بب ز خ نہ بروں آ ونور دوست نگر
تو چند شیشہ سرخ و کبود خود بینی
اگر ز آئینہ زنگ حدوث بزوائی
جم ل ش ئد ح در شہود خود بینی
بہ بند دیدہ ز اعی ں کہ ت ز عین عی ں
وجود دوست چو ج ن وجود خود بینی
بی بز گدای ں شہ نش ں خودی ست
کہ ت نتیجہ احس ں وجود خود بینی
در آ بہ مج س مسکیں م ین شوریدہ
کہ نقل و ب دہ ز گ ت و شنود خود بینی
خواجہ م ین الدین چشتی
..................
حضرت امیر خسرو ک ایک گیت اور جدید گ ئیکی
چھ پ ت ک س چھین لی ری موس نین ں ملائی ک
بہت س فن ک روں ن اپن اپن انداز اور رنگ میں‘ گ ی ہ ۔
اس گیت کو گ ن ک لی ‘ کئی طرح کی ل اور طور اختی ر
کی گی ہیں۔ ہر ل اور طور‘ ق بل تحسین ہ ۔ گیت چوں کہ
س ڑھ س ت سو س ل ۔۔۔۔ ت ۔۔۔۔ س زی دہ پران ‘
اس لی اس کی گ ئیکی ک لی ‘ کلاسیکل میوزیکل
انسڑرومنٹ ک است م ل ہون ‘ فطری سی ب ت ہ ۔ مجھ یہ ہی
گیت‘ ظلا خ ں کی آواز میں‘ سنن ک ات ہوا ہ ۔ جدید لب س‘
جدید طور‘ جدید انداز اور جدید سر س ز ک یہ رنگ‘ ب ظ ہر
عجی اور حیرت س خ لی نہیں۔ ایک آدھ کو سر س ز س
مت لوگ پسند نہیں آئ ۔ مثلا کہ گی ہ :۔۔۔۔۔۔۔
Can someone edit this video and remove the stupid guy in purple.
اگر غور کی ج ئ تو یہ اوروں س الگ تر ہی نہیں‘ بڑھ کر
بھی ہ ۔ گ ئیک تو ب کم ل ہ ہی‘ لیکن اس ک ہر دو س زندے
اپن جوا نہیں رکھت ۔ اس گیت کو پہ سن ج ئ ۔ سم عی
آلات‘ بیک وقت گی رہ س زوں ک پت دیں گ اور یہ گ ئیک کی
آواز س ہ آہنگ ہیں۔ یہ س ز‘ گ ئیک کی آواز کو حسن بخش
رہ ہیں۔ ان س زوں کی آوازکو‘ اگر گ ئیک کی آواز س الگ
کر دی ج ئ ‘ تو موجودہ لطف کی صورت قط ی برقرار نہیں
رہ گی۔
دوسری ب ر اس دیکھ اور سن ج ئ ‘ تو حیرت کی انتہ نہ
رہ گی‘ کہ فقط ایک س زندہ ک کر رہ ہ ‘ جس ک ہ تھوں
کی انگ ی ں حرکت میں ہیں‘ س تھ میں ایک پ ؤں اور سر متحرک
ہیں۔ ہر دو اعض ‘ کسی س ز کی آواز پیدا نہیں کر رہ ‘ ہ ں
البتہ‘ پ نچ س زوں کی آواز پیدا کرن اور گ ئیک کی آواز س ہ
آہنگ کرن میں‘ م ون ث بت ہو رہ ہیں۔ عق میں ایک
نوجوان جدید رقص میں مصروف ہ ۔ اس ک پورا جس مصروف
عمل ہ ۔ اس ک ک منہ‘ ہ تھ میں پکڑے م ئیک میں گھس ہوا
ہ اور وہ منہ س ‘ چھ قس ک س زوں کی آوازیں نک ل رہ
ہ ۔ یہ چھ س زوں کی آوازیں‘ گٹ ر س برآمد کی ج ن والی
پ نچ آوازوں اور گ ئیک کی آواز س ہ آہنگ ہیں۔
چھ قس ک س زوں کی آواز نک لن ک لی ‘ اس ک منہ‘
گلا‘ پھپھڑے اور زب ن مشقت میں ہیں۔ بلارقص‘ ان نک ن والی
چھ س زوں کی آوازیں‘ ٹھہراؤ اور یک رنگی ک شک ر ہو
ج ئیں گی۔ ہر سہ فنک ر عہد قدی ک اس پرکیف اور روح نیت
س لبریز گیت کو‘ عہد جہد جدید س ہ کن ر کرن کی ک می
کوشش میں‘ مصروف ہیں۔ ان کی فنی صلاحیت اور اختراحی
فکر اور کوشش کی داد نہ دین ‘ زی دتی ک مترادف ہو گ ۔ کسی
اچھ اور نئ طور و چ ن کی تحسین نہ کرن ‘ سراسر زی دتی
ک مترادف ہوت ہ ۔ ب ور رہن چ ہی کہ پران گیت‘ طب ک
بغیر گ ئ ہی نہیں ج سکت ۔ ہر دو س زندوں ن یہ کمی
ب خوبی پوری کر دی ہ ۔ سم عی غور کریں گ ‘ تو احس س ہو
ج ئ گ کہ یہ گیت بلاطب ہ گ ی نہیں گی ۔
مش ہدے میں آی ہ ‘ کہ گ ئیک حضرات کلا میں اکثر گ ت
سم ‘ کمی بیشی کرت رہت ہیں۔ مکتوبی صورت ی پھر ہدایت
ک ر ک بھی اس میں عمل دخل ہوت ہ ۔ امیر خسرو ک گیت مع
اصلاحی صورت کچھ یوں ہ ۔
اپنی چھ بن ئی ک جو میں پی ک پ س گئی
ج چھ دیکھی پیو کی تو اپنی بھول گئی
چھ پ ت ک س چھین لی ری موس نین ں ملائی ک
ب ت ادھ کہہ دی نی رے مو س نین ں ملائی ک
..........
چھ پ ت ک س چھین لی ری موس نین ں ملائی ک
اپنی ہی کر لی نی موس نین ں ملائی ک
چھ پ :چھ
موس :مو س
ری :رے
چھ پ ت ک س چھین لی ری موس نین ں ملائی ک
چھ ت ک س چھین لی نی رے مو س نین ں ملائی ک
..........
اپنی ہی کر لی نی موس نین ں ملائی ک
اپنی ہی کر لی نی رے مو س نین ں ملائی ک
..........
پری بھٹی ک مدھوا پلا کر
متوالی کر لی نی موس نین ملائی ک
متوالی :متواری
ک پری بھٹی ک مدھوا پلائی
متواری کر لی نی رے مو س نین ں ملائی ک
..........
بل بل ج ؤں میں تورے رنگ رجوا
اپنی ہی کر لی نی رے مو س نین ں ملائی ک
سی بھی آت ہ ت ہ ہی قری تر لگت ہ
..........
خسرو نظ ک بل بل ج ؤں
اپن ہی رنگ میں رنگ لی نی رے موس نین ں ملائی ک
کھسرو نج ک بل بل ج ئی
اپن ہی رنگ میں رنگ لی نی رے مو س نین ں ملائی ک
..........
link:
https://www.youtube.com/watch?v=sUyfhQtT30g&nohtml5=False
ایک قدی ی د گ ر ب رہ ام
بچپن ہی س ' اپنی والدہ م جدہ محترمہ سیدہ سردار بیگ دختر
سید برکت ع ی س بقہ اق متی ننگ ی' امرتسر س ' میں صبح
سویرے ب رہ ام سنت آ رہ تھ ۔ ان میں س پہ تین' آج تک
مجھ زب نی ی د تھ ۔ جس مسودے س وہ یہ پڑھتی تھیں'
انتہ ئی بوسیدہ تھ ۔ انیس سو ست ون ی اٹھ ون میں' انہوں ن یہ
کسی س ایک پ کٹ ڈائری پر نقل کروای ۔ ن قل کوئی زی دہ پڑھ
لکھ نہ تھ ۔ چوں کہ انہیں یہ زب نی ازبر تھ ' اس لی لکھ ئی
ک اچھ ی برا ہون س کوئی فر نہ پڑا۔ اصل مسودہ انہوں
ن ایک چھوٹ س بکس میں مح وظ کر دی ' جو ان ک
مرحو والد کی نش نی تھ ۔
میں ج ان ک انتق ل پرملال ہوا' تو بڑے بھ ئی ص ح 1996
مرحو مک ن س م ن پر ق بض ہو گئ ' ان س چھوٹی ک
حصہ میں جھ ڑ پونچھ آ گی ۔
میں ن قی فہ س ' چھوٹی نصرت شگ تہ س کہ ممکن ہ وہ
بکس' جس میں مسودہ تھ ' آپ ک ہ ں س مل ج ئ ۔ آپ عمر
رسیدہ ہون ک سب ' حواس میں نہیں ہیں' اس لی چھوٹی
ہی کو' آپ ک گھر س کوڑ کب ڑ پھرولن پڑا۔ ب چ ری کو کچھ
نہ ملا۔ میں ن پھر ہمت بندھ ئی۔ میری درخواست پر دوب رہ
س س ر کی ص وبت اٹھ کر آپ ک گ ؤں گئی اور اب مرحو
ک کلا ک ایک رجسٹر تلاشن میں ک می ہو گئی اور یہ دفتر'
اپن پی ر ک تح ک طور پر' اپن بوڑھ بھ ئی کو بھجوا
دی ۔ یقین م نیئ ' اس کی ک می بی پر دل گ لا گلا اور آنکھیں
ک ی ک ی ہو گئیں۔ وہ ب چ ری کی ج ن ' میری سوئی' اس
مسودے اور پ کٹ ڈائری پر رکی ہوئی تھی۔ اس پھر س '
کوشش کرن پڑی۔ آخر اس ن پ کٹ ڈائری ڈھونڈ ہی نک لی۔ یہ
وہ ں س م ی' جہ ں اس ک ہون ک گم ن بھی نہیں کی ج
سکت تھ ۔ اس کی ح لت بڑی خستہ اور ق بل رح ہ ۔ میں ن
پوری توجہ س اس پڑھ کر یہ ں درج کی ہ ۔
اپنی اصل میں یہ اردو میں ہ لیکن اس پر پنج بی ک گہرے
اثرات م ت ہیں۔ یہ کوئی ایسی نئی ب ت نہیں۔ قوافی میں ر ک
س تھ ڑ ک قوافی بھی م ت ہیں
ج گوشہ پکڑا ع ی ن تو ہوئی کڑ کڑ
..........
