ادبی ج ئزے
مقصود حسنی
ابوزر برقی کت خ نہ
م رچ
کرشن چندر کی سوچ ک اف -
رفی احمد نقش :افس نوی کردار' مث لی ادی -ایک ج ئزہ -
خوش بو میں نہ ت رنگ ......ایک ج ئزہ -
حضرت س ئیں سچل سر مست ک پنج بی کلا ک اردو ک -
تن ظر میں مط ل ہ
ب ب فرید کی ش ری زب ن ک ' اردو ک تن ظر میں لس نی تی -
مط ل ہ
اردو اور دیگر زب نوں ک لس نی تی اشتراک -
اردو اور س دی ب وچست ن ک ب وچی کلا ک لس نی تی -
اشتراک
اردو ک تن ظر میں حضرت بوع ی ق ندر ک ف رسی کلا ک -
لس نی تی مط ل ہ
حضرت خواجہ م ین الدین چشتی کی ف رسی ش عری اور اردو زب ن-
حضرت امیر خسرو ک ایک گیت اور جدید گ ئیکی-
ایک قدی ی د گ ر ب رہ ام -
س ختی ت اور اس ک حدود ایک ج ئزہ -
ب راں م ہ غلا حضور ش ہ -
شجرہ ق دریہ ۔۔۔۔۔ ایک ج ئزہ -
کرشن چندر کی سوچ ک اف
کرشن چندر بیسویں صدی ک بڑا قد آور افس نہ نگ ر ہ ۔
شخصیت کی طرح اس کی ادبی خدم ت بھی ق بل تحسین ہیں۔
اس ن زندگی کی ت خ اور کٹھور حقیقتوں کو قرط س فن پر
رکھت خو صورت اور مط بقتی زب ن ک انتخ کی ہ ۔ جو
چیز جتن اور جس قدر قری ہو گی وہ اتنی ہی کشش آور ہو گی۔
زندگی س انتہ ئی قری رہن ک ب عث کرشن چندر کو ہر
طبقہءفکر ک لوگوں س م ن ک موقع ملا۔ یہ ہی وجہ ہ کہ
اس ن اپن افس نوں میں ہر طبقہ ک لوگوں کو جگہ دی ہ
اور ان ہی س داد وتحسین وصول کی ہ ۔ اس ن ن زک اور
حس س آبگینوں کو بڑی مہ رت اور س یقہ س چھیڑا ہ ۔ اس
ک کرداروں میں ق ری کو اپنی شخصیت کی پررچھ ئی نظر آتی
ہ ۔ اتنی اوریجنل فوٹوگرافی اس ل ظوں ک مصور بن دیتی ہ ۔
کرشن چندر انس نی ن سی ت س خو خو آگ ہ ہ ۔ وہ دل کی
دھڑکنوں تک کو گنن کی مہ رت رکھت ہ ۔ بدلت ح لات اور
بدلتی ذہنیت ک مط ل ہ کرن پر مہ رت رکھت ہ ۔ وہ م مولی
اورغیرمحسوس تبدی ی کو بھی نظروں س اوجھل ہون نہیں
دیت ۔ اس ک مش ہدے کی خوردبین بڑی ک رکش ہ ۔ یہ ہی
سچ ' کھرے اور بڑے فن ک ر کی پہچ ن ہوتی ہ ۔ وہ بدلت
ح لات بدلتی قدروں اور بدلت رویوں کی ج نچ کر لیت ہ ۔ ایسی
صورت میں جو کچھ بھی ق اور برش کی گرفت میں آئ گ
سچ اور ہو بو ہو گ ۔ م م کو ج نن ک لی قی فیہ ی
م روضہ ہی ک فی نہیں ہوت ۔ اس ک لی م م کی جڑ کی
مٹی تک ج ن پڑت ہ ۔ اندازے اور قی ف مخمصوں ک دروزے
کھولت ہیں۔ انہیں کسی بھی صورت میں سچ ئی اور حقیقت ک
درجہ نہیں دی ج سکت ۔
کرشن چندر ک کردار قی ف ی اندازے س تشکیل نہیں پ ئ ۔
وہ گ ی ب زار اور گھروں میں چ ت پھرت نظر آت ہیں۔ اس
ک ہ ں ہر طبق ک کردار دیکھن کو م ت ہیں۔ مخت ف
نوعیت ک سوچ پر گرفت حیرت انگیز عمل ہ ۔ اس ک کہن ہ ۔
انس ن کی ذہنی کی یتیں سمندر ک مدوجزر کی طرح دل ک
س حل پر اترتی ہیں اور عموم یہ مبہ سی تصویروں ک
دوسرے ری میں یوں فن ہو ج تی ہی کہ پھر ان ک ن و نش ن
بھی نہیں پ سکت ۔ ی پھر نئ نقوش اپنی تزئین امتزاج س
نئی جم لی تی کی یتیں کر دی ک آغوش میں اس س حل کی ریت
ک ہر ذرہ ہ کی ۔ اس س پہ بھی زندگی تھی ی یہ نغمہ
اضط ری ل ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ب ض نقوش اس قدر ن پیدار اورمبہ
نہیں ہوت اور س حل حی ت پر ایسی تصویریں کھینچ دیت ہیں
جو مدت تک ق ئ رہتی ہیں۔
یہ پیرہ نثر لطیف ک درج پر ف ئز ہ ۔ کرشن چندر ن اس
پیرے میں لطیف ن پیدار اور مکمل کی یتوں ک بڑی خو صورتی
س ذکر کی ہ ۔ اس س یہ حقیقت کھل ج تی ہ کہ وہ لطیف
کی یتوں اور جذبوں پر بھی گہری نظر رکھت ہیں۔ اگرچہ
کی یتیں م دی وجود س م ورا ہوتی ہیں لیکن کرشن چندر کی
نظریں ان کی ب ریک ریکھ ؤں تک چ ی ج تی ہیں اور وہ انہیں
ل ظوں ک کیمرے میں مح وظ کر لیت ہ ۔
جس طرح زندگی دکھ سکھ محبت اور محبت ک آمیزہ ہ اسی
طرح کرشن چندر ک افس ن زندگی ک مخت ف رنگوں ک گل
دستہ ہیں۔ اس گل دست میں ک نٹ بھی ہیں۔ اس آمیزے س
ہر رنگ الگ کرن آس ن نہیں۔ س دھو ی حکی کی س وف میں کی
کچھ ہ ج نن آس ن ک نہیں۔ ب لکل اسی طرح زندگی ک آمیزے
س ان ح لتوں کو الگ کرن آس ن ک نہیں۔ کرشن چندر کو یہ
کم ل ح صل ہ کہ وہ انہیں الگ الگ کرک اپن افس نوں میں
کم ل مہ رت س پیش کرت ہ ۔
1973
رفی احمد نقش :افس نوی کردار' مث لی ادی -ایک ج ئزہ
ب دش ہ سیٹھ اور ان ک جدی پشتی کنقری ' ط شدہ بڑی
مخ و ہوتی ہ ۔ اسی طرح ان ک بچ خلائی مخ و ہوت
ہیں۔ ضرورت' ح لات ی ح دث تی کنکبوتی بھی ت ریخ و اد میں
بڑے ٹھہرت ہیں۔ گوی ان ک بڑا ہون پہ س ط شدہ ہ ۔
کسی بھی شدہ پر کلا کی گنج ئش نہیں ہوتی' کیوں کہ ان کی
حیثیت پہ س سمجھی سمجھ ئی ہوتی ہ ۔ چوری خور
مورکھ بھی ان ک ن وہ کچھ لکھ ج ت ہ ' جس ک انہوں ن
خوا تک نہیں دیکھ ہوت ی اس نوع ک خوا سوچن کی بھی
گست خی نہیں کی ہوتی۔ اگر اچھ ئی کی سوچ' ان ک قری س
بھی گزر ج ئ ' تو جدی پشتی بڑوں کی صف س ہی نک ل ب ہر
کی ج ئیں۔ ی یوں کہہ لیں' اچھ ئی ان ک لی ریورس ک
دروازے کھول سکتی ہ ۔
ن ن جدی پشتی بڑے' ضروری نہیں' بڑے شہروں مح وں ی
بنگ وں میں جن لیں۔ وہ اپنی کوشش' زہ نت' سچی لگن اور جہد
مس سل ک بل پر' بڑے قرار پ ت ہیں۔ انہیں زندگی ک ہر موڑ
پر' تندی ب د مخ لف س نبردآزم ہون پڑت ہ ۔ ان کی ٹ نگیں
کھنچن وال ' اطراف میں موجود رہت ہیں۔ اس کھنچو کھنچی
میں' ان ک قد بڑھت ہی چلا ج ت ہ ۔ الله ان کی محنت اور خ وص
نیتی کو' برکت عط فرم ت ہ ۔ وہ کسی سرک ری' سیٹھی ی ش ہی
گم شت ک ' ن خواندہ اعزاز و اکرا ک محت ج نہیں رہت ۔
اصل حقیقت یہ بھی ہ ' کہ زمین ک کسی وڈیرے کی عط ئی
برکی' ان کی فکری اپروچ ک لی ' س ق تل س ک نہیں ہوتی۔
سرک ری برکی ن ' فردوسی کو عوامی نم ئندہ نہ رہن دی ۔ اس
ک کہ کو' اس عہد کی ش ہی ج ہ و حش ک گواہ قرار دی ج
سکت ہ ۔ اس عوا ک دکھ سکھ ک شہ دتی قرار دین ' اس کی
