج ت‬
‫اورتب یغی جم عت ک مرکز بھی ج ت ۔‬

‫بچپن کی کچھ ی دیں از رشیدہ ص‪146 :‬‬

‫کت ک دوسرے حصہ میں‬

‫منظو خراج عقیدت ک ن س ' آٹھ ش ری منظوم ت ہیں۔ ہر‬
‫کسی ن انہیں ان کی شخصیت اور ان کی ع می و ادبی خدم ت‬
‫کو خراج عقیدت پیش کی ہ ۔ یہ منظوم ت' مق ی آزاد اور نثری‬

‫ہیں۔ یہ منظوم ت رسمی نہیں ہیں۔ ان میں ش عر کی محبت'‬
‫عقیدت' شخصی ت اور مرحو کی شخصیت س مت ' کوئی‬
‫ن کوئی پہ و ضرور موجود ہ ۔ ان منظوم ت کو لکھوان اور ان‬

‫کی جمع بندی میں' ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش ن بڑے تردد س‬
‫ک لی ہوگ ۔ دو تین نمون ملاحظہ فرم ئیں۔‬

‫وہ گی ایس کہ س رے گھر کو سون کر گی‬

‫پی سی آنکھوں کو وہ دے ک ہ ئ چش تر گی‬

‫قط ہ ت ریخ ش عر مخت ر اجمیری ص‪147 :‬‬

‫ب س ختگی' ورفتگی اور مرحو س ق بی ت ' اس ش ر پ رے‬
‫ک خصوصی وصف ہ ۔ گنتی میں یہ ش ر فقط نو ہیں لیکن کہ‬
‫میں' سیکڑوں ص ح ت پر محیط ہیں۔ م نوی حسن' اپنی جگہ‬
‫لس نی تی حظ بھی کم ل ک ہ ۔‬

‫م ہر اجمیری ک یہ ش ر دیکھیں' کس کم ل اور ہنرمندی س‬
‫مرحو کی شخصیت ک ' اہ ترین پہ و کو واضح کر رہ ہ ۔‬

‫میں کی بت ؤں تمہیں کس قدر خ ی تھ وہ‬

‫رفی ن تھ ہر شخص ک رفی تھ وہ‬

‫خوشبو کی نظ ۔۔۔۔۔۔۔ ایک ع آدمی کی موت۔۔۔۔۔۔ کی یہ سطور‬
‫درد' کر اور ارضی اق مت کی گرہ کھول رہی ہیں۔‬

‫کبھی اس آس میں‬

‫کہ ایک دن وہ لمحہ آئ گ‬

‫ج وہ دنی بھر ک جھمی وں س نج ت پ کر‬

‫اپنی ایک نئی دنی بس ئ گ‬

‫اس کی یہ خواہش اس وقت پوری ہوتی ہ‬

‫ج تم امیدیں د توڑ ج تی ہیں‬

‫اور ع آدمی‬

‫خ ص و ع کی تخصیص س م ورا ہو ج ت ہ ‪......‬‬

‫ص‪160 :‬‬

‫اس س اگلا حصہ نگ رش ت نقش س مت ہ ۔ اس میں ش ر‬
‫و نثر س مت مرحو کی ک وش ہ فکر درج کی گئی ہیں۔‬
‫ش عری میں‬

‫غزلیں ‪13‬‬

‫چو مصرع ی نی قط ت ‪6‬‬

‫رب عی ‪1‬‬

‫ش ر‪1‬‬

‫آزاد نظمیں ‪2‬‬

‫ش مل کت ہیں۔ ان کی ش عری' فکری و فنی اعتب ر س ' ان کی‬
‫شخصیت اور عصری سم جی رویوں کی عک س ہ ۔ ہ ں البتہ ان‬
‫کی ش ری زب ن ک رویہ اور لوازم ت ش ر روایت س قدرے ہٹ‬

‫کر ہیں۔‬

‫ایک غزل چھ ل ظی ردیف پر استوار ہ ۔ غزل ک مط ع‬
‫دیکھی ۔‬

‫ہر س نس ہ کراہ مگر ت کو اس س کی‬

‫ہو زندگی تب ہ مگر ت کو اس س کی‬

‫پرلطف ب ت یہ ہ کہ ق فیہ اور ردیف ک آخری ل ظ فطری طور‬
‫پر اور حس ضرورت ہ صوت ہ ۔ اس س غن اور نغمیت‬
‫میں ہرچند اض فہ ہوا ہ ۔‬

‫ایک غزل ک ردیف پ نچ ل ظی ہ ۔ اس میں پہ ی صورت ح ل‬
‫نہیں ہ ۔ ق فیہ اور ردیف ک آخری ل ظ ہ صوت نہیں ہیں۔ مط ع‬

‫ملاحظہ ہو۔‬

‫آمد فصل گل پر ہوائ طر ن ک چ ن لگی' تیری ی د آ گئی‬

‫دھیرے دھیرے فض ئ جہ ں اپنی رنگت بدلن لگی' تیری ی د آ‬
‫گئی‬

‫پہ ی غزل ک ردیف چہ ر ل ظی اور ہی کچھ تھ ' ہ ۔ اس س‬
‫آہنگ اور غن ک الگ س ذائقہ میسر آت ہ ۔ ب طور نمونہ فقط‬

‫ایک ش ر ملاحظہ فرم ئیں۔‬

‫رفتہ رفتہ ہر اک گھ ؤ بھر ج ت ہ‬

‫پہ پہل ہ تجھ س بچھڑ کر اور ہی کچھ تھ‬

‫اس ک علاوہ ایک غزل چول ظی ج کہ دو غزلیں سہ ل ظی‬
‫ردیف رکھتی ہیں۔‬

‫تکرار ل ظی ک س تھ س تھ صن ت تض د ک است م ل ملاحظہ‬
‫فرم ئیں۔‬

‫سین میں تھ درد مگر ہونٹوں پہ تبس‬
‫ب ہر ہ کچھ اور تھ اندر اور ہی کچھ تھ‬

‫ل ظ ہی تدبر ک متق ضی ہ ۔‬
‫ا ذرا یہ ش ر ملاحظہ فرم ئیں۔‬
‫جس ک سخن میں زہر س زائد ہیں ت خی ں‬
‫اس ک لبوں میں شہد س بڑھ کر مٹھ س تھی‬
‫دونوں مصرعوں ک ' ہ صوت ال ظ س آغ ز ہوا ہ ۔ ل ظوں کی‬
‫حسین ترتی اور پرذائقہ است م ل' بصیرتی اور بص رتی حظ‬

