The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.

طلاق
مقصود حسنی
فری ابوزر برقی کتب خانہ
اگست ٢٠١٧

Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by پنجاب اکھر, 2017-08-13 07:07:21

طلاق

طلاق
مقصود حسنی
فری ابوزر برقی کتب خانہ
اگست ٢٠١٧

‫(ام ابو حنی ہ‪ ،‬ام م لک‪ ،‬ام ش ف ی‪ ،‬ام احمد بن حنبل‬
‫رضی اللہ عنہ ) میں سے کسی کی ت ید نہیں کرتے۔ طلا کے‬
‫س س ہ میں ان کے نزدیک یہ مسئ ہ ہے کہ اگر کسی نے یک‬
‫ب رگی تین طلا دی تو تین نہیں ب کہ ایک ہی پڑے گی‪ ،‬ی نی‬
‫شوہر طلا شدہ بیوی سے عد کے اندر رج کر کے اسے‬
‫بدستور اپنی بیوی بن سکت ہے‪ ،‬اور عد کے ای گزرنے کے‬
‫ب د بغیر حلالہ اسی سے نک ح بھی کر سکت ہے۔ ج کہ صح بہ‬
‫و ت ب ین اور ائمہ کرا کےنزدیک یہ مس ہے کہ یکب رگی دی‬
‫ہوئی تین طلا تین ہی واقع ہوتی ہے اور بیوی فورا نک ح سے‬
‫نکل ج تی ہے‪ ،‬بغیر حلالہ کے ا دوب رہ اس کی بیوی نہیں بن‬

‫سکتی‪ ،‬قران و حدیث سے یہی ث ب ہے۔‬

‫عوا اہل سن سے گزارش ہے کہ اپنے مس ئل ع م ے اہل سن‬
‫کی ب رگ ہ میں لے ج ئیں اور ان سے صحیح مس ئل م و کریں‬

‫اور پھر عمل کریں‪ ،‬گزشتہ اورا میں اس س س ہ کی کچھ‬
‫حدیثیں گزر چکیں۔ مزید م وم کے لیے چند سطور پیش‬

‫خدم ہیں۔‬

‫حضر ن فع رضی للہ عنہ فرم تے ہیں کہ ایک شخص نے عبد‬
‫اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہم سے ح ئضہ (شوہر جس سے‬

‫صحب کر چک ہو) کی طلا کے ب رے میں پوچھ تو انھوں نے‬

‫اس کو وہی بت ی جو رسول اللہﷺنے ان سے فرم ی تھ ‪ ،‬وہ‬
‫‪:‬یہ ہے‬

‫حدیث‪ :‬اگر تونے اپنی عور کو ایک طلا ی دو طلا یک‬
‫ب رگی دی ہے تو بے شک رسول اللہ ﷺنے اس طلا کے‬

‫ب رے میں مجھے رج ک حک فرم ی ہے۔ اور اگر تونے‬
‫یکب رگی تین طلاقیں دی ہیں تو تیری عور تجھ پر حرا ہو‬
‫گئی‪ ،‬ج تک دوسرے شوہر سے نک ح نہ کرے‪ ،‬اور ی ین تونے‬
‫یکب رگی تین طلا دے کر اپنے ر کی ن فرم نی کی۔ اس میں‬

‫)جو طلا کے ب رے میں اس نے تمھیں حک دی ۔(‬

‫‪:‬نواسہ رسول حضر ام حسن رضی اللہ عنہ فرم تے ہیں‬

‫حدیث‪ :‬میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرم تے ہوئے سن کہ جو‬
‫شخص اپنی بیوی کو تین طلا دے ہر طہر (پ کی کے ای ) میں‬

‫ی ایک ایک کر کے‪ ،‬ی ہر مہینے کے شروع میں ایک ایک‪ ،‬ی‬
‫یک ب رگی تینوں دے دے تو اس کی بیوی اس پر اس وق تک‬

‫حلال نہیں ہوگی ج تک کہ دوسرے شوہر سے نک ح نہ کر‬
‫)لے۔(‬

‫علامہ احمد بن محمد الص وی ع یہ الرحمہ ت سیر ص وی میں‬
‫‪:‬ای ‪” :‬ف ن ط ھ فلا تحل له “ کے تح لکھتے ہیں‬

‫اور ای ک یہ م نی ہے کہ اگر تین طلاقیں ث ب ہو ج ئیں چ ہے‬
‫ایک دف ہ میں دی ہوں ی چند دفع میں تو اس کے لیے عور‬

‫حلال نہیں رہے گی۔ اگر کسی نے اپنی عور سے کہ ‪ ،‬تجھے‬
‫تین طلاقیں تو تین ہی واقع ہوں گی‪ ،‬اس مسئ ہ پر س ک ات‬

‫ہے۔ اور یہ قول کرن کہ یکب رگی دی ہوئی تین طلا ایک ہی‬
‫واقع ہوتی ہے۔ یہ ابن تیمیہ حنب ی کے علاوہ اور کسی ک قول‬
‫نہیں‪ ،‬اور ابن تیمیہ کے اس قول ک اس کے مذہ حنب ی کے‬
‫ائمہ نے خود رد کی ہے۔ یہ ں تک کہ ع م ے کرا نے فرم ی کہ‬

‫)ابن تیمیہ گ راہ اور گ راہ گر ہے۔ (‬

‫‪:‬شیخ الاسلا علامہ بدر الدین عینی ش رح بخ ری فرم تے ہیں‬

‫جمہور ع م ‪ ،‬ت ب ین اور ان کے ب د والے مثلا ام اوزاعی‪ ،‬ام‬
‫نخ ی‪ ،‬ام ثوری‪ ،‬ام ابو حنی ہ اور ان کے اصح ام م لک‬
‫اور ان کے اصح ‪ ،‬ام ش ف ی اور ان کے اصح ‪ ،‬ام احمد‬
‫اور ان کے اصح ‪ ،‬ام ابو ثور‪ ،‬ام عبید اور دوسرے بیش تر‬

‫ع م ک یہی مذہ ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو یک ب رگی‬
‫تین طلا دے ‪،‬تینوں واقع ہوں گی‪ ،‬اور وہ گنہ گ ر ہوگ جو اس‬

‫کی مخ ل کرت ہے‪ ،‬وہ براے ن ہے اور اہل سن ک‬
‫)مخ لف۔(‬

‫‪:‬طلا کے ب د شوہر کی ذمہ داری ں‬

‫جس طرح ح ل نک ح میں بیوی کے کھ نے پینے اور رہنے‬
‫سہنے ک انتظ شوہر کے ذمہ ہوت ہے اسی طرح ب د طلا‬
‫زم نہ عد میں بھی مط ہ (طلا شدہ) کے س رے اخراج‬
‫طلا دینے والے کے ذمہ ہوں گے وہ اپنے روز مرہ کے‬
‫اخراج کے مط ب من س طری ے سے اپنی مط ہ کے‬
‫‪:‬اخراج پورے کرے‪ ،‬قران کری ک ارش د ہے‬

‫)و ل مط مت ع ب لم رو ؕف (‬

‫اور طلا والیوں کے لیے من س طور پر ن ن و ن ہ ہے۔‬

‫مط ہ عد کے ای اسی شوہر ہی کے گھر میں گزارے کہ یہی‬
‫‪:‬شری ک حک ہے۔ ر کری ک ارش د ہے‬

‫اسكنوھن من حیث سكنت ِّمن وجدك و لا تض روھن لتض ِّی وا‬
‫)ع یھ ؕن (‬

‫طلا والیوں کو وہ ں رکھو جہ ں خود رہتے ہو اور ان پر تنگی‬
‫کے ارادہ سے انھیں ضرر نہ پہنچ و۔‬

‫تین طلا دینے کے ب د مط ہ ک طلا دینے والے سے پردہ‬
‫ضروری ہے‪ ،‬لہذا پردے ک پورا اہتم کی ج ئے۔ اس کے گھر‬
‫میں اگر پردے ک م ول انتظ نہ ہو سکے ی اس سے کوئی‬
‫خطرہ محسوس ہو تو مط ہ کسی دوسری جگہ منت ل ہو سکتی‬
‫ہے‪ ،‬مثلا اپنے میکے چ ی ج ئے کہ اس سے زی دہ مح وظ جگہ‬

‫کوئی دوسری نہیں ہو سکتی۔‬

‫اگر اس شوہر سے عور کے چھوٹے بچے ہوں (لڑکے س‬
‫س ل تک اور لڑکی ں ب لغ ہونے تک) تو وہ اپنی م ں کے پ س‬
‫پرورش پ نے کے ح دار ہیں‪ ،‬اور ان کے اخراج ب پ پر‬
‫لاز ہوں گے۔ ان بچوں کی م ں صرف بچوں کی پرورش کی‬
‫خ طر دوسری ش دی نہیں کرتی تو ج تک بچے اس کی پرورش‬
‫میں رہیں گے ان کے اخراج ب پ کے ذمہ ہوں گے۔ ہ ں وہ‬

‫عور ش دی کر لے تو بچوں کی پرورش ک ح خت ہو ج ئے‬
‫گ۔‬

‫‪:‬م خذ و مراجع‬

‫‪.‬سنن ابو داود‪ ،‬ج‪ ، :‬ص‪ ، :‬رشیدیہ‪ ،‬دھ ی ) (‬

‫سنن ابي داود‪ ،‬ص‪( ) :‬‬

‫‪(۳) ،۳‬‬ ‫ج مع صغیر مع فیض ال دیر ث لث‪ ،‬ص‪ ، :‬حدیث‬
‫‪.‬ل ح فظ جلال لدین السیوطي‬

‫سنن ابن م جه ‪ ،‬ب كراھی الخ ع ل مراة‪ ،‬ص‪( ) :‬‬

‫قران مجید‪ ،‬پ رہ‪ ، :‬سورة النس ء‪ ،‬ركوع ‪ ،‬ای ‪( ) :‬‬

‫رواہ النس ئي‪ ،‬مشكوة المص بیح‪ ،‬ب الخ ع والطلا ‪( ) ،‬‬
‫ص‪:‬‬

‫الب رة‪ ، :‬الطلا ‪( ) :‬‬

‫الب رة‪ ،‬ای ‪( ) ۳ :‬‬

‫فت وی ع لمگیر ‪ ،‬مصر ‪ ،‬ج د اول‪ ،‬ص‪( ) ۳:‬‬

‫پ رہ‪( ) ........................ ( - ) ، :‬‬
‫الب رة‪ ،‬ع‪۳:‬‬

‫مصنف عبد الرزا ‪ ،‬ج‪ ، :‬ص‪( ۳) ۳ :‬‬

‫مصنف ابن ابی شیبہ ‪،‬ج‪ ، :‬ص‪( ) ، :‬‬

‫مصنف ابن ابی شیبہ ‪،‬ج‪ ، :‬ص‪( ) ، :‬‬

‫پ رہ‪ ، :‬الب رة‪ ،‬ع‪( ) ۳:‬‬

‫بھ ر شری ‪ ،‬ج‪ ، :‬ص‪ ، :‬از صدر الشری ه علامه ) (‬
‫‪.‬محمد امجد ع ي اعظمي قدس سرہ‬

‫بخ ر شریف‪ ،‬ج‪ ، :‬كت الطلا ‪ ،‬ص‪ ، :‬ر؂ض ) (‬
‫‪.‬اکیڈمي‪ ،‬بمبئي‬

‫دارمي‪ ،‬ابن م جه ‪ ،‬بحواله مشكوة المص بیح‪ ،‬ب ) (‬
‫‪.‬المط ه ثلاث ‪ ،‬ص‪:‬‬

‫صحیح مس شریف‪ ،‬اول کت الطلا رض اکیڈمی‪( ) ،‬‬

‫پ رہ‪ ، :‬الب رة‪ ،‬ع‪( ) ۳:‬‬

‫فت وى فیض الرسول‪ ،‬ج‪ ، :‬ص‪ ، :‬م خص از ف یه ) (‬
‫‪.‬م م تي جلاالدین احمد امجد‬

‫الب رة‪( ۳) ۳ :‬‬

‫صحیح بخ ر ‪ ،‬ج‪ ، :‬ص‪ :‬و صحیح مس ‪ ،‬ج‪( ) ، :‬‬
‫‪.‬ص‪ ، :‬رض اكیڈمي‪ ،‬بمبئي‬

‫دار قطنی‪ ،‬ج‪ ، :‬ص‪( ) ۳ :‬‬

‫ح شی الص و ع الجلالین‪ ،‬ج‪ ، :‬ص‪( ) :‬‬

‫عمدة ال ری شرح بخ ری‪ ،‬ج‪ ، :‬ص‪( ) ۳۳:‬‬
‫الطلا ‪ ( ) :‬الب رة‪( ) :‬‬
‫٭٭٭٭٭‬

‫‪Syed _Mukarram_Niyaz‬‬

‫‪7/24/14‬‬

‫مجھے ذاتی طور پر ہم یوں ص ح کے ان جم وں پر اعتراض‬
‫‪ :‬ہے‬

‫ی د رکھیں کہ تین طلاقیں خواہ ایک ہی مح ل میں ہوں واقع ہو‬
‫ج تی ہیں۔ ا یہ عور اس مرد پر حرا ہے‪ ،‬اس حرا کو حلال‬
‫ک فتوی دینے والے بھی لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور مرد تو‬

