The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.

طلاق
مقصود حسنی
فری ابوزر برقی کتب خانہ
اگست ٢٠١٧

Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by پنجاب اکھر, 2017-08-13 07:07:21

طلاق

طلاق
مقصود حسنی
فری ابوزر برقی کتب خانہ
اگست ٢٠١٧

‫کریمہ ہے ’’ و من یش ق الرسول من ب د م تب ِّین لہ الھدی ویتبع‬
‫غیرسبیل المومنین نولِّہ م تولی ونص ہ جہن وس ئ مصیرا۔‘‘(‬
‫)سورہ نس ‪ :‬ای ‪:‬‬

‫اورجورسول ک خلاف کرے ب داس کے کہ ح راستہ اس پر کھل‬
‫چک اورمس م نوں کی راہ سے جدا راہ چ ے ہ اسے اس کے‬

‫ح ل پر چھوڑ دیں گے اوراسے دوزخ میں داخل کریں گے اورکی‬
‫ہی بری جگہ پ ٹنے کی۔‬

‫یہ ای اس ب کی دلیل ہے کہ اجم ع حج ہے ‪ ،‬اس کی‬
‫مخ ل ج ئز نہیں ۔‬

‫)مدارک شریف(‬

‫اوراس سے یہ بھی ث ب ہواکہ مس م نوں ک راستہ ہی صراط‬
‫مست ی ہے۔‬

‫ازالہ شبہ‪:‬کت وسن اوراجم ع صح بہ کے برخلاف دو روایتوں‬
‫سے یہ شبہ ہوت ہے کہ ایک مج س کی تین طلا تین نہ ہوں‬
‫گی‪،‬ب کہ ان سے صرف ایک طلا واقع ہوگی‪،‬وہ روایتیں یہ‬
‫‪:‬ہیں‬

‫ابن جریح کہتے ہیں کہ مجھے ابورافع کے لڑکوں میں سے‬
‫ب ض نے خبر دی کہ عکرمہ نے بت ی کہ حضر ابن عب س نے‬

‫فرم ی ’’ط ابورک نۃا رک نۃ…ث ق ل‪ :‬راجع امراتک ا رک نۃ‪،‬‬
‫‘‘ق ل‪ :‬إنی ط تہ ثلاث ی رسول اللہ!ق ل قد ع م راج ہ‬

‫ابو رک نہ نے ا رک نہ کوطلا دے دی‪،‬رسول اللہ ص ی اللہ ت لی‬
‫ع یہ وس نے فرم ی ’’اپنی بیوی ا رک نہ کولوٹ لو‘‘ انہوں نے‬
‫عرض کی ی رسول اللہ! میں نے تواسے تین طلا دے دی ہے‪،‬‬
‫اپ نے فرم ی ’’ مجھے م و ہے‪ ،‬ت اسے (نک ح کرکے) لو ٹ‬

‫‘ ‘ لو‬

‫)سنن ابی داود‪،‬ص حہ‪، :‬ج د‪( :‬‬

‫حضر ط وس روای کرتے ہیں کہ حضر ابن عب س نے‬
‫فرم ی رسول اللہ ص ی اللہ ت لی ع یہ وس اورحضر ابوبکر‬
‫رضی اللہ ت لی عنہ کے زم نے میں نیز حضر عمر رضی اللہ‬
‫ت لی عنہ کی خلاف کے دوس ل تک تین طلا ایک م نی ج تی‬
‫تھی توحضر عمر بن خط نے فرم ی ’’جس ب میں لوگوں‬
‫کے لیے ڈھیل تھی اس میں انہوں نے ج د ب زی کردی‪،‬ہ اسے‬

‫ان پر ن فذ کردیں گے پھراپ نے ان پر اسے ن فذ فرم دی ۔‬

‫)مس شریف ص حہ‪ ، ، :‬ج د‪( :‬‬

‫ان حدیثوں سے م و ہوت ہے کہ حضر عمر ف رو کے‬
‫زم نے میں تین طلا کو تین قرار دی گی ۔ اس سے پہ ے تین‬
‫طلاقوں کو ایک ہی طلا م ن ج ت تھ ‪،‬لیکن اس استدلال کی‬
‫حیثی ایک شبہ ض یف سے زی دہ نہیں اس کی قدرے تشریح یہ‬

‫‪:‬ہے‬

‫حدیث اول ض یف ومنکر ہے‪ ،‬اس کے راوی مجہول لوگ )‪(1‬‬

‫ہیں’’ام الروایۃ التی رواھ المخ ل ون ان رک نۃ ط ثلاث فج ہ‬
‫‘‘واحدة فروایۃ ض ی ۃ عن قو مجہولین‬