کیوں سٹ ں ف ک فرش ت زمین ج ئ سڑ
..........
ر ک س تھ بھ ری آوازوں ک قوافی ک بھی است م ل ہوئ ہیں۔
ڑھ
ج م راج ہوا ام کو ت سیس نیزے چڑھ
گھ
کوفی وڈے ل نتی پ ید جھوٹ گھر
بھ
شری ت طریقت دا اوہ دیوے ج بھر
ان مرکب ت کو ایک نظر دیکھیئ ' پرلطف ہی نہیں' فصحیح و
ب یغ بھی ہیں۔
مکر زن' خوشی چین' سردار ص دقین' صد سیتی' نبی ک
رتن' ر ک رفی
جھوٹ گھر' کہہ کر بہت بڑا علاقہ مراد لی گی ہ ۔ کم ل ک
م نوی وس ت ک حوالہ س ' یہ مرک ہ ۔
مجھ اس کلا س ' دل چسپی تھی اور ہ ۔ صدیوں پرانی
بزرگوں کی نش نی ہ ۔ اس میں پہ ام میں' جو م وم ت
فراہ کی گئی ہیں' مروجہ ت ریخی قصص س ' قط ی ہٹ کر ہیں'
ت ہ انہیں یہ کہہ کر رد کر دین ' کہ کسی ش یہ ک کہ ہ ' مبنی
برانص ف نہیں۔ ان س ہٹ کر لوگ بھی ک ہل پر نہ یت ہوئ
ہیں۔ جدھر دیکھو 'س عین غین صورت نظر آئ گی۔ پیٹ' ضد
اور ش ہ گم شتگی میں مصروف ہیں۔ خصوص مولوی تو ب یقین
اور تقسی ک دروازے کھولن والا رہ ہ ۔ اصح بہ کرا کی
گ برگہ وغیرہ میں آمد اور موجودگی ک آث ر م ت ہیں۔ قراتہ
ال ین حیدر ک ہ ں س دات کی لڑائیوں ک ذکر م ت ہ ۔ اسی طرح
حضرت امیر م ویہ ک عہد میں 44ہجری میں بھی حم ک
سرا م ت ہ ۔ ق ضی نجی ک ہ ں منصورہ میں ف طمی
حکومت ک بھی پت م ت ہ ۔ ابن ق س اسی کو ن بود کرن آی
تھ ۔ یہ ہی سچ اور یہ ہی حقیقت ہ ۔ ا یہ نئی ب ت س من آئی
.ہ
اول ک ام مولا ع ی ص در
جو م ک سندھ ک فراں س لی زیر کر
ج گوشہ پکڑا ع ی ن تو ہوئی کڑ کڑ
ت ن رہ ہوا حیدری س ک فر گئ ڈر
ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر
ج گوشہ پکڑا ع ی ن تو ہوئی کڑ کڑ
یہ مصرع کھولت ہ کہ ام ع ی یہ ں خود تشریف لائ ۔ خیبر
تک آن ک تو مروجہ ت ریخ میں' واضح ثبوت م ت ہ ۔ اس
مصرع میں کہ گئ کو رد کرن ' ب لاشبہ زی دتی ہو گی۔ ت ہ
کوئی غیر مس ی پھر مورکھ نہیں' مورخ ہی ک کر سک گ ۔
اول ک ام مولا ع ی ص در
جو م ک سندھ ک فراں س لی زیر کر
ج گوشہ پکڑا ع ی ن تو ہوئی کڑ کڑ
ت ن رہ ہوا حیدری س ک فر گئ ڈر
ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے ام بیٹ ع ی ک حسن
جو زہر آندی ک فراں اور دی مکر زن
ج حسن دیکھ زہر کو تقدیر لئی من
کیوں سٹ ں ف ک فرش ت زمین ج ئ سڑ
ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر
.......
تیسرے ام بیٹ ع ی ک حسین
تقصیر کرو م ف پک راں دن رین
میں منگت ہوں حسین ک دکھ ؤ خوشی چین
ج م راج ہوا ام کو ت سیس نیزے چڑھ
ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر
.......
چوتھ ام بیٹ سخی زین ال بدین
بیٹ ہیں حسین ک سید مرس ین
ج زیر کیت کوفی ں سردار ص دقین
کوفی وڈے ل نتی پ ید جھوٹ گھر
ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پ نچویں ام تھ محمد ب قر ضرور
ام منوں پ نچواں وہ پ ک ذاتی نور
ک مہ کہو رسول ک س ک ر ہووے دور
شری ت طریقت دا اوہ دیوے ج بھر
ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر
........
چھیویں ام ج ر ص د مذہ جن ک پ ک
والد جن ک محمد ب قر سردار ع لی ذات
تیج اوتھ خود کرشن پھر حشر دے میدان
۔۔۔۔۔ ت یقین سوال اس در
ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر
......
ام ک ظ س تویں صد سیتی من
ک م س دل پ ک ص ف ہوا تن
سخی ج ر ک فرزند اور نبی ک رتن
جو غیر کو ام کہ تو ک ٹو اس ک سر
ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر
......
آٹھویں ام موسی ع ی رض
ر دی ہ لولاک اہل بیت نوں
جو ر کی ب ت
قرب ن قرب ن میں حسین تھیں
جس کی ہ صبر
ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر
.......
ام منوں اس کو آل نبی اولاد مرتض ک
حیدر بن س قی کوثر وارث ہ ش ک
جو دشمن ہووے غیر تھیں چ ک ٹو اس ک سر
ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر
.......
دسویں ام توں قرب ن کراں سیس
نقی ام ن جس ک وہ ر ک رفی
منوں اس کو مومنوں یہ نبی کی حدیث
کی یہ رسول ن عزیز ممبر چڑھ
ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر
.......
گی رویں ام حسن عسکری ع یہ السلا
تیری پشت پ ک ت بخشو چ ان
ایتھ اوتھ مدد ہو پھر حشر ک میدان
فقیر ک سوال بخشو دین ایم ن زر
ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر
.......
ب رہویں ام کو ر دی ہ زور
مہدی ن اس ک نہیں ث نی اس ک ہور
م رے گ دج ل کو ج موزی پ ی زور
فتح ہ ام کو ج ۔۔۔۔۔۔
ی پیر مینوں ع جز دی مشکل آس ن کر
س ختی ت اور اس ک حدود ایک ج ئزہ
س ختی ت ایک صحت مند فکری روی ،ہمہ وقت ترقی پذیر
سم جی ضرورت اورانتھک تحقی و دری فت ک ن ہ جو سوچ
کوکسی مخصوص ،زم نی ومک نی کرے تک محدود رہن نہیں
دیتی ۔ یہ نہ صرف م و (ڈسکورڈ)مگر غیرا ستوار کروں س
ت استوار کرتی ہ ب کہ ان س رشت ن ت دری فت کرتی
ہ ۔ اس ک دائرہ ک ر یہ ں تک ہی محدود نہیں رہت ب کہ م و
مگر غیر دری فت شدہ کروں کی طرف پیش قدمی کرک ان ک
حوالوں کو اشی ،اشخ ص اور ان س مت ق ت وغیرہ کی جذ
و اخذ کی صلاحیتوں س پیوست کر دیتی ہ ۔ یہ پیوستگی
مخصوص ،محدود اور پ بند لمحوں کی دری فت تک محدود نہیں
رہتی اور نہ ہی تغیرات کی صور ت میں ج مد وس کت رہتی ہ ۔
اس ک رد س خت ک ح قہ ہمیشہ لامحدود رہت ہ ۔
کچھ لوگ س خت شکنی کو س خت س انحراف ک ن دیت ہیں
ی سمجھت ہیں۔ یہ سوچ س خت ک ضمن میں درست من س
اور’’ وارہ کھ ن ‘‘ والی نہیں ہ ۔ س خت شکنی درحقیقت
موجودہ تشریح کو مستردکرک آگ بڑھن ک ن ہ ۔ ش خت
شکنی ک بغیر کسی نئ کی دری فت ک سوال پیدا ہی نہیں اٹھت ۔
س خت شکنی کی صورت میں ن م و ک ئن تیں دری فت ہوکر کسی
بھی دال ک س تھ بہت س رے مدلول وابستہ ہو ج ت ہیں۔
کوئی دال غیر لچکدار اور ق ئ ب لذات نہیں ہوت ۔ لچک ،قطرے ک
سمندر کی طرف مراج ت ک ذری ہ ووسی ہ ہ ی اس ک حوالہ
س قطرے ک سمندر بنن ہ ۔ س خت شکنی س ہی یہ آگہی
میسر آتی ہ کہ قطرہ اپن اندر سمندر بنن ک جوہر رکھت ہ ۔