‫حرا میں مبتلا ہو ہی گی ۔‬

‫ہ تو سمجھتے ہیں کہ ایسے متن زعہ جم ے کہنے سے جہ ں‬
‫تک ممکن ہو احتراز کرن چ ہیے۔‬

‫خ ص طور پر ان رمیشن تکن لوجی کے اس ع می دور میں اس‬
‫طرح کے فتوی (ہم ری حیدرآب دی زب ن میں ‪ :‬ایک م ر دو‬

‫ٹکڑے) ۔۔۔ عوا میں الجھن اور دین سے مزید دوری ک سب ہی‬
‫بنتے ہیں۔‬

‫جس طرح عب دا کے بہ سے م ملا میں ع م ء ک اختلاف‬
‫ہے اسی طرح یہ م م ہ بھی ہے۔ لہذا اس طرح کے م ملا‬
‫میں کوئی حتمی فیص ہ (یوں کہ جیسے وحی ن زل ہوئی ہو۔)‬
‫دینے سے ممکنہ گریز بہتر عمل ہے۔‬

‫ہم رے عہد کے ن مور و م تبر ع م ء نے اس ب سے ات کی‬
‫ہے کہ تنگ نظری اور مس کی عصبی سے ک لینے کے‬

‫بج ئے اس مسئ ہ کو لوگوں کے س منے اس طور سے پیش کرن‬
‫چ ہیے کہ یہ ایک اختلافی مسئ ہ ہے اور دلائل دونوں طرف‬

‫موجود ہیں۔ اگر کوئی شخص تین یکج ئی طلاقوں کو ایک قرار‬
‫دینے والے مس ک کو اختی ر کرت ہے تو اس کی پوری گنج ئش‬
‫اسلا کے اندر موجود ہے اور اس سے کوئی گمراہی ہرگز لاز‬

‫نہیں آتی۔‬

‫‪ :‬اقتب س بشکریہ‬

‫ایک مج س کی تین طلا ‪---‬مجموعہ م لا ع میہ (عط ء اللہ‬
‫)حنیف بھوجی نی‬

‫‪ :‬اس ضمن کی مزید کت‬

‫ایک مج س کی تین طلاقیں اور ان ک شرعی حل (اسلامیہ)‬
‫)(عبدالرحمن کیلانی‬

‫ایک مج س میں تین طلاقیں اور اس ک شرعی حل (ح فظ صلاح‬
‫)الدین یوسف‬

‫‪http://groups.google.com/group/BAZMeQALAM‬‬

‫‪www.urduaudio.com‬‬

‫‪http://hudafoundation.org/‬‬

‫‪sabirrahbar10‬‬

‫‪7/24/14‬‬

‫ڈاکٹر سید شج ع ع ی ق دری‬

‫طلا ثلاثہ کے احک ومس ئل‬

‫ہم رے م شرے میں ا طلا ک رواج کچھ بڑھت ہی چلاج رہ‬
‫ہے‪ ،‬جہ ں ذراغصہ ای فورا طلا دے دی‪ ،‬پھر ایک دودی ج ئیں‬

‫ت بھی م م ہ ہ تھ میں رہت ہےمگر ج نتے ہینکہ ب لکل ت‬
‫اسی وق خت ہوگ ج تین طلا دی ج ئے ‪ ،‬اس لیے تین‬
‫دیتے ہیں۔ پھر فورا ہی ندام ہوتی ہے‪ ،‬ا ع م ء کی طرف ر‬
‫جو ع کرنے سے قبل بڈھے بڑھیوں سے مسئ ہ دری ف ہوت‬
‫ہے‪ ،‬کوئی کچھ کہت ہےاورکوئی کچھ۔بہر ح ل پھر کسی نہ کسی‬
‫طرح ع م ءتک پہنچتے ہین ورکو شش کرتے ہیں کہ کسی نہ‬
‫کسی طرح بیوی ان کے پ س حس س ب رہے۔ ع م ء سے‬
‫کہتے ہیں کہ کچھ گنج ئش نک لئے‪ ،‬مگر یہ م و نہیں کہ تم‬
‫دنی کے ع م ء مل کر بھی شری کے احک میں سے کسی‬
‫حک ک ن طہ بھی ادھر سے ادھر نہیں کرسکتے‪ ،‬کبھی یہ کہتے‬

‫ہیں کسی دوسرے ام کے قول پر عمل کرلی ج ئے تو کیس‬
‫ہے؟ بڑا افسوس ہے‪،‬اج اپنی ضرور کے تح اپنے ام کو‬
‫چھوڑنے کے لیے تی ر ہوگئے توکل خدانخواستہ اپنی غرض‬
‫سے مذہ تبدیل کرنے پر بھی رض مندی ظ ہر کردیں گے‪ ،‬پھر‬
‫چ روں ام موں میں سے کوئی بھی نہیں کہت کہ تین طلاقوں کے‬
‫ب د بھی بیوی حس س ب بیوی رہ سکتی ہے ‪ ،‬کبھی غیر م د‬
‫وں کی مسجد سے فتوی لے اتے ہیں‪ ،‬غرض چ ہتے ہیں مذہ‬
‫ک ن لے کر ی فتوی ک سہ را لے کر حرا کو حلال کرلیں‪ ،‬یہ‬

‫نہیں سوچتے کہ یہ س ری زندگی ک م م ہ ہے‪ ،‬یہ اولاد ک‬
‫م م ہ ہے اورپھر تم نس ک م م ہ ہے ۔ج دول ظوں سے‬
‫ایک اجنبی عور اپ کی بیوی بن گئی توتین ل ظوں سے اگر‬
‫زوجی سے خ رج ہوج ئے تواس میں حیر کی کی ب ہے۔‬

‫مس م ن بھ ئیو!نم ز‪،‬روزہ اوردوسری عب دا میں ہم ری‬
‫کوت ہی ں ظ ہر ہیں‪ ،‬خدا راک ازک ایسے گن ہوں سے ضروربچئے‬

‫جن میں خدانخوستہ اگر اپ مبتلا ہوگئے توتم زندگی ب کہ اس‬
‫کے ب د بھی اپ گن ہوں کے سمندرمیں غر رہیں گے۔ اپنے‬
‫غصہ کو شرعی حدود میں رکھئے اورتین طلا دینے سے‬

‫بچیئے۔ اس مختصر مضمون میں بت ی گی ہے کہ تین طلا بیک‬
‫وق بھی واقع ہوج ئیں گی۔ یہی فیص ہ قران‪ ،‬حدیث‪ ،‬صح بہ‬

‫اورام کے ات سے ث ب ہے‪ ،‬اس کے خلاف س غ ط ہے۔‬
‫بحث میں مخ ل ین کے صرف ان دلائل ک رد کی گی ہے جن پر‬
‫انہیں بہ گھمنڈ ہے اورجوع طور پر وہ است م ل کرتے ہیں‪،‬‬

‫ظ ہر ہے اس موضوع پر بہ کچھ کہ ج سکت ہے اورہم رے‬
‫بزرگوں نے بہ کچھ کہ ہے ۔ ب لخصوص مبسوط‪ ،‬فتح ال دیر‪،‬‬
‫بدائع الصن ئع ‪،‬فت وی اع ی حضر الش ہ احمد رض خ ں بر ی و‬

‫ی رحمۃ اللہ ع یہ نے اس مسئ ہ ک فیص ہ ہی کردی ہے۔‬

‫تین طلا ک مسئ ہ‪:‬اج کل عموم مرد کو ج غصہ ات ہے‪ ،‬وہ‬
‫اپنی بیوی سے اس قس کے ال ظ کہہ دیت ہے۔ ج میں نے تجھ‬

‫کو تین طلا دی ‪ ،‬ب کہ کبھی کبھی تو تین سے زائد طلا بھی‬
‫دیدی ج تی ہے ‪ ،‬یہ ایک ن ق بل انک رح ی ہے کہ لوگ تین‬

‫طلا اسی لیے دیتے ہیں کہ وہ خو ج نتے ہیں کہ بیوی سے‬
‫اس سے ک میں پیچھ نہیں چھوٹ سکت ہے۔ ب د میں جو کچھ‬
‫ہوت ہے وہ صرف بہ نہ س زی‪ ،‬درو گوئی اورحرا شدہ چیز کو‬

‫حلال کر نے کی س ی لاح صل ہوت ہے۔‬

‫اگر کسی مولوی سے غ ط بی نی کرکے حلال لکھوابھی لی ہے‪،‬‬
‫تو ح ی پھر بھی اپنی جگہ برقرار رہے گی‪ ،‬تم زندگی حرا‬

‫ک ری ہوگی اور اولاددراولاد اس گن ہ کے ن پ ک اثرا چ تے‬
‫رہیں گے۔‬

‫تین طلا کے ب د عور حرا ہوج تی ہے‪:‬قران کری میں ہے‬
‫’’الطلا مرتن ف مس ک بم روف اوتسریح ب حس ن‘ (سورہ‬
‫)الب رہ‬

‫طلا دو مرتبہ ہے پھر ی تو اچھے طری ہ سے روک لین ہے ی‬
‫اچھ ئی کے س تھ (بیوی) چھوڑ دین ہے۔‬

‫ت سیر کبیر اوردوسری ت سیر میں ہے کہ یہ ای اس موق ہ پر‬
‫ن زل ہوئی ج ا المومنین سیدہ ع ئشہ رضی اللہ ت لی عنہ سے‬
‫ایک عور نے شک ی کی کہ میرا شوہر مجھ کو طلا دیت رہت‬
‫ہے اورپھر رجوع کرلیت ہے ۔اپ نے یہ واق ہ رسول اللہ ص ی اللہ‬
‫ت لی ع یہ وس سے ذکر کی تو یہ ای ن زل ہوئی۔ ( ام محمد‬

‫)فخرالدین رازی ت سیر کبیر ص حہ ‪:‬ج د‪:‬‬

‫اس ای ک م ہو یہ ہے کہ وہ طلا جس کے ب د رجوع ک ح‬
‫ب قی رہت ہے دومرتبہ ہے (گوی جو م صود ہے وہ ح ہے‬

‫رجوع ک بی ن ہے نہ یہ کہ طلا ع یحدہ ع یحدہ دین لاز ہے۔)‬
‫دو طلا کے ب د ا دو ہی صورتیں ہیں‪ ،‬ی تورجوع کرلی ج ئے‬
‫اوراگر یہ س س ہ مزید چ ن ممکن نہ ہوتو پھر تیسری طلا بھی‬

‫دے دی ج ئے۔‬

‫چن نچہ مشہور م سر ابوبکر الجص ص اپنی ت سیر میں اس ای‬
‫کے تح لکھتے ہیں ’’قد ذکر فی م ن ہ وجوہ احدھ انہ بی ن‬

‫ل طلا الذی تثب م ہ الرج ۃ والث نی انہ بی ن لطلا السنۃ‘‘‬

‫احک ال ران ج د ‪:‬‬

‫ی نی اس ای کے م نی میں مخت ف وجوہ ذکرکی گئی ہیں‪ ،‬ان‬
‫میں سے ایک یہ ہے کہ یہ اس طلا ک ذکر ہے جس میں‬

‫رج ک ح ب قی رہت ہے اور دو سرے یہ کہ یہ طلا سن ک‬
‫طری ہ ہے۔‬

‫ابوبکر جص ص نے اورت ویلا بھی لکھی ہیں‪ ،‬لیکن اہل ع‬
‫سے مخ ی نہیں کہ م سرین قوی اورض یف‪ ،‬اپنوں اور غیروں‬
‫سبھی کے اقوال ن ل کرتے ہیں ۔ اصل قدروقیم ائمہ مذہ کے‬
‫اقوال ہی کی ہے۔ لہذا کسی م سر کی م سرانہ بحث سے خواہ‬

‫مخواہ پریش ن ہونے کی ضرور نہیں۔‬

‫ہ حن ی بھی یہی کہتے ہیں کہ طلا مت ر طور پر دی ج نی‬
‫چ ہیئے‪ ،‬یہی سن طری ہ ہے‪ ،‬لیکن اس ک مط یہ کہ ں سے‬
‫ہواکہ اگرکوئی مسنون طری ہ اختی ر نہ کرے تووہ ف ل جوایک‬
‫ع قل وب لغ سے ص در ہورہ ہے اورب لکل صریح ہے‪ ،‬واقع ہی‬

‫نہ ہو؟ ہ ں سن طری ہ ترک کرنے ک گن ہ ہوگ ۔ ہم ری شری‬
‫میں لات داد احک ایسے ہیں جن کے اداکرنے کے لیے مسنون‬

‫طری ے بت ئے گئے ہیں‪ ،‬مگر اس پر س ک ات ہے کہ اگر‬
‫کوئی شخص ان ک موں کو مسنون طری ہ پرادا نہ کرے ت بھی‬

‫وہ ادا ہوج ئیں گے اگر چہ ترک سن ک گن ہ رہے گ ۔‬

‫ع طور پر م سرین نے جوکچھ لکھ ہے‪ ،‬اس ک خلاصہ یہی‬
‫ہے کہ طلا مت ر طورپر دین چ ہیے‪ ،‬نہ یہ کہ تین طلاقوں کے‬
‫دینے کی مم ن کی گئی ہے‪ ،‬تواس قدر میں ہ بھی مت ہیں۔‬