‫یہ روای کہ رک نہ نے تین طلا دی تھی اوررسول اللہ نے اسے‬
‫ایک طلا قرار دی ‪ ،‬ض یف روای ہے جس کے راوی مجہول‬
‫)لوگ ہیں۔(شرح صحیح مس ص‪ ، :‬ج د‪:‬‬

‫ام ابوزکری نووی ش ف ی رحمۃ اللہ ت لی ع یہ نے یہ انکش ف‬
‫فرم ی ۔‬

‫طلا ک م م ہ عموم گھرمیں پیش ات ہے۔ اس لیے گھر )‪(2‬‬
‫والوں کو واق ہ ک صحیح ع ہوت ہے اورگھر کے لوگوں کی‬

‫روای یہ ہے کہ رک نہ نے ’’طلا بتہ‘‘ دی تھی اور خود رک نہ‬
‫نے حضور ص ی اللہ ت لی ع یہ وس کے درب ر میں قس کھ‬

‫کریہ اعتراف کی تھ کہ ان کی نی ایک طلا کی تھی لیکن اس‬
‫کے برخلاف تین طلا کی روای گھر والوں کے علاوہ دوسروں‬

‫کی ہے توم م ہ طلا میں گھر والوں کی روای کے خلاف‬
‫دوسروں کی روای م بول نہ ہوگی۔ چن نچہ محدث ج یل الش ن‬

‫حضر ام ابوداود رحمۃ اللہ ت لی ع یہ ن فع بن عجیر‬
‫اورعبداللہ بن ع ی رضی اللہ ت لی عنہم کی’’طلا بتہ‘‘ والی‬
‫روایتوں کو ن ل کرکے فرم تے ہیں‪’’:‬ق ل ابو داود‪ :‬وھذا اصح‬
‫من حدیث ابن جریح ان رک نۃ ط امراتہ ثلاث لانہ اھل بیتہ وہ‬
‫اع بہ وحدیث ابن جریح رواہ عن ب ض بنی ابی رافع‘‘ (سنن‬

‫)ابی داود شریف‪ ،‬ص حہ‪۳ :‬؍ ‪ ۳‬ج د‪:‬‬

‫ابوداود کہتے ہیں کہ یہ حدیث ابن جریح کی اس روای سے‬
‫رک نہ نے اپنی بیوی کو تین طلا دی تھی صحیح ہے‪ ،‬اس لیے‬

‫کہ ’’طلا بتہ‘‘ کے راوی رک نہ کے گھروالے ہیں اورگھر‬
‫والوں کو واق ہ ک صحیح ع زی دہ ہوت ہے اورابن جریح کی‬
‫روای توابورافع کے ب ض لڑکوں نے کی ہے۔(جورک نہ کے اہل‬

‫خ ندان سے نہیں)۔‬

‫محدث ابوداود ایک اورم پرابن جریج والی روای ن ل کرنے‬
‫کے ب د فرم تے ہیں‪:‬ابوداود نے کہ کہ ن فع بن عجیر اورعبداللہ‬

‫بن ع ی کی یہ روای کہ رک نہ نے اپنی بیوی کو طلا بتہ دی‬
‫تھی اورنبی ص ی اللہ ت لی ع یہ وس نے انہیں رک نہ کو لوٹ دی‬

‫تھ صحیح ہے۔ اس لیے کہ یہ لوگ رک نہ کی اولاد ہیں اوراہل‬
‫وعی ل کواس ب ک خو ع تھ کہ رک نہ نے اپنی بیوی‬

‫کوصرف طلا بتہ دی ہے۔ اس لیے نبی کری ص ی اللہ ت لی‬
‫ع یہ وس نے (رک نہ سے قس لے کر) اسے ایک طلا‬
‫) قراردی ۔(سنن ابی داود‪،‬ص‪ ، :‬ج د ‪:‬‬

‫ام ابوزکری نووی شرح صحیح مس شریف میں یہ لکھنے‬
‫کے ب دکہ تین طلا والی روای کے راوی مجہول لوگ ہیں‬

‫اوروہ روای ض یف ہے‪ ،‬صراح فرم تے ہیں کہ’’وإنم‬
‫‘‘الصحیح منہ م قدمن ہ انہ ط ہ البتۃ‬

‫صحیح روای توصرف وہ روای ہے جو ہ پہ ے ن ل کرائے کہ‬
‫)رک نہ نے’’طلا بتہ‘‘دی تھی۔ (ص حہ‪، :‬ج د‪:‬‬

‫ایک اورمحدث ام ابن حجر ش ف ی فرم تے ہیں’’إن اب داود رجح‬
‫ان رک نۃ إنم ط امراتہ البتۃ کم اخر جہ ھومن طری اہل بی‬