‫میسر کرت ہ ۔‬
‫مت ال ظ‬

‫پہلا مصرع سخن‬
‫دوسرا مصرع لبوں‬

‫مترادف ال ظ‬
‫پہلا مصرع زائد‬
‫دوسرا مصرع بڑھ کر‬

‫متض د ال ظ‬

‫پہلا مصرع زہر‬

‫دوسرا مصرع شہد‬

‫زہر ہلاکت ک س تھ س تھ کڑواہٹ ک لی بھی عرف میں ہ ۔‬

‫ت خی ں‬ ‫پہلا مصرع‬

‫دوسرا مصرع مٹھ س‬

‫سوچت ہوں میں' یہ ں س کہ یہ ں س پہ‬

‫اس مصرع میں' صن ت تکرار ل ظی ک است م ل نقش کی زب ن پر‬
‫گرفت کو' واضح کر رہ ہ ۔ فص حت اور بلاغت پر' کہیں ٹیڑھ‬

‫پن ط ری نہیں ہوت ۔ اس س غن اور نغمیت میں اض فہ یوا ہ ۔‬
‫تذبذ سوچ ک دائروں کو وسیع کر دیت ہ ۔‬

‫'سوچت ہوں میں‬

‫یہ ں س‬

‫کہ یہ ں س پہ‬

‫ت ہی کی ذیل میں' ق ری جہ ں ل ظوں کی مہک س لطف اٹھ ت‬
‫ہ ' وہ ں وحدت ت ثر' اس ک سوچ کو رائی بھر ادھر نہیں‬

‫ہون دیت ۔ دوسرا مصرع اشتی پیدا کرن ک س تھ تذبذ کی‬
‫گھتی بھی کھولت ہ ۔‬

‫داست ں اپنی سن ؤں تو کہ ں س پہ‬

‫پہ مصرع میں یہ ں' ج کہ دوسرے میں کہ ں ک است م ل‬
‫س کی یتی حظ میسر آت ہ ۔ بلاشبہ داد س ب لاتر زب ن ک‬
‫پڑھن ک ات ہوت ہ ۔‬

‫ا دو بص رتی اطوار ملاحظہ فرم ئیں‬

‫کبھی رو بہ رو کبھی خوا میں دیکھن‬

‫دیکھن‬

‫کبھی رو بہ رو‬

‫کبھی خوا میں‬

‫دونوں مصرعوں میں کبھی کی تکرار' ج ری س س کو واضح‬
‫کرتی ہ ۔ گوی سکوت ی ٹھہراؤ کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔‬

‫سرخ ہونٹوں ک اثر کو ترسوں‬

‫اثر ک تن ظر میں' لمس س مت یہ مصرع ملاحظہ فرم ئیں۔‬
‫مرک سرخ ہونٹ بص رتی وارفتگی کو بڑھ وا دیت ہ ۔‬

‫ا ان ک چند مخت ف نوعیت ک مرکب ت ملاحظہ فرم ئیں۔‬

‫رفتہ رفتہ‬

‫پہ پہل‬

‫خوش بو ک ذائقہ‬
‫سوچ ک محور‬
‫ال ظ کی گرفت‬

‫ہونٹوں پہ تبس‬
‫کھنڈر س مک ں‬

‫کر ذات‬
‫خوا نگر‬
‫نقش کی نظ تشنگی پر ایک نظر ڈالیں‬
‫تیری ی د اک ب دل ہ‬
‫پر ب دل س‬
‫ک پی س بجھی‬
‫پی س کی م ری دھرتی تو بس‬
‫ب رش کی‬
‫بوچھ ڑیں م نگ‬
‫میرا دل بھی‬
‫پی سی دھرتی‬

‫!س ون بن کر آ ج ؤ ن‬
‫تشبیہی طور دیکھی‬

‫تیری ی د ‪ :‬اک ب دل ہ‬
‫میرا دل بھی ‪ :‬پی سی دھرتی‬

‫ممث لتی طور دیکھی‬
‫دھرتی‬
‫دل‬

‫دھرتی ‪ :‬پی س کی م ری‬
‫دل ‪ :‬پی سی دھرتی‬

‫مط و‬
‫دھرتی ‪ :‬ب رش کی بوچھ ڑیں م نگ‬

‫دل ‪ :‬س ون م نگ‬
‫مت ل ظوں ک است م ل دیکھی‬

‫ب دل ‪ :‬ب رش‬
‫دل ‪ :‬ی د‬

‫آخری سطر گیت ک طور لی ہوئ ہ ۔‬

‫!س ون بن کر آ ج ؤ ن‬

‫پوری نظ پر ورفتگی کی کی یت ط ری ہ اور سم عی حظ میسر‬
‫کرتی ہ ۔‬

‫خیر اور سکھ کی فراہمی' اتن آس ن ک نہیں۔ نقش ک ہ ں اس‬
‫امر ک اظہ ر کم ل کی شی تگی رکھت ہ ۔‬

‫جو بھی س یہ مہی کرت ہ نقش‬

‫جھی نی پڑتی ہ اس کو کڑی دھوپ‬

‫قرب نی‬

‫ب ض ش ر تو' ورفتگی اور ب س ختگی میں اپن جوا نہیں‬
‫رکھت ۔ ب س ختہ منہ س واہ واہ نکل ج ت ہ ۔ مثلا‬

‫پیڑوں کو ک ٹن س پہ خی ل رکھن‬

‫ش خوں پہ کوئی غنچہ حیران رہ نہ ج ئ‬

‫ل ظ حیران کو مست مل م نوں س ہٹ کر لی گی ۔‬

‫مرے کچ مک ن کو نقش' ڈھ کر‬

‫ہوائ شہر ا کس لہر میں ہ‬

‫لہر کی ت ہی سٹریٹ ک بول چ ل ک مط ب لی ج ئ ۔ م م ہ‬
‫بھی سٹریٹ ک ہ ۔‬

‫ا ذرا یہ دو ش ر ملاحظہ فرم ئیں‬
‫سندر لڑکی‬

‫یوں تو خ موش ہی رہتی ہ وہ سندر لڑکی‬
‫سخنور لڑکی‬

‫ب ت کرن میں نہیں اس سی سخنور لڑکی‬
‫اس ک دل میں بھی کبھی نقش محبت ج گ‬

‫پتھر لڑکی‬
‫مو ہو ج ئ کسی روز وہ پتھر لڑکی‬
‫لڑکی ایک' تین ص تی لاحق است م ل ہوئ ہیں۔‬
‫نثر میں' دیوان غ ل ک نسخہء خواجہ س مت ' چ ر تنقیدی‬
‫مضمون ش مل ہیں۔ جن ک عنوان کچھ یوں ہیں۔‬