‫اگرکوئی شخص اپنی بیوی کوایک د دوطلاقیں دے توکی واقع‬
‫ہو ج ئے گی ی نہیں؟ اگرنہیں تو دلائل سے ث ب کیجئے‪ ،‬اوراگر‬
‫دوطلاقیں یکد واقع ہوسکتی ہے توتین کیوں واقع نہیں ہوسکتی‬

‫)ہیں‪’’:‬ول مط ِّ مت ع ب لم ر و ف ‘‘ (سورہ الب رہ ای‬

‫اور طلا دی گئی عورتوں کے لیے رواج کے مط ب س م ن‬
‫ہے’’وان ط تموھن من قبل ان تمسوھن ‘‘(سورہ الب رہ ای‬
‫)‪۳‬‬

‫اوراگر ت ان کو صحب سے پہ ے طلا دے دو۔‬

‫ی ایھ الذین امنوا اذا نکحت المومن ث ط تموھن‘‘‬

‫اے ایم ن والو! ج ت مومنہ عورتوں سے نک ح کرو پھر ان کو‬
‫طلا دو۔‬

‫ان ای میں اوران ہی جیسی ای میں طلا اوراس کے احک‬
‫ک ذکر ہے مگر یہ کہیں نہیں بت ی گی ہے کہ یہ طلا ع یحدہ‬
‫ع یحدہ دی گئیں ہوں ی یکد ‪ ،‬ج دونوں امور ک مذکور نہیں‬

‫تواس کو قواعد کے مط ب ع ہی رہن چ ہئے۔‬

‫اح دیث شری ہ‪:‬اح دیث صحیحہ سے بھی یہی ث ب ہے کہ تین‬
‫طلا واقع ہوج تی ہیں ‪ ،‬خواہ یک د دی ج ئیں ی کہ ع یحدہ‬

‫ع یحدہ۔‬

‫حضر ابن عمر رضی اللہ عنہم نے اپنی بیوی کو حیض کی‬
‫ح ل میں طلا دیدی تھی‪ ،‬پھر اپ نے یہ سوچ کہ دوحیضوں‬
‫میں دوطلا مزید دے دیں‪ ،‬ج رسول اکر ص ی اللہ ت لی ع یہ‬
‫وس کو اس واق ہ کی اطلاع م ی توفرم ی اے ابن عمر!اللہ ت لی‬
‫نے ت کو یہ حک تو نہیں دی ہے‪ ،‬ت نے خلاف سن کی ‪ ،‬سن‬

‫طری ہ یہ ہے کہ ت ہرطہر میں اپنی بیوی کو ایک طلا دو۔‬

‫چن نچہ اپ نے مجھے رجوع ک حک دی (کیونکہ ایک ہی طلا‬
‫دی تھی) اورفرم ی کہ ج پ ک ہوج ئے تو ت اس کو طلا دے‬
‫دین ‪ ،‬ی روک رکھن ‪ ،‬انہوں نے عرض کی‪ ،‬ی رسول اللہ ص ی اللہ‬
‫ت لی ع یہ وس اگرمیں اس کو تین طلا دے دیت تو کی میرے‬

‫لیے پھرحلال ہوج تی؟ اپ نے فرم ی نہیں اوریہ گن ہ کی ب‬
‫ہوتی۔‬

‫)ق ضی محمدثن ء اللہ ت سیر مظہری ص حہ‪۳ :‬ج د‪( :‬‬

‫سند حدیث‪:‬اس حدیث کو دار قطنی اورابن ابی شیبہ نے اپنی‬
‫مصنف میں روای کی ہے‪ ،‬بیہ ی نے اس پر یہ اعتراض کی ہے‬
‫کہ اس کی سند میں عط ء خراس نی نے کچھ زی دا کی ہیں جن‬
‫میں ان ک کوئی مت بع نہیں اور چونکہ وہ ض یف ہین س لیے ان‬

‫کی زی دا غیر مت ب ہ م بول نہ ہوں گی مگر خدا بھلا کر ے‬
‫علامہ ابن ہم ک کہ انہوں نے مت ب ث ب کردی اورفرم ی کہ‬

‫رزی نے اس روای کی مت ب کی ہے اور طبرانی نے بھی‬
‫)اسے روای کی ہے ۔ ( فتح ال دیر‬

‫طلا دے دی تھی مگر حضور ص ی اللہ ت لی ع یہ وس نے‬
‫پھر بھی رجوع کرادی تھ ۔ یہ عج اہل حدیث ہیں کہ صحیح‬
‫حدیثوں کو م نتے ہی نہیں ان سے زی دہ اچھے اہل حدیث تو وہ‬
‫ہوئے جو اپنے اوپر اہ حدیث ک لیبل نہیں لگ تے ہیں‪ ،‬اوروہ‬

‫حدیثوں کو تس ی کرتے ہیں۔‬

‫مس شریف کے ش رح ج یل ال در محدث اسی حدیث کی ب ب‬

‫فرم تے ہیں ’’ام حدیث ابن عمر ن لروای الصحیحۃ التی ذکرھ‬
‫مس وغیرہ انہ ط ہ واحدة‘‘(ابوزکری نواوی شرح مس‬
‫)ص حہ‪ :‬ج د‪:‬‬

‫ابن عمر کے واق ہ میں صحیح روای جن کو ام مس وغیرہ‬
‫نے ذکرکی ہے ‪ ،‬یہ ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایک ہی‬
‫طلا دی تھی۔‬

‫ام بخ ری نے تو بخ ری شریف میں مست ل ایک ب ق ئ کی‬
‫ہے جس ک ن ہے۔’’ من اج ز الطلا الث ث‘‘ی نی اس ب میں‬
‫ان لوگو ں کے لیے دلائل ہیں جو تین طلا کو واقع قرار دیتے‬
‫ہیں۔ حیر ہے کہ اہ حدیث ص حب ن اس س س ے میں ام بخ ری‬
‫تک کو اچھ نہیں سمجھتے ح لانکہ وہ اورموق وں پر ان ک ذکر‬

‫بڑے زور شور سے کرتے ہیں۔‬

‫صحیح بخ ری شریف میں ہے کہ ‪ :‬فط ہ ثلاث ‪ ،‬ی نی حضر‬
‫عمر رضی اللہ ت لی عنہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں‬

‫اور یہ واق ہ حضور ص ی اللہ ت لی ع یہ وس کی موجودگی ک‬
‫ہے۔ چن نچہ اس کے ب د یہ ں می ں بیوی میں جدائی کرا د ی‬
‫)گئی۔(بخ ری و مس ص حہ‪ :‬ج د ‪:‬‬

‫ظ ہر ہے اگر تین طلا واقع نہ ہوتی تو رسول اللہ ص ی اللہ‬
‫ت لی ع یہ وس فر م تےکہ یہ واقع نہ ہوئیں اورکبھی بھی اپ‬

‫ایک لغوک کے ہوتے ہوئے خ مو ش نہ رہتے۔‬

‫سندحدیث‪:‬اس حدیث کی صح میں کسی کو کلا نہیں اس حدیث‬
‫کو بخ ری شریف ص حہ‪ 91:‬جزدو اورمس کے علاوہ نس ئی‬
‫اورابوداود وغیرہ نے بھی بی ن کی ہے۔‬

‫صحیح بخ ری شریف میں حضر ع ئشہ رضی اللہ عنہ سے‬
‫روای ہے’’ان رجلا ط امراتہ ث ث فتزوج فط فسئل النبی‬
‫ص ی اللہ ع یہ وس اتحل للاول ق ل لا حتی یذو عسی تہ کم ذا‬

‫‘‘الاول‬

‫)بخ ری شریف ص حہ‪ :‬ج د ‪( :‬‬

‫ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلا دے دی اس نے‬
‫دوسرے شخص سے ش دی کرلی اس نے بھی طلا دے دی پھر‬
‫اپ سے دری ف کی گی کہ کی وہ پہ ے شوہر کے لیے حلال ہے؟‬

‫اپ نے فرم ی نہیں‪،‬ت وقتیکہ پہ ے شوہر کی طرح دوسرا بھی‬
‫اس سے صحب نہ کرے۔‬

‫اس حدیث سے ث ب ہوا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین‬
‫طلا دے تو ا یہ عور پہ ے شوہر کے لیے بلا حلالہ شرعیہ‬

‫حلال نہیں ہوتی۔ یہ فتوی خود حضور ص ی اللہ ت لی ع یہ وس‬
‫کے زم نہ ک ہے۔ اس میں یہ نہیں لکھ کہ انہوں نے تین طلا‬
‫ع یحدہ ع یحدہ دی تھیں اورخود نبی کری ص ی اللہ ت لی ع یہ‬
‫وس نے بھی یہ ت صیل م و نہیں کی۔ اگر یہ ضروری ہوت تو‬
‫حضور ضرور ان سے یہ ت صیل م و کرتے کہ الگ الگ طلا‬

‫دی ی ایک ب ر۔‬

‫ط رجل امراتہ ثلاث قبل ان یدخل بہ ث بدالہ یندحہ فج ء ’’‬
‫یست تی ق ل فذہب م ہ فس ل اب ھریرة وابن عب س ف ل لا ینکحہ‬
‫حتی تنکح زوج غیرہ ف ل انم ک ن الطلا ای ھ واحدة ق ل ابن‬

‫عب س ارس من یدک م ک ن لک من فضل‘‘( موط ام محمد‬
‫)ص حہ ‪:‬‬

‫ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلا دی صحب کرنے سے‬
‫پہ ے پھر اس نے چ ہ کہ اس سے نک ح لوٹ لے توفتوی لین‬
‫چ ہ ۔ کہتے ہیں کہ میں است ت ء لے کر گی اورابوہریرہ سے‬
‫پوچھ توانہوں نے فرم ی ت اس سے دوب رہ نک ح نہیں‬

‫کرسکتے یہ ں تک کہ وہ دوسرے شخص سے نک ح نہ کرلے‪،‬‬
‫تواس شخص نے کہ یہ توایک ہی طلا ہوا‪ ،‬توابن عب س رضی‬
‫اللہ ت لی عنہ نے فرم ی میرے پ س تمہ رے لیے جو بھلائی کی‬

‫ب تھی تمہیں بت ی ۔‬

‫مخ ل ین ک استدلال اوراس ک جوا ‪:‬وہ حضرا جن کے نزدیک‬
‫بیک وق تین طلا دینے سے ایک ہی طلا واقع ہوتی ہے‪،‬‬
‫‪:‬ع طور پر مندرجہ ذیل اح دیث پیش کرتے ہیں‬

‫ابن عب س رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رک نہ بن عبد یزید‬
‫نے اپنی بیوی کو ایک ہی نشس میں تین طلا دے دی‪ ،‬پھران‬

‫کو اس ک شدید صدمہ ہوا‪ ،‬رسول اللہ ص ی اللہ ت لی ع یہ وس‬
‫نے ان سے دری ف کی ‪ ،‬ت نے کیسے طلا دی تھی؟ وہ بولے‬

‫میں نے ان کو تین طلا دی تھی۔ اپ نے فرم ی کہ ایک ہی‬

‫نشس میں؟ وہ بولے‪ ،‬جی ہ ں! اپ نے فرم ی بے شک یہ ایک‬
‫ہی ہے‪،‬اگرت چ ہو تو رجوع کرلو‪ ،‬چن نچہ اپ نے رجوع کرلی‬
‫)۔(مسند ام احمد‬

‫جوا ‪ :‬اس حدیث کے ب رے میں صح ح ستہ میں سے ایک‬
‫کت کے مصنف ج یل ال در محدث ابوادود فرم تے ہیں’’حدیث‬
‫ن فع بن عجیر وعبداللہ بن ع ی بن یزید بن رک نۃ عن ابیہ عن جدہ‬
‫ان رک نۃ ط امراتہ فردھ الیہ النبی ص ی اللہ ع یہ وس اصح‬
‫لان ولدالرجل واہ ہ اع بہ ان رک نہ ط امراتہ البتۃ فج ہ النبی‬

‫)ص ی اللہ ع یہ وس واحد ة ‘‘ (ابوداود ص حہ‪:‬‬

‫ن فع بن عجیر اور عبداللہ بن ع ی بن یزید بن رک نہ کی روای‬
‫اپنے ب پ کے واسطہ سے اپنے دادا سے کہ رک نہ نے اپنی‬
‫بیوی کو طلا دی تورسول اللہ ص ی اللہ ت لی ع یہ وس نے‬
‫رجوع کرادی زی دہ صحیح ہے۔( ی نی ابن عب س کی حدیث کی بہ‬
‫نسب ) کیونکہ انس ن کی اولاد اورگھر والے ہی ایسے م ملا‬
‫کی زی دہ خبر رکھتے ہیں۔بے شک رک نہ نے اپنی بیوی کو طلا‬
‫البتہ دی تھی‪ ،‬اس کو رسول اللہ ص ی اللہ ت لی ع یہ وس نے‬

‫ایک طلا قراردی ۔‬

‫ح ی یہ ہے کہ حضر ام ابوداود ک استدلال ب لکل ع ل کے‬
‫عین مط ب ہے۔ طلا ایک گھری و واق ہ ہوتی ہے‪،‬ظ ہر ہے کہ‬
‫ابن عب س کی بہ نسب خود رک نہ کے بیٹے و پوتے اس م م ہ‬
‫پرزی دہ صحیح روشنی ڈال سکتے تھے۔ عربی ک مشہور م ولہ‬