دال کوغیرلچکدار قرار دین آگہی ک پہ زین پر کھڑے
رہن ہ ۔ ہر زندہ اور لچکدار سوچ ازخود آگہی کی ج ن بڑھت ہ
۔زندہ اورلچکدار سوچ کو دائرہ ک قیدی ہون خوش نہیں آت اور
نہ ہی اس کسی مخصوص دائرے س منس ک کی ج سکت ہ ۔
یہ ان گنت سم جی رشتوں س منس ک ہوت ہ ۔ اسی بنی دپر
گریم ک کہن ہ
س ختی تی نظ ممکنہ انس نی رشتوں ک گوشواروں پر مبنی
ہ
ڈاکٹر وزیر آغ اس ضمن میں کہت ہیں
س ختی ت ن ش ری ت کو ثق فتی دھ گوں ک ج ل قرار دی ہ ۔ وہ
تصنیف کی لس نی اک ئی ی م نوی اک ئی تک محدود نہ رہی ب کہ
اس ن تصنیف ک اندر ثق فتی تن ظرہ ک بھی اح طہ کی
تشریح وت ہی ک وقت ش رح ک وجود م دو ہوج ت ہ اور فکر
موجودہ تغیرات ک نت ئج س مدلول اخذ کرتی چ ی ج تی ہ
جبکہ وقوع میں آن وال مدلول پھر س نئی تشریح وت ہی
کی ضرورت رہت ہیں۔ اس ک لئ تغیرات ک نت ئج اور
دری فت ک عوامل پھر حرکت کی زدمیں رہت ہیں۔ اس س رد
س خت ک مواقع بڑھ ج ت ہیں ۔ اگران لمحوں میں ش رح جو
ق ری بھی ہ ،ک وجود کو استحق میسر رہ گ ی اس ک ہون
اور رہن قرار واق ی سمجھ ج ئ گ تودری فت ک عمل رک ج ئ
گ ۔ مصنف کو لکھت اور ش رع کو تشریح کرت وقت غیر
ش وری طور پر م دو ہون پڑے گ ۔ ش وری صورت میں ایس
ہون ممکن نہیں کیونکہ ش ی شخص اپنی موجودہ شن خت
س محرو ہون کسی قیمت پر پسند نہیں کرت ۔
ش وری عمل میں نئی تشریح ت ،نئ م ہی اور نئ واسطوں
کی دری فت ک دروا نہیں ہوت ۔
مصنف ،ق ری اور ش رح نہ صرف دری فت ک آلہ ک رہیں ب کہ
ہر دال ک س تھ ان ک توسط س نی مدلول نتھی ہوت چلا
ج ت ہ ۔ اس ضمن میں اس حقیقت کوکسی لمح نظر انداز
نہیں کی ج سکت کہ ج تک مصنف ،ق ری اور ش رح دری فت
ک عمل ک درمی ن م دو نہیں ہوں گ ،نی مدلول ہ تھ نہیں
لگ گ ۔ اسی طرح کسی دال ک پہ مدلول کی موت س نی
مدلول س من آت ہ ۔ پہ کی حیثیت کوغیر لچکدار اور اس
ک موجودہ وجود ک اعتراف کی صور ت میں نئی تشریح ی
پھر نئ مدلول کی دری فت ک کوئی حوالہ ب قی نہیں رہ پ ت ۔’’میں
ہوں‘‘ کی ہٹ م م کی دیگر روشوں تک رس ئی ہون نہیں
دیتی۔
روی ،اصول ،ض بط اور تغیرات ک وجوہ و نت ئج
اورعوامل کی نیچر اس تھیوری س مخت ف نہیں ہوتی۔ تغیرات
ایک س ہوں ،ایک طرح س ہوں ،ایک جگہ ایک وقت س
مخت ف نہ ہوں ی پھر ہو بہو پہ س ہوں ،س زی دہ کوئی
احمق نہ ب ت نہیں۔ اگر تغ رات ایک س وجوہ اور ایک س
عوامل ک س تھ جڑے نہیں ہوت توان ک نت ئج ایک س اور
پہ س کیس ہو سکت ہیں۔ ایس میں نئی تشریح کی
ضرورت کوکیونکر نظرانداز کی ج سکت ہ ۔
موہنجوداڑو کی تہذی و ثق فت س مت پہ ی تشریح ت،
موجودہ وس ئل اور فکر کی روشنی میں ب م نی ٹھہری ہیں
ان کی م دومی پر نئی تشریح ت ک ت ج محل کھڑا کی ج
سکت ہ ۔ ایس میں م دو تشریح ت پرا نحص ر اور ان س
کمٹ منٹ نئی تشریح ت کی راہ ک بھ ری پتھر ہوگی ۔’’ہ ‘‘ اور
’’ہوں‘‘کی عد م دومی کی صورت میں محدود حوال ،
مخصوص تشریح ت ی پہ س موجو د م ہی ک وجود
کواستحق میسر رہ گ ۔
دہران ی ب ر ب ر قرات ک مط یہی ہ کہ پہ س انحراف
کی ج ئ ت کہ نئ حوال اور نئ م ہی دری فت ہوں۔ پہ ی ی
کچھ ب ر کی قرات س بہت س م ہی ک دروازے نہیں
کھ ت ۔ ذراآگ اور آگ ہی مزید کچھ ہ تھ لگ سکت ہ ۔ یہ
درحقیقت پہ س موجود س انحراف نہیں ب کہ جو اس
سمجھ گی ی جو کہ گی ،س انحراف اور اس کی موت ک اعلان
ہ ۔ اگر وہ درست ہ اورعین وہی ہ ،جو ہ تونئی تشریح ت
ک عمل کوئی م نی نہیں رکھت اور نہ ہی کثیر الام نی کی فلاس ی
کوئی حیثیت اور وق ت رکھتی ہ ۔
:ڈاکٹر گوپی چند ن رنگ کہت ہیں
اگر پہ س تحریر (اد ) ک وجود نہ ہو تو کوئی ش عر ی
مصنف کچھ نہیں لکھ سکت ۔ جوکچھ اگ وں ن لکھ ہر فن پ رہ
اس پرا ض فہ (نئ م ہی ،نئی تشریح ک ن بھی دے سکت
ہیں ) ہ
دہران ک عمل ’’جو ہ ‘‘ تک رس ئی کی تگ ودو ہ ۔ ی نی
جو اس سمجھ گی وہ ،وہ نہیں ہ ی پھر اس موجودہ،
ح لات اور ضرورت ک مط ب سمجھن کی ضرورت ہ ۔ اس
اسی طرح سمجھن کی تشنگی ،جس طرح کی وہ ہ ،ک
حوالہ س س ختی ت کبھی کسی تشریح ی ت ہی کو درست اور
آخری نہیں م نتی۔وہ موجود کی روشنی میں آگ نہیں بڑھتی
کیونکہ یہ موجود کی ت ہی ہوگی اور اصل پس منظر میں چلا
ج ئ گ ۔ اس سین ر یو میں دیکھئ کہ اصل نئ سیٹ اپ ک
بھنور میں پھنس گی ہوت ہ ۔
س ختی ت متن اور قرات کو بنی دمیں رکھتی ہ ۔ ان دونوں ک
حوالہ س تشریح وت ہی ک ک آگ بڑھت ہ ۔ کی یہ تحریر ک
وجود ک اقرار نہیں ہ ۔ متن درحقیقت خ موش گ تگو ہ ۔’’
خ موشی‘‘ ب پن ہ م نویت کی ح مل ہوتی ہ ۔
متن ک ہر ل ظ کسی نہ کسی ک چر س وابستہ ہوت ہ ۔ اس ک چر
ک موجود سیٹ اپ اور لس نی نظ ک مزاج س شن س ئی
ک ب د ہی موجودہ (نئی) تشریح ک لئ ت ن ب ن بن ج سکت
ہ ۔ اس تن ظر میں متن کی ب رب ر قرات کی ضرورت محسوس
ہوتی رہ گی۔
دوران قرات اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کی ج سک گ کہ ل ظ
اس ک چر ک موجودہ سیٹ اپ ک ہ تھ تھ کراس سیٹ اپ کی
اک ئیوں س وحدت کی طرف س ر کرت ہ اور کبھی وحدت س
اک ئیوں کی طرف بھی پھرن پڑت ہ ۔ ہر دو نوعیت ک س ر،
نئی آگہی س نوازت ہیں ۔’’یہ نئی آگہی‘‘ ہی اس ل ظ کی
موجودہ تشریح وت ہی ہوتی ہ ۔ قرات ک لئ س ل اور صدی ں
درک رہوتی ہیں۔ اسی بنی د پر ڈاکٹر سہیل بخ ری ن کہ تھ
ہزاروں س ل کسی زب ن کی عمر میں کوئی حقیقت نہیں رکھت
س ختی ت موضوعیت س انک ر کرتی ہ ۔ موضویت
چیز،م م ی پھر متن ک ح ق محدود کرتی ہ ۔ اس س
صرف مت قہ ح ق ک عن صر س ت استوار ہو پ ت ہ اور
ان عن صر کی انگ ی پکڑ کر تشریح وت ہی ک م م ہ کرن
پڑت ہ ۔ کی یہ ضروری ہ کہ ل ظ ی کسی اصطلاح کو کسی
مخصوص لس نی اور اصطلاحی نظ ہ میں ملاحظہ کی ج ئ ۔
اس کئی دوسرے لس نی و اصطلاحی سٹمز میں ملاحظہ کی
ج سکت ہ ۔ اس طر ح دیگر ش بہ ہ ئ حی ت ک میدان بھی کبھی
خ لی نہیں رہ ۔ ایس بھی ہوت ہ کہ اس ایک مخصوص
اصطلاحی سٹ ک مخصوص ح قوں تک محدود رکھ ج ت ہ