‫غ ل اور ج ل س زی‬
‫نسخہءخواجہ ی نسخہ لاہور‬

‫ضمیر کی خ ش‬
‫ت و بر تو اے چرخ گرداں۔۔۔۔۔۔‬
‫یہ مس ہ متن زعہ تھ اور آج بھی ہ ۔ میں ن بھی اس موضوع‬
‫پر کچھ لکھ تھ ' ی د نہیں کہ ں ش ئع ہوا۔ اصل مس ہ‬

‫نسخہءخواجہ ی نسخہ لاہور نہیں' کوئی اور تھ ۔‬

‫اس ک ب د کچھ مختصر تحریریں اداری اور ابتدای وغیرہ‬
‫ش مل ہیں۔ اس ک ب د نقش ک ف رسی' انگریزی' سندھی اور‬
‫پنج بی نظموں ک کچھ ترجم ش مل کی گی ہیں۔ ایک نظ‬

‫ش عر کی موت ک عنوان س ش مل ہ ۔ اس دیون گری س‬
‫اردو لیپی میں منتقل کی گی ہ ۔ خدا لگتی تو یہ ہی ہ ' کہ یہ‬
‫تراج ص ف' س دہ' واضح' س یس اور ش ری لواز س م لا م ل‬
‫ہیں۔ ان پر طبع زاد ہون ک گم ن گزرت ہ ۔ ب طور نمونہ فقط‬

‫ایک نظ ملاحظہ ہو۔‬

‫کھڑکی کھ ی‬

‫کھڑکی بند ہوئی‬

‫'ہوا‬

‫ہوائ دل پذیر تھی‬

‫مگر میرا قدی دل کہ ں گی‬

‫ش عر‪ :‬محمد زہری‬

‫انگریزی' سندھی پنج بی اور سرائیکی س چ ر افس نوں ک‬
‫اردو ترجم کی ہیں۔ رم ک نت ک ایک افس ن کو دیون گری‬
‫س اردو رس الخط میں منتقل کی ہ ۔ تراج کو پڑھ کر' اندازہ‬
‫ہوت ہ کہ مرحو کو' ن صرف اردو زب ن پر قدرت ح صل تھی‬

‫بل کہ دیگر زب نوں ی نی ف رسی' انگریزی' سندھی' پنج بی اور‬
‫سرائیکی پر بھی گرفت رکھت تھ ۔ اسی طرح وہ دیون گری‬
‫رس الخط کو' اس کی ب ریکیوں ک س تھ ج نت تھ ۔ ان ک‬
‫یہ تراج ' زی سم عت و بص رت ہیں۔ اسی طرح' انتخ میں‬
‫بھی م کہ رکھت تھ ۔ اس امر س ب خوبی اندازہ لگ ی ج‬
‫سکت ہ ' کہ نقش مرحو ک ذو کیس اور کس نوعیت ک تھ ۔‬
‫ب طور نمونہ اور ان کی اردو پنج بی پر گرفت ک حوالہ س '‬
‫بیدی ک پچیس سطری پنج بی افس ن کی چند چنیدہ سطریں‬

‫‪:‬ملاحظہ فرم ئیں‬

‫لڑکی ن اپنی نظریں نیچی کر لیں اور اپن ابرو' اپنی ہی پ کوں‬
‫کی پرچھ ئیوں میں مسکراتی ہوئی ہنسی۔۔۔۔۔ اندر ہی اندر گٹکتی‬
‫رہی۔‬

‫ہوں' لڑک ن سوچ اور چلا گی‬

‫یہ ترسی ہوئی دھرتی' وہ س ون ک ب دل۔۔۔۔۔ اور بہ روں کی‬
‫فض ۔۔۔۔۔‬

‫‪..............‬‬

‫لڑکی ک م تھ پر س ت بل پڑے ہوئ تھ ۔ لڑک ن اس‬
‫دوسروں کی طرح ہی نک چڑھی' مغرور سی لڑکی سمجھ اور‬

‫چلا گی ۔‬

‫ح لاں کہ ب ت صرف اتنی سی تھی۔‬

‫تو ن پہ کیوں نہ مجھ بلای‬

‫وہ ازل س اکی ی۔۔۔۔۔ وہ ابد تک اداس ۔۔۔۔۔‬

‫اور س من کچھ بچ کھیل رہ تھ ۔‬

‫افس نہ ۔۔۔۔۔۔ بہ نہ ص ‪232 '231‬‬

‫ایک انگریزی اور ایک سندھی مضمون ک ترجمہ' کت میں‬
‫ش مل کی گی ہ ۔ دونوں مضمون بڑے ک ک ہیں۔ پہلا مضمون‬

‫قرتہ ال ین حیدر ک ن ول ۔۔۔۔۔ چ ندنی بیگ ۔۔۔۔۔ س مت ہ ۔‬
‫بڑا اچھ اور غیرج نبدارنہ قس ک مضمون ہ ۔ دوسرا مضمون‬

‫۔۔۔۔۔ آزاد کشمیر کی زب نیں۔۔۔۔۔ مختصر مختصر ہوت ' اپن‬
‫عنوان ک ت رف ک ضمن میں ک می اور ک رکش ہ ۔ ہر دو‬
‫مض مین' کی زب ن ترجمہ کی زب ن نہیں ہ ۔ براہ راست تحقی و‬

‫تنقید کی زب ن ہ ۔ کہیں ن ہمواری اور ابہ می صورت پیدا نہیں‬
‫ہوتی۔ یہ امر نقش مرحو کی' ہر سہ زب نوں پر گرفت ک غم ز‬
‫ہ ۔ گوی وہ جہ ں اچھ ش عر اچھ نث ر ہیں' وہ ں ش ر و نثر‬