‫ہے ’’ ص ح البی ادری بم فیہ‘‘ ی نی گھر ک بھیدی لنک‬
‫ڈھ ئے۔ چن نچہ انہو ں نے بی ن کردی کہ یہ طلا البتہ تھی۔ ل ظ‬

‫البتہ کن ی میں سے ہے‪ ،‬اس سے ایک طلا ک ارادہ کرن‬
‫درس ہے ۔ رہی ابن عب س کی روای تو وہ انہوں نے اپنی فہ‬

‫کے مط ب البتہ کو بم نی ثلاث کے لیتے ہوئے روای کردی‬
‫ہوگی۔ چن نچہ ش رح بخ ری علامہ ابن حجر نے اس توجیہ کو‬

‫)م ول قراردی ہے ۔(علامہ ابن حجر‪ ،‬فتح الب ری‬

‫علاوہ ازیں ابن عب س والی روای میں ایک راوی محمد بن‬
‫اسح ہیں جو حدیث میں ض یف ہیں‪ ،‬اور پھرس سے زی دہ‬
‫عجی ب یہ ہے کہ ابن عب س رضی اللہ عنہم ک اپن فتوی خود‬

‫اپنی روای کے خلاف موجود ہے۔‬

‫ابن عب س رضی اللہ عنہ ک فتوی‪:‬حضر مج ہد کہتے ہیں کہ‬
‫میں ابن عب س رضی اللہ عنہ کے لڑکے کے پ س تھ ‪ ،‬اسی اثن‬
‫میں ایک شخص ای اوراس نے کہ میں نے اپنی بیوی کو تین‬
‫طلا دی ہے ۔ابن عب س قدرے خ موش ہوئے تومیں سمجھ کہ‬
‫ا یہ اس کو رجوع ک حک دیں گے(کیونکہ ان کی روای سے‬
‫یہی ث ب ہوت ہے۔) پھر وہ بولے ت لوگ احم نہ ب تیں کرتے‬
‫ہو۔(ی نی بیک وق تین طلا دیتے ہو۔) پھر کہتے ہو اے ابن‬

‫!عب س! اے ابن عب س‬

‫ابوداود کہتے ہیں کہ اس حدیث کو حمید اعرج نے مج ہد سے ‪،‬‬
‫ش بہ نے عمروبن مرہ عن س ید بن جبیر‪ ،‬ایو نے اورابن‬

‫جریح نے عکرمہ بن خ لد عن س ید بن جبیر‪ ،‬اور ابن جریح نے‬

‫عمروبن دین ر سے ان س نے ابن عب س رضی اللہ عنہ سے‬

‫روای کرتے ہوئے فرم ی کہ انہوں نے تین طلاقوں کو واقع‬

‫م ن ۔ ی نی یہ کہ تین طلا تین ہی ہونگی۔‬ ‫(ابوداود‬

‫)شریف ص حہ ‪، :‬ج د‪:‬‬

‫ج ایک شخص خود ہی اپنی روای کردہ حدیث کے خلاف فتوی‬
‫ص در کررہ ہے توکی یہ اس امر ک کھلا ہواثبو نہیں کہ ی‬

‫تواس نے روای سے رجوع کرلی ‪ ،‬کیوں کہ روای اس کی اپنی‬
‫فہ سے تھی ی اس نے اس کی کوئی ت ویل کی۔ بہر ح ل جو خود‬

‫ابن عب س ک فتوی بھی ہے کہ بیک وق دی ج نے والی تین‬
‫طلا ن فذ ہے توا جھگڑا کی رہ گی ؟ اسی روای میں ’’ط‬

‫امراتہ ثلاث ‘‘ک ل ظ موجود ہے جو مت ہ طورپر بیک وق تین‬
‫طلاقوں کے لیے مست مل ہیں۔اس سے پتہ چلا کہ دوسرے‬

‫م م پران ال ظ کو ع یحدہ ع یحدہ تین طلاقوں پرمحمول کرن‬
‫تک ف ہے۔‬

‫دوسری حدیث غیر م دین یہ پیش کرتےہیں’’عن ابن عب س ق ل‬
‫ک ن الطلا ع ی عہد رسول اللہ ص ی اللہ ع یہ وس وابی بکر‬
‫وسنتین من خلافہ عمر طلا الثلاث واحدة ف ل عمر بن الخط‬

‫ان الن س قد است ج وا فی امر ک ن لہ فیہ ان ة ف ومضـین ہ ع یہ‬
‫‘‘ف مض ہ ع یہ‬

‫مس شریف ص حہ‪ :‬ج د‪ :‬؍ا بوداودشریف ص حہ‪( :‬‬

‫)‬

‫ابن عب س سے روای ہے انہوں نے کہ رسول اللہ ص ی اللہ‬
‫ت لی ع یہ وس اورابوبکر کے عہدمیں اورحضر عمر کے‬
‫زم نہ خلاف میں دوس ل تک تین طلا ایک تھی توعمر رضی‬
‫اللہ عنہ نے فرم ی بے شک لوگوں نے اس ک میں ج دی کی‬

‫جس میں ان کے لیے مہ تھی‪ ،‬ک ش ہ اس کو ان پرن فذ‬
‫کردیں پھر اپ نے اس کو ان پرن فذ کردی ۔‬

‫یہی حدیث ط وس اپنے ب پ سے روای کرتے ہیں کہ ابو الصہب‬
‫نے ابن عب س سے دری ف کی ’’ات انم ک ن الثلاث تج ل‬

‫واحدة ع ے عہدہ النبی ص ی اللہ ع یہ وس وابی بکر وثلاث من‬
‫‘‘ام رة عمر ف ل ابن عب س ن‬

‫)مس شریف ص حہ‪ :‬ج د‪( :‬‬

‫ترجمہ)کی اپ کو م و ہے کہ حضور ص ی اللہ ت لی ع یہ (‬
‫وس اورابوبکر کے عہد میں اورحضر عمر کے زم نہ خلاف‬
‫کے تین س ل تک تین طلاقوں کو ایک ہی کردی ج ت تھ توابن‬
‫عب س نے فرم ی ‪ ،‬ہ ں’’ان ہی‘‘ ابوالصہب ء نے ابن عب س سے‬
‫کہ ’’ھ من ھن تک ال یکن ص ی اللہ ع یہ وس وابی بکر واحدة‬

‫ف ل قدک ن ذالک ف م ک ن فی عہد عمر تت بع الن س فی الطلا‬
‫)ف ج زہ ع یہ ‘‘ (مس شریف ص حہ‪ :‬ج د‪:‬‬

‫لائیے! اپنی عجی ب توں سے کی تین طلا رسول اللہ ص ی اللہ‬

‫ت لی ع یہ وس اورابوبکر کے عہد میں ایک نہ تھی‪ ،‬وہ بولے‬
‫بیشک ایس ہی تھ ‪،‬پھر حضر عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں‬

‫لوگ پے درپے طلا دینے لگے تواپ نے اس کو ان پر ن فذ‬
‫کردی ۔‬

‫یہ ہے وہ روای جس سے غیر م دین استدلال کرتے ہیں اور‬
‫کہتے ہیں کہ حضور ص ی اللہ ت لی ع یہ وس اورابوبکر کے‬
‫عہد میں تین طلا ایک ہی سمجھی ج تی تھی۔ لہذا ا بھی ایس‬

‫ہی ہون چ ہئے۔‬

‫جوا ‪:‬یہ ں ق بل غور امر یہ ہے کہ یہ مسئ ہ م مولی نوعی ک‬
‫نہیں حلال وحرا ک مسئ ہ ہے۔کی یہ ممکن ہے کہ حضر عمر‬
‫رضی اللہ عنہ جس کی ش ن یہ ہے کہ ح عمر کی زب ن پرج ری‬
‫ہوت تھ ‪،‬جو اپ کے دل میں ات ‪ ،‬وہ وحی بن کرن زل ہوت ‪ ،‬جن کی‬
‫پیروی ک خود سرک ردوع ل ص ی اللہ ت لی ع یہ وس نے ہمیں‬
‫حک دی ہے۔ رسول اکر ص ی اللہ ع یہ وس اور حضر ابوبکر‬
‫کی سن کو بدل دیں؟ اورحلال کو حرا قرار دے دیں ؟ اورپھر‬

‫صرف حضر عمر ہی ک م م ہ نہیں‪ ،‬حضر عثم ن‪ ،‬حضر‬
‫ع ی‪ ،‬عشرہ مبشرہ‪ ،‬اورخود حضر ابن عب س رضی اللہ عنہ‬

‫اورتم صح بہ رضی اللہ عنہ ‪،‬حضر عمر کے اتنے اہ‬
‫فیص ے پر مت ہوگئے‪ ،‬برائے ن اختلاف نہیں کی ‪ ،‬اورنہ کسی‬
‫نے یہ کہ کہ اے عمر !ت کوسن رسول اورسن ابوبکر بدلنے‬
‫ک کی ح ہے؟ ح لانکہ اس زم نہ میں خ ی ہ کی ذا تن ید سے‬

‫ب لاتر نہیں تھی۔ حضر عمررضی اللہ عنہ کے کرتے ک واق ہ‬
‫مشہو رہے۔ کئی مس ئل میں اپنے دوسرے صح بہ کے اقوال کی‬

‫طرف رجوع کرلی تھ ‪ ،‬کی یہ س کچھ اس امر کی واضح دلیل‬
‫نہیں کہ حضر عمر رضی اللہ عنہ ک فیص ہ سن رسول اللہ‬

‫اورسن ابوبکر کے مط ب ہی تھ ‪ ،‬کیوں کہ وہ حضرا منش ء‬
‫رسول کو بہ نسب ہم ری زائد سمجھتے تھے‪ ،‬اورہم ری بہ‬
‫نسب عمل پر بھی زائد حریص تھے‪ ،‬ا ہم رے س منے‬

‫دوراستے ہیں۔ ایک طرف توتم صح بہ کرا رضی اللہ عنہ ک‬
‫اجم ع اورات (جو ی ین منش ء رسول کے خلاف نہیں ہوسکت‬

‫ہے) اوردوسری طرف غیر م دین کے چندمولوی ص حب ن ک‬
‫دعوائے حدیث دانی ہے۔ ا مس م ن خودفیص ہ کرلیں انہیں کس‬

‫کی ب م نن ہے؟‬

‫ائیے ا ذرامحدثین نے اس روای کے مت جو کچھ کہ ہے‬
‫‪:‬وہ ملاحظہ فرم ئیں‬

‫ام نووی ابن عب س کی اس روای کے مت فرم تے‬
‫ہیں’’ھذہ الروایۃ لابی داود ض ی ۃ رواہ ایو السنحتی نی عن قو‬

‫‘‘مجہولین عن ط وس عن ابن عب س فلا یحتج بہ‬

‫ابوداود کی یہ روای ض یف ہے۔ اسے ایو سختی نی نے‬
‫مجہول لوگوں سے‪ ،‬ط وس سے‪ ،‬ابن عب س سے روای کی ہے۔‬

‫لہذا اس سے استدلال درس نہیں۔‬

‫اس حدیث میں ابن عب س تین طلا ک حک نہیں بی ن کررہے‬

‫ہیں‪ ،‬ب کہ محض ایک واق ہ ک ذکر کررہے ہیں کہ لوگ پہ ے‬
‫زم نہ میں اج کل کی طرح تین طلا نہیں دیتے تھے ب کہ ایک‬
‫ہی دی کرتے تھے۔ حدیث کے ال ظ اس س س ے میں بہ واضح‬

‫ہیں۔’’ انم الثلاث تج ل واحدة‘‘ ی نی تین طلا جو اج کل دی‬
‫ج رہی ہے (کیو ں کہ الف لا عہد ک ہے) ان کی بج ئے ایک ہی‬
‫دی ج تی تھی۔ قران کری میں بہ م م پرج ل اس م نی میں‬
‫مست مل ہوا ہے جیسے ‘’’اج ل الالہۃ الہ واحدة‘‘ کی اس نے کئی‬

‫م بودوں کوایک کردی ہے؟ ا اس ک مط یہ نہیں کہ مثلا‬
‫سوپچ س م بودوں کو چھوڑ کر ایک ہی م بود برح ک اعت د‬
‫کی ہے۔لہـذا لوگوں ک یہ کہن کہ ج حضور کے زم نہ میں تین‬

‫طلا دی ہی نہیں ج تی تھی توایک کس چیز کو کہ ج ت تھ ‪،‬‬
‫درس نہیں۔‬

‫علامہ نووی فرم تے ہیں ‪ ،‬اس روای ک م ہو یہ ہے کہ ابتداء‬
‫میں ج کوئی شخص اپنی بیوی سے ’’ ان ط ل ‪،‬ان ط ل ‪،‬ان‬
‫ط ل ‘‘ کہت اورا س کی مراد اس سے نہ تو ت کید کی ہوتی اورنہ‬
‫استین ف‪ ،‬ب کہ مط کہہ دیت ‘‘ توایک ہی طلا کے واقع ہونے‬
‫ک حک دی ج ت تھ ‪ ،‬کیوں کہ وہ حضرا اس سے ع طورپر‬