عظمت پر ک لک م ن ک مترادف ہو گ ۔
رفی احمد نقش ک شم ر ان لوگوں میں ہوت ہ ' جو جھونپڑوں
س اٹھ کر بھوک و پی س ک اژدھوں س ' نبردآزم ہوت
ہوئ ' محنت اور مشقت کی پرخ ر وادیوں س گزرت ' شن خت
ک ج وہ کدوں میں اپنی اق مت ک س م ن کرت ہیں۔ محل
من رے' آج کی ش ن ہوت ہیں اور کل ک کھنڈرات۔ کت ب
ن صرف وہ ں بسیرا کرت ہیں' بل کہ وہ ان کی غلاظت گ ہ بھی
ٹھہرت ہیں۔ آت وقتوں میں ان ک لی مرک ۔۔۔۔۔ سن ہ ۔۔۔۔۔۔
است م ل میں آت ہ ۔ ان کی شخصی پہچ ن خت ہو ج تی ہ ۔
رفی احمد نقش ن ' جس بستی میں بسیرا کی وہ ں کی شن خت'
گ رے چون س بنی عم رتیں نہیں ہیں بل کہ اس عہد' اس
عہد ک لوگوں اور ان ک م ملات س مت شہ دتیں ہوتی
ہیں۔ ل ظوں س ت میر ہون وال یہ پیکر' حرفکر کی شن خت
ہوت ہیں۔ ان ک س من ت ج محل اور نور محل سی خون خور
عم رتیں' شرمندگی کی علامت بنی ہوتی ہیں۔
اس ذیل میں رفی احمد نقش ک یہ ش ر ملاحظہ ہو:
بہ ر میں جو گرائ درخت ا ک
کھدے ہوئ تھ کئی ن س تھ س تھ ان پر
درخت چھ ؤں آکسیجن اور ہری لی فراہ کرت ہیں۔ یہ ح دث تی
طور گرے نہیں' بل کہ گرائ گئ ہیں۔ ل ظ درخت ک علامتی
است م ل' بڑی گری ت ہی ک تق ض کرتی ہ ۔
ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش' ک اردو ک ب دار مغز اہل ق میں
شم ر ہوت ہ ۔ س س بڑی ب ت یہ کہ وہ ش ہ ی ش ہ ک
کنکبوتیوں س ' دور ک شخص ہیں۔ وہ ک اور ک پر یقین
رکھن والوں میں س ہیں۔ میری اس ب ت ثبوت کت
۔۔۔۔۔۔ رفی احمد نقش :افس نوی کردار' مث لی کردار۔۔۔۔۔۔
ہ اس کت کو دیکھت اور پڑھت ہوئ ' اندازہ ہوت ہ ' کہ
بندے ن ک کی ہ اور ج ن م ری ہ ۔ انہوں ن ' کت کو
بڑے س یق اور ہنرمندی س مخت ف حصوں میں تقسی کی
ہ۔
کت ک آغ ز ن ت و سلا س کی گی ہ ۔ یہ دونوں رفی احمد
نقش ک ق ک نتیجہ ہیں۔ عقیدت احتر اور آق کری س محبت'
اپنی جگہ لس نی تی اعتب ر س بھی' یہ دونوں ق پ رے کچھ ک
نہیں ہیں۔ نمونہ ک فقط ایک ش ر ملاحظہ ہو۔ اس ایک ش رس '
اندازہ ہو ج ت ہ کہ وہ زب ن پر کس سطع کی دسترس رکھت
تھ ۔
اسی کی ذات ہ ہر طرح س تق ید ک ق بل
کہ وہ مح ل نشیں بھی ہ وہی خ وت گزیں بھی ہ
تکرار حرفی و تکرار ل ظی ک س تھ دو مرکب ت' مصرع ث نی
میں دو ہ صوت ل ظوں ک است م ل' ج کہ صن ت تض د ک کم ل
خوبی س است م ل کی گی ۔ صرف اس ایک ش ر س ' اس امر
ک ب خوبی اندازہ کی ج سکت ہ ' کہ مرحو اردو زب ن اور اس
کی جڑوں س کتن اور کس قدر قری تھ ۔
پہلا حصہ رفی احمد نقش کی حی ت اور ی دوں س مت ہ ۔
اس میں ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش سمیت' اکتیس جید اہل ق کی
تحریریں ش مل ہیں۔ انہیں پڑھ کر' رفی احمد نقش کی حی ت اور
ع دات و اطوار س مت ' بہت سی م وم ت' دستی ت ہو سکتی
ہیں۔ ان تحریروں کی حصولی' جمع بندی اور ترتی ک لی
انہوں ن ' بلاشبہ بڑی محنت اور خ وص نیتی س ک لی ہ ۔
اس حوالہ س ' ان کی تحسین نہ کرن زی دتی ک مترادف ہو گ ۔
چند اک اقتب س ب طور نمونہ ملاحظہ ہوں۔ ان مختصر ٹکڑوں
ک مط ل ہ س ' رفی نقش کی شخصیت ک بہت س پہ و'
بلاتک ف اور لگی لپٹی س ب لا س من آ ج ئیں گ ۔
رفی احمد نقش ن
پندرہ م رچ 1959کو میرپور خ ص میں جن لی ۔ ص13 :
اردو زب ن و اد اور ہم ری اعلا اقدار ک یہ روشن ست رہ اپنی
روشنی س لوگوں ک ق و واذہ ن منور کرک 15مئی 2013
کو دائمی ابر آلودگی میں چھپ گی ۔ ص16 :
اردو اد ک حوال س رفی نقش ک بیش تر ک ش عری'
ترجم ' تنقیدی و تحقیقی مض مین' فنی تدوین اور ادارت س
مت ہ ۔
سوانح نقش پر ایک نظر از ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش ص 16
وہ بڑے ص ف گو ب کہ منہ پھٹ آدمی تھ ۔ لگی لپٹی ہرگز نہیں
رکھت تھ ۔ زم نہ س زی انہیں ہرگز نہیں آتی تھی۔
رفتید ول نہ از دل م از ڈاکٹر یونس حسنی ص17 :
سوال :رفی نقش کی موت ک ب د آپ کی محسوس کرت ہیں۔
جوا :اردو ک بہت بڑا نقص ن ہوا ہ ۔ لوگوں کو اس ک احس س
نہیں ہ ۔ یہ میں ج نت ہوں۔ وہ لس نی ت ک آدمی تھ ۔ مجھ
ج کسی ل ظ ک ب رے میں م و کرن ہوت تو میں فون کرک
پوچھت تھ کہ است د یہ ل ظ کس طرح ہ ۔ وہ بت دی کرت تھ ۔
شکیل ع دل زادہ س گ تگو' ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش ص23 :
رات گئ اچ نک کوئی خی ل آت ی کسی کت ک سرا م ت تو ان
حضرات س بلاتک ف تب دلہءخی ل کرت اور کبھی ان ک لہج
میں ن گواری ک ت ثر محسوس نہیں ہوا۔
دو درویش از سید ج م ی ص29 :
وہ اکثر اتوار کو ریگل اور فریئر ب ل پرانی کت بیں خریدن ک
لی ج ت تھ ۔ کت بوں س انھیں جنون کی حد تک شو تھ ۔
ان کی ذاتی لائبریری میں دس ہزار س زی دہ کت بیں اور رس ل
ہیں۔
رفی احمد نقش ازایک من رد شخص ص35 :
اپن رفی ن تم عمر' اپنی انوکھی' من رد اور یکت وسیع
شخصیت کو جس ل ظ میں قید کرن پر صرف کر دی' وہ ل ظ
تھ اصول۔
رفتید ول نہ از دل م از ی قو خ ور ص38 :
رفی احمد نقش کت بوں ک تح ہ دین ک م م ہ میں بڑے فراخ
دل تھ ۔ وہ اپن دوستوں کو اد میں ہر وقت ف ل دیکھن پسند
کرت تھ ۔
ک غذی ہ پیرہن از بشیر عنوان ص55 :
رفی فل کمٹ منٹ ک آدمی تھ ۔ ایک اچھ ط ل ع اور
ایک اچھ است د' وہ ن صرف اپنی تدریسی ذمہ داری ں بڑی تن
دہی س نبھ ت ب کہ است دوں کی فلاح ک لی ک کرن والی
تنظیموں س بھرپور ت ون کرت ۔
رفیقوں ک رفی ' رفی احمد نقش از کرن سنکھ ص61 :
میں ن اپنی س ری زندگی میں ص ف گوئی میں رفی ک کوئی ہ
سر نہیں دیکھ ۔ برجستگی اس ک وسیع مط ل کی مرہون
منت تھی' ج کہ ح گوئی اس ک سچ اور صرف سچ پر
مکمل ایم ن ک ثبوت تھی۔
رفی احمد نقش کی ص ف گوئی اور برجستگی از ڈاکٹر نصیر
احمد ن صر ص63 :
رفی کی زندگی میں جتنی بھی عورتیں آئیں وہ ی تو خوش فہ
تھیں ی غ ط فہمی ک شک ر ہوئیں۔ رفی ن اگر کسی س اچھ