‫رک نۃ وھو ت یل قو لجواز ان یکون ب ض رواتہ حمل ’’البتۃ‘‘‬
‫ع ی الثلاث‪ ،‬ف ل‪ ،‬ط ہ ثلاث فبہذہ النکتۃ ی ف الإ ستدلال بحدیث‬

‫‘‘ابن عب س۔‬

‫محدث ابوداود نے اس روای کو ترجیح دی ہے کہ رک نہ نے‬
‫اپنی بیوی کومحض’’ طلا بتہ‘‘ دی تھی‪ ،‬کیو نکہ اس حدیث‬

‫کے راوی رک نہ کے اہل وعی ل ہیں اوریہ مضبوط دلیل ہے‬
‫اورابن جریج والی روای میں یہ ممکن ہے کہ ب ض راویوں نے‬

‫ل ظ’’ البتۃ‘‘ کوتین طلا پرمحمول کرکے یہ روای کردی ہو کہ‬
‫انہوں نے تین طلا د ی تھی تواس نکتہ کی وجہ سے ابن‬
‫عب س کی اس روای سے استدلال س قط الاعتب ر ہوگ ۔‬

‫)فتح الب ری ص حہ‪،۳ ۳ :‬ج د‪( :‬‬

‫مط یہ ہے کہ ل ظ’’البتۃ ‘‘ایک طلا ک بھی احتم ل رکھت ہے‬
‫اورتین طلا ک بھی جیس کہ گزرا توکسی راوی نے اس ل ظ‬

‫کے دوسرے احتم ل کوس منے رکھتے ہوئے’’ البتۃ‘‘ کی جگہ’’‬
‫ثلاث ‘‘ ’’تین‘‘ روای کردی ‪ ،‬ح لانکہ رک نہ نے ل ظ ’’ث ث ‘‘ سے‬

‫طلا نہ دی تھی ‪ ،‬ب کہ ل ظ’’البتۃ‘‘ سے دی تھی۔‬

‫حضر ابن عب س رـضی اللہ ت لی عنہ کے حوالہ سے )‪(3‬‬
‫مجہول راویوں نے جوحدیث روای کی ہے کہ رک نہ نے تین‬
‫طلا دی اوررسول اللہ ص ی اللہ ت لی ع یہ وس نے اسے ایک‬

‫قرار دی ‪ ،‬یہ حدیث اس لیے بھی ن ق بل عمل اورس قط الاستدلال‬
‫ہے کہ حضر ابن عب س کے فت وی اس کے برخلاف ہیں جن‬

‫میں سے چ ر فت وی ہ نے گذشتہ ص ح میں ن ل کیے‬
‫ہیں۔صح بہ کرا میں سے کسی بھی صح بی سے یہ ن ممکن ہے‬
‫کہ وہ رسول اللہ کی حدیث روای کریں پھر اس کے ب داس کے‬
‫خلاف فتوی ص در کریں۔اسی لیے ع م فرم تے ہیں کہ اگرکوئی‬

‫صح بی حدیث رسول کی روای کے ب داس کے خلاف عمل‬
‫کرے‪ ،‬ی فتوی دے تویہ اس ب کی دلیل ہے کہ وہ حدیث ی‬
‫توب د میں منسوخ ہوگئی ی کسی کی گڑھی ہوئی ہے‪ ،‬اس لیے‬
‫ق بل عمل نہیں۔ چن نچہ’’ نوالانوار‘‘ میں ہے’’والمروی عنہ اذا‬
‫عمل بخلافہ ب دالروایۃ مم ھو خلاف ی ین س ط ال مل بہ لانہ م‬
‫خ ل ہ ل وقوف ع ی نسخہ او موضوعتہ ف د س ط الاحتج ج بہ‘‘‬

‫(نورالانوراص حہ‪/ :‬‬

‫حدیث ک راوی روای کے ب د ج اس کے خلاف عمل کرے‬
‫اوریہ عمل حدیث کے خلاف ہون ی ینی ہوتواس حدیث سے عمل‬
‫س قط ہوج ئے گ ‪ ،‬اس لیے کہ راوی نے اس حدیث کے منسوخ‬

‫ہونے پر اگ ہ ہوکر اس کی مخ ل کی ہے ی وہ حدیث گڑھی‬
‫ہوئی ہے۔ لہذا اس سے استدلال س قط ہوج ئے گ ۔غرض کہ تین‬

‫طلا کوایک قرار دینے والی حدیث تین تین طرح سے ن ق بل‬
‫‪ :‬عمل اورن ق بل استدلال ہے‬