‫استین ف مراد نہیں لیتے تھے ب کہ ت کید ک ارادہ کرتے تھے‬
‫مگر حضر عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اس ل ظ ک است م ل‬
‫بہ ہوگی اورلوگ ع طور پر اس سے استین ف ک ارادہ کرنے‬

‫لگے تو اس کو غ ل پرمحمول کرتے ہوئے تین طلاقوں ک حک‬
‫کی ج نے لگ اوردوسرے جواب بھی ہیں‪ ،‬جو مبسوط کت میں‬

‫درج ہیں۔‬

‫چ روں ام موں ک فیص ہ‪:‬ب ض لوگ سوچتے ہینکہ کسی‬
‫دوسرے ام کے مس ک پرایسے وق عمل کرلین چ ہیے‪ ،‬مگر‬
‫انہیں م و ہون چ ہیے کہ تم دنی کے مس م نوں کی اکثری ان‬
‫چ ر ام موں کی م دہے‪ ،‬ابوحنی ہ‪ ،‬م لک‪ ،‬ش فع‪ ،‬احمد بن حنبل‪،‬‬

‫اوران چ روں ک مت ہ فیص ہ ہے کہ تین طلاقوں کے ب دعور‬
‫حرا ہوج تی ہے۔(شرح ام نووی ع ی مس شریف‬
‫)ص حہ‪:‬‬

‫یکد تین طلا دین بری ب ہے‪:‬یک د تین طلا دینے سے‬
‫طلا واقع ہوج ئے گی مگریہ گن ہ کی ب ہے اورحضور ص ی‬
‫اللہ ت لی ع یہ وس نے اس پرسخ ن راـضگی ک اظہ ر فرم ی‬

‫ہے۔‬

‫محمود بن لبید سے روای ہے کہ’’اخبررسول اللہ ص ی اللہ ع یہ‬
‫وس عن رجل ط امراتہ ث ث تط ی جمی ف غضب ن ث ق ل‬
‫ای بکت اللہ وان بین اظہر ک حتی ق رجل وق ل ی رسول اللہ‬

‫‘‘الا اقت ہ‬

‫ترجمہ)حضور اکر ص ی اللہ ت لی ع یہ وس کو خبری دی گئی (‬
‫کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں ایک د دیدیں‪ ،‬اپ‬

‫سن کر ن راضگی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور فرم ی کی میرے‬
‫ہوتے ہوئے اللہ کی کت سے مذا کی ج ت ہے؟ یہ ں تک کہ‬
‫ایک صح بی اٹھ کھڑے ہوئے اورعرض کی ی رسول اللہ ! کی‬

‫میں اس کو قتل نہ کردوں؟‬

‫ضروری گذارش‪:‬ب ض دوستوں ک خی ل ہے کہ عورتوں کے‬
‫مص ئ اور ان کی تک لیف دیکھتے ہوئے اس مسئ ے میں کچھ‬
‫لچک اورگنج ئش پیداکرنی چ ہیے۔ میں خود شد سے اس امر‬
‫ک ق ئل ہوں کہ فروع میں جہ ں تک ممکن ہو اہل حضرا اجتہ د‬
‫فرم ئیں اورمس م نوں کے لیے راہیں تلاش کریں‪ ،‬لیکن اس کے‬
‫لیے کچھ شرائط ہوتے ہیں‪،‬اگرکوئی مسئ ہ نی ہوتو اس پرکچھ‬
‫بحث وتمحیص ہوسکتی ہے اور اس ن سے اس ن راہ تلاش کی‬

‫ج سکتی ہے لیکن جس مسئ ہ ک فیص ہ ہوچک ہو‪،‬صح بہ‪،‬‬
‫ت ب ین‪ ،‬تبع ت ب ین‪ ،‬ائمہ مجتہدین فیص ہ دے چکے ہوں اورام‬
‫مس مہ کی بڑی اکثری اس فیص ہ کو تس ی کرچکی ہوتو ا اس‬

‫میں مزید کی گنج ئش ب قی رہ ج تی ہے؟‬

‫رہے وہ مص ئ جو طلا کے ب دطرفین کے لیے پیدا ہوج تے‬
‫ہیں۔ ضروری ہےکہ لوگونکو اس مصیب میں پڑنے سے پہ ے‬

‫ہی مط ع کردی ج ئے ۔ میں یہ سمجھنے سے ق صر ہوں کہ ج‬
‫دنی وی قوانین جو خود انس نوں نے بن ئے ہیں‪،‬ان کے مط ب‬
‫سخ سے سخ سزائیں موجود ہیں اورن فذ ہیں ان پرکچھ‬

‫اعتراض نہیں ہوت ‪ ،‬واللہ اوراس کے رسول ص ی اللہ ت لی ع یہ‬
‫وس کے جس ق نو ن سے مجرمین کو تک یف پہنچتی ہے‪ ،‬اس‬

‫پر اعتراض کیوں کی ج ت ہے‪ ،‬اگریہی رجح ن رہ تواسلا کی‬
‫بنی دی ت یم ک تح ظ بھی ن ممکن ہوج ئے گ ۔‬

‫انتب ہ ‪:‬ق رئین پرواضح ہوکہ ایک ہی وق میں تین طلا دینے‬
‫سے تینوں طلا واقع ہونے کے س س ے میں ع م ء دیوبند بھی‬

‫مت ہیں۔ ان سے بھی فتوی ح صل کرکے ش مل اش ع کردی‬
‫‪:‬گی ہے‪ ،‬ذیل میں ملاحظہ فرم ئیں‬

‫سوالا ‪ ) (:‬کی فرم تے ہیں ع م ئے دین وم تی ن شرع متین بیچ‬
‫اس مسئ ہ کے کہ زید اپنی بیوی کوایک ہی وق میں اگر تین‬
‫طلا دے توکی حک ہے ای طلا ہوگی ی نہیں؟‬

‫نیز ب ض حضرا یہ کہتے ہیں کہ ایک ہی وق میں تین ) (‬
‫طلا ایک ہی ہوگی۔‬

‫برائے کر مسئ ہ ک جوا مدلل تحریر فرم کر ممنون فرم ئیں۔‬

‫س ئل ‪ :‬سید ش ہ ترا الح ق دری ‪،‬اپریل ‪1981‬ء‬

‫الجوا ب سمہ ت لی‪:‬۔ اگرکوئی شخص اپنی بیوی کو بیک وق‬
‫ایک ک مہ میں تین طلا دے توتینوں طلا واقع ہوتی ہیں‬

‫اوراگر تین طلا بیک وق تین ک م میں دیں توپھر تینوں واقع‬
‫ہوں گی اگر بیوی مدخو ل بہ ہو‪ ،‬اسی پرس ف ص لحین ک اجم ع‬
‫ہے ح فظ ابن حجر عس لانی نے فتح الب ری ج دنمبر ؍ میں اس‬

‫پراجم ع ن ل کی ہے اوریہی مذہ عبداللہ ابن عب س رضی اللہ‬
‫عنہم ک ہے جس کو ح فظ نے فتح الب ری میں ن ل فرم ی ہے۔‬

‫قران کری سے بھی یہی م ہو ہے کیوں کہ اللہ ت لی نے‬
‫دوطلاقوں کے ذکر کرنے کے ب د فرم ی ’’ف ن ط ہ فلا تحلَ لہ‬

‫من ب د حتی تنکح زوج غیرہ‘‘ف ء ت ی مع الوصل کے لیے ہے‬
‫جس ک مط یہ ہوا کہ تیسری طلا اگردو طلاقوں کے ب د‬

‫متصل ہوتو تینوں طلا واقع ہوکر بغیر حلالہ کے کوئی صور‬
‫تح یل کی نہیں ہے۔ قران سے یہی مسئ ہ واضح طورپر م و‬
‫ہوت ہے اوراسی پرام نووی نے شرح مس ج د ؍پرائمہ ارب ہ‬
‫اورس ف وخ ف ک اجم ع ن ل کی ہے ص حہ‪ :‬؍ بخ ری شریف‬

‫کی حدیث ہے’’عن ع ئشۃ ان رجلا ط امراتہ ثلاث فتزوج‬
‫فط نسئل النبی ص ی اللہ ع یہ وس اتحل الاول ق ل لا حتی یذو‬

‫)ع یتہ کم زاتہ الاول‘‘( بخ ری شریف ص حہ‪ :‬ج د‪:‬‬

‫حضر ع ئشہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو‬
‫تین طلا دی ۔اس کے مت انحضور ص ی اللہ ت لی ع یہ وس‬
‫سے پوچھ گی کہ کی پہ ے خ وند کے لیے حلال ہوسکتی ہے؟‬
‫انحضور نے فرم ی کہ نہیں ج تک کہ دوسرا خ وند اس سے‬
‫لطف اندوز نہ ہو‪ ،‬جیس پہلا خ وند لطف اندوز ہواتھ ۔‬

‫اسی قس کی ایک اورروای بھی حضر ع ئشہ سے موجود‬
‫ہے۔ سنن کبری میں حضر عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‬
‫کہ جو شخص اپنی بیوی کو تین طلا دے توج تک دوسرے‬

‫خ وند سے نک ح نہ کرے پہ ے کے لیے حلال نہیں ہے۔ یہی‬
‫مذہ عبداللہ بن عب س ک ہے جس کو سنن کبری ص حہ‪:‬‬

‫ج د‪ :‬میں ن ل کی ہے ۔مسند ام احمد میں انس بن م لک سے‬
‫مروی ہے کہ انحضر ص ی اللہ ت لی ع یہ وس سے یہ دری ف‬

‫کی گی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلا دے دی پھر‬
‫اسی عور نے دوسرے شخص سے نک ح کی اوراس نے اس‬
‫کو طلا قبل الدخول دی ‪،‬تو کی یہ عور اپنے پہ ے شوہر کے‬
‫لیے حلال ہے؟ اپ نے فرم ی نہیں‪،‬ج تک شوہر ث نی شوہراول‬

‫)کی طرح مب شر نہ کر ے ۔ (ت سیر ابن کبیر‬

‫سنن بیہ ی میں سویدبن غ ہ سے مروی ہے کہ ع ئشہ خثمیہ‬
‫حضر حسن بن ع ی کی زوجی میں تھیں‪ ،‬ج حضر ع ی‬

‫شہید ہوئے توخثمیہ نے حضر حسن کوخلاف کی‬
‫مب رکب ددیحضر حسن کو یہ ب ن گوار گذری کہ اپ کو حضر‬

‫ع ی کی شہ د سے خوشی ہوئی۔‬

‫فرم نے لگے’’ اذھبی ف ن طلال ثلاث ‘‘حضر حسن نے اس ک‬
‫ب یہ مہراوردس ہزار درہ بھیج دیئے‪ ،‬ع ئشہ خثمیہ کو صدمہ‬
‫ہوا‪ ،‬حضر حسن نے فرم ی کہ اگرمیں اپنے جدامجد ک یہ قول‬

‫نہ سنت تورجوع کرت ۔ وہ قول یہ ہے کہ جوشخص اپنی بیوی کو‬
‫تین طلا دے حیض کے وق ی اورکسی طرح تووہ اس کے‬

‫لیے حلال نہیں‪ ،‬یہ ں تک کہ دوسرے شوہر سے نک ح کرے اور‬
‫بھی بہ سے روای ہیں جن کے ن ل کرنے کی یہ ں گنج ئش‬
‫نہیں۔‬

‫دوسرے مسئ ہ میں ب ض مدعی ن حدیث نے دوسرا مس ک‬
‫اختی ر کی ہے اوروہ یہ کہ تین طلا بیک وق ایک ہوتی ہے‬
‫جن ک استدلال اس حدیث سے ہے جوابن عب س رضی اللہ عنہ‬

‫سے مروی ہے‪ ،‬جس کے راوی حضر ط وس ہیں‪ ،‬وہ یہ ہے‬
‫کہ انحضور ص ی اللہ ت لی ع یہ وس اورحضر ابوبکر‬

‫اورحضر عمر کے ابتدائی دوس ل میں تین طلا ایک ہوتی تھی‬
‫۔ حضر عمر نے فرم ی کہ لوگوں نے اپنے م م ہ میں ج د‬

‫ب زی سے ک لی ‪ ،‬ح لانکہ ان کو سمجھنے ک وق ح صل تھ ۔‬
‫ہ کیوں تینوں کو ان پر ن فذ نہ کریں چن نچہ حضر عمر نے‬

‫)تینوں ن فذ کیں ۔ (مس شریف‬

‫اس روای کے بہ سے م ول جواب دیئے گئے ہیں جن میں‬
‫س سے اس ن جوا یہ ہے کہ یہ غیر مدخول بہ کے ب رے‬

‫میں ہے جس کو’’ان ط ل ‪ ،‬ان ط ل ‪ ،‬ان ط ل ‘‘ کہ ج ئے تو‬
‫اس صور میں ایک طلا واقع ہوتی ہے‪ ،‬پھر ج لوگوں نے‬
‫مدخول بہ کو بھی کہن شروع کی توحضر عمر نے فرم ی کہ‬
‫تینوں ن فذ ہوں گی۔ نیزق ضی شوک نی نے ام احمدبن حنبل سے‬