‫ک اچھ مترج بھی تھ ۔‬

‫پ نچ اہل ق ک ن لکھ گی خطوط بھی کت ک حصہ‬
‫بن ئ گی ہیں۔‬

‫بشیر عنوان ک ن س ت خط‬

‫ی قو خ ور ک ن چ ر خط‬

‫ق س رحم ن ک ن دو خط‬

‫حسن منظر ک ن ایک خط‬

‫ذوال ق ر دانش ک ن ایک خط‬

‫گوی ت داد ک اعتب ر س یہ کل پندر خط ہیں۔ ڈاکٹر ذوال ق ر‬
‫دانش ک ن خط کی عکسی نقل پیش کی گئی ہ ۔ خطوط میں'‬
‫ب تک ی' برجستگی اور والہ نہ پن پ ی ج ت ہ ۔ یہ خطوط ادبی‬
‫حوالہ س بھی کم ل ک ہیں۔ ب طور نمونہ دو ایک مث لیں پیش‬

‫ہیں۔‬

‫کہت ہیں کہ کسی کی قدر مرن ک ب د ہوتی ہ اور ی چ‬
‫ج ن ک ب د۔ ا مجھ احس س ہوا کہ دونوں صورتوں ک‬
‫علاوہ ایک تیسری صورت بھی ہ ' جس ک ظہور پذیر ہون‬
‫ک ب د کسی کی قدر و قیمت ک احس س ہوت ہ اور وہ صورت‬

‫ہ جدائی کی! ع رضی نہیں طویل جدائی کی۔‬

‫خط رفی نقش بن بشیر عنوان ص‪251 :‬‬

‫اچھ ا واق ی خدا ح فظ‬

‫خط رفی نقش بن بشیر عنوان ص‪252 :‬‬

‫کشمیری صورتوں کو گلا ک بج ئ آ س تشبیہ دین پر‬
‫میں ت پر لکھ واری ل نت بھیجت ہوں۔‬

‫ب ب ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹی ں! ایک ب ر پھر ل نت‬

‫خط رفی نقش بن ی قو خ ور ص‪272 :‬‬

‫روٹی ج تک میسر ہ ' اس وقت تک نئی ب تیں سوجھتی ہیں‬
‫اور ج روٹی ک حصول مشکل ہو ج ئ تو حصول ن ن جویں ہی‬

‫واحد مس ہ رہ ج ت ہ ۔ اس موقع پر عش وش س دل و دم‬
‫س محو ہو ج ت ہیں۔ غ لب شیخ س دی ن اس تجرب کو بی ن‬

‫کی ہ ۔‬

‫چن ں قحط س لی شد اندر دمش‬

‫کہ ی راں فراموش کر دند‬

‫خط رفی نقش بن ق س رحم ن ص‪276 :‬‬

‫رائٹ برادران ک بن ی ہوا ہوائی جہ ز آج ک جدید طی روں ک‬
‫مق ب میں بچوں ک کھ ون م و ہوت ہ ت ہ یہ بھی حقیقت‬
‫ہ کہ اس ہوائی جہ د ک وجود میں آئ بغیر موجودہ طی روں‬

‫ک وجود میں آن ممکن نہیں تھ ۔‬

‫خط رفی نقش بن ذوال ق ر دانش ص‪280 :‬‬

‫کت ک آخر میں ۔۔۔۔۔ تیرے فن میں حسن ک اعلا ہیں نقش۔۔۔۔‬
‫ک عنوان س نو تحریریں ش مل کت کی گئی ہیں۔ ان میں‬

‫ایک ڈاکٹر انورسدید ک خط بن رفی احمد نقش ہ ۔ خط ک دو‬
‫جم درج ہیں۔ مست مل میں بدل گڑبڑی ک ب عث بنت ہ دوسرا‬
‫گ ی اس قبول نہیں کرتی ہ ۔ ق ی عرف میں ہ اس لی ق ی‬

‫قبولیت کی سند نہ پ سک گ ۔ خیر یہ دو جم دیکھی ۔‬

‫ایک ذاتی گزارش یہ ہ کہ میرا ن انور سدید م رف ہ لیکن‬
‫آپ اس نئ اصول و ضوابط ک تحت سدید انور درج فرم ت‬
‫ہیں۔ درخواست ہ کہ اس انور سدید ہی درج کیجی ۔‬

‫خط انور سدید بن رفی احمد نقش ص‪283 :‬‬

‫ب قی آٹھ تحریریں ان ک فن س مت ہیں۔‬

‫ان کی ش عری ک ب رے پروفیسر انوار احمد زئی ک کہن ہ ۔‬

‫رفی نقش ب طور ش عر‬

‫رفی نقش ک ش عرانہ نقوش میں مح ک ت اور تم ثیل ک س تھ‬
‫منظرن م بھی ایس مصور م ت ہیں کہ ان کی ش عری' فکری‬

‫گی ری اور ش ری تصویر خ نہ م و ہوتی ہ ۔ میرے نزدیک‬
‫وقت ک نئ پن ک مضمون ک ب د' تشبیہ و تمثیل ک اچھوت‬

‫اور نی پن' رفی نقش کی ش عری ک دوسرا بڑا کم ل ہ ۔‬

‫نقش آئینہءمسرت میں از روفیسر انوار احمد زئی ص‪285 :‬‬

‫رفی احمد نقش اور ترجمہ نگ ری‬

‫رفی احمد نقش طب ک م یت پسند تھ ۔ وہ جو بھی ک کرت '‬
‫پوری ذمہ داری س کرت تھ ' یہی خوبی ان ک تراج میں‬

‫بھی نم ی ں ہ ‪ .‬وہ ترجم ک فن کو قدر کی نگ ہ س‬
‫دیکھت تھ اور ان فن کو حقیر سمجھن والی سوچ ک‬

‫سخت خلاف تھ ۔ رفی احمد نقش ترجم ک فن ک اف دی‬
‫اہمیت ک ق ئل تھ ۔‬

‫رفی احمد نقش بہ حیثیت مترج ازبشیر عنوان ص‪302 :‬‬

‫رفی احمد نقش ک طور تنقید‬

‫رفی نقش دھیم ' پراثر مگر انتہ ئی جرآت مندی ک س تھ‬
‫تنقید کرن ک حوص ہ رکھت ہیں۔ ان کی ب ب کی کسی ظ ہری‬