برت ؤ کی تو غ ط م نی اخذ کر لین یقین ب وقوفی تھی اور ہ ۔
جس طرح میری کوئی بھی ب ت رفی س پوشیدہ نہ تھی' اسی
طرح انہوں ن ہر چھوٹی بڑی ب ت س ب خبر رکھ ۔ یہ رفی کی
عظمت تھی کہ انھوں ن کبھی میری بڑی س بڑی بھول پر
بھی مجھ ط نہ نہ دی ' نہ خود س دور رکھ ۔ آفرین ہ اس
شخص پر' بہت بڑے حوص والا تھ ۔
ہر چند کہیں کہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔ از زکیہ س ط نہ ص73 :
مس سل مط ل ہ' ع کی پی س' دوسروں کو ع ب نٹن .اصول
پسندی اور اجتم عی سم جی خدمت جیسی خوبیوں ن رفی
احمد نقش کو ع و اد ک حقیقی است د بن دی تھ ۔
میرا دوست رفی احمد نقش از احمد س ید ق ئ خ نی ص:
وہ ب لوث' پرخ وص اور ہ درد انس ن تھ ۔ وہ حقیقی طور پر
مولوی عبدالح ک ج نشین نہیں تو اس ک رواں ک ایک فرد
ضرور تھ ۔
کچھ ی دیں از ڈاکٹر ممت ز عمر ص81 :
ب یک بورڈ پر روزانہ بہت خو صورت' اش ر لکھ کرت تھ ۔
اس کی لکھ ئی بھی بہت خو صورت تھی۔ وہ اکثر میرپور
خ ص س حیدرآب د آت تھ اور س رے رست کچھ ن کچھ پڑھت
ہوا ہی آت تھ ۔ کت س اس کی محبت ک اندازہ مجھ اس وقت
ہو گی تھ ۔ وہ ہم را جونیر تھ ۔
م ضی ک جھروک از ع ت ب نو ص82 :
رفی احمد نقش س بہت سی ب توں پر اختلاف ہون ممکن ہ ۔
ان س کچھ شک یتوں ک ہون سمجھ میں آت ہ ۔ ان س ن راض
ہون کی کئی وجوہ میں یقین م قولیت ہ ' لیکن ان س ک
ب وجود ہ اس لی ان کی قدر کرت ہیں' ان ک ذکر کرت ہیں'
ان کی مث ل دیت ہیں کہ وہ کئی روائتوں ک امین تھ ۔ انھوں
ن ان کی خدمت کی' ان کی ح ظت کی ہ ۔ ان ک وق ر ک
لی قرب نی ں دی ہیں۔ ان میں س ایک روایت پ بندی وقت ہ ۔
پ س دار از حسن غزالی ص17 :
نقش ایک کھ ی کت تھ ۔ جس ہر شخص پڑھ سکت تھ ۔ ایک
چشمہءرواں تھ ' جس س ہر ایک بقدر ظرف سیرا ہو سکت
تھ ۔ وہ محبتوں ک س یر تھ اور ش قت' دری دلی' سچ ئی خ وص
اور ہ دردی اس ک م تبر حوالہ تھیں۔
دل پہ نقش تری محبت ک نقش ہ از مجید ارشد ص116 :
میں ن رفی نقش کو بس اس قدر سمجھ ' آدمی ک مشین تھ ۔
دید و ب زدید از س ی اقب ل ص91 :
رفی نقش ایک پرخ وص اور محبت بھرا دل رکھن وال
انس ن تھ ' پھر ان کی ع می ق ب یت ن ان کو مزید م تبر بن
دی ۔
آہ! رفی احمد نقش از افروزہ خضر ص92 :
رفی بھ ئی ایک ایس شخص ک ن ہ جو مس سل کسی
نقط ' کسی ع می و ادبی اصطلاح' کوئی سم جی پہ و' کسی
ش ر کی ت ہی اور اس قس ک م ملات میں غور و فکر کرت
دکھ ئی دیں گ ۔ وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ سیکھن سکھ ن کی
جستجو میں رہت تھ ۔
دنی ہ اک سرائ کہ ں مستقل قی از نوید سروش ص95 :
رفی ص ح طنزومزاح ک ایک خ ص ذو رکھت تھ ۔ ج
کبھی موڈ میں ہوت تو خو لطی سن ت ۔ انھینب شم ر
لط ئف از بر تھ ۔ آپ ج گ تگو کرت تو مح ل کشت زع ران
بن ج تی۔ رنجیدہ ہون ' ان ک ہ ں ممنوع تھ ' وہ کسی کو دکھی
نہیندیکھ سکت تھ ۔ ہر کسی ک مس کو اپن مسگہ
سمجھت اور ہر ممکن مدد کرت ۔
س ک رفی از ص بر عدن نی ص125 :
وہ کہ کرت تھ کہ ہمیں حتی المقدور کوشش کرنی چ ہی کہ
اردو بولیں تو تم گ تگو اردو ہی میں ہو
۔ انگریزی ک غیر ضروری ال ظ ک است م ل س احتزاز
کریں۔ اسی طرح اگر انگریزی میں ب ت کی ج رہی ہو تو پھر
تم گ تگو انگریزی ہی میں ہو۔ آدھ تیتر آدھ بٹیر والی ب ت نہ
ہو۔
رفی اردو۔۔۔۔ رفی نقش از شکیل احمد بھوج ص132 '131 :
انھوں ن ت د مرگ طبق تی فر کو نہ صرف رد کی ب کہ اس ک
عم ی ثبوت بھی فراہ کی ۔
رفی احمد نقش; چند ت ثرات از ع بد ع ی ص137 :
رفی احمد نقش کی زندگی ک کئی پہ و تھ ۔ مراس ک خی ل
رکھن وال ' روایت پرست اور مذہ کی اعلا روای ت ک پ س
رکھن وال ۔
کچھ ی دیں نقش ہیں از عزیز احمد ص140 :
وہ جس انداز س ع کو فرو دے رہ تھ ' کسی کو کت
فراہ کر رہ ہیں' کسی کو کت بوں کی فوٹو ک پی کرا ک ع می
م ونت کر رہ ہیں۔ ایس لگت تھ کہ ع و اد ک ڈسٹری
بیوٹر ہیں۔
عظی محسن از رئیسہ شریف ص142 :
ان کی ایک ملاق ت واق ت ڈھیروں کت بیں پڑھن ک مترادف
تھی۔
ایک نقش خ ص از ع ز رحم ن ص144 :
بھ ئی ج ن ک عمری میں مذہبی بھی رہ ۔ وہ پ نچ وقت کی نہ
صرف نم ز پڑھت تھ ب کہ مسجد میں ازان بھی دین ج ت
اورتب یغی جم عت ک مرکز بھی ج ت ۔
بچپن کی کچھ ی دیں از رشیدہ ص146 :
کت ک دوسرے حصہ میں
منظو خراج عقیدت ک ن س ' آٹھ ش ری منظوم ت ہیں۔ ہر
کسی ن انہیں ان کی شخصیت اور ان کی ع می و ادبی خدم ت
کو خراج عقیدت پیش کی ہ ۔ یہ منظوم ت' مق ی آزاد اور نثری
ہیں۔ یہ منظوم ت رسمی نہیں ہیں۔ ان میں ش عر کی محبت'
عقیدت' شخصی ت اور مرحو کی شخصیت س مت ' کوئی
ن کوئی پہ و ضرور موجود ہ ۔ ان منظوم ت کو لکھوان اور ان
کی جمع بندی میں' ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش ن بڑے تردد س
ک لی ہوگ ۔ دو تین نمون ملاحظہ فرم ئیں۔
وہ گی ایس کہ س رے گھر کو سون کر گی
پی سی آنکھوں کو وہ دے ک ہ ئ چش تر گی
قط ہ ت ریخ ش عر مخت ر اجمیری ص147 :
ب س ختگی' ورفتگی اور مرحو س ق بی ت ' اس ش ر پ رے
ک خصوصی وصف ہ ۔ گنتی میں یہ ش ر فقط نو ہیں لیکن کہ
میں' سیکڑوں ص ح ت پر محیط ہیں۔ م نوی حسن' اپنی جگہ
لس نی تی حظ بھی کم ل ک ہ ۔
م ہر اجمیری ک یہ ش ر دیکھیں' کس کم ل اور ہنرمندی س
مرحو کی شخصیت ک ' اہ ترین پہ و کو واضح کر رہ ہ ۔
میں کی بت ؤں تمہیں کس قدر خ ی تھ وہ
رفی ن تھ ہر شخص ک رفی تھ وہ
خوشبو کی نظ ۔۔۔۔۔۔۔ ایک ع آدمی کی موت۔۔۔۔۔۔ کی یہ سطور
درد' کر اور ارضی اق مت کی گرہ کھول رہی ہیں۔
کبھی اس آس میں
کہ ایک دن وہ لمحہ آئ گ
ج وہ دنی بھر ک جھمی وں س نج ت پ کر
اپنی ایک نئی دنی بس ئ گ
اس کی یہ خواہش اس وقت پوری ہوتی ہ
ج تم امیدیں د توڑ ج تی ہیں
اور ع آدمی
خ ص و ع کی تخصیص س م ورا ہو ج ت ہ ......