‫ن ل کی ہے کہ ط وس کی روای اپنے دوسرے س تھیوں کے‬
‫خلاف ہے‪ ،‬کیوں کہ وہ اس کے خلاف ن ل کرتے ہیں۔ (نیل‬
‫الاوط ر) ی یہ روای منسوخ ہے۔ جیس کہ ابوداود کی روای‬

‫سے م و ہوت ہے ی پہ ے زم نے کے لوگ تث یث ت کید کے لیے‬
‫کرتے تھے۔ مجھے ب دمیں ت سیس کرتے ہوئے بھی ت کیدظ ہر‬
‫کی توحضر عمر نے ظ ہر پرعمل کرتے ہوئے ت کید کوک ل د‬
‫بن ی ۔ ح صل یہ ہے کہ حضر عمر رضی اللہ عنہ پر یہ گم ن‬
‫کرن کہ انہوں نے حضر محمد ص ی اللہ ت لی ع یہ وس‬
‫اورابوبکر کے فیص ہ کے خلاف فیص ہ کی ‪ ،‬نہ ی ب ید‬

‫اورحضر عمر کی ش ن اتب ع سے کوسوں دور ہے۔‬

‫ف ط واللہ السلا‬

‫کتبہ رض ء الح ع اللہ عنہ‬

‫ج م ۃ ال و الاسلامیہ علامہ بنوری ٹ ون کراچی نمبر‪5‬‬

‫جم دی الث نیہ ‪1401‬ھ‪3‬‬

‫الجوا دو‬

‫)ت خیص فتو ی دارال و کراچی(‬

‫قرانی ای و اح دیث رسول اللہ ص ی اللہ ت لی ع یہ وس ‪،‬‬
‫اجم ع صح بہ کرا رضوان اللہ ت لی ع یہ اجم ین‪ ،‬ت ب ین‪ ،‬تبع‬
‫ت ب ین‪ ،‬ائمہ اورجمہورام ک اس پر ات اوراجم ع چلا ارہ ہے‬

‫کہ اگرکوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلا دے دے توتینوں‬
‫واقع ہوج ئیں گی‪ ،‬چ ہے ایک ہی ل ظ میندے۔ (ہر ح ل میں تین‬

‫طلا واقع ہوں گی) البتہ عور اگر مدخولہ بہ ہوتوالگ الگ‬
‫کہنے کی صور میں صرف پہ ی طلا واقع ہوگی‪ ،‬اوراس سے‬

‫وہ ب ئن ہوج ئے گی اورب قی دولغو ہوج ئیں گی۔‬

‫اس مسئ ہ میں چند غیر م دین کے علاوہ جن میں ح فظ ابن‬
‫تیمیہ اورح فظ ابن قی اوران کے متب ین ش مل ہیں۔ جمہور کی‬
‫کسی نے بھی مخ ل نہیں کی اور مخ ل کیونکر کرتے ‪ ،‬ج‬
‫کہ خود انحضر ص ی اللہ ت لی ع یہ وس کے زم نہ مب رکہ‬

‫میں تین طلا کو تین ہی قرار دی گی اوراپ کے ب د صح بہ کرا‬
‫ک اس پر اجم ع رہ ہے۔جو حضرا ایک مج س میں دی گئی‬

‫تین طلاقوں کوایک طلا ہونے کے ق ئل ہیں‪ ،‬ان کے پ س ایک‬
‫بھی صحیح مرفوع روای موجود نہیں ہے جو ایک مج س میں‬
‫تین طلا دینے سے ایک طلا ہونے پر دلال کرنے والی ہو‪،‬‬

‫اس کے برخلاف ذخیرہ اح دیث میں عہد رس ل کے مت دد‬
‫واق موجو دہیں جن سے ایک مج س میں تین طلا دینے‬

‫سے ہی طلا واقع ہونے ک ثبو م ت ہے۔ اللہ ت لی ہمیں‬
‫جمہور ام کے س تھ منس ک رہنے کی توفی عط فرم ئے۔‬

‫واللہ اع ب لصوا‬

‫اح ر عبدالشکور کشمیری‬

‫دارالافت ء دارال و کراچی‬

‫‪13‬؍‪6‬؍‪1401‬ھ‬

‫الجوا صحیح‪ :‬اح ر محمد ت ی عثم نی ع ی عنہ‪ ،‬دار الافت ء‬
‫دارال و کراچی‬

‫طلا ثلاثہ ک اسلامی تصور‬
‫م تی محمد نظ الدین رضوی‬
‫اللہ ت لی فرم ت ہے’الطلا مرتن ف مس ک بم روفَاوتسریح‬

‫‘‘ ب حس ن‬
‫)سورہ الب رہ (‬
‫طلا دو ب رتک ہے پھر بھلائی کے س تھ روک لین ہے ی‬
‫بھلائی کے س تھ چھوڑ دین ۔‬
‫اس کے ب د ای ‪ ۳‬؍میں فرم ی گی ’ف ن ط ہ فلا تحلَ لہ من‬
‫ب د حتی تنکح زوج غیرہ‬
‫پھر اگر شوہر نے اسے (تیسری) طلا دے دی تو ا وہ عور‬
‫اسے حلال نہ ہوگی یہ ں تک کہ دوسرے شوہر کے پ س رہے۔‬
‫‪ :‬ان ای میں تینوں طلاقوں ک حک بی ن کی گی ہے‬
‫٭ایک اور دو طلا تک شوہر کو رج ک اختی ر ہے‪ ،‬چ ہے تو‬
‫عور کو واپس کر لے اور چ ہے تو چھوڑ دے۔‬
‫٭تیسری طلا کے ب د رج ک اختی ر نہ رہے گ اور عور‬

‫بغیر حلالہ اس کے لیے حلال نہ ہوگی۔‬

‫حک تینوں طلا ک بی ن کر دی گی ‪ ،‬لیکن کسی بھی طلا کے‬
‫س تھ یہ شرط نہیں ذکر کی گئی کہ وہ الگ مج س میں ہو‪ ،‬ب کہ‬

‫ان احک کو مط ‪،‬بلاشرط و قید رکھ اور ق عدہ یہ ہے کہ‬
‫مط اپنے اطلا پر ج ری ہوت ہے۔لہذا قران حکی میں ہر‬
‫طلا ک جو حک بی ن کی گی ہے وہ بہر ح ل ج ری ہوگ ‪ ،‬خواہ‬
‫شوہر نے ایک ہی مج س میں دوسری ی تیسری طلا دی ہوی‬
‫الگ الگ مج س میں۔ ہ ں اگر قران پ ک میں یہ ہوت ‪’’:‬ف ن ط ہ‬
‫فی مج س اخر‘‘( اگر تیسری طلا الگ مج س میں دے دی) تو‬
‫مج س کی شرط ق بل اعتن ء ہوتی لیکن قران حکی میں ایس کہیں‬

‫بھی نہین س لیے یہ شرط قران پر زی دتی ہے ۔‬

‫علاوہ ازیں عربی زب ن ک ق عدہ ہے کہ ’’ف ‘‘ ت ی مع ال ور‬
‫کے لیے ہے ی نی جس چیز پر ف ء داخل ہوتی ہے وہ چیز ف ء‬
‫کے م قبل کے ب د فورا ہوتی ہے‪ ،‬جیسے کسی نے کہ ’’ج ء نی‬
‫زید ف مرو‘‘ ای زید پھر عمرو تو اس ک مط یہ ہے کہ عمر و‬
‫زید کے ب د فورا ای اور اگر انے میں کچھ دیر ہو تو عر ف ء‬
‫کے جگہ ’’ث ‘’ لا تے ہیں ۔ قران حکی میں تیسری طلا ک ذکر‬
‫’’ث ‘‘ کے ل ظ سے نہیں‪ ،‬ب کہ ف ء کے ل ظ سے ہے ‪،‬تو اس ک‬
‫صریح مط یہ ہوا کہ دو طلا کے ب د اگر اسی مج س میں‬

‫فورا بلا ت خیر تیسری طلا دے دی تو یہ طلا بھی ن فذ ہو‬
‫ج ئے گی کہ ’’فورا‘‘ ک ل ظ اسی وق ص د ائے گ ج کہ‬

‫مج س ایک ہو‪ ،‬اصول ف ہ کی مشہور کت ’’من ر‘‘ اور‘‘ نور‬
‫‪:‬الانوار‘‘ میں ہے‬

‫وال ء ل وصل والت ی ‪ ،‬ای لکون الم طوف موصولا ب لم طوف ’’‬
‫ع یہ مت ب لہ بلا مہ ۃ فیتراخی الم طوف عن الم طوف ع یہ‬

‫بزم ن‪ ،‬و ان قل ذلک الزم ن بحیث لا یدرک اذ لو ل یکن الزم ن‬
‫)ف صلااصلا ک ن م رن تست مل فیہ ک مۃ مع‘‘(ص حہ‪۳:‬‬

‫حرف ف ء ت ی مع الوصل کے لیے ہے ی نی یہ بت نے کے لیے‬
‫ہے کہ م طوف‪ ،‬م طوف ع یہ کے ب د ہے اور س تھ ہی بلا مہ‬

‫اس سے متصل بھی ہے‪ ،‬تو م طوف ک زم نہ م طوف ع یہ کے‬
‫ب د ہوگ ‪ ،‬اگر چہ وہ زم نہ اتن ک ہو کہ اس ک احس س نہ ہو‬
‫سکے‪ ،‬کیوں کہ اگر زم نہ ب لکل ہی ف صل نہ ہو تو م رن ہوگ‬

‫اور م ر ن بت نے کے لیے ’’مع‘‘ ک ل ظ است م ل کی ج ت ہے۔‬

‫غیر م دوں کے نزدیک بھی حرف ف ء ک یہی م ہو ہے۔چن نچہ‬
‫ان کے ام مجتہد ملا نذیرحسین دہ وی نے اپنی کت ’’ م ی ر‬
‫الح ‘‘ کے اخر میں جمع بین الصلاتین کی بحث میں یہ لکھ‬
‫‘‘ہے‪’’:‬ف ء ترتی بے مہ کے لیے ہے۔‬

‫یہ قران حکی ک اعج ز ہے کہ کت و سن ک ن لےکر جو فتنہ‬
‫قر قی م میں اٹھ ی ج نے والا تھ اس ک سد ب اس نے‬
‫اپنے نظ بی ن کے ذری ہ تنزیل کے وق ہی فرم دی ۔‬

‫صح ح ستہ کی مشہور کت ’’سنن ابن م جہ شریف‘‘ میں ایک‬

‫ب ہے’’ب من ط ثلاث فی مج س واحد‘‘ ایک مج س میں‬
‫تین طلا ک بی ن۔‬

‫پھر اس کے تح یہ حدیث ن ل کی ہے‪:‬حضر ع مر ش بی‬
‫رضی اللہ ت لی عنہ نے ف طمہ بن قیس سے کہ کہ اپ مجھے‬

‫اپنی طلا ک واق ہ بت ئیں‪ ،‬تو انہوں نے کہ ‪’’:‬ط نی زوجی‬
‫ثلاث ‪ ،‬وہو خ رج الی الیمن ف ج ز ذلک رسول اللہ ص ی اللہ ت لی‬

‫‘‘ع یہ وس‬

‫ترجمہ)میرے شوہر نے یمن کے لیے( گھر سے) نک تے وق (‬
‫مجھے تین طلا دے دیں‪ ،‬تو اللہ کے رسول ص ی اللہ ت لی ع یہ‬

‫وس نے تینوں طلا ن فذ فرم دیں۔‬

‫سنن ابن م جہ ص حہ‪:‬‬

‫یمن کو نک تے وق تین طلا دینے‘‘ کے ل ظ سے عی ں ہو ’’‬
‫رہ ہے کہ ف طمہ بن قیس کے شوہر نے ایک ہی مج س میں‬
‫تینوں طلا دی تھی‪ ،‬اس کی ت ئید اسی حدیث کی دوسری روای‬
‫سے ہوتی ہے‪ ،‬جسے حدیث کی مستند کت ’’دار قطنی‘‘ مین ن‬

‫ال ظ میں ن ل کی گی ہے’’ان ح ص بن المغیرہ ط امرا تہ‬
‫ف طمۃ بن قیس ع ی عہد رسول اللہ ص ی اللہ ع یہ وس ث ث‬
‫‘‘تط ی فی ک مۃ واحدة ف ب نہ منہ النبی ص ی اللہ ع یہ وس ۔‬

‫ح ص بن مغیرہ نے اپنی بیوی ف طمہ بن قیس کو رسول اللہ‬
‫ص ی اللہ ت لی ع یہ وس کے زم نے میں ایک ہی جم ہ مینتین‬

‫طلا دے دی‪ ،‬تو نبی کری ص ی اللہ ت لی ع یہ س نے دونوں‬
‫کو ایک دوسرے سے جدا کر دی ۔ (دار قطنی ص حہ ‪، ۳‬‬
‫)ج د‪:‬‬

‫حدیث پ ک کی دونوں روایتوں سے ث ب ہوت ہے کہ ایک مج س‬
‫میں اور ایک ہی جم ہ میں دی گئی تین طلاقوں کو رسول اللہ‬

‫ص ی اللہ ت لی ع یہ وس نے ن فذ کر دی ‪ ،‬یہی وجہ ہے کہ محدث‬
‫ابن م جہ نے اس حدیث کو ’’ایک مج س میں تین طلا ‘’ کے‬
‫عنوان کے تح ن ل کی ہے۔‬