‫عہدے ی بڑےپن س خ ئف نظر نہیں آتی' مگر وہ عزت و‬
‫احترا کو ہ تھ س نہیں ج ن دیت ۔ پہ کسی م م ک‬
‫اصل پہ و کو اج گر کرت ہیں' پھر جزئی ت ک سہ رے اس‬
‫ابھ رت ہیں۔ جہ ں کہیں غ طی ک احتم ل ہوت ہ دست نش ن‬

‫دہی کرت ہیں۔‬

‫رفی احمد نقش ک تنقیدی ش ور از ڈاکٹر ممت ز عمر ص‪314 :‬‬

‫رفی احمد نقش اور اردو املا‬

‫املا ک حوال س رفی نقش ک زی دہ تر زور اس ب ت پر رہ‬
‫ہ کہ جو بولو' وہی لکھو۔ لکھ وٹ میں ت ظ کی تق ید ان ک‬
‫لی لازمی تھی۔‬

‫رفی احمد نقش اور اردو املا از انص ر احمد شیخ ص‪331 :‬‬

‫رفی احمد نقش ک تحقیقی مزاج‬

‫رفی نقش پوری یک سوئی س تحقی کی ج ن راغ نہیں ہو‬

‫سک ' وہ اس ش ب کو اپن ن چ ہت تھ اور اردو اد کی‬
‫کئی حقیقتوں س پردہ کش ئی کرن ک خواہ ں تھ مگر موت‬

‫کی حقیقت ن ایک اعلا پ ئ ک محق ہون س محرو کر‬
‫دی ۔‬

‫رفی احمد نقش ک تحقیقی مزاج از ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش‬
‫ص‪350 :‬‬

‫رفی احمد نقش بہ حیثیت مدیر‬

‫رفی نقش ص ح آغ ز ہی س بہ تر س بہ ترین ک خواہ ں‬
‫تھ ۔ وہ آخری د تک م ی ر کی تلاش میں سرگرداں رہ ۔ آغ ز‬
‫ادارت ہی س م ی ر ک ب رے میں ان ک نقطہء نظر واضح تھ ۔‬

‫رفی احمد نقش بہ حیثیت مدیر از ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش ص‪:‬‬
‫‪353‬‬

‫رفی احمد نقش بہ حیثیت مدیر ک ب د' رفی احمد نقش ک‬
‫ہ تھ س بنی ہوئی کچھ چیزیں ہیں۔ آخر میں رفی احمد نقش‬

‫ک ایک خط بن بشیر عنوان کی عکسی نقل ہ ۔ خط ک‬
‫انتخ میں ب شک سمجھ بوجھ اور تردد س ک لی گی ہ ۔‬
‫اس خط میں کئی ایک خ ص نوعیت کی ب تیں کی گئی ہیں بل کہ‬

‫انہیں اصول ک ن دین زی دہ من س ہو گ ۔ مثلا‬

‫میں تمہ ری ب ت س مت نہیں ہوں کہ انس ن جس قدر خود کؤ‬
‫ج نت ہ ' وہ دوسروں ک ج نن کی بہ نسبت زی دہ مستند‬

‫ہ ۔ یہ ب ت عین ممکن ہ کہ دوسرے ہ س کہیں زی دہ‬
‫ہم رے ب رے میں ج نت ہوں۔۔۔۔۔۔‬

‫میرا خی ل ہ کہ اخب روں میں ن چھپن ' نشستوں کی ت داد‬
‫میں ن نہ د اض فہ وغیرہ م ی ر کی کمی ک ب عث ہ ۔‬

‫اس خط میں' ایک ذاتی حوالہ بھی ہ ' جو تین طرح س بڑے‬
‫ک کہ ۔‬

‫ان کی شدہ زندگی کیسی اور کس نوعیت کی تھی۔‬

‫ان کی زوجہ محترمہ ک مرحو اور مرحو ک م ملات س‬
‫کتن اور کس نوعیت ک عمل دخل تھ ۔‬

‫مث لی جوڑے کی زندگی کیسی اور اس ک اطوار کس نہج اور‬
‫سطع ک ہون چ ہیں۔‬

‫خط ک یہ ٹکڑا ملاحظہ فرم ئیں۔‬

‫ش دی ن میری زندگی میں ایک اطمین ن بھر دی ہ ۔ ذکیہ س‬
‫بہتر س تھی م ن ب حد مشکل تھ ۔ میں ا اپنی بہنوں ک‬

‫مستقبل کی طرف س ب فکر ہوں۔ ان کی ت ی اور تربیت میں‬
‫ذکیہ کردار ادا کر رہی ہ ۔۔۔۔۔۔ بڑی ب ت یہ کہ ہ لوگ روایتی‬
‫می ں بیوی نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔ ا بھی اکثر لوگ ہمیں س تھ دیکھ کر‬

‫مشکل ہی س یقین کرت ہیں کہ ہ دونوں رشتہء ازدواج میں‬
‫منس ک ہیں۔‬

‫ان تحریروں ک علاوہ رف قت ع ی ش ہ ک مضمون۔۔۔۔ رفی‬
‫احمد نقش‪ :‬بطور تدوین ک ر۔۔۔۔ اور اجمل کم ل ک ایک خط کت‬

‫میں ش مل ہیں۔ لس نی تی حوالہ س یہ خط بڑے ک ک ہ ۔‬

‫ڈاکٹر دانش کی یہ ادبی ک وش' ق ری کو پہ ی اور آخری نظر میں'‬
‫خوش آتی ہ ۔ ع می و ادبی ک کرن والوں ک لی ' یہ کت‬

‫عم ی نمون س ' کسی طرح ک نہیں۔ میں ڈاکٹر دانش ک اس‬
‫ک کو' قدر کی نگ ہ س دیکھت ہوں۔ الله ان ک ادبی ذو کو‬
‫برکت عط فرم ئ ۔‬

‫خوش بو میں نہ ت رنگ‪ ......‬ایک ج ئزہ‬

‫عط ءالرحمن ق ضی اردو ک ' خوش فکر اور خوش زب ن ش عر‬
‫ہیں۔ ان کی ش عری میں' انس نی زندگی اور انس نی من ف رویوں‬