ی پھر مخصوص حوالوں کی عینک س ملاحظہ کی ج ت ہ ۔
س ختی ت اس گمراہ کن رویہ قرار دیتی ہ اور نہ ہی موجود
ک درج پر ف ئز کرتی ہ ۔
ش ر ک کسی ل ظ ی اصطلاح کو محض روم نی سٹ س
کیونکر جوڑا ج سکت ہ ۔ اس ک علاوہ دیگر ک ئن توں ،سم جی
،م شرتی ،م شی ،سی سی ن سی تی ،بی لوجی ،تصوف وغیرہ
س اس ک رشتہ کیوں غ ط اور لای نی سمجھ ج ئ ۔ حقیقی
ک س تھ مج زی ،علامتی ،است رتی وغیرہ کرے بھی تو
موجود ہیں۔ است رہ ایک علامت کیوں نہیں ی کسی است رے
ک لئ ،علامتی کرے ک دروازہ کیوں بندرکھ ج ئ ۔ ی یہ
دیکھ ج ئ کہ مصنف ن فلاں ح لات ،ضرورتوں اور تغیرات
س مت ثر ہوکرق اٹھ ی ۔ مصنف لکھت ہی ک ہ وہ تومحض
ایک آلہ ک ر ہ ۔ تحریر ن خود کولکھ ی تحریر خود کو لکھتی
ہ ۔ اس ضمن میں چ رلیس چ ڈو ک کہن ہ
لس نی لح ظ س مصنف صرف لکھن ک ایک ایم ہ ۔ جس
طرح ’’میں‘‘ کچھ نہیں سوا ایک ایم ’’میں ‘‘ ک ۔ زب ن ایک
ف عل کو ج نتی ہ (اس کی) شخصیت کو نہیں
ق ری جو ش رح بھی ہ مصنف ک ح لات اور ضرورتوں س
لات ہوت ہ ۔ وہ الگ س کروں میں زندگی گزار رہ ہوت ہ ۔
اس ک سوچ ک پنچھی مصنف ک کروں س ب ہربھی پرواز
کرت ہیں ب لکل اسی طرح جس طرح مصنف اپن س ب ہرکی
ب ت کر رہ ہوت ہ ۔ ق ری اور مصنف جن جن کروں میں
زندگی کر رہ ہوں ان میں ذہنی طور پر ایڈجسٹ بھی ہوں،
لازمی امر تونہیں۔ ان کی فکری جڑیں کئی اور بہت ک ئن توں
میں ہوسکتی ہیں ب کہ ہوتی ہیں۔ سوچ لیونگ کرے س ب ہر
متحرک ہوت ہ ۔ اس ب ت کو یوں بھی کہ ج سکت ہ کہ
لیونگ کرے میں اس ک سوچ ک ،لیونگ کرہ قرار نہیں دی
ج ت ۔’’یہ ں‘‘ا س ک سوچ ہمیشہ مس فٹ رہت ہ ۔ اس تن ظر میں
’’یہ ں‘‘ س آزادی مل ج تی ہ ج کہ ’’وہ ں‘‘ ک مط ب
قرات عمل میں آئ گی اور تشریح ک فریضہ ’’وہ ں‘‘ ک
مط ب انج پ ئ گ ۔ اس (موجود) کرے میں ان کی موت ک
اعلان کرن پڑے گ ۔ قرات اور تشریح ک لئ ’’اس‘‘ تک اپروچ
کرن پڑے گی۔
سوچ کوئی ج مد اور ٹھوس ش نہیں۔ اس سیم کی طرح
قرار میسر نہیں آت ۔یہ ج ن کن کن کروں س گزرت ہوئ
لات داد تبدی یوں س ہمکن ر ہوکر م و س ن م و کی طرف
بڑھ گی ہو۔ ایس میں قرات اور تشریح وت ہی ک لئ ان سین
اور ان نون کی دری فت لاز ٹھہرے گی ۔ بصورت دیگر ب ت یہ ں
(موجود) س آگ نہ بڑھ سک گی۔ سکوت موت ہ اورموت
س نئی صبح ک اعلان ہوت ہ ۔
س ختی ت ایک ی ایک س زی دہ م ہی کی ق ئل نہیں۔یہ بہت س
اور مخت ف نوعیت ک م ہی کو م نتی ہ ۔ پھر س ،اس ک
س یقہ اور چ ن ہ ۔ کثرت م نی کی حصولی اس وقت ممکن ہ
ج ل ظ ی ش ک زی دہ س زی دہ حوال رشت دری فت کئ
ج ئیں ۔ یہ کہ ں ب ہر ک عمل نہیں ب کہ تخ ی ک اپن
اندرچپ اختی ر کئ ہوت ہ ۔ دری فت ،چپ کو زب ن دین ہ ۔ اس
:بنی د پر لاک ں کہت ہ
یہ دیکھن ضروری نہیں کہ کرداروں کی تخ ی ک وقت کون
س ن سی تی عوامل محرک گردان ج ت ہیں ب کہ سگین ئرز
ی دال کو تلاش کرک یہ دیکھ ج ن چ ہی کہ ان میں س کون
س علامتی م نی م ت ہیں اور لاش ور ک کون س دب
ہوئ عوامل ہیں جو تحریر ک ج مہ پہن کر ممکنہ مدلول کی
نش ندہی کرت ہیں۔
علامت ،جودکھ ئی پڑرہ ہ ی سمجھ میں آرہ ہ وہ نہیں ہ ،
کی نم ئندہ ہ ۔ دکھ ئی پڑن وال کرے س اس ک سرے س
کوئی ت نہیں۔ تندوے کی طرح اس کی ٹ نگیں ان کروں میں
بھی پھی ی ہوئی ہوتی ہیں جو ان سین اور ان نون ہیں ۔
کی تندوے کی ٹ نگوں اور ان کی پہنچ کو تندوے س الگ رکھ
ج سکت ہ ۔ گوی کوئی متن محدود نہیں ہوت جتن کہ عموم ً اس
سمجھ لی ج ت ہ ۔ کسی ک چر کرے کی سروائیول ک انحص ر بھی
اس ب ت پر ہ کہ اردگرد س اس منس ک رکھ ج ئ ۔ وہ ں
درآمد و برآمد ک س س ہ ت اور رشتہ ک حوالہ س پ ؤں
پس رت ہ ۔ اس حوالہ س ل ظ ک ’’ کچھ م نی‘‘ ک فی نہ ں
ہوت ۔ کثیر م نوں پر ل ظ کی حیثیت اور بق ک انحص ر ہوت ہ ۔
ب ض ح لا ت میں ل ظ ک مخصوص اک ئیوں س پیو ست ہون
ضروری ہو ج ت ہ ۔ ت ہ اک ئیوں س وحدت کی طرف اس
ہجرت کر ن پڑتی ہ ۔ ل ظ کی س خت میں لچک تس ی کرن کی
صورت میں ہر قس ک س ر آس ن اور ممکن ہوت ہ ۔ اس حوالہ
س بڑی وحدت میں نتھی ہون ک لئ کثیر م نوں ک ف س ہ
لای نی نہیں ٹھہرت ۔
ل ظ ت اصطلاحی روپ اختی ر کرت ہ اور انس نی بردار ک ورثہ
ٹھہرت ہ ج اس ک است م ل کرن وال بخیل نہیں ہوت ۔
اس ل ظ کی اصطلاحی نظ اور انس نی زب ن میں ایڈجسٹمنٹ
اس کی لچک پذیری کو واضح کرتی ہ اور یہ بھی کہ وہ س
ک اور س ک لئ ہ ۔ ل ظ نقش کو بطور مث ل ل لیں یہ ب
شم ر کروں میں کسی وقت ک بغیر متحرک ہ اور ب شم ر
م ہی میں بیک وقت مست مل ہ ۔ مزید م ہی س پرہیز نہیں
رکھت ۔
ہر ل ظ ک س تھ ب رب ر دہرائ ج ن ک عمل وابستہ ہ اور یہ
عمل کبھی اور کہیں ٹھہراو ک شک ر نہیں ہوت ۔ ہ ں بکھراؤ کی
ہر لمحہ صورت موجود رہتی ہ ۔
:ڈاکٹر وزیر آغ ک نزدیک
ش ری ت بطور ایک ثق فتی سٹ تخ ی ک ت رو پود میں ہی نہیں
ہوتی ب کہ اپنی ک رکردگی س تخ ی کو صورت پذیر بھی کرتی
ہ ق ری ک ک تخ ی ک پرتوں کو ب ری ب ری ات رن اور
ش ری ت کی ک رکردگی پر نظر ڈالن ہ
تخ ی ک پرتوں کو ب ری ب ری ات رن ،دہرائ ج ن ک عمل
ہ جبکہ ش ریت کی ک رگزاری پر نظر ڈالن دری فت کرن اور
نئی تشریح تک رس ئی کی برابر اور متواتر س ی ک ن ہ ۔ یہ
س ت ممکن ہ ج فکر،عم ی اور فکری تغیرات کی زد میں
رہ اور اسی کی آغوش میں پروان چڑھ ۔ اس صورتح ل ک
تن ظر میں یہ کہن بھی غ ط نہیں لگت کہ ل ظ تغیرات کی زد میں
خود کو منوان اور ظ ہر کرن ک لئ ہ تھ پ ؤں
م رت رہت ہ ۔
س ختی ت دراصل اندر ک ثق فتی نظ کی ق ئل ہ ۔ کروچ ک
مط ب داخل ،خ رج میں متشکل ہوت ہ ۔ اس ب ت کو یوں بھی
کہ ج سکت ہ کہ س کچھ ب طن میں ط پ ت ہ ی جو کچھ
داخل میں محسوس کرت ہ خ رج میں بھی ویس ہی دیکھت ہ
۔ گلا محض ایک ش ہ ۔ داخل ن اس اس ک داخ ی اور
خ رجی حوالوں ک س تھ محسوس کی دیکھ اور پرکھ ۔ اس
ان گنت ک ئن توں س منس ک کرک ن اور م ہی عط کئ ۔
ب رونی تغیرات کی صورت میں جو ا ور جیس محسوس کی ،