ص160 :
اس س اگلا حصہ نگ رش ت نقش س مت ہ ۔ اس میں ش ر
و نثر س مت مرحو کی ک وش ہ فکر درج کی گئی ہیں۔
ش عری میں
غزلیں 13
چو مصرع ی نی قط ت 6
رب عی 1
ش ر1
آزاد نظمیں 2
ش مل کت ہیں۔ ان کی ش عری' فکری و فنی اعتب ر س ' ان کی
شخصیت اور عصری سم جی رویوں کی عک س ہ ۔ ہ ں البتہ ان
کی ش ری زب ن ک رویہ اور لوازم ت ش ر روایت س قدرے ہٹ
کر ہیں۔
ایک غزل چھ ل ظی ردیف پر استوار ہ ۔ غزل ک مط ع
دیکھی ۔
ہر س نس ہ کراہ مگر ت کو اس س کی
ہو زندگی تب ہ مگر ت کو اس س کی
پرلطف ب ت یہ ہ کہ ق فیہ اور ردیف ک آخری ل ظ فطری طور
پر اور حس ضرورت ہ صوت ہ ۔ اس س غن اور نغمیت
میں ہرچند اض فہ ہوا ہ ۔
ایک غزل ک ردیف پ نچ ل ظی ہ ۔ اس میں پہ ی صورت ح ل
نہیں ہ ۔ ق فیہ اور ردیف ک آخری ل ظ ہ صوت نہیں ہیں۔ مط ع
ملاحظہ ہو۔
آمد فصل گل پر ہوائ طر ن ک چ ن لگی' تیری ی د آ گئی
دھیرے دھیرے فض ئ جہ ں اپنی رنگت بدلن لگی' تیری ی د آ
گئی
پہ ی غزل ک ردیف چہ ر ل ظی اور ہی کچھ تھ ' ہ ۔ اس س
آہنگ اور غن ک الگ س ذائقہ میسر آت ہ ۔ ب طور نمونہ فقط
ایک ش ر ملاحظہ فرم ئیں۔
رفتہ رفتہ ہر اک گھ ؤ بھر ج ت ہ
پہ پہل ہ تجھ س بچھڑ کر اور ہی کچھ تھ
اس ک علاوہ ایک غزل چول ظی ج کہ دو غزلیں سہ ل ظی
ردیف رکھتی ہیں۔
تکرار ل ظی ک س تھ س تھ صن ت تض د ک است م ل ملاحظہ
فرم ئیں۔
سین میں تھ درد مگر ہونٹوں پہ تبس
ب ہر ہ کچھ اور تھ اندر اور ہی کچھ تھ
ل ظ ہی تدبر ک متق ضی ہ ۔
ا ذرا یہ ش ر ملاحظہ فرم ئیں۔
جس ک سخن میں زہر س زائد ہیں ت خی ں
اس ک لبوں میں شہد س بڑھ کر مٹھ س تھی
دونوں مصرعوں ک ' ہ صوت ال ظ س آغ ز ہوا ہ ۔ ل ظوں کی
حسین ترتی اور پرذائقہ است م ل' بصیرتی اور بص رتی حظ
میسر کرت ہ ۔
مت ال ظ
پہلا مصرع سخن
دوسرا مصرع لبوں
مترادف ال ظ
پہلا مصرع زائد
دوسرا مصرع بڑھ کر
متض د ال ظ
پہلا مصرع زہر
دوسرا مصرع شہد
زہر ہلاکت ک س تھ س تھ کڑواہٹ ک لی بھی عرف میں ہ ۔
ت خی ں پہلا مصرع
دوسرا مصرع مٹھ س
سوچت ہوں میں' یہ ں س کہ یہ ں س پہ
اس مصرع میں' صن ت تکرار ل ظی ک است م ل نقش کی زب ن پر
گرفت کو' واضح کر رہ ہ ۔ فص حت اور بلاغت پر' کہیں ٹیڑھ
پن ط ری نہیں ہوت ۔ اس س غن اور نغمیت میں اض فہ یوا ہ ۔
تذبذ سوچ ک دائروں کو وسیع کر دیت ہ ۔
'سوچت ہوں میں
یہ ں س
کہ یہ ں س پہ
ت ہی کی ذیل میں' ق ری جہ ں ل ظوں کی مہک س لطف اٹھ ت
ہ ' وہ ں وحدت ت ثر' اس ک سوچ کو رائی بھر ادھر نہیں
ہون دیت ۔ دوسرا مصرع اشتی پیدا کرن ک س تھ تذبذ کی
گھتی بھی کھولت ہ ۔
داست ں اپنی سن ؤں تو کہ ں س پہ
پہ مصرع میں یہ ں' ج کہ دوسرے میں کہ ں ک است م ل
س کی یتی حظ میسر آت ہ ۔ بلاشبہ داد س ب لاتر زب ن ک
پڑھن ک ات ہوت ہ ۔
ا دو بص رتی اطوار ملاحظہ فرم ئیں
کبھی رو بہ رو کبھی خوا میں دیکھن
دیکھن
کبھی رو بہ رو
کبھی خوا میں
دونوں مصرعوں میں کبھی کی تکرار' ج ری س س کو واضح
کرتی ہ ۔ گوی سکوت ی ٹھہراؤ کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔
سرخ ہونٹوں ک اثر کو ترسوں
اثر ک تن ظر میں' لمس س مت یہ مصرع ملاحظہ فرم ئیں۔
مرک سرخ ہونٹ بص رتی وارفتگی کو بڑھ وا دیت ہ ۔
ا ان ک چند مخت ف نوعیت ک مرکب ت ملاحظہ فرم ئیں۔
رفتہ رفتہ
پہ پہل
خوش بو ک ذائقہ
سوچ ک محور
ال ظ کی گرفت
ہونٹوں پہ تبس
کھنڈر س مک ں
کر ذات
خوا نگر
نقش کی نظ تشنگی پر ایک نظر ڈالیں
تیری ی د اک ب دل ہ
پر ب دل س
ک پی س بجھی
پی س کی م ری دھرتی تو بس
ب رش کی
بوچھ ڑیں م نگ
میرا دل بھی
پی سی دھرتی
!س ون بن کر آ ج ؤ ن
تشبیہی طور دیکھی
تیری ی د :اک ب دل ہ
میرا دل بھی :پی سی دھرتی
ممث لتی طور دیکھی
دھرتی
دل
دھرتی :پی س کی م ری
دل :پی سی دھرتی
مط و
دھرتی :ب رش کی بوچھ ڑیں م نگ
دل :س ون م نگ
مت ل ظوں ک است م ل دیکھی
ب دل :ب رش
دل :ی د
آخری سطر گیت ک طور لی ہوئ ہ ۔
!س ون بن کر آ ج ؤ ن
پوری نظ پر ورفتگی کی کی یت ط ری ہ اور سم عی حظ میسر
کرتی ہ ۔
خیر اور سکھ کی فراہمی' اتن آس ن ک نہیں۔ نقش ک ہ ں اس
امر ک اظہ ر کم ل کی شی تگی رکھت ہ ۔
جو بھی س یہ مہی کرت ہ نقش
جھی نی پڑتی ہ اس کو کڑی دھوپ
قرب نی
ب ض ش ر تو' ورفتگی اور ب س ختگی میں اپن جوا نہیں
رکھت ۔ ب س ختہ منہ س واہ واہ نکل ج ت ہ ۔ مثلا
پیڑوں کو ک ٹن س پہ خی ل رکھن
ش خوں پہ کوئی غنچہ حیران رہ نہ ج ئ
ل ظ حیران کو مست مل م نوں س ہٹ کر لی گی ۔
مرے کچ مک ن کو نقش' ڈھ کر
ہوائ شہر ا کس لہر میں ہ
لہر کی ت ہی سٹریٹ ک بول چ ل ک مط ب لی ج ئ ۔ م م ہ
بھی سٹریٹ ک ہ ۔
ا ذرا یہ دو ش ر ملاحظہ فرم ئیں
سندر لڑکی
یوں تو خ موش ہی رہتی ہ وہ سندر لڑکی
سخنور لڑکی
ب ت کرن میں نہیں اس سی سخنور لڑکی
اس ک دل میں بھی کبھی نقش محبت ج گ
پتھر لڑکی
مو ہو ج ئ کسی روز وہ پتھر لڑکی
لڑکی ایک' تین ص تی لاحق است م ل ہوئ ہیں۔