‫کی' بڑے اچھوت انداز میں' عک سی م تی ہ ۔ ت ہ کومل‬
‫جذبوں کو بھی نظرانداز نہیں کرت ۔ ان نر و ملائ جذبوں کی‬
‫حرف ک ری' ق ری کو اپنی گرفت میں ل لیتی ہ اور وہ لطف‬
‫اندوزی ک کوئی موقع ہ تھ س ج ن نہیں دیت ۔ عط ک ہ ں‬

‫اصل کم ل یہ ہ ' کہ ل ظوں ک انتخ خی ل ک مط ب کرت‬
‫ہیں۔ ذرا یہ رب عی ملاحظہ فرم ئیں۔‬

‫مہت چرا لائ تھ ہ رات گئ‬

‫چندرا چرا لائ تھ ہ رات گئ‬

‫اس چش فسوں ک ر س چپک س عط‬

‫اک خوا چرا لائ تھ ہ رات گئ‬

‫عط ' عصری شخص ک عمومی چ ن اور طور کی' بڑے ہی‬
‫خو صورت انداز میں' عک سی کرت ہیں۔ ل ظ اندر ک‬

‫است رتی است م ل' ان ک کلا کو فص حت و بلاغت ہی میسر‬
‫نہیں کرت ' بل کہ اس وج ہت س بھی' سرفراز کرت ہ ۔ اس‬

‫ذیل میں ذرا ‪:‬یہ ش ر ملاحظہ فرم ئیں‬

‫اندر س نک ت نہیں کوئی ب ہر‬
‫دیکھو جس ' خود میں وہ سراسر گ ہ‬
‫ل ظ اندر ک است م ل' اپن وجود میں م نویت ک رواں دری‬
‫رکھت ہ ۔ کسی کلا ک ب یغ ہون میں' ایسی ب ریکی ں ہی اپن‬

‫کم ل دیکھ تی ہیں۔‬
‫عط ن ' عصری شیوخ ک دوہرے اطوار اور چ ن کو' ایک‬

‫حوال ک تحت واضح کی ہ ۔‬
‫رندوں ک حضور یہ دو رنگی' ی شیخ‬

‫رس شر الیہود' آخر ک تک!‬
‫عط اپنی رب عیوں میں' ع ل گیر سچ ئیوں ک بڑے خو صورت‬

‫انداز میں' اظہ ر کرت ہیں۔ مثلا‬
‫کھوئی ہوئی توقیر کہ ں م تی ہ‬
‫گ گشتہ تقدیر کہ ں م تی ہ‬

‫ہر پھول میں ہوتی نہیں خوشبو ی رو‬
‫ہر خوا کی ت بیر کہ ں م تی ہ‬

‫‪.......‬‬

‫یوں دور س مت دیکھ' تم ش چپ چ پ‬

‫اے موج فن ! مجھ میں اتر ج چپ چ پ‬

‫کس گھ ٹ اترن ہ عط ' کی م و !‬

‫بہت ج ت ہوں ک س تنہ ' چپ چ پ‬

‫محلات کی نسبت ش ہوں س رہی ہ ۔ ان ک سوا بڑوں کی‬
‫رہ ئش و عیش گ ہوں ک لی ' کوٹھی ں' بنگ ' بڑے مک ن'‬
‫اونچ مک ن وغیرہ س ل ظ ی مرکب ت مست مل رہ ہیں۔ ہر‬
‫دو امرجہ نخوت کدے' رہ ہیں۔ ایک س اطوار رکھت ہوئ '‬
‫ان میں ل ظی شن خت ب قی رہی ہ ۔ ل ظ محل' ب دش ہ ک لی ہی‬

‫تحریر اور عرف میں رہ ہ ۔۔ ح لاں کہ تکبر اور عوامی‬
‫استحص ل کی ذیل میں' دونوں متوازی چ آت ہیں۔ یہ عوا‬

‫ک م م ہ نہیں رہ ' کہ کون کس ک بن ی ی کس ک م تحت رہ‬
‫ہ ۔ عط ن اس تخصیص کو خت کی ہ ۔ گوی ان ک ہ ں ل ظ‬
‫محل وسیع اور ب یغ م نوں میں است م ل ہوا ہ ۔ لامحدود ب ت'‬

‫صیغہء محدود میں کہی گئی ہ ۔ کہت ہیں‬

‫ہر کنگرہءکبر' زمیں بوس ہوا‬

‫اڑتی ہ محلات میں ا خ ک یہ ں‬

‫مرک کنگرہءکبر ک ' نخوت پسند مزاج پر اطلا بھی ب مزا‬
‫نہیں رہ گ ۔ حرف ک ر وہ ہی ق بل تحسین ہ ' جو سچ کہت اور‬

‫لکھت آی ہ ۔ ان دو مصرعوں میں کہ گی ' ع ل گیر سچ ئی ک‬
‫درج پر ف ئز ہ ۔‬

‫شخص ک یقین اور اس ک کردار ک حوالہ س ' اس ک‬
‫شخصی المی کی' بڑے دردن ک انداز میں عک سی کی ہ ۔‬

‫کہت ہیں‬
‫ہ تھوں میں خوش آہنگ دع ہوت ہوئ‬

‫محرو یقین رہ ' خدا ہوت ہوئ‬
‫حیرت س دیکھت رہ اپن زوال‬
‫کردار' کہ نی س جدا ہوت ہوئ‬
‫ی پھر یہ دو مصرع ملاحظہ ہوں‬
‫اک موج گم ں ن یوں بڑھ ئی پینگیں‬

‫س اہل یقیں' غرقہءاوہ ہوئ‬
‫شخصی تنہ ئی ک بڑے ہی ب ریک انداز میں اظہ ر کرت ہیں۔‬

‫مثلا‬

‫‪........‬‬

‫دری ن بہت زور لگ ی لیکن‬
‫صحرا مرے اندر س نک لا نہ گی‬
‫آج شخص ان ک خول میں بند ہ ۔ اس ت خ حقیقت ک اظہ ر‬

‫ملاحظہ ہو۔‬

‫اک بوجھ اٹھ ئ ' چ ر و ن چ ر چ‬
‫آخر کو یہی کھلا کہ بیک ر چ‬
‫اس قید ان س کون ب ہر نکلا‬