اسی ک مط ب تشریح و ت بیر کی۔ ت ہ بقول ڈاکٹر گوپی چند
:ن رنگ
قرات (محسوس کرن ،دیکھن اور پرکھن ) اور ت عل تہذی ک
اندر اور ت ریخ ک محور پر ہ ی نی م نی بدلت رہت ہیں اور
کوئی قرات ی تشریح آخری وقت آخری نہیں ہ ۔
آخری تشریح اس لئ آخری نہیں کہ مخت ف عوامل ک تحت
اندر ک موس بدلت رہت ہیں ۔داخل کسی ثق فتی سٹ کو
لای نی کہہ کر نظر انداز نہیں کرت ۔
ل ظ ج ایک جگہ اور ایک وقت ک چنگل س آزادی ح صل
کر ت ہ توثق فتی تبدی ی ک ب عث پہ م نی رد ہوج ت ہیں
۔اگرچہ ان لمحوں تک پہ م نی پہ کرے میں گردش کر
رہ ہوت ہیں ی پھر تغیرات ک زیر اثر ی کسی نئی تشریح ک
حوالہ س پہ م ہی کو رد کر دی گی ہوت ہ ۔ نئی اور پرانی
ک ئن توں میں ر ِّدس خت ک عمل ہمیشہ ج ری رہت ہ ۔ ب ت یہ ں
پر ہی ٹھہر نہیں ج تی ۔ مکتوبی تبدی ی ں بھی وقوع میں آتی
رہتی ہیں ۔ تڑپھ س تڑپ ،دوانہ س دیوانہ ،کھس س خص
،ب دش ہ س ش ہ اور ش ہ س شہ مکتوبی س خت ک عمدہ
نمونہ ہیں۔
ًً جم ہ بولاج ت ہ ۔ ’’وہ توب دش ہ ہ ‘‘ ل ظ ب دش ہ مخت ف
ثق فتی سسٹمز میں مخت ف م ہی رکھت ہ ۔ م ہومی اختلاف
پہ م ہو کو رد کرک وجود میں آی ہ ۔ ب رب ر کی قرات
پہ کو یکسر رد کرتی چ ی ج تی ہ ۔ اس س نئ م ہی پیدا
:ہوت ج ئیں گ ۔ مثلاً ب دش ہ
حکمران ،س اسی نظ میں ایک مط ال ن ن قوت ،ڈاکٹیٹر
لاپرواہ
ب نی ز ،لالچ اور طم ہ س ع ری
جس ک فیص ح پر مبنی نہ ہوں ،جس ک فیص وں میں
توازن نہ ہو ،ب انص ف
پتہ نہیں کس وقت مہرب ن ہوج ن کس وقت غص ن ک
مرضی ک م لک ،کسی ک مشہورہ نہ م نن والا ،اپنی کرن والا
حقدار کو محرو اور غیرحقدار پر نواز شوں کی ب رش کرن
والا
نہ ج ن ک چھین ل ،غض کرن والا
ک ن ک کچ ،لائی لگ
ب انتہ اختی رات ک م لک
ولی الله ،صوفی ،درویش ،پیر ،فقیر ،گرو ،را
الله ت لی
م لک ،آق
ب نٹ کرن والا ،سخی
امیر کبیر ،ص ح ثروت
تھ ن دار ،چوہدری ،نمبردار ،وڈیرا ،ک رک ،سنتری ،تیز
رفت ر ڈرائیور،
پہ وان ،حج ،فوجی
وقت پر ادائ گی نہ کرن والا
مکرج ن والا
وعدہ خلاف
ب شر ،ڈھیٹ ،ضدی
نشئی
ب وقوف ،احم
غض کرن والا
ل ظ ب دش ہ کی ن مکمل ت ہی پیش کی گئی ہ ۔ ان م ہی ک لغت
س کوئی ت نہیں۔ اس
کو دہرات ج ئی ۔ مخت ف تہذیبی وفکری کروں س ت
استوار کرت ج ئی ۔ پہ م ہی رد ہوکر نئ م نی س من
آت ج ئیں گ ۔ ہر کرے ک اپن انداز ،اپنی ضرورتیں ،اپن
ح لات ،اپن م حول وغیرہ ہوت ہ اس لئ سی سی غلامی کی
صور ت میں بھی کسی اور کرے ک پ بند نہیں ہوت ۔ لہذا کہیں
او رکسی لمح س خت شکنی ک عمل جمود ک شک ر نہیں ہوت ۔
اس س رے م م میں صرف ش وری قوتیں متحرک نہیں
ہوتیں ب کہ لاش وری قوتیں بھی ک کررہی ہوتی ہیں ۔ تخ ی
اد ک م م ہ اس س بر عکس نہیں ہوت ۔
:اس ضمن میں لاک ں ک کہن ہ
تخ ی اد کی آم جگ ہ لاش ور ہی کو سمجھ ج ت ہ کیونکہ
اس میں مقصد ،ارادہ ی س ختی تی زب ن میں تخ یقی تحریریں ف ل
.لاز میں لکھی ج تی ہیں
س ختی ت مرکزیت کی ق ئل نہیں ۔ مرکزیت کی موجودگی میں رد
س خت ک عمل لای نی اور س ی لا ح صل ک سواکچھ نہیں۔ ایسی
صورت میں ل ظ ی ش کو پرواز کرن ی مخت ف حوالوں ک
ذائق ح صل کرن ک ب د مرکزے کی طر ف لوٹ کر اس ک
اصولوں ک بندی بنن پڑت ہ ۔ لوٹن ک یہ عمل کبھی اس ک
پیچھ نہیں چھوڑت ۔ ایسی صور ت میں نئی تشریح ت اور نئ
م ہی کی کیونکر توقع کی ج سکتی ہ ۔ ل ظ آزاد رہ کر پنپت اور
دری فت ک عمل س گزرت ہ ۔ ل ظ ’’ب دش ہ‘‘ محض س اسی
کرے ک پ بند نہیں ۔ یہ ں تک کہ س اسی کرے میں رہ کر بھی
کسی مرکزے کو محور نہیں بن ت ۔
بڑی عجی اور دلچسپ ب ت تو یہ ہ کہ س ختی ت مصنف ک
اور ل ظ ک ب طن ) (Poeticوجود کو نہیں م نتی ب کہ ش ریت
میں چھپی روح کوم نتی ہ ۔ اس ک نزدیک تخ یقی عمل ک
دروان مصنف م دو ہوج ت ہ ۔ تحریر خو د کولکھ رہی ہوتی
ہ نہ کہ مصنف لکھ رہ ہوت ہ ۔ س ختی ت ک اس کہ ک ثبوت
خو دتحریر میں موجود ہوت ہ ۔ ش عر ،ش عری میں ب دہ وس غر
کی کہہ رہ ہوت ہ جبکہ وہ سرے س م خوار ہی نہیں ہوت ۔
ممکن ہ اس ن شرا کوکبھی دیکھ ہی نہ ہو۔ م م ہ بظ ہر
م خ ن س جڑ گی ہوت ہ لیکن ب ت ک میخ ن س کوئی
ت نہیں ہوت ۔ اس س یہ نتیجہ اخذ کرن غ ط نہیں کہ تحریر
کسی بڑے اجتم ع میں متحرک ہوتی ہ یہ س تحریر ک اندر
موجود ہوت ہ ۔
:ڈاکٹر وزیر آغ ک کہن ہ
ش ری ت کوڈز اور کنونشنز پر مشتمل ہون ک ب عث پوری
انس نی ثق فت س جڑی ہوتی ہ
اس کہ ک تن ظر میں تشریح ک لئ مصنف ش عر ک
مزاج ،لمحہ موڈ ،م حول ،ح لات وغیرہ ک حوالہ س تشریح
) (Sign/Traceک ک ہون ممکن نہیں ۔ تحریر ی کسی نش ن
کو کسی مرکزیت س نتھی کرک مزید اور نئ نت ئج ح صل
کرن ممکن نہیں اورنہ ہی تشریح و توضیح ک عمل ج ری رکھ
ج سکت ہ ۔
ل ظ بظ ہر بول رہ ہوت ہیں ۔ اس بولن کو م نن گمراہ کن
ب ت ہ ۔ ل ظ بولت ہیں تو پھر تشریح و توضیع کیسی اور
کیوں ؟ ل ظ اپنی اصل میں خ موش ہوت ہیں ۔ ان کی ب رب ر
قرات س کثرت م نی ک ج ل بن ج ت ہ ۔ قرات انہیں زب ن دیتی
ہ ۔ خ موشی ،فکسڈ م ہی س ب لا تر ہوتی ہ ۔ اس م م
پر غور کرت وقت اس ب ت کو مدنظر رکھن پڑے گ کہ ق ری
قرات ک وقت م دو ہوج ت ہ ۔ وہ اجتم عی ثق فت ک روپ
میں زندہ ہوت ہ ی یوں کہہ لیں کہ وہ اجتم عی ثق فت ک
بہروپ ( لاش وری سطح پر)اختی ر کر چک ہوت ہ ۔
قرات ک دوران ج ل ظ بولت ہ تو اس ک م ہی اس ک
لیونگ ک چر ک س تھ ہی اجتم دعی ک چر ک حوالہ س
دری فت ہورہ ہوت ہیں۔ مصنف جولکھ رہ ہوت ہ اس ک اس
کی زندگی س دور ک بھی واسطہ نہیں ہوت ۔ اس طرح ق ری جو
ت ہی دری فت کر رہ ہوت ہ اور جن کروں س مت دری فت
کر رہ ہوت ہ ان س وہ کبھی منس ک نہیں رہ ہوت ۔ یہ بھی
ممکن ہ کہ عم ی زندگی میں وہ ان ک شدید مخ لف رہ ہو ۔ی
ان تجرب ت س گزرن ک اس کبھی موقع ہی نہ ملا ہو۔ ش ہد
ب زی ی ش ہد نوازی س ق ری مت ہی نہ ہو لیکن اس حوالہ
س م ہی دری فت کر رہ ہو۔ ل ظ کی م نوی خ موشی ت ہی ک
جوہرن ی ہ ۔ خ موشی ،ق ری کو پ بندیوں س آزادی دلاتی