نثر میں' دیوان غ ل ک نسخہء خواجہ س مت ' چ ر تنقیدی
مضمون ش مل ہیں۔ جن ک عنوان کچھ یوں ہیں۔
غ ل اور ج ل س زی
نسخہءخواجہ ی نسخہ لاہور
ضمیر کی خ ش
ت و بر تو اے چرخ گرداں۔۔۔۔۔۔
یہ مس ہ متن زعہ تھ اور آج بھی ہ ۔ میں ن بھی اس موضوع
پر کچھ لکھ تھ ' ی د نہیں کہ ں ش ئع ہوا۔ اصل مس ہ
نسخہءخواجہ ی نسخہ لاہور نہیں' کوئی اور تھ ۔
اس ک ب د کچھ مختصر تحریریں اداری اور ابتدای وغیرہ
ش مل ہیں۔ اس ک ب د نقش ک ف رسی' انگریزی' سندھی اور
پنج بی نظموں ک کچھ ترجم ش مل کی گی ہیں۔ ایک نظ
ش عر کی موت ک عنوان س ش مل ہ ۔ اس دیون گری س
اردو لیپی میں منتقل کی گی ہ ۔ خدا لگتی تو یہ ہی ہ ' کہ یہ
تراج ص ف' س دہ' واضح' س یس اور ش ری لواز س م لا م ل
ہیں۔ ان پر طبع زاد ہون ک گم ن گزرت ہ ۔ ب طور نمونہ فقط
ایک نظ ملاحظہ ہو۔
کھڑکی کھ ی
کھڑکی بند ہوئی
'ہوا
ہوائ دل پذیر تھی
مگر میرا قدی دل کہ ں گی
ش عر :محمد زہری
انگریزی' سندھی پنج بی اور سرائیکی س چ ر افس نوں ک
اردو ترجم کی ہیں۔ رم ک نت ک ایک افس ن کو دیون گری
س اردو رس الخط میں منتقل کی ہ ۔ تراج کو پڑھ کر' اندازہ
ہوت ہ کہ مرحو کو' ن صرف اردو زب ن پر قدرت ح صل تھی
بل کہ دیگر زب نوں ی نی ف رسی' انگریزی' سندھی' پنج بی اور
سرائیکی پر بھی گرفت رکھت تھ ۔ اسی طرح وہ دیون گری
رس الخط کو' اس کی ب ریکیوں ک س تھ ج نت تھ ۔ ان ک
یہ تراج ' زی سم عت و بص رت ہیں۔ اسی طرح' انتخ میں
بھی م کہ رکھت تھ ۔ اس امر س ب خوبی اندازہ لگ ی ج
سکت ہ ' کہ نقش مرحو ک ذو کیس اور کس نوعیت ک تھ ۔
ب طور نمونہ اور ان کی اردو پنج بی پر گرفت ک حوالہ س '
بیدی ک پچیس سطری پنج بی افس ن کی چند چنیدہ سطریں
:ملاحظہ فرم ئیں
لڑکی ن اپنی نظریں نیچی کر لیں اور اپن ابرو' اپنی ہی پ کوں
کی پرچھ ئیوں میں مسکراتی ہوئی ہنسی۔۔۔۔۔ اندر ہی اندر گٹکتی
رہی۔
ہوں' لڑک ن سوچ اور چلا گی
یہ ترسی ہوئی دھرتی' وہ س ون ک ب دل۔۔۔۔۔ اور بہ روں کی
فض ۔۔۔۔۔
..............
لڑکی ک م تھ پر س ت بل پڑے ہوئ تھ ۔ لڑک ن اس
دوسروں کی طرح ہی نک چڑھی' مغرور سی لڑکی سمجھ اور
چلا گی ۔
ح لاں کہ ب ت صرف اتنی سی تھی۔
تو ن پہ کیوں نہ مجھ بلای
وہ ازل س اکی ی۔۔۔۔۔ وہ ابد تک اداس ۔۔۔۔۔
اور س من کچھ بچ کھیل رہ تھ ۔
افس نہ ۔۔۔۔۔۔ بہ نہ ص 232 '231
ایک انگریزی اور ایک سندھی مضمون ک ترجمہ' کت میں
ش مل کی گی ہ ۔ دونوں مضمون بڑے ک ک ہیں۔ پہلا مضمون
قرتہ ال ین حیدر ک ن ول ۔۔۔۔۔ چ ندنی بیگ ۔۔۔۔۔ س مت ہ ۔
بڑا اچھ اور غیرج نبدارنہ قس ک مضمون ہ ۔ دوسرا مضمون
۔۔۔۔۔ آزاد کشمیر کی زب نیں۔۔۔۔۔ مختصر مختصر ہوت ' اپن
عنوان ک ت رف ک ضمن میں ک می اور ک رکش ہ ۔ ہر دو
مض مین' کی زب ن ترجمہ کی زب ن نہیں ہ ۔ براہ راست تحقی و
تنقید کی زب ن ہ ۔ کہیں ن ہمواری اور ابہ می صورت پیدا نہیں
ہوتی۔ یہ امر نقش مرحو کی' ہر سہ زب نوں پر گرفت ک غم ز
ہ ۔ گوی وہ جہ ں اچھ ش عر اچھ نث ر ہیں' وہ ں ش ر و نثر
ک اچھ مترج بھی تھ ۔
پ نچ اہل ق ک ن لکھ گی خطوط بھی کت ک حصہ
بن ئ گی ہیں۔
بشیر عنوان ک ن س ت خط
ی قو خ ور ک ن چ ر خط
ق س رحم ن ک ن دو خط
حسن منظر ک ن ایک خط
ذوال ق ر دانش ک ن ایک خط
گوی ت داد ک اعتب ر س یہ کل پندر خط ہیں۔ ڈاکٹر ذوال ق ر
دانش ک ن خط کی عکسی نقل پیش کی گئی ہ ۔ خطوط میں'
ب تک ی' برجستگی اور والہ نہ پن پ ی ج ت ہ ۔ یہ خطوط ادبی
حوالہ س بھی کم ل ک ہیں۔ ب طور نمونہ دو ایک مث لیں پیش
ہیں۔
کہت ہیں کہ کسی کی قدر مرن ک ب د ہوتی ہ اور ی چ
ج ن ک ب د۔ ا مجھ احس س ہوا کہ دونوں صورتوں ک
علاوہ ایک تیسری صورت بھی ہ ' جس ک ظہور پذیر ہون
ک ب د کسی کی قدر و قیمت ک احس س ہوت ہ اور وہ صورت
ہ جدائی کی! ع رضی نہیں طویل جدائی کی۔
خط رفی نقش بن بشیر عنوان ص251 :
اچھ ا واق ی خدا ح فظ
خط رفی نقش بن بشیر عنوان ص252 :
کشمیری صورتوں کو گلا ک بج ئ آ س تشبیہ دین پر
میں ت پر لکھ واری ل نت بھیجت ہوں۔
ب ب ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹی ں! ایک ب ر پھر ل نت
خط رفی نقش بن ی قو خ ور ص272 :
روٹی ج تک میسر ہ ' اس وقت تک نئی ب تیں سوجھتی ہیں
اور ج روٹی ک حصول مشکل ہو ج ئ تو حصول ن ن جویں ہی
واحد مس ہ رہ ج ت ہ ۔ اس موقع پر عش وش س دل و دم
س محو ہو ج ت ہیں۔ غ لب شیخ س دی ن اس تجرب کو بی ن
کی ہ ۔
چن ں قحط س لی شد اندر دمش
کہ ی راں فراموش کر دند
خط رفی نقش بن ق س رحم ن ص276 :
رائٹ برادران ک بن ی ہوا ہوائی جہ ز آج ک جدید طی روں ک
مق ب میں بچوں ک کھ ون م و ہوت ہ ت ہ یہ بھی حقیقت
ہ کہ اس ہوائی جہ د ک وجود میں آئ بغیر موجودہ طی روں
ک وجود میں آن ممکن نہیں تھ ۔
خط رفی نقش بن ذوال ق ر دانش ص280 :
کت ک آخر میں ۔۔۔۔۔ تیرے فن میں حسن ک اعلا ہیں نقش۔۔۔۔
ک عنوان س نو تحریریں ش مل کت کی گئی ہیں۔ ان میں