‫جس سمت بھی ج ئی یہ دیوار چ‬
‫عصری جبریت ک اظہ ر کرت ' ان ک لہج میں ت خی آ ج تی‬

‫ہ۔‬
‫روشن ہیں ک آگہی ک ف نوس یہ ں‬
‫س لوگ ہوئ ظ س م نوس یہ ں‬
‫آنکھوں میں حی رہی نہ کچھ دل میں خوف‬

‫چ ت ہ فقط سکہ س لوس یہ ں‬
‫یہ ایک ازلی حقییقت ہ ' کہ شخص اپنی شن خت ب الوسطہ‬
‫ح صل کرت ہ ۔ عط ک ہ ں اس حقیقت ک اظہ ر ملاحظہ ہو۔‬

‫اس شوخ ن دیکھ جو مری سمت بغور‬
‫ت ج ک کہیں خود کو نظر آی میں‬
‫واہ۔۔۔۔۔ واہ' بہت خو ‪....‬کی ب ت ہ ۔‬

‫تخ ی آد بلاشبہ بہت بڑا کم ل ہ ۔ ع آد ک شرف ٹھہرا۔ ان‬
‫دو مصرعوں میں' اس واق ک اظہ ر دیکھی ۔ ان دو‬

‫مصرعوں کو' سورتہ والتین اور سورتہ بقر ک تن ظر میں'‬
‫ملاحظہ فرم ئیں۔‬

‫مٹی میں رکھ دی ع و م راج‬
‫ہون نہ دی کبھی کسی ک محت ج‬
‫عط ن ذوم نویت ک کم ل چ بک دستی است م ل کی ہ ۔ مثلا‬
‫دیوار گران س جو کھ ت ہی نہ تھ‬
‫عقدہ وہی دیوار اٹھ ن س کھلا‬

‫دیوار گران‬
‫دیوار اٹھ ن‬
‫رب عی میں' چوتھ مصرع ک ید کی حیثیت رکھت ہ ۔ عط ک‬
‫ہ ں' مخت ف صورت بھی م تی ہ ۔ پہ دو ی آخری دو‬
‫مصرعوں کو ب ق عدہ ش ر ک طور پر لی ج سکت ہ ۔ مثلا‬
‫پہ دو مصرع‬
‫موجود بھی موجود س بڑھ کر نکلا‬
‫اک اور ہی منظر' پس منظر نکلا‬
‫آخری دو مصرع‬
‫مہت کو جھیل میں نہ ت ہوئ ' ش‬

‫افلاک س ت روں ن اتر کر دیکھ‬
‫غزل ک س ' حسن بی ن اور ن زک خی لی ملاحظہ فرم ئیں‬

‫دیکھ ہ ترے حسن ک پر تو ج س‬
‫آنکھوں میں کوئی نقش ٹھہرت ہی نہیں‬

‫اعج ز آگہی ک ح صل ہ عط‬
‫میں رات ک پردے میں سحر دیکھت ہوں‬
‫عط ک ہ ں ب ت ک آغ ز ک مخت ف انداز م ت ہیں۔‬
‫مصرعوں ک ہ صوت ال ظ س آغ ز کرت ہیں۔‬

‫یوں دشت غزل میں خوش ہوائیں ن چیں‬
‫جوں تخت ہوا پہ اسپرائیں ن چیں‬
‫‪...........‬‬

‫اس قید ان س کون ب ہر نکلا‬
‫جس سمت بھی ج ئی یہ دیوار چ‬

‫‪...........‬‬

‫ش ہ کوئی پتھر س نک لا نہ گی‬
‫نشہ کسی منظر س نک لا نہ گی‬

‫دری ن بہت زور لگ ی لیکن‬

‫صحرا مرے اندر س نک لا نہ گی‬
‫مصرعوں ک ایک ہی ال ظ س آغ ز‬
‫اے حرف خوش خص ل' آ ج مجھ میں‬

‫اے کیف لازوال' آ ج مجھ میں‬
‫‪...........‬‬

‫مصرعوں ک ایک ہی ل ظ س آغ ز' ج کہ دونوں مصرعوں ک '‬
‫دوسرا ل ظ ہ صوت ہوت ہ ۔‬

‫اے نغمہءب ت ' ذرا اور چمک‬
‫اے ش ہءن ی ' ذرا اور چمک‬

‫‪.........‬‬

‫ہر ج میں اک عکس ط س امک ن‬
‫ہر گ یہ دشت غزل آہنگ کھلا‬
‫‪...........‬‬

‫پہ تین ل ظ ایک ہی است م ل کرن ک طور ملاحظہ ہو۔‬
‫اک اؤر ہی انقلا سوچ تھ مگر‬
‫اک اؤر ہی انقلا دیکھ میں ن‬
‫‪........‬‬

‫ا ہ مرتبہ ل ظوں س مصرعوں ک آغ ز ملاحظہ ہو۔‬
‫قطرہ قطرہ حب دیکھ میں ن‬
‫ذرا ذرا سرا دیکھ میں ن‬

‫پہ مصرع میں' متض د ل ظوں ک برجتسہ اور امر واقع ک‬
‫تحت است م ل‬
‫ملاحظہ ہو‪:‬‬

‫ج ت بجھت چرا ' لمحوں کی فصیل‬
‫‪...........‬‬

‫پھولوں کو ک نٹوں میں پرون والو‬
‫‪...........‬‬

‫ک یت ل ظی کی دو صورتیں دیکھی ‪:‬‬
‫مہت چرا لائ تھ ہ رات گئ‬

‫چندرا چرا لائ تھ ہ رات گئ‬
‫اس چش فسوں ک ر س چپک س عط‬

‫اک خوا چرا لائ تھ ہ رات گئ‬
‫‪........‬‬

‫قطرہ قطرہ حب دیکھ میں ن‬

‫ذرہ ذرہ سرا دیکھ میں ن‬
‫اک اور ہی انقلا سوچ تھ مگر‬

‫اک اور ہی انقلا دیکھ میں ن‬
‫عط ن اردو کی ش ری زب ن کو' بڑے خو صورت مرک دی‬
‫ہیں۔ یہ مرک ' اچھوت اور گہری م نویت رکھت ہیں۔ مخت ف‬