ہ ۔ اگر م ن لی ج ئ کہ ل ظ بولت ہ توق ری م دو نہیں
ہوت ت ہ اس کی حیثیت کنویں ک مینڈک س زی دہ نہیں ہوتی۔
اس حوالہ س اجتم عی ثق فت اور اجتم عی ش ور ک ہر حوالہ
ب م نی ہوج ت ہ ۔
س ختی ت ک ب رے یہ کہن کہ اس میں ایک ہی کو ب رب ر دہرای
ج ت ہ ،مبنی برح ب ت نہیں ہ ۔ بلاشبہ کسی ایک نش ن کی
ب رب ر قرات عمل میں آتی ہ لیکن اس ک موجودہ تشریح کو
مستردکرک کچھ نی اور کچھ اور دری فت کی ج رہ ہوت ہ ۔
:پروفیسر جمیل آزار ک کہن ہ
اد اثر کر ت ہ بطور سم جی تشکیل کی ایک خود مخت ر ’’
سطح ک اد حقیقت ک آئینہ ی اصل کی نقل ی حقیقت ک مثنی
نہیں ب کہ (الگ س ) ایک سم جی قوت ہ جواپن ت ین ت اور
اثرات ک س تھ اپنی حیثیت رکھتی ہ اور اپن بل اور اپنی
قوت پر ق ئ ہ
اس حقیقت ک تن ظر میں یہ کہن کہ دہران ک عمل فوٹو ک پی
س مم ثل ہ درست ب ت نہیں۔ اس میں جو نہیں ہ ک کھوج
لگ ی ج ت ہ ۔ کسی نش ن س جو مدلول اس س پہ وابستہ
نہیں ہوت ،جوڑا ج ت ہ ۔مزے کی ب ت یہ ہ کہ وہ مدلول
پہ س اس دال میں موجود ہوت ہ لیکن دری فت نہیں کی
گی ہوت ۔
س ختی ت س ئنسی عمل س بھی مم ثل ہ ۔ یہ کسی قس کی
پراسرایت اور م وارئیت کو نہیں م نتی ۔ اس ک رشتہ ہمیشہ
حق ئ س جڑ ارہت ہ ۔ ر ِّدس خت ک وقت امک ن ت ک ن ت
حق ئ س جڑا رہت ہ ۔ اس طرح لای نیت اور ب م نویت اس
ک لغت س خ رج ہو ج ت ہیں ۔ سپن بنن ی خی لی تصورات
پیش کرن اس ک دائرے میں نہیں آت ۔ یہ ہ کو جو پہ نہیں
ہ ،س استوار کرتی ہ ۔ کسی نش ن ک نی حوالہ اور نی
م ہو دری فت کرن اس کی ذمہ دار ی میں آت ہ ۔
:ڈاکٹر دیویندارسر ک کہن ہ
ہر متن اپنی مخصوص س خت اور شکل میں ہی اپن م نی
ح صل کرت ہ ۔ یہ س خت دوسری س ختوں ک انسلاک اور
دریت ک ب وجود ج تک اپنی ان رادیت اور خصوصیت شن خت
ق ئ رکھتی ہ تو اس ک م م ہ اسی س خت ک تحت کرن ہی
موزوں ہوگ کیونکہ ایک س خت کی تشکیل (اور لاتشکیل) ک
لئ جوہنر اور آلات درک ر ہوت ہیں ضروری نہیں کہ وہ
دوسری س خت ک لئ بھی ک رآمد ہوں
نش ن کی جو موجودہ شکل ہ ی رہی ہوگی اس ک اندر کو
ٹٹولاج ئ گ ۔ اسی ک مط ب م ہی (مدلول) دری فت کئ ج ئیں
گ ۔ نش ن نہیں تومدلول کیس ؟ پہ نش ن پھر مدلول ۔ س رتر
کی وجودیت بھی تو یہی ہ ۔ وجود پہ جوہر اس ک ب د ۔وہ
جیس بنت ہ ،ویس ہی ہوت ہ ۔نہ اس س زی دہ نہ اس س ک ۔
وجودس وابستہ م ہی نظری ت مستر دہوسکت ہیں،وجود
نہیں۔ وہ جیس بنت ج ئ گ ویس ہی ہوگ ۔
ایم ن ک ی زی دہ ہوت رہت ہ ۔ اسی طرح وجود س وابستہ
م ہی اور نظری ت بھی بدلت رہت ہیں ۔ گوی وجود ایک خود
مخت ر اک ئی ہ اس ک س تھ منسو حرکت اور ف یت بدلتی
رہتی ہ ۔ ایک ہی نش ن ’’آدمی‘‘ ک س تھ چوکیدار ،ک رک ،
تحصی دار ،امیر ،گرے ،مق می ،غری ،فقیر ،ب دش ہ ،ولی
،نبی ،دی لو،کنجوس ،رکھوالا ،چور ،ق تل ،جھوٹ ،راست ب ز،
شیط ن ،نیک ،ج ہل ،ع ل وغیرہ ہزار وں من ی و مثبت مدلول
وابستہ ہوت ہیں ۔نش ن ن خود کو جیس بن ی ہوت ہ وہ ویس
ہی توہوت ہ ۔ قرات ک دوران ق ری م دو ہوکر بطور نش ن
متحرک ہوت ہ ۔ وہ جیس خود کو بن ت ہ ویس ہی بنت چلا
جتہ ۔
ج حر ف ک ر ن اڑن کھٹول ک تصویر پیش کی تو بظ ہر ب
م نویت اور لای ینت س منس ک تھ لیکن پس س خت نش ن
’’اڑان‘‘ موجود تھ ۔ نش ن اڑان کبھی ب م نویت اور م دومی
س دوچ ر نہیں ہوا۔ دیکھن یہ ہ کہ ’’اڑن کھٹول ‘‘ک نظریہ
دیت وقت حرف ک ر ’’تھ ‘‘ ی م دو ہوچک تھ ۔ پہ ی صورت میں
(تھ ) اڑن کھٹول ک تصور وضع نہ ہوت جو اس ک مش ہدے
میں نہیں تھ کیوں اورکیس وجود ح صل کرسکت تھ ۔ وہ
(مصنف) نہیں تھ لیکن تصوراڑان تھ ۔ تصور ن وجود میں
آن ک لئ مصنف کو بطور آلہ ک ر است م ل کی ۔ یہ بھی کہ
سوچ اڑن کھٹول ک مٹیریل ،خلا اور کئی اس س مت قہ
حوالوں س جڑ گی تھ ۔
پس ش ور اورنگ س یم ن موجو د تھ ۔ ذرا پیچھ مڑیں' حضور
کری اور برا ک تصور کو موجود پ ت ہیں۔ م م ہ ذرا آگ
بڑھ تو نش ن ’’اڑان‘‘ہی ک اندر س م نی ’’ہوائی جہ ز ‘‘
برآمدہ ہوئ یہ کوئی آخری تشریح نہیں ہ اور نہ ہی آخری
مکتوبی تبدی ی ہ ۔ ’’اڑان ‘‘کی اس ک ب د بھی قرات ہوتی
رہ گی اور اس ک مدلول بدلت رہیں گ کیوں کہ رد س خت
ک عمل ہمیشہ ج ری رہت ہ ۔ ت ہی وتشریح ک س ر م ورائیت س
ب لا تر رہت ہ ۔ اس ک حقیقی اور واق ی س رشتہ استوار رہت
ہ۔
س ختی ت اگر م ورائیت پر استوار ہوتی تو ک کی م دو ہوکر
نئی م نویت س استوار ہوچکی ہ ۔ نش ن ’’س ختی ت‘‘ بطور
وجود موجود ہ لیکن اس س وابسطہ م ہی بدل رہ ہیں
اور بدلت رہیں گ ۔ آنکھیں بندکرن س ب ی نہیں ہوتی اس
میں غ ط کی ہ ۔ بند آنکھوں ک حوالہ س س ختی ت کہتی ہ
ب ی نہیں ہ ۔ کھ ی آنکھوں کی صورت میں ب ی ہ اور یہی
سچ ئی ہ ۔ یہ م ہی دیگر کروں (بند ،کھ ی) س رشتہ
استوار ہون ک سب وضع ہوت ہیں۔بصورت دیگر آنکھیں
محض بین ئی ک آلہ رہ گ ۔ ن صرعب س نیر ن بڑی خوبصورت
:ب ت کہی ہ
س ختی ت دراصل س خت ک عق میں موجود رشتوں ک اس
نظ کی بصیرت ہ جس ع وفکر کی متنوع جہتوں ن
مس کی (ہوت ) ہ
ن صر عب س نیر ن م و مگر عد وجود کو کسی نش ن ک
حوالہ س وجود دین کو س ختی ت س پیوست کی ہ ۔ انہوں
ن وجود (نش ن) کی حقیقت کی واضح ال ظ میں تصدی کی
ہ جوس خت کو اہ قرار دین ک مترادف ہ ۔
سچ ئی کوئی خودسر ،خود ک راورخود ک یل اک ئی نہیں ہ جو
اس ک زندگی ک دوسرے حوالوں س رشتہ ہی نہ ہو۔ آنکھیں
بندکرن زندگی ک ایک حوالہ ضرور ہ ۔ اس ک عم ی نمونہ
1857س پہ ک لکھنو ہ جو نوا شج ع الدولہ کی
شکست ک نتیجہ تھ
س ختی ت آنکھیں بند کرن ک عمل س رشتہ کیوں خت کرے۔
اس ن بلا امتی ز (من ی اور مثبت) پوری دی نت اور رواداری
س ت ق ت کو وس ت دین ہ ۔ یہ ں ہیگل ک ضدین ک
ف س کو بطور مث ل لی ج سکت ہ ۔ ہ ،نہیں ہ اور نہیں
ہ ،ہ کی شن خت ہ ۔
:اس ضمن میں ڈاکٹر فہی اعظمی ک کہن ہ
کسی چیز کوج نن ک مط یہ ہوا کہ ہ اس لس نی نظ ک
تحت ایک ن دیت ہیں ی پہ س دئی ہوئ ن س اس
منس ک کرت ہیں۔ ایس کرت وقت ہم رے تصور میں صرف