ایک ڈاکٹر انورسدید ک خط بن رفی احمد نقش ہ ۔ خط ک دو
جم درج ہیں۔ مست مل میں بدل گڑبڑی ک ب عث بنت ہ دوسرا
گ ی اس قبول نہیں کرتی ہ ۔ ق ی عرف میں ہ اس لی ق ی
قبولیت کی سند نہ پ سک گ ۔ خیر یہ دو جم دیکھی ۔
ایک ذاتی گزارش یہ ہ کہ میرا ن انور سدید م رف ہ لیکن
آپ اس نئ اصول و ضوابط ک تحت سدید انور درج فرم ت
ہیں۔ درخواست ہ کہ اس انور سدید ہی درج کیجی ۔
خط انور سدید بن رفی احمد نقش ص283 :
ب قی آٹھ تحریریں ان ک فن س مت ہیں۔
ان کی ش عری ک ب رے پروفیسر انوار احمد زئی ک کہن ہ ۔
رفی نقش ب طور ش عر
رفی نقش ک ش عرانہ نقوش میں مح ک ت اور تم ثیل ک س تھ
منظرن م بھی ایس مصور م ت ہیں کہ ان کی ش عری' فکری
گی ری اور ش ری تصویر خ نہ م و ہوتی ہ ۔ میرے نزدیک
وقت ک نئ پن ک مضمون ک ب د' تشبیہ و تمثیل ک اچھوت
اور نی پن' رفی نقش کی ش عری ک دوسرا بڑا کم ل ہ ۔
نقش آئینہءمسرت میں از روفیسر انوار احمد زئی ص285 :
رفی احمد نقش اور ترجمہ نگ ری
رفی احمد نقش طب ک م یت پسند تھ ۔ وہ جو بھی ک کرت '
پوری ذمہ داری س کرت تھ ' یہی خوبی ان ک تراج میں
بھی نم ی ں ہ .وہ ترجم ک فن کو قدر کی نگ ہ س
دیکھت تھ اور ان فن کو حقیر سمجھن والی سوچ ک
سخت خلاف تھ ۔ رفی احمد نقش ترجم ک فن ک اف دی
اہمیت ک ق ئل تھ ۔
رفی احمد نقش بہ حیثیت مترج ازبشیر عنوان ص302 :
رفی احمد نقش ک طور تنقید
رفی نقش دھیم ' پراثر مگر انتہ ئی جرآت مندی ک س تھ
تنقید کرن ک حوص ہ رکھت ہیں۔ ان کی ب ب کی کسی ظ ہری
عہدے ی بڑےپن س خ ئف نظر نہیں آتی' مگر وہ عزت و
احترا کو ہ تھ س نہیں ج ن دیت ۔ پہ کسی م م ک
اصل پہ و کو اج گر کرت ہیں' پھر جزئی ت ک سہ رے اس
ابھ رت ہیں۔ جہ ں کہیں غ طی ک احتم ل ہوت ہ دست نش ن
دہی کرت ہیں۔
رفی احمد نقش ک تنقیدی ش ور از ڈاکٹر ممت ز عمر ص314 :
رفی احمد نقش اور اردو املا
املا ک حوال س رفی نقش ک زی دہ تر زور اس ب ت پر رہ
ہ کہ جو بولو' وہی لکھو۔ لکھ وٹ میں ت ظ کی تق ید ان ک
لی لازمی تھی۔
رفی احمد نقش اور اردو املا از انص ر احمد شیخ ص331 :
رفی احمد نقش ک تحقیقی مزاج
رفی نقش پوری یک سوئی س تحقی کی ج ن راغ نہیں ہو
سک ' وہ اس ش ب کو اپن ن چ ہت تھ اور اردو اد کی
کئی حقیقتوں س پردہ کش ئی کرن ک خواہ ں تھ مگر موت
کی حقیقت ن ایک اعلا پ ئ ک محق ہون س محرو کر
دی ۔
رفی احمد نقش ک تحقیقی مزاج از ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش
ص350 :
رفی احمد نقش بہ حیثیت مدیر
رفی نقش ص ح آغ ز ہی س بہ تر س بہ ترین ک خواہ ں
تھ ۔ وہ آخری د تک م ی ر کی تلاش میں سرگرداں رہ ۔ آغ ز
ادارت ہی س م ی ر ک ب رے میں ان ک نقطہء نظر واضح تھ ۔
رفی احمد نقش بہ حیثیت مدیر از ڈاکٹر ذوال ق ر ع ی دانش ص:
353
رفی احمد نقش بہ حیثیت مدیر ک ب د' رفی احمد نقش ک
ہ تھ س بنی ہوئی کچھ چیزیں ہیں۔ آخر میں رفی احمد نقش
ک ایک خط بن بشیر عنوان کی عکسی نقل ہ ۔ خط ک
انتخ میں ب شک سمجھ بوجھ اور تردد س ک لی گی ہ ۔
اس خط میں کئی ایک خ ص نوعیت کی ب تیں کی گئی ہیں بل کہ
انہیں اصول ک ن دین زی دہ من س ہو گ ۔ مثلا
میں تمہ ری ب ت س مت نہیں ہوں کہ انس ن جس قدر خود کؤ
ج نت ہ ' وہ دوسروں ک ج نن کی بہ نسبت زی دہ مستند
ہ ۔ یہ ب ت عین ممکن ہ کہ دوسرے ہ س کہیں زی دہ
ہم رے ب رے میں ج نت ہوں۔۔۔۔۔۔
میرا خی ل ہ کہ اخب روں میں ن چھپن ' نشستوں کی ت داد
میں ن نہ د اض فہ وغیرہ م ی ر کی کمی ک ب عث ہ ۔
اس خط میں' ایک ذاتی حوالہ بھی ہ ' جو تین طرح س بڑے
ک کہ ۔
ان کی شدہ زندگی کیسی اور کس نوعیت کی تھی۔
ان کی زوجہ محترمہ ک مرحو اور مرحو ک م ملات س
کتن اور کس نوعیت ک عمل دخل تھ ۔
مث لی جوڑے کی زندگی کیسی اور اس ک اطوار کس نہج اور
سطع ک ہون چ ہیں۔
خط ک یہ ٹکڑا ملاحظہ فرم ئیں۔
ش دی ن میری زندگی میں ایک اطمین ن بھر دی ہ ۔ ذکیہ س
بہتر س تھی م ن ب حد مشکل تھ ۔ میں ا اپنی بہنوں ک
مستقبل کی طرف س ب فکر ہوں۔ ان کی ت ی اور تربیت میں
ذکیہ کردار ادا کر رہی ہ ۔۔۔۔۔۔ بڑی ب ت یہ کہ ہ لوگ روایتی
می ں بیوی نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔ ا بھی اکثر لوگ ہمیں س تھ دیکھ کر
مشکل ہی س یقین کرت ہیں کہ ہ دونوں رشتہء ازدواج میں
منس ک ہیں۔
ان تحریروں ک علاوہ رف قت ع ی ش ہ ک مضمون۔۔۔۔ رفی
احمد نقش :بطور تدوین ک ر۔۔۔۔ اور اجمل کم ل ک ایک خط کت
میں ش مل ہیں۔ لس نی تی حوالہ س یہ خط بڑے ک ک ہ ۔
ڈاکٹر دانش کی یہ ادبی ک وش' ق ری کو پہ ی اور آخری نظر میں'
خوش آتی ہ ۔ ع می و ادبی ک کرن والوں ک لی ' یہ کت
عم ی نمون س ' کسی طرح ک نہیں۔ میں ڈاکٹر دانش ک اس
ک کو' قدر کی نگ ہ س دیکھت ہوں۔ الله ان ک ادبی ذو کو
برکت عط فرم ئ ۔
خوش بو میں نہ ت رنگ ......ایک ج ئزہ
عط ءالرحمن ق ضی اردو ک ' خوش فکر اور خوش زب ن ش عر
ہیں۔ ان کی ش عری میں' انس نی زندگی اور انس نی من ف رویوں