‫مشہورصح بی رسول حضر عب دہ بن ص م رضی اللہ ت لی‬
‫عنہ ک بی ن ہے کہ ان کے والد نے اپنی بیوی کو ایک ہزار‬

‫طلاقیں دے دیں‪ ،‬میننے رسول اللہ ص ی اللہ ع یہ وس سے اس‬
‫ک مسئ ہ پوچھ تو اپ نے فرم ی ’’ب ن بث ث فی م صیۃ اللہ ت لی‬

‫‘‘و ب ی تسع م ئۃ و سبع و تس ون عدوان وظ م‬

‫ترجمہ)تین طلاقوں سے عور نک ح سے نکل گئی‪ ،‬مگر شوہر (‬
‫اللہ ک ن فر م ن و م صی ک ر ہوا ‪،‬اور ب یہ نو سو ست نوے‬
‫( ) طلا ظ و سرکشی ہے۔‬

‫صنف عبد الرزا ‪ ،‬ص حہ‪ ،۳ ۳:‬ج د‪ :‬؍ دارقطنی‪( ،‬‬
‫)ص حہ‪ ، ۳۳:‬ج د‪:‬‬

‫ظ ہر ہے کہ یہ ہزار طلا ہزار مج سوں میں نہیں دی گئیں‪،‬ب کہ‬
‫غصہ کی وجہ سے ایک ہی مج س مینس طلا دی گئیں‪ ،‬خواہ‬

‫ایک ک مہ میں‪ ،‬ی لگ ت ر کئی ک موں میں۔س ج نتے ہیں کہ ج‬
‫شوہروں کو طلا ک جوش ات ہے تو وہ ایک س تھ بہ سی‬

‫طلا دے بیٹھتے ہیں۔‬

‫حضر عبد اللہ بن عمر رضی اللہ ت لی عنہم سے روای ہے‬
‫کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی ح ل مینطلا دے دی تو‬

‫اس کی وجہ سے رسول اللہ ص ی اللہ ت لی ع یہ وس غض‬
‫ن ک ہو گئے اور انہیں رج ک حک دی ‪ ،‬تو انہوں نے پوچھ‬
‫ی رسو ل اللہ !ارای لو ط تہ ثلاث ؟ ق ل اذا قد عصی ربک‪،‬و‬

‫‘‘ب ن منک امراتک‬

‫ی رسول اللہ !اگر میں نے اسے تین طلا دے دی ہوتی ت کی‬
‫حک ہوت ؟ اپ نے فرم ی ت خدا کے ن فرم ن ہوتے اور تمہ ری‬

‫بیوی تمہ رے نک ح سے نکل ج تی ۔‬

‫اس حدیث پ ک سے دو ب تیں م و ہوئیں۔ ایک یہ کہ حیض کی‬
‫ح ل میں طلا دین گن ہ ہے‪ ،‬اسی لیے رسول اللہ ص ی اللہ ت لی‬
‫ع یہ وس غض ن ک ہوئے تھے‪ ،‬یوں ہی تین طلا ایک س تھ‬

‫دین بھی گن ہ و م صی ہے۔‬

‫دوسری ب یہ کہ حیض کی ح ل میں بھی اگر کوئی ایک س تھ‬
‫تین طلا دے دے تو تینوں طلا پڑ ج ئیں گی اورعور نک ح‬

‫سے نکل ج ئے گی کیوں کہ حضر ابن عمر نے جو سوال‬
‫پوچھ تھ اس ک مط یہی ہے کہ ایک طلا پر تو رج ک‬
‫حک ہے لیکن اگر میں نے ایک کے بج ئے تین طلا دے دی‬

‫ہوتی ت کی حک ہوت ؟ کی اس صور میں بھی رج ک اختی ر‬
‫رہت ؟ اس سے ص ف ظ ہر ہے کہ ان ک سوال ایک س تھ تین‬
‫طلا کے ب رے میں تھ اور وہ بھی ایسی ح ل میں ج کہ‬
‫عور ح ئضہ ہو۔‬

‫غورفرم ئیے‪ ،‬یہ ں دو طرح سے خدائے پ ک کی ن فرم نی ک‬
‫‪:‬ارتک ہو رہ ہے‬

‫ایک تو حیض کی ح ل میں طلا دینے ک ۔ )‪(1‬‬

‫دوسر ے ایک س تھ تین طلا دینے ک ۔ )‪(2‬‬

‫پھر بھی رسول پ ک ص ی اللہ ت لی ع یہ وس نے واضح ال ظ‬
‫میں یہ حک سن دی کہ طلا پڑ ج ئے گی۔ عور نک ح سے‬

‫نکل ج ئے گی‪ ،‬تو اگر کوئی ایک ہی ن فرم نی ک ارتک کرے کہ‬
‫طہر کی ح ل میں ایک س تھ تین طلا دے دے تو اس صور‬
‫میں بدرجہ اولی تینوں طلا پڑ ج ئیں گی۔‬

‫ن فع بن عجیر بن عبد یزید بن رک نہ روای کرتے ہیں کہ‬
‫حضر رک نہ نے اپنی بیوی سہیمہ کو ’’طلا بتہ‘‘ دے دی پھر‬
‫انہوں نے نبی کری ص ی اللہ ت لی ع یہ وس کو واق ہ کی خبر‬
‫دی اور عرض کی کہ خدا کی قس میں نے صرف ایک طلا کی‬
‫نی کی تھی۔رسول اللہ ص ی اللہ ت لی ع یہ وس نے پوچھ ‪ :‬خدا‬

‫کی قس تو نے صرف ایک ہی طلا کی نی کی تھی؟تو رک نہ‬
‫نے عرض کی کہ خدا کی قس میں نے صرف ایک ہی طلا کی‬

‫نی کی تھی تو رسول اللہ ص ی اللہ ت لی ع یہ وس نے ان کی‬
‫(سنن ابی داود‪ ،‬ص حہ‪ ،۳ :‬ج د بیوی انہیں لوٹ دی۔‬
‫)‪1:‬؍ابن م جہ ص حہ‪:‬‬

‫یہ روای ہے حضر رک نہ کے ایک پوتے حضر ن فع بن‬
‫عجیر کی اور انہیں کے دوسرے پوتے عبد اللہ بن ع ی نے بھی‬
‫یہ واق ہ اسی طرح بی ن کی ہے۔ البتہ ان کی روای میں سرک ر‬

‫کے جوا کے یہ ال ظ بھی من ول ہیں’’ہو ع ی م ارد ‘‘ طلا‬
‫)وہی پڑی جس کی تو نے نی کی۔(ایض‬

‫بتہ ‘‘ ک ل ظ مصدر ہے اور مصدر فرد ح ی ی ک بھی احتم ل ’’‬
‫رکھت ہے اور فرد حکمی ک بھی۔ طلا ک فرد ح ی ی ایک ہے‬

‫اور فرد حکمی تین‪ ،‬تو طلا بتہ کے ل ظ میں ’’ایک‘‘ اور‬
‫’’تین‘‘ دونوں ہی افراد ک احتم ل ہے۔ا کسی بھی ایک احتم ل‬
‫کی ت یین ہو گی’’ بی ن نی ‘‘ سے۔ اسی لیے حضر رک نہ نے‬
‫خود ہی اپنی نی بت دی کہ میں نے ایک طلا مرادلی ہے‪ ،‬مگر‬
‫ایک طلا مراد لینے میں چوں کہ تہم ک شبہ ہے کہ بیوی کو‬
‫بچ نے کے لیے احتم ل ک ف ئدہ اٹھ ی ‪ ،‬اس لیے انہوں نے قس‬
‫بھی کھ لی کہ شبہ تہم کی صور میں بی ن نی ک اعتب ر قس‬
‫کے س تھ ہی ہوت ہے اور اس کی مزید توثی کے لیے رسول اللہ‬
‫ص ی اللہ ت لی ع یہ وس نے ان سے دوب رہ قس لی۔ اس سے‬
‫ص ف ظ ہر ہے کہ اگر حضر رک نہ نے’’طلا بتہ‘‘ سے تین‬

‫طلا مراد لی ہوتی تو ان کی بیوی پر تین طلا مغ ظہ واقع‬

‫ہوتی۔ اگر تین طلا کے پڑنے ک احتم ل نہ ہوت تو حضر‬
‫رک نہ‪ ،‬نہ تو قس کھ تے اور نہ ہی رسول اللہ ص ی اللہ ت لی‬
‫ع یہ وس قس لیتے‪ ،‬ایسی صور میں قس لین اور قس کھ ن‬
‫دونوں لغو ہوت ‪ ،‬لیکن ج رسول اللہ ص ی اللہ ت لی ع یہ وس‬
‫نے قس لی اور حضر رک نہ نے قس کھ ئی تو اس سے یہ‬
‫ث ب ہوا کہ اگر ان کی نی تین طلا کی ہوتی تو گو کہ وہ ل ظ‬
‫انہوں نے ایک مج س میں اور ایک ہی دف ہ میں کہ تھ ‪،‬ت ہ‬

‫سرک ر ع یہ الص وة والسلا ک فیص ہ یہی ہوت ‪’’ :‬ہوع ی م‬
‫ارد ‘‘طلا وہی پڑی جس کی تو نے نی کی‪،‬ی نی تین طلا ۔‬

‫حضر مج ہد فرم تے ہیں کہ میں حضر ابن عب س رضی اللہ‬
‫ت لی عنہم کی خدم میں ح ضر تھ ‪ ،‬ایک شخص ان کے پ س‬
‫ای اور عرض کی کہ ’’انہ ط امراتہ ثلاث ‘‘اس نے اپنی بیوی‬
‫کو تین طلا دے دی ہیتو حضر ابن عب س خ موش رہے‪ ،‬یہ ں‬
‫تک کہ مجھے یہ گم ن ہونے لگ کہ یہ اسے رج ک حک دیں‬

‫گے‪ ،‬کچھ دیر ب د فرم ی ‪ :‬ت میں ایک ادمی حم ق کر بیٹھت‬
‫ہے‪ ،‬پھر کہت ہے‪ :‬اے ابن عب س‪ ،‬اے ابن عب س! ح لانکہ اللہ‬
‫ت لی نے فرم دی ہے‪’’:‬و من یت اللہ یج ل لہ مخرج ‘‘جو اللہ‬

‫سے ڈرت ہے اللہ اس کے لیے (گنج ئش کی) راہ نک ل دیت‬
‫ہے۔اور ت تو اللہ سے ڈرے نہیں‪ ،‬تو میں تمہ رے لیے کوئی‬
‫گنج ئش کی راہ نہیں پ ت ’’عصی ربک و ب ن منک امراتک‘‘تو‬
‫نے اپنے ر کی ن فرم نی کی اور تیری بیوی تیرے نک ح سے‬

‫)نکل گئی۔(سنن ابی داود شریف‪ ،‬ص حہ ‪،‬ج د‪:‬‬

‫حضر مج ہد کے علاوہ حضر س ید بن جبیر‪ ،‬حضر عط ‪،‬‬
‫حضر م لک بن ح رث‪ ،‬حضر عمرو بن دین ر رضی اللہ ت لی‬

‫عنہ نے بھی حضر ابن عب س ک یہی فتوی بی ن کی ہے۔‬
‫چن نچہ ابو داود شریف میں ہے’’روی ہذا الحدیث حمید الاعرج‬
‫وغیرہ عن مج ہد و عن س ید بن جبیر و عن عط ء و عن م لک‬
‫بن الح رث و عن عمرو بن دین ر عن ابن عب س‪ ،‬ک ہ ق لوا فی‬

‫‘‘الطلا الثلاث انہ اج زہ ‪ ،‬ق ل‪ :‬وب ن منک‬

‫اس حدیث کو حمید اعرج وغیرہ نے مج ہد‪ ،‬س ید بن جبیر‪ ،‬عط ‪،‬‬
‫م لک ابن ح رث اور عمرو بن دین ر سے روای کی ہے کہ یہ‬
‫س حضرا بی ن فرم تے ہیں کہ حضر ابن عب س نے س ئل‬

‫کی تینوں طلاقونکو ن فذ کر دی اور فرم ی کہ تیری عور نک ح‬
‫سے نکل گئی۔‬

‫)اودائود شریف ص‪ :‬ج د‪( :‬‬

‫اسی نوع کے ایک دوسرے واق ہ کے ب رے میں حضر ابن‬
‫عب س رضی اللہ ت لی عنہم نے یہی فتوی ص در کی ۔ چن نچہ‬
‫حدیث کی مستند کت موط ام م لک میں ہے کہ ایک شخص‬
‫نے حضر عبد اللہ بن عب س سے کہ ’’انی ط امراتی م ئۃ‬
‫تط ی ۃ فم ذا تری ع ی؟‘‘میں نے اپنی بیوی کو سو طلا دے‬

‫ڈالی ہیں‪ ،‬تو اپ مجھے کی فرم تے ہیں؟‬

‫اس کے جوا میں حضر ابن عب س نے فرم ی ’’ط منک‬
‫بثلاث‪ ،‬و سبع و تس ون اتخذ بہ ای اللہ ہزوا‪ ،‬رواہ فی‬

‫الموط ‘‘تیری عور پر تین طلا پڑ گئیں اور ست نوے طلا‬
‫دے کر تو نے اللہ کی ایتوں کے س تھ ٹھٹھ کی ہے۔‬