اس چیز کی شکل نہیں ہوتی ب کہ وہ تم چیزیں ہوتی ہیں
جس س یہ چیز مخت ف ہوتی ہ
اس نظری ک تن ظر میں ہ ،نہیں ہ ،دونوں متوازی رواں
دواں ہیں۔دونوں ک ج و میں لات داد م ہی چل رہ ہیں۔ یہ
بھی کہ ان ک اندر ابھی لات داد م ہی ک سمندر ٹھ ٹھیں م ررہ
ہ ۔ بند ،کھ ی اور ب ی تو محض ڈسکورڈ کرے ہیں۔
مصنف بیک وقت مصنف ،ق ری ،ش رح ،م ہر لس نی ت اور نہ
ج ن کی کچھ ہوت ہ ۔ لکھت وقت وہ فنی تق ض پورے کر
رہ ہوت ہ ۔ س تھ میں موجو دکو رد کرک کچھ نی دے
رہ ہوت ہ ۔ یہ عمل اگ ی اور نئی قرات ک بغیر ممکن نہیں
ہوت ۔ اس حوالہ س ہی وہ مخت ف شن ختی حوالوں ک ح مل
ہوت ہ ۔ وہ ل ظ کی م نوی اور تشریحی ت ریخ س آگہی ک
سب مخت ف ن موں س پک ر اج ت ہ ۔ت ہ اس ضمن میں اس
حقیقت کو پس پشت نہیں ڈالاج سکت کہ اگر وہ مخصوص س
منس ک رہ گ ی پھر کسی مرکزے کی پ بندی کرے گ توپہ
کو رد کرک کچھ نی پیش نہیں کرسک گ ۔ لکھت ی تشریح
کرت وقت اس ک سوچ مخت ف لس نی وتہذیبی کروں میں
متحرک ہوگ ۔ ل ظ اسی تن ظر میں تحریر ک روپ اختی ر کرت
ہیں ۔کسی نش ن ک جن میں بھی یہی عمل ک رفرم ہوت ہ ۔
کسی تشریح ،توضیح ،ت ہی اور موقف کو رد کرن ک ضمن
:میں ڈاکٹر فہی اعظمی ک یہ ب ان خصوصی توجہ چ ہت ہ
ج کوئی شخص کلا کرن ک ب د اپن موقف س مطمن
ہوج ت ہ تووہ صرف گمراہ نہیں ب کہ غ طی پر ہوت ہ ہر وہ
ب ت جوکہن وال کوغیر م نوس نہیں م و ہوتی ی جس میں
تبدی ی لان کی خواہش پید انہیں ہوتی،غ ط ہ ‘‘۔ ایسی سچ ئی
جس میں زب ن ک تض دات ک امک ن ت کو خت کرن مقصود
ہوت ہ ،فوراً جھوٹ بن ج تی ہ
ویکو ن ش ری ذہ نت دانشک تصور پیش کی تھ ۔ س ختی ت
ک س را ف س ہ اسی اصطلاح پرا نحص ر کرت ہ ۔ مصنف ق ری ی
ان س منسو رشتوں ک انک ر ک بغیر رد س خت ک عمل
لای نی اور ب م نی ٹھہرت ہ ۔ اس مق پر لس نی وسم جی ،ان
گنت رشت متحرک ہوت ہیں۔
ش ری ذہ نت دانش کو جن امیر ک کہ س پیوست کریں،
کہ کو دیکھیں کہن وال کومت دیکھیں ،یہ مصنف کی مو
ت ک کھلا اعلان ہ اور کہ کی ت ہی ک لئ ’’کہ ک ‘‘
اندر ک ثق فتی سسٹ کی طرف توجہ دین کی ضرورت کو اہ
قرار دی گی ہ ۔ ان کی مدد اور ان ک کسی حوالہ س فکر
مزید آگ بڑھن کی پوزیشن میں ہوگی۔ یہ بھی کہ ان کوکسی
نئی فکرک تحت ق ری رد تو کرسک گ ۔ بہرطور یہ م ہی ل ظ
ک ب طنی ثق فتی نظ کو سمجھن میں م ون ث بت ہوسکیں
گ۔
س ختی ت ک م کرین
ٹی ٹوڈوروز،دریدہ ،رولاں ب رتھ ،جولی کرسنوا ،سوسیئر ،
شولز ،جیکس لاک ں ،جون تھن ،سٹی فش ،فریڈرک چمبرسن
،گولڈ مین وغیرہ ،س ختی تی فکر پر ک کرن والوں میں اپن
من رد ن رکھت ہیں ۔
میں جبکہ ڈاکٹر س ی ڈاکٹر محمد ع ی صدیقی ن
اخترن میں س ختی ت ک ت رفی مط ل ہ پیش کی ۔ میں ڈاکٹر
ب رمیٹک ف (امریکن) ن اور لنڈا ونٹنک (امریکن خ تون) ن
انور سج د ک افس ن ’’خوشیوں ک ب ‘‘ ک س ختی تی مط ل ہ
پیش کی ہ ۔میں ڈاکٹر محمد امین ن مقصود حسنی ک مق لہ
’’ب ھ ش ہ کی ش عری ک لس نی مط ل ہ‘‘( مشمولہ کت ’’ اردو
ش ر ،فکری ولس نی روئی ‘‘مق لہ نمبر ) کو اردو میں
س ختی ت پر پہ ی کت قرار دی کہ جس میں کسی ش عر ک
ب ق عدہ س ختی تی مط ل ہ کی گی ہ
س ختی ت پر ش ئع ہون والی ق بل ذکر کت بیں۔
تخ یقی عمل ازڈاکٹر وزیر آغ
تنقید اور جدید تنقید از ڈاکٹر وزیر آغ
دستک اس دروازے پراز ڈاکٹر وزیر آغ
س ختی ت پس س ختی ت اور مشرقی ش عری از ڈاکٹر گوپی چند
ن رنگ
س ختی ت پر ک کرن والوں دستی مختصر ت صیل
ابن فرید ،ب قر مہدی ،ابوذر عثم نی ،ابوالکلا ق سمی ،احمد
سہیل ،جمیل آزار ،جمیل ع ی بدایونی ،ڈاکٹر دیویندراسر ،ر
نواز م ئل ،ری ض احمد ،ڈاکٹر شکیل الرحمن،شمی حن ی ،قمر
جمیل ،ڈاکٹر ع مر سج د ،ع مر عبدالله ،ڈاکٹر فہی اعظمی ،
ڈاکٹر محمدامین ،ڈاکٹر من ظر ع ش ہرگ نوی ،مقصود حسنی،
ن صر عب س نیر ،وارث ع وی وغیرہ ن اردو میں س ختی ت پر
مق لات تحریر کئ ۔
رس ئل
م ہن مہ ’’سخن ور‘‘کراچی ،دری فت ،ب زی فت (لاہور)’’ ،اورا
‘‘سرگودھ ،م ہن مہ ’’فنون ‘‘لاہور ،م ہن مہ ’’علامت ‘‘لاہور ،
م ہن مہ ’’صریر ‘‘کراچی وغیرہ میں س ختی تی فکر پر مق لات
ش ئع ہوئ ۔
م ہن مہ ’’صریر‘‘ کراچی ن س ختی تی فکر س مت فکر
انگیز مراس بھی ش ئع کئ ۔
ب راں م ہ غلا حضور ش ہ
سید غلا حضور
پ 1988 1907
ہر پڑھن لکھن والا' اپن ہی گھر میں' اپنی ہی عزت م پ
تینویں مب رکہ س یہ جم
سنت آ رہ ہ ۔
ت ن زندگی میں کی ہی کی ہ ۔
گھر کو کوڑ کب ڑ بن ئ رکھ ہ ۔
لوگ ج ئیدادیں بن ت ہیں ت ن ج ئیداد میں بس ردی ہی بن ئی
ہ۔
لٹیرے اور تب ہ ک ریئ عموم چ ر طرح ک رہ ہیں۔
ادھر ام ں ب ب مرے ادھر آل اولاد چھنیوں کولیوں پر ٹوٹ پڑی۔
ہر کوئی زی دہ س زی دہ ک حصول میں الجھ ج ت ہ ۔ ب ب
ک ک غذات کی ٹھوک بج کر بڑی ب دردی س تلاشی لی ج تی
ہ کہ ب ب ن ک غذوں کت بوں میں مختصر ی کوئی لمی چوڑی
رق نہ چھپ دی ہو۔
تلاشی ک ب د ب ب ک ل ظ' جو اس کی عمر بھر کی کم ئی
ہوت ہیں ردی میں بک ج ت ہیں۔ کہیں زوراور آل اولاد ب ب
ک مرن ک بھی انتظ ر نہیں کرتی۔ یہ لوٹ م ر اور توڑ پھوڑ
ک س م ن اس کی آنکھوں ک س من ہی ہو ج ت ہ ۔ ڈھیٹ بن
کر جی رہ ہوت ہ ' ل ظوں ن قدری برداشت نہیں کر پ ت اور
اگ س ر پر بڑی حسرت اور ب بسی س روانہ ہو ج ت ہ ۔
چور ڈاکو بھی جہ ں گھر ک دوسرے س م ن کی پھرولا پھرولی
کرت ہیں وہ ں کت خ ن بھی ویران میں بدل ج ت ہیں۔
کہیں اور کسی دور میں کسی ب ب ن رق ن کی چیز رکھ دی
ہو گی اور یہ شک چوروں میں نسل در نسل چلا آت ہ ۔ ورنہ
ع اور سک ک ہ س ر رہ ہیں۔
حیران چوری ایس مشکل اور دقت گذار پیشہ صدیوں س چلا
آت ہ ۔ ریسک ک س تھ جگ ترا ک ٹن ایس آس ن ک نہیں۔ اگ
وقتوں میں پکڑے ج ن کی صورت میں چھتر بھی کھ ن پڑت
تھ ۔عصر ح ضر میں یہ رواج نہیں رہ ۔ پہ ہی مک مک ہو
چک ہوت ہ ۔ ہ ں چھتروں ک رخ تبدیل ہو چک ہ ۔ چور شور
مچ ت ہیں اور ان ک شور کو اول ت آخر پذیرائی ح صل رہتی
ہ۔
تیسرے نمبر پر اپن ہی م ک فتح کرن وال آت ہیں۔ یہ جہ ں