کی' بڑے اچھوت انداز میں' عک سی م تی ہ ۔ ت ہ کومل
جذبوں کو بھی نظرانداز نہیں کرت ۔ ان نر و ملائ جذبوں کی
حرف ک ری' ق ری کو اپنی گرفت میں ل لیتی ہ اور وہ لطف
اندوزی ک کوئی موقع ہ تھ س ج ن نہیں دیت ۔ عط ک ہ ں
اصل کم ل یہ ہ ' کہ ل ظوں ک انتخ خی ل ک مط ب کرت
ہیں۔ ذرا یہ رب عی ملاحظہ فرم ئیں۔
مہت چرا لائ تھ ہ رات گئ
چندرا چرا لائ تھ ہ رات گئ
اس چش فسوں ک ر س چپک س عط
اک خوا چرا لائ تھ ہ رات گئ
عط ' عصری شخص ک عمومی چ ن اور طور کی' بڑے ہی
خو صورت انداز میں' عک سی کرت ہیں۔ ل ظ اندر ک
است رتی است م ل' ان ک کلا کو فص حت و بلاغت ہی میسر
نہیں کرت ' بل کہ اس وج ہت س بھی' سرفراز کرت ہ ۔ اس
ذیل میں ذرا :یہ ش ر ملاحظہ فرم ئیں
اندر س نک ت نہیں کوئی ب ہر
دیکھو جس ' خود میں وہ سراسر گ ہ
ل ظ اندر ک است م ل' اپن وجود میں م نویت ک رواں دری
رکھت ہ ۔ کسی کلا ک ب یغ ہون میں' ایسی ب ریکی ں ہی اپن
کم ل دیکھ تی ہیں۔
عط ن ' عصری شیوخ ک دوہرے اطوار اور چ ن کو' ایک
حوال ک تحت واضح کی ہ ۔
رندوں ک حضور یہ دو رنگی' ی شیخ
رس شر الیہود' آخر ک تک!
عط اپنی رب عیوں میں' ع ل گیر سچ ئیوں ک بڑے خو صورت
انداز میں' اظہ ر کرت ہیں۔ مثلا
کھوئی ہوئی توقیر کہ ں م تی ہ
گ گشتہ تقدیر کہ ں م تی ہ
ہر پھول میں ہوتی نہیں خوشبو ی رو
ہر خوا کی ت بیر کہ ں م تی ہ
.......
یوں دور س مت دیکھ' تم ش چپ چ پ
اے موج فن ! مجھ میں اتر ج چپ چ پ
کس گھ ٹ اترن ہ عط ' کی م و !
بہت ج ت ہوں ک س تنہ ' چپ چ پ
محلات کی نسبت ش ہوں س رہی ہ ۔ ان ک سوا بڑوں کی
رہ ئش و عیش گ ہوں ک لی ' کوٹھی ں' بنگ ' بڑے مک ن'
اونچ مک ن وغیرہ س ل ظ ی مرکب ت مست مل رہ ہیں۔ ہر
دو امرجہ نخوت کدے' رہ ہیں۔ ایک س اطوار رکھت ہوئ '
ان میں ل ظی شن خت ب قی رہی ہ ۔ ل ظ محل' ب دش ہ ک لی ہی
تحریر اور عرف میں رہ ہ ۔۔ ح لاں کہ تکبر اور عوامی
استحص ل کی ذیل میں' دونوں متوازی چ آت ہیں۔ یہ عوا
ک م م ہ نہیں رہ ' کہ کون کس ک بن ی ی کس ک م تحت رہ
ہ ۔ عط ن اس تخصیص کو خت کی ہ ۔ گوی ان ک ہ ں ل ظ
محل وسیع اور ب یغ م نوں میں است م ل ہوا ہ ۔ لامحدود ب ت'
صیغہء محدود میں کہی گئی ہ ۔ کہت ہیں
ہر کنگرہءکبر' زمیں بوس ہوا
اڑتی ہ محلات میں ا خ ک یہ ں
مرک کنگرہءکبر ک ' نخوت پسند مزاج پر اطلا بھی ب مزا
نہیں رہ گ ۔ حرف ک ر وہ ہی ق بل تحسین ہ ' جو سچ کہت اور
لکھت آی ہ ۔ ان دو مصرعوں میں کہ گی ' ع ل گیر سچ ئی ک
درج پر ف ئز ہ ۔
شخص ک یقین اور اس ک کردار ک حوالہ س ' اس ک
شخصی المی کی' بڑے دردن ک انداز میں عک سی کی ہ ۔
کہت ہیں
ہ تھوں میں خوش آہنگ دع ہوت ہوئ
محرو یقین رہ ' خدا ہوت ہوئ
حیرت س دیکھت رہ اپن زوال
کردار' کہ نی س جدا ہوت ہوئ
ی پھر یہ دو مصرع ملاحظہ ہوں
اک موج گم ں ن یوں بڑھ ئی پینگیں
س اہل یقیں' غرقہءاوہ ہوئ
شخصی تنہ ئی ک بڑے ہی ب ریک انداز میں اظہ ر کرت ہیں۔
مثلا
........
دری ن بہت زور لگ ی لیکن
صحرا مرے اندر س نک لا نہ گی
آج شخص ان ک خول میں بند ہ ۔ اس ت خ حقیقت ک اظہ ر
ملاحظہ ہو۔
اک بوجھ اٹھ ئ ' چ ر و ن چ ر چ
آخر کو یہی کھلا کہ بیک ر چ
اس قید ان س کون ب ہر نکلا
جس سمت بھی ج ئی یہ دیوار چ
عصری جبریت ک اظہ ر کرت ' ان ک لہج میں ت خی آ ج تی
ہ۔
روشن ہیں ک آگہی ک ف نوس یہ ں
س لوگ ہوئ ظ س م نوس یہ ں
آنکھوں میں حی رہی نہ کچھ دل میں خوف
چ ت ہ فقط سکہ س لوس یہ ں
یہ ایک ازلی حقییقت ہ ' کہ شخص اپنی شن خت ب الوسطہ
ح صل کرت ہ ۔ عط ک ہ ں اس حقیقت ک اظہ ر ملاحظہ ہو۔
اس شوخ ن دیکھ جو مری سمت بغور
ت ج ک کہیں خود کو نظر آی میں
واہ۔۔۔۔۔ واہ' بہت خو ....کی ب ت ہ ۔
تخ ی آد بلاشبہ بہت بڑا کم ل ہ ۔ ع آد ک شرف ٹھہرا۔ ان
دو مصرعوں میں' اس واق ک اظہ ر دیکھی ۔ ان دو
مصرعوں کو' سورتہ والتین اور سورتہ بقر ک تن ظر میں'
ملاحظہ فرم ئیں۔
مٹی میں رکھ دی ع و م راج
ہون نہ دی کبھی کسی ک محت ج
عط ن ذوم نویت ک کم ل چ بک دستی است م ل کی ہ ۔ مثلا
دیوار گران س جو کھ ت ہی نہ تھ
عقدہ وہی دیوار اٹھ ن س کھلا
دیوار گران
دیوار اٹھ ن
رب عی میں' چوتھ مصرع ک ید کی حیثیت رکھت ہ ۔ عط ک
ہ ں' مخت ف صورت بھی م تی ہ ۔ پہ دو ی آخری دو
مصرعوں کو ب ق عدہ ش ر ک طور پر لی ج سکت ہ ۔ مثلا
پہ دو مصرع
موجود بھی موجود س بڑھ کر نکلا
اک اور ہی منظر' پس منظر نکلا
آخری دو مصرع
مہت کو جھیل میں نہ ت ہوئ ' ش
افلاک س ت روں ن اتر کر دیکھ
غزل ک س ' حسن بی ن اور ن زک خی لی ملاحظہ فرم ئیں
دیکھ ہ ترے حسن ک پر تو ج س
آنکھوں میں کوئی نقش ٹھہرت ہی نہیں
اعج ز آگہی ک ح صل ہ عط
میں رات ک پردے میں سحر دیکھت ہوں
عط ک ہ ں ب ت ک آغ ز ک مخت ف انداز م ت ہیں۔
مصرعوں ک ہ صوت ال ظ س آغ ز کرت ہیں۔
یوں دشت غزل میں خوش ہوائیں ن چیں
جوں تخت ہوا پہ اسپرائیں ن چیں
...........