‫نوعیت ک چند مرک دیکھی ۔‬
‫اف دل‬

‫اق ی م نی‬
‫تخت ہوا‬

‫دشت غزل‬
‫ط س امک ن‬

‫ع و م رج‬
‫قرط س ش‬

‫قید ان‬
‫کیف لازوال‬

‫وس ت ش‬
‫پتھر ک سکوت‬

‫خوشبو ک جھرن‬
‫تہذی ک اورا‬
‫شو کی تکذی‬
‫قرنوں کی دیوار‬
‫لمحوں کی فصیل‬
‫افلاک پہ س غر‬
‫لازم ں وس ت‬
‫حرف خوش خص ل‬

‫اہل زوال‬
‫اہل نی ز‬
‫زاویہ نشیں‬
‫ل ظ پرست‬
‫ش ہءن ی‬
‫کنگرہءکبر‬
‫نشہءپندار‬
‫ادائ کہکش نی‬

‫ورائ تشبیہ‬
‫عط کی زب ن ک مح ورہ; ش ئستہ' شگ تہ' برمحل اور نئی فکر ک‬

‫ح مل ہوت ہ ۔ چند مث لیں ب طور نمونہ ملاحظہ ہوں۔‬
‫پ کیں بڑھ ن ‪ :‬اک موج گم ں ن یوں بڑھ ئی پینگیں‬

‫دیوار گرن ‪ :‬دیوار گران س جو کھ ت ہی نہ تھ‬
‫دیوار اٹھ ن ‪ :‬عقدہ وہی دیوار اٹھ ن س کھلا‬

‫س نچ میں اترن ‪ :‬موجود ک س نچ میں اتر آی میں‬
‫دل میں ات رن ‪ :‬خوشبو بھرے لمحوں کو ات را دل میں‬
‫بوجھ اٹھ ن ‪ :‬اک بوجھ اٹھ ئ ' چ ر و ن چ ر چ‬
‫سکہ چ ن ‪ :‬چ ت ہ فقط سکہءس لوس یہ ں‬

‫پ کوں س اٹھ ن ‪ :‬کی خوا تھ پ کوں س اٹھ ک '‬
‫جھونک‬

‫عط کی رب عیوں میں' مق میت بھی پ ئی ج تی ہ ۔ س تھ میں'‬
‫بہت بڑی حقیقت بی ن کر گی ہیں۔‬

‫پھوہڑ کی ہو جھ ڑو کہ سگھڑ ک لیپ‬
‫چھپت نہیں گو لاکھ چھپ ئ کوئی‬
‫کہ نی کہ وت بھی ان کی رب عی ت میں نظر انداز نہیں ہوئی۔ مثلا‬

‫تہ خ ن میں صندو ک چ روں ج ن‬

‫پہرا ہ کسی ن گ ک ج ن ک س‬

‫عط ت میح ک تشبیہی است م ل' بڑے ہی طری ہ س یقہ س کرت‬
‫ہیں۔ کئی ایک روم ن پرور من ظر' آنکھوں ک س من گھو‬

‫گھو ج ت ہیں۔ ذرا تصور کیجی ' مست ہواؤں میں سورگ کی‬
‫الپسرائیں رقص کر رہی ہوں' تو شخص اور دیوت بن پیئ ' نشہ‬

‫کی ح لت میں آ ج ئیں گ ۔‬

‫یوں دشت غزل میں خوش ہوائیں ن چیں‬

‫جوں تخت ہوا پہ اسپرائیں ن چیں‬

‫جن عط الرحمن ق ضی کی زب ن و فکر پر' دی نت داری س '‬
‫بہت کچھ لکھ ج سکت اور لکھ ج ن چ ہی ‪ .‬میں اپنی‬

‫م روض ت یہ ں پر خت کرت ہوں' ت کہ ق ری بھی' اس ذیل میں'‬
‫اپنی رائ دے سک ۔‬

‫دع ہ الله کری ق ضی ص ح ک ق میں' مزید روانی ں رکھ‬
‫دے' ت کہ وہ زب ن و اد کی خدمت ک س تھ س تھ' عصری‬

‫م ملات کو' ک غذ ک سپرد کر سکیں۔ آت کل ش ہوں اور ان ک‬
‫کنکبوتیوں کو ہی نہیں' اس عہد ک دوسرے ب سیوں ک احوال‬

‫س آگ ہ ہو بھی سک ۔‬

‫حضرت س ئیں سچل سر مست ک پنج بی کلا ک اردو ک تن ظر‬
‫میں مط ل ہ‬

‫برصغیر ک عظی ہ ت زب ن ش عر' عبد الوہ الم روف سچل‬
‫سرمست ‪ 1739‬میں' خیر پور ک گ ؤں درازا میں پیدا ہوئ ۔‬

‫سچل' سچ ی سچ بولن وال کو کہ ج ت ہ ' ج کہ‬
‫سرمست' مستی اور جذ کی ح لت وال کو کہ ج ت ہ ۔ وہ‬
‫ع می ادبی اور تصوف کی دنی میں' اپن ق می اور اختی ری ن‬
‫سچل سرمست س ہی م روف ہیں۔ لڑکپن میں ہی' ان ک والد‬
‫انتق ل کر گی ۔ دیکھ بھ ل ک فریضہ' ان ک چچ ن انج دی '‬
‫جو ب د میں ان ک روح نی پیشوا ٹھہرے۔ ان کی ش دی' ان کی‬
‫کزن س ہوئی' جو صرف دو س ل س تھ نبھ کر الله کو پی ری ہو‬

‫گیئں۔ اس ک ب د انہوں ن ش دی نہ کی۔‬

‫بچپن میں' انہیں حضرت ش ہ عبد الطیف بھٹ ئی اور کئی دوسرے‬
‫صوفی ش را س ' م ن ک ات ہوا۔ انہوں ن پہ ی نظر میں'‬

‫حضرت سچل سرمست کو پہچ ن لی اور کہ ' یہ لڑک اپن ک‬
‫مکمل کرے گ ۔ آت وقتوں میں یہ کہ سچ ث بت ہوا۔ حضرت‬
‫سچل سرمست' اپن گ ؤں س کبھی کہیں نہیں گی ' لیکن ان‬
‫ک سچ ئی اور روح نیت ک پیغ ' خوش بو کی طرح' جگہ جگہ‬

‫پہنچ اور اپن خوش گوار اثرات چھوڑت رہ ۔‬

‫حضرت سچل سرمست ن ' بڑی س دہ زندگی گزاری۔ س دہ ع دات‬


Click to View FlipBook Version