ج ن م ل اور املاک کو غ رت کرت ہیں وہ ں لکھن پڑھن
وال لوگوں کی جمع پونجی ردی کو بھی برب د کرک رکھ دیت
ہیں۔
بیرونی حم ہ آواروں زب ن غیر کی مرقومہ ذہ نت و فط نت س
کی لین دین ۔ وہ زمین املاک اور سون چ ندی ک سکوں کی
چمک دمک میں اپن ہ ں کی ردی کو بھی خ طر میں نہیں لات ۔
مخدومی ومرشدی سید غلا حضور ن دنی کو 1988میں
الودع کہ تو محترمہ والدہ ص ح ن چ تی س نسوں تک مک ن
آب د رکھ ۔ حس س ب بچ ان س ع می است دہ کرت رہ ۔
آخر مروت بھی کوئی چیز ہوتی ہ صرف دو چ ر ب ر مک ن ک
تو تکرار ہوئی۔ میری خواہش تھی کہ مخدومی ومرشدی سید
غلا حضور کی اق مت گ ہ کو بہرطور آب د رہن چ ہی ۔ وہ مجبور
تھیں وقت س پہ کس طرح مر ج تیں۔ چھنوں کولیوں ک
شوکینوں کی سنی گئی اور وہ 1996میں انتق ل فرم گئیں۔ ک ن
دفن ک س تھ ہی کیل ک نٹوں س لیس قبضہ گروپ ن قد جم
لی ۔ میں ن غور ہی نہ کی ۔ امی اب ہی نہ رہ تھ ا میرے
لی وہ ں کی رہ گی تھ ۔
مخدومی ومرشدی سید غلا حضور پنج بی ش عر تھ ۔ علاوہ
ازیں بھی اچھی خ صی ردی ورثہ میں چھوڑی تھی۔ اس ک کی
ہوا یہ ایک الگ س کہ نی ہ ۔ اس کسی دوسرے وقت ک
لی اٹھ رکھت ہوں۔ چھوٹی نصرت شگ تہ ن ایک رجسٹر مہی
کی ہ ۔ اس میں 76 ,75 ,1974ک کلا ہ ۔ رجسٹر کی ح ت
ک کچھ نہ پوچھی ۔ اگر اس پر ت ریخیں درج نہ ہوتیں تو میں
ن اس ک حضرت آد ع س پہ ہون ک دعوی دا دین
تھ ۔ گوی میرے والد ص ح مخدومی ومرشدی سید غلا حضور'
حضرت آد ع س پہ ہو گزرے ہیں۔
اس میں مخت ف نوعیت اور مخت ف اصن ف پر مبنی کلا ہ ۔
ب رہ م ہ مقبول و م روف صنف ش ر رہی ہ ۔آج چوں کہ دیسی
مہین اندراج میں نہیں رہ لہذا یہ صنف اد ہی خت ہو گئی
ہ ۔ یہ بھی اس رجسٹر میں م ت ہیں۔ سن اندراج درج نہیں۔
ک ت کون ہ ٹھیک س کچھ کہہ نہیں سکت ۔ س ون ک چ روں
ش ر ہیں۔ آخری مصرع پڑھ نہیں ج رہ ۔ پھ گن ک دو مصرع
اندراج میں آئ ہیں۔ دونوں ہی پڑھ نہیں ج رہ ۔ آج چوں کہ
دیسی مہین اندراج میں نہیں رہ لہذا یہ صنف اد ہی خت ہو
گئی ہ ۔
ہر مہین ک برصغیر میں الگ س رنگ رہ ہیں۔ قدرتی طور
شخص ک جذب ت اور احس س ت ان ک حوالہ س تبدی ی آتی
ہ ۔ ش عر ب ریک بین ہوت ہ اور وہ بدلت موسموں ک س تھ
شخص ک ب طنی رنگوں ک بھی مط ل ہ کر لیت ہ اور ان
رنگوں ک اظہ ر بھی اسی طور س کرن کی کوشش کرت ہ ۔
ب ب جی ک ان ب رہ مہینوں میں ہجر کی مخت ف کی ی ت کو بی ن
کی گی ہ ۔ زب ن ب لکل س دہ اور عوامی ہ ۔ م ہی تک رس ئی
ک لی زی دہ تردد نہیں کرن پڑت ۔ البتہ دو اطوار اختی ر کئ
گئ ہیں۔ کہیں م م ہ ذات س اور کہیں سیکنڈ پرسن ک
حوالہ س ب ت کی ہ ۔ دونوں صورتوں کی مث لیں ملاحظہ ہوں۔
غلا حضور ش ہ بلاوے بیٹھ کوئی سندا نئیں واج ں نوں 1-
غلا حضور ش ہ نوں لالچ لا ک گلاں دے وچہ ٹ لی سو
غلا حضور ش ہ دے آکھ لگ ک دکھڑے میں سن واں گی 2-
غلا حضور ش ہ دے آکھ لگ ک کھوت کھوہ چ پ ی ای
صنف ریختی ک علاوہ بھی صیغہ ت نیث است م ل کرن ک ع
رواج تھ ۔ ب ب جی ک ہ ں یہ رویہ م ت ہ ۔ مثلا
چیت مہینہ چڑھی اڑیو میں ہن لبھن ج واں گی
وس کھ وس کھی ٹر گئ لوکیں گھر وچہ بیٹھی رواں میں
گھر وچہ بیٹھی دل پرچ واں کر کر ی د تیری ں ی داں نوں
ب ب جی ک ہ ں عوامی مح ورہ اور امث ل ک بڑی خوبی س
است م ل میں آئ ہیں۔ مثلا
گھت کٹھ لی گ لی
کھوت کھوہ چ پ ی ای
پک راں کر کر تھکی
تیر ک یج لای
م روف ہ تکیف اور دکھ چپ وٹن درست نہیں۔ کوٹھ پر چڑھ
کر اعلان کرو۔ ب ب جی ک ہ ں است م ل ملاحظہ ہو۔
کوٹھ چڑھ کھ وواں
بہرطور شخصی احس س اور ب طنی کی ی ت کو بڑے موثر انداز
س پیش کی گی ہ ۔ ا ب ب جی ک کلا ملاحظہ ہو۔ یہ تحریر
میں ک آی کچھ کہ نہیں سکت ۔ ہ ں اس رجسٹر پر 1974ی
1975میں نقل کی گی ۔ اس حس س بھی چ لیس س ل س
زی دہ عرصہ ہو گی ۔ ن قل ن کہیں ن کہیں ٹھوکر کھ ئی ہو گی۔
پڑھ نہیں ج رہ لہذا مح وظ میں بھی نہیں رہ ہوں گ ۔
شجرہ ق دریہ ۔۔۔۔۔ ایک ج ئزہ
جنت مک نی حضرت سیدہ سردار بی بی' دختر حضرت سید
برکت ع ی زوج مخدومی ومرشدی حضرت سید غلا
حضور'س ب اق متی ننگ ی' امرت سر' بھ رت' متوفی 1996کی
پ کٹ ڈائری ک ' کس حد تک' اپن کسی مضون میں ذکر کر چک
ہوں۔ اس ڈائری میں شجرہ ق دریہ بھی درج ہ ۔ اس کی بڑی
خوبی یہ ہ کہ ش عر ک ن اور ق دریہ خ ندان س ت بھی'
داخ ی شہ دت ک طور مل ج ت ہ ۔ یہ پیر سید غلا جیلانی ک
مرید تھ جو گڑھ شنکر پنج بھ رت میں' رہ ئش پذیر تھ ۔
اس ذیل میں شجرے ک یہ بند ملاحظہ ہو۔
حضرت پیر غلا جیلانی
مہر ع ی دے رہبر ج نی
ہر د وسن وچ دھی ن
ی ر مشکل کریں آس ن
یہ شجرہ کل ست ئس بندوں پر مشتمل ہ ۔ شجرے ک پہ نو
بند کم ل کی روانی رکھت ہیں۔ اس میں شخصی ت رف ک لئ
ص تی ک م ت س ک لی گی ہ ۔ مثلا
ع ی ولی ہیں زوج بتول
ش ہ مرداں ہیں شیر خدا
بی بی زہرہ بنت رسول
حسن عسکری نورالنور
عبدال زیز ہیں یمنی ہ دی
عبدالوہ فضل الہی
حضرت یحیی رہبر ک مل
ت ج الدین ن زہد کم ی
حضرت پیر غلا جیلانی
گڑھ شنکر وچ تخت مک ن
عموم پڑھن اور سنن میں بھی آی ہ کہ اردو پر پنج بی
اثرات پ ئ ج ت ہیں۔ پنج بی بھی اردو ک اثرات س مح وظ
نہیں۔ اس شجرہ ک حوالہ س اردو ک اثرات ملاحظہ
فرم ئیں۔
نحوی
اس پر میرا تکیہ م ن
مہدی زم ن ک ج ن ظہور
کچھ مصرع لس نی اعتب ر س اردو اور پنج بی ک نہیں ہیں۔
اس وبی اعتب ر س اردو ک ضرور ہیں مست مل اور ق بل فہ
بھی ہیں۔
ب قر وج ر و موسی ک ظ
حسن عسکری نورالنور
خواجہ کرخی در بی ن
ابوال ب س احمد دل ش داں
حضرت یحیی رہبر ک مل
ش ہ جنید پیر بغدادی
ہم رے ہم رے ہ ں بیوی ک لئ ل ظ زوجہ است م ل کی ج ت
ہ ۔ خ وند ک لئ یہ ی اس کی کوئی شکل مست مل نہیں ہ ۔
ش عر ن خ وند ک لئ ل ظ زوج است م ل کی ہ ۔ یہ است م ل
ک حوالہ س غیرم نوس ہ ح لاں کہ درست اور فصیح ہ ۔
ع ی ولی ہیں زوج بتول
مہر ع ی ن ان ست ئیں بندوں میں خو صورت مرکب ت بھی
دئی ہیں۔ مثلا
سید ط لح اہل حضور