اس قید ان س کون ب ہر نکلا
جس سمت بھی ج ئی یہ دیوار چ
...........
ش ہ کوئی پتھر س نک لا نہ گی
نشہ کسی منظر س نک لا نہ گی
دری ن بہت زور لگ ی لیکن
صحرا مرے اندر س نک لا نہ گی
مصرعوں ک ایک ہی ال ظ س آغ ز
اے حرف خوش خص ل' آ ج مجھ میں
اے کیف لازوال' آ ج مجھ میں
...........
مصرعوں ک ایک ہی ل ظ س آغ ز' ج کہ دونوں مصرعوں ک '
دوسرا ل ظ ہ صوت ہوت ہ ۔
اے نغمہءب ت ' ذرا اور چمک
اے ش ہءن ی ' ذرا اور چمک
.........
ہر ج میں اک عکس ط س امک ن
ہر گ یہ دشت غزل آہنگ کھلا
...........
پہ تین ل ظ ایک ہی است م ل کرن ک طور ملاحظہ ہو۔
اک اؤر ہی انقلا سوچ تھ مگر
اک اؤر ہی انقلا دیکھ میں ن
........
ا ہ مرتبہ ل ظوں س مصرعوں ک آغ ز ملاحظہ ہو۔
قطرہ قطرہ حب دیکھ میں ن
ذرا ذرا سرا دیکھ میں ن
پہ مصرع میں' متض د ل ظوں ک برجتسہ اور امر واقع ک
تحت است م ل
ملاحظہ ہو:
ج ت بجھت چرا ' لمحوں کی فصیل
...........
پھولوں کو ک نٹوں میں پرون والو
...........
ک یت ل ظی کی دو صورتیں دیکھی :
مہت چرا لائ تھ ہ رات گئ
چندرا چرا لائ تھ ہ رات گئ
اس چش فسوں ک ر س چپک س عط
اک خوا چرا لائ تھ ہ رات گئ
........
قطرہ قطرہ حب دیکھ میں ن
ذرہ ذرہ سرا دیکھ میں ن
اک اور ہی انقلا سوچ تھ مگر
اک اور ہی انقلا دیکھ میں ن
عط ن اردو کی ش ری زب ن کو' بڑے خو صورت مرک دی
ہیں۔ یہ مرک ' اچھوت اور گہری م نویت رکھت ہیں۔ مخت ف
نوعیت ک چند مرک دیکھی ۔
اف دل
اق ی م نی
تخت ہوا
دشت غزل
ط س امک ن
ع و م رج
قرط س ش
قید ان
کیف لازوال
وس ت ش
پتھر ک سکوت
خوشبو ک جھرن
تہذی ک اورا
شو کی تکذی
قرنوں کی دیوار
لمحوں کی فصیل
افلاک پہ س غر
لازم ں وس ت
حرف خوش خص ل
اہل زوال
اہل نی ز
زاویہ نشیں
ل ظ پرست
ش ہءن ی
کنگرہءکبر
نشہءپندار
ادائ کہکش نی
ورائ تشبیہ
عط کی زب ن ک مح ورہ; ش ئستہ' شگ تہ' برمحل اور نئی فکر ک
ح مل ہوت ہ ۔ چند مث لیں ب طور نمونہ ملاحظہ ہوں۔
پ کیں بڑھ ن :اک موج گم ں ن یوں بڑھ ئی پینگیں
دیوار گرن :دیوار گران س جو کھ ت ہی نہ تھ
دیوار اٹھ ن :عقدہ وہی دیوار اٹھ ن س کھلا
س نچ میں اترن :موجود ک س نچ میں اتر آی میں
دل میں ات رن :خوشبو بھرے لمحوں کو ات را دل میں
بوجھ اٹھ ن :اک بوجھ اٹھ ئ ' چ ر و ن چ ر چ
سکہ چ ن :چ ت ہ فقط سکہءس لوس یہ ں
پ کوں س اٹھ ن :کی خوا تھ پ کوں س اٹھ ک '
جھونک
عط کی رب عیوں میں' مق میت بھی پ ئی ج تی ہ ۔ س تھ میں'
بہت بڑی حقیقت بی ن کر گی ہیں۔
پھوہڑ کی ہو جھ ڑو کہ سگھڑ ک لیپ
چھپت نہیں گو لاکھ چھپ ئ کوئی
کہ نی کہ وت بھی ان کی رب عی ت میں نظر انداز نہیں ہوئی۔ مثلا
تہ خ ن میں صندو ک چ روں ج ن
پہرا ہ کسی ن گ ک ج ن ک س
عط ت میح ک تشبیہی است م ل' بڑے ہی طری ہ س یقہ س کرت
ہیں۔ کئی ایک روم ن پرور من ظر' آنکھوں ک س من گھو
گھو ج ت ہیں۔ ذرا تصور کیجی ' مست ہواؤں میں سورگ کی
الپسرائیں رقص کر رہی ہوں' تو شخص اور دیوت بن پیئ ' نشہ
کی ح لت میں آ ج ئیں گ ۔
یوں دشت غزل میں خوش ہوائیں ن چیں
جوں تخت ہوا پہ اسپرائیں ن چیں
جن عط الرحمن ق ضی کی زب ن و فکر پر' دی نت داری س '
بہت کچھ لکھ ج سکت اور لکھ ج ن چ ہی .میں اپنی
م روض ت یہ ں پر خت کرت ہوں' ت کہ ق ری بھی' اس ذیل میں'
اپنی رائ دے سک ۔
دع ہ الله کری ق ضی ص ح ک ق میں' مزید روانی ں رکھ
دے' ت کہ وہ زب ن و اد کی خدمت ک س تھ س تھ' عصری
م ملات کو' ک غذ ک سپرد کر سکیں۔ آت کل ش ہوں اور ان ک
کنکبوتیوں کو ہی نہیں' اس عہد ک دوسرے ب سیوں ک احوال
س آگ ہ ہو بھی سک ۔
حضرت س ئیں سچل سر مست ک پنج بی کلا ک اردو ک تن ظر
میں مط ل ہ
برصغیر ک عظی ہ ت زب ن ش عر' عبد الوہ الم روف سچل
سرمست 1739میں' خیر پور ک گ ؤں درازا میں پیدا ہوئ ۔
سچل' سچ ی سچ بولن وال کو کہ ج ت ہ ' ج کہ
سرمست' مستی اور جذ کی ح لت وال کو کہ ج ت ہ ۔ وہ
ع می ادبی اور تصوف کی دنی میں' اپن ق می اور اختی ری ن
سچل سرمست س ہی م روف ہیں۔ لڑکپن میں ہی' ان ک والد
انتق ل کر گی ۔ دیکھ بھ ل ک فریضہ' ان ک چچ ن انج دی '
جو ب د میں ان ک روح نی پیشوا ٹھہرے۔ ان کی ش دی' ان کی
کزن س ہوئی' جو صرف دو س ل س تھ نبھ کر الله کو پی ری ہو
گیئں۔ اس ک ب د انہوں ن ش دی نہ کی۔
بچپن میں' انہیں حضرت ش ہ عبد الطیف بھٹ ئی اور کئی دوسرے
صوفی ش را س ' م ن ک ات ہوا۔ انہوں ن پہ ی نظر میں'
حضرت سچل سرمست کو پہچ ن لی اور کہ ' یہ لڑک اپن ک
مکمل کرے گ ۔ آت وقتوں میں یہ کہ سچ ث بت ہوا۔ حضرت
سچل سرمست' اپن گ ؤں س کبھی کہیں نہیں گی ' لیکن ان
ک سچ ئی اور روح نیت ک پیغ ' خوش بو کی طرح' جگہ جگہ
پہنچ اور اپن خوش گوار اثرات چھوڑت رہ ۔
حضرت سچل سرمست ن ' بڑی س دہ زندگی گزاری۔ س دہ ع دات