‫)مشکوة المص بیح بحوالہ موط ام م لک ‪،‬ص حہ‪( :‬‬

‫ان ابن عب س و اب ہریرة و عبد اللہ بن عمرو بن ال ص سئ وا‬
‫عن البکر یط ہ زوجہ ثلاث ؟ فک ہ ق لوا‪ :‬لا تحل لہ حتی تنکح‬

‫‘‘زوج غیرہ۔‬

‫حضر ابن عب س‪ ،‬حضر ابو ہریرہ اور حضر عبد اللہ بن‬
‫عمرو بن ال ص رضی اللہ ت لی عنہ سے سوال کی گی کہ‬

‫دوشیزہ کو اس ک شوہر تین طلا دے دے تو اس ک حک کی‬
‫ہے؟ تو ان س حضرا نے فرم ی کہ وہ عور اپنے شوہر کے‬

‫لیے حلال نہ رہی‪ ،‬ت وقتیکہ حلالہ نہ ہو ج ئے۔‬

‫طح وی شریف‪ ،‬ص حہ‪ ،۳۳:‬ج د‪ :‬؍ مصنف عبد الرزا (‬
‫)‪،‬ص حہ‪ ۳۳۳ :‬ج د‪:‬‬

‫دوشیزہ‘‘ سے مراد وہ عور ہے جس کے س تھ اس کے ’’‬
‫شوہر نے ابھی جم ع نہ کی ہو نہ خ و واقع ہوئی ہواسے ف ہ ء‬

‫کی اصطلاح میں ’’غیر مدخولہ‘‘ کہتے ہیں۔غیر مدخولہ کے‬
‫ب رے میں س ک ات ہے کہ اگر اس ک شوہر الگ الگ‬

‫نشستوں میں اسے تین طلا دے تو اس پر صرف ایک ہی طلا‬
‫پڑے گی‪ ،‬کیوں کہ اس عور ک رشتہ نک ح شوہر سے خو‬

‫مضبوط نہیں ہوت ‪ ،‬اس لیے ایک ہی طلا سے وہ نک ح سے‬

‫نکل ج تی ہے اور ب یہ طلا لغو ہوتی ہیں‪ ،‬ب کہ اگر ایک ہی‬
‫مج س میں شوہر اسے طلا دے لیکن تین ب ر میں دے تو بھی‬

‫ب لات ایک ہی طلا پڑے گی۔ وجہ وہی ہے جو بی ن ہوئی ‪،‬‬
‫غیر مدخولہ پر تین طلا پڑنے کی صرف ایک ہی صور ہے‬

‫‪:‬اور وہ یہ کہ‬

‫٭ شوہر اسے ایک ہی مج س میں طلا دے ۔‬

‫٭ایک ہی مرتبہ اور ایک ہی ک مہ میں تین طلا دے‪ ،‬مثلا یہ‬
‫کہے کہ میں نے ت کو تین طلا دی ۔‬

‫اس لیے غیر مدخولہ کے ب رے میں حضر ابن عب س‪ ،‬حضر‬
‫ابو ہریرہ‪ ،‬حضر عبد اللہ بن عمرو بن ال ص رضی اللہ ت لی‬
‫عنہ ک درج ب لا فتوی اس امر ک قط ی و ی ینی ثبو ہے کہ‬
‫ایک مج س اور ایک ک مہ میں دی ہوئی تینوں طلا تین واقع‬

‫ہوتی ہیں۔‬

‫اس حدیث کی دوسری روای موط ام م لک میں ہے‪ ،‬اس وجہ‬
‫سے یہ امر روز روشن کی طرح عی ں ہو کر ث ب ہو ج ت ہے‪،‬‬
‫‪:‬ا دوسری روای بھی ملاحظہ کیجیے‬

‫محمد بن ای س بن بکیر سے روای ہے کہ ایک شخص نے اپنی‬
‫بیوی کے س تھ دخول سے پہ ے اسے تین طلا دے دی‪ ،‬پھر‬
‫ان ک خی ل اس عور سے نک ح ک ہوا تو وہ فتوی پوچھنے‬
‫ائے‪ ،‬میں بھی ان کے س تھ گی ‪ ،‬انہوں نے حضر عبد اللہ بن‬

‫عب س اور حضر ابو ہریرسے اس کے ب رے میں دری ف‬
‫کی ‪،‬تو دونوں حضرا نے فرم ی ’’لانری ان تنکحہ حتی تنکح‬
‫زوج غیرہ‪ ،‬ق ل‪ :‬ف نم ک ن طلاقی ای ہ واحدة؟ ف ل ابن عب س‪:‬‬

‫‘‘انک ارس من یدک م ک ن لک من فضل۔‬

‫اس عور کے س تھ تیرا نک ح حلال نہیں ت انکہ وہ دوسرے‬
‫شخص کے پ س رہے‪( ،‬ی نی حلالہ کرائے) اس شخص نے کہ‬
‫کہ میں نے تو اسے صرف ایک دف ہ طلا دی ہے؟ تو حضر‬

‫ابن عب س نے فرم ی کہ تیرے لیے جو مزید (دو دف ہ طلا‬
‫دینے ک ) اختی ر تھ تو نے اسے بھی اپنے ہ تھ سے گنوا دی ۔‬

‫)(فتح ال دیر ص حہ‪ :‬؍ ‪ ،‬ج د‪۳:‬‬

‫ی نی ایک ہی دف ہ میں ج تو نے تینوں طلا دے دی تو تجھے‬
‫ا مزیدطلا دینے ک اختی ر نہ رہ کہ شوہر تین ہی طلا ک‬
‫م لک ہوت ہے۔‬

‫اس حدیث پ ک سے بہ کھل کر یہ ب ث ب ہوگئی کہ ایک‬
‫مج س اور ایک ک مہ میں دی ہوئی تین طلا تین پڑتی ہیں۔‬

‫حضر ع مہ فرم تے ہیں کہ ایک شخص حضر ابن مس ود‬
‫رضی اللہ ت لی عنہ کی خدم میں ح ضر ہوا اور عرض کی’’انی‬

‫ط امراتی تس و تس ین ف ل لہ ابن مس ود‪ ،‬ثلاث تبینہ و‬
‫س ئر ہن عدوان‘‘میں نے اپنی بیوی کو نن نوے ( )طلا دی‬
‫ہیں تو حضر ابن مس ود نے فرم ی ‪ :‬تین طلاقوں سے وہ نک ح‬

‫سے نکل گئی اور ب یہ طلا تیری سرکشی ہیں۔ (مصنف‬

‫)عبدالرزا ‪ ،‬ص‪۳ :‬‬

‫حبی بن ث ب کہتے ہیں کہ ایک شخص حضر ع ی بن ابو‬
‫ط ل کی خدم میں ای اور عرض کی’’انی ط امراتی ال‬
‫‘‘‪،‬ف ل لہ ع ی ‪:‬ب ن منک بثلاث و اقس س ئرہن ع ی نس ئک‬

‫میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار( ) طلا دے دی ہے تو‬

‫حضر ع ی نے فرم ی ‪ :‬تین طلا سے تو تیری عور تجھ‬

‫سے جدا ہو گئی اور ب یہ طلاقیں اپنی دوسری بیویوں میں ت سی‬

‫(مصنف عبد الرزا ‪ ،‬ن ہ فی فتح ال دیر‬ ‫)کردو۔‬

‫ایک شخص نے حضر ابن مس ود رضی اللہ ت لی عنہ سے‬
‫عرض کی ’’انی ط امراتی ثم نی تط ی ف ل م قیل لک؟ ف ل‬

‫‘‘‪ :‬قیل لی‪’’ :‬ب ن منک‘’ ق ل صدقوا‪ ،‬ہو مثل م ی ولون۔‬

‫میں نے اپنی بیوی کو اٹھ(‪ )8‬طلا دے دی ہے تو حضر ابن‬
‫مس ود نے پوچھ ‪ ،‬تمہیں اس ک حک کی بت ی گی ؟‪ ،‬س ئل نے‬
‫کہ مجھے یہ بت ی گی ہے کہ تیری عور تجھ سے جدا ہو گئی‪،‬‬
‫تو حضر ابن مس ود نے فرم ی صح بہ نے سچ بت ی ‪ ،‬حک وہی‬

‫)ہے جو وہ بت رہے ہیں۔(موط ام م لک‬

‫حضر ابن مس ود رضی اللہ ت لی عنہ کی تصدی سے ظ ہر‬
‫یہی ہے کہ اس حک پر صح بہ کرا ک اجم ع تھ ۔‬

‫یہ اور اس طرح کے بہ سے اث ر صح بہ ن ل کرنے کے ب د‬
‫ام ابن ہم کم ل الدین حن ی رحمۃ اللہ ع یہ فرم تے ہیں’’ایک‬

‫مج س کی تین طلا کے تین ہونے پر صح بہ کرا ک اجم ع‬
‫ظ ہر ہے‪ ،‬کیوں کہ جس وق خ ی ہ راشد حضر عمر ف رو‬
‫اعظ رضی اللہ ت لی عنہ نے تینوں طلا ن فذ فرم ئی تھی‪ ،‬کہیں‬
‫من ول نہیں کہ اس وق کسی بھی صح بی رسول نے اپ کی‬

‫مخ ل ہو۔‬

‫علاوہ ازیں ن ل اجم ع میں صرف اس ن ل ک اعتب ر ہے جو‬
‫مجتہدین سے من ول ہو ‪،‬اور ایک لاکھ صح بہ کرا میں ف ہ کی‬

‫ت داد بیس سے زی دہ نہیں۔جیسے خ ء‪ ،‬عب دلہ زید بن ث ب‬
‫‪،‬م ذ بن جبل‪ ،‬انس‪ ،‬ابو ہریرہ‪ ،‬اور چند صح بہ رضی اللہ ت لی‬

‫عنہ ‪ ،‬ب قی صح بہ انہیں کی طرف رجوع کرکے مس ئل دری ف‬
‫کرلی کرتے تھے اورہ نے اکثر مجتہدین صح بہ سے یہ صریح‬

‫ن ل پیش کردی کہ مج س واحد کی تین طلا تین ہی ہوتی ہے‬
‫اوراس ب میں ان ک کوئی مخ لف ظ ہر نہ ہوا‪ ،‬توح کے‬

‫ب دکی رہ ‪ ،‬سوائے گمراہی کے‪ ،‬اسی وجہ سے ہم را مذہ یہ‬
‫ہے کہ اگر کسی ح ک نے ایک مج س کی تین طلاقوں کے ایک‬
‫طلا ہونے ک فیص ہ کی تو وہ ن فذ نہ ہوگ ‪ ،‬کیوں کہ اس میں‬

‫)اجتہ د ج ئزنہیں‘‘۔(فتح ال دیر‪ ،‬ص حہ‪، :‬ج د‪۳:‬‬

‫حجۃ الاسلا ام جص ص رازی حن ی رحمۃ اللہ ت لی ع یہ کت‬
‫وسن واث ر صح بہ سے استدلال کے ب د فرم تے ہیں’’ف لکت‬
‫‘‘والسنۃ وإجم ع الس ف توج إی ع الثلاث م وإن ک ن م صیۃ‬

‫ح صل کلا یہ کہ کت اللہ‪ ،‬سن رسول اللہ اوراجم ع صح بہ‬

‫سے ث ب ہوت ہے کہ ایک س تھ دی گئی تینوں طلا لازم ایک‬
‫س تھ واقع ہوتی ہیں اگرچہ یہ گن ہ ہے۔‬

‫)احک ال ران ص حہ‪ ،۳ :‬ج د‪( :‬‬

‫طح وی شریف میں ہے’’لم ک ن ف ل اصح رسول اللہ ص ی اللہ‬
‫ت لی ع یہ وس جمی ف لا یج بہ الحجۃ ک ن کذلک ایض ‪،‬‬
‫‘‘اجم عہ ع ی ال ول إجم ع یج بہ الحجۃ‬

‫ج تم اصح رسول ص ی اللہ ت لی ع یہ وس ک ف ل واج‬
‫الحج ہے تویوں ہی قول عمر ف رو رضی اللہ ت لی عنہ پران‬

‫ک اجم ع بھی واج الحج ہوگ ۔‬

‫) ص حہ‪ :‬؍ ‪،‬ج د‪( :‬‬

‫طحط وی ع ی الدر المخت ر میں ہے’’من انکر وقوع الثلاث ف د‬
‫خ لف الإجم ع ولو حک ح ک ب ن الث ث ت ع واحدة ل ین ذ حکمہ‬

‫‘‘لانہ لا یسو فیہ الإجتہ د‬

‫جس نے ایک مج س کی تین طلا کے تین ہونے ک انک ر کی ‪،‬‬
‫اس نے اجم ع کی مخ ل کی‪ ،‬لہذا اگرکوئی ح ک تین طلاقوں‬
‫کے ایک طلا ہونے ک فیص ہ ص در کردے تو اس ک فیص ہ ن فذ‬
‫نہ ہوگ کیوں کہ اجم عی مسئ ے میں اجتہ د کی گنج ئش نہیں‬

‫ہوتی۔‬

‫اجم ع کی مخ ل ج ئز نہیں‪ ،‬اس کی دلیل قران حکی کی یہ ای‬


Click to View FlipBook Version