‫اس لیے کہ یہ حدیث ض یف ومنکر ہے‪ ،‬اس کے راوی ‪(1):‬‬

‫مجہول افراد ہیں۔‬

‫اس لیے کہ یہ حدیث حضر رک نہ کے اہل وعی ل کی ‪(2):‬‬
‫روای کے خلاف ہے۔‬

‫اس لیے کہ راوی حدیث حضر ابن عب س ک فتوی اس ‪(3):‬‬
‫کے خلاف ہے۔‬

‫دوسری حدیث جسے حضر ط وس نے حضر ابن عب س سے‬
‫روای کی ہے کہ رسول اللہ ص ی اللہ ت لی ع یہ وس اورحضر‬
‫ابوبکر صدی رضی اللہ عنہ کے دورمیں اورحضر عمر رضی‬
‫اللہ ت لی عنہ کی خلاف کے ابتدائی دوس لوں میں تین طلا ایک‬

‫‪:‬م نی ج تی تھی‪ ،‬یہ بھی دووجہ سے ن ق بل استدلال ہے‬

‫یہ حدیث مط ہے‪،‬جس کے عمو میں مدخولہ کو تین )‪(1‬‬
‫طلا دے ی غیر مدخولہ کو‪ ،‬ایک س تھ ایک ک مہ میں تین طلا‬

‫دے ی کئی دف ہ میں اورکئی ک موں میں‪،‬ایک مج س میں تین‬
‫طلا دے ی الگ الگ کئی مج سوں میں‪ ،‬بہرح ل تین طلا ایک‬

‫ہی طلا م نی ج تی تھی‪ ،‬ح لانکہ یہ بلاشبہ قط ی ین اجم ع‬
‫ام کے خلاف ہے اورام ک اجم ع گمرہی پرنہیں ہوسکت ‪ ،‬اس‬

‫لیے یہ حدیث اپنے عمو واطلا کے لح ظ سے ن ق بل حج‬
‫ہے۔‬

‫حضر ابن عب س رضی اللہ عنہم کے فت وی اس حدیث )‪(2‬‬
‫کے بھی خلاف ہیں‪ ،‬لہذا اس حیثی سے بھی ہے حدیث اپنے‬

‫عمو کے س تھ ق بل حج نہ رہی۔‬

‫ان دونوں وجوہ کے پیش نظر اس حدیث سے یہ استدلال نہیں‬
‫کی ج سکت کہ ایک مج س کی تین طلا ایک ہی ہوئی ہے‪،‬‬

‫کیوں کہ اس حدیث کے عمو میں جیسے ایک مج س داخل ہے‪،‬‬
‫ویسے ہی تین مج سیں بھی توداخل ہیں‪ ،‬س تھ ہی تین طہر بھی‬
‫توش مل ہیں‪،‬توپھر یہ بھی استدلال کی ج سکت ہے کہ تین مج س‬
‫میں اورتین طہر میں اورتین ک م میں دی گئی تین طلا بھی‬

‫ایک ہی طلا ہوگی‪ ،‬ح لا نکہ اس ک ق ئل کوئی بھی نہیں‪،‬‬
‫توم و ہواکہ یہ حدیث موو ل ہے‪ ،‬اسی لیے ع م ئے ام نے‬
‫اس کی کئی ت وی یں فر م ئیں ان میں سے ایک ت ویل یہ ہے کہ‬
‫یہ حدیث خ ص غیرمدخولہ کے مت ہے۔ عہدرس ل اورعہد‬
‫صدی ی میں اورخلاف ف روقی کے ابتدائی دوس لوں تک غیر مد‬

‫خو لہ کوج کوئی طلا دیت تو الگ الگ ایک ایک طلا‬
‫دیت ‪،‬اس لیے ب د کی دوطلا لغوہوج تی اوراعتب ر صرف پہ ی‬
‫والی طلا ک ہوت ‪ ،‬لیکن ب دمیں حضر عمر ف رو رـضی اللہ‬
‫ت لی عنہ کے عہد میں لوگ ایک س تھ اسے تین طلا دینے‬
‫لگے۔ اس لیے ا تینوں طلاقوں ک اعتب ر ضروری تھ ‪ ،‬یہی‬
‫پوری ام مس مہ ک موقف بھی ہے۔اس ت ویل کی ت ئید ابوداود‬

‫‪:‬شریف کی اس حدیث سے ہوتی ہے‬

‫حضر ط وس کہتے ہیں کہ ابوالصہب ء ن کے ایک شخص‬
‫حضر ابن عب س سے اکثر سوال پوچھتے رہتے تھے‪ ،‬انہوں‬

‫نے عرض کی کہ کی اپ کو م و ہے کہ شوہر اپنی غیر مدخولہ‬
‫بیوی کوتین طلا دے دیت تواسے رسول اللہ ص ی اللہ ت لی ع یہ‬

‫وس اورابوبکر صدی کے زم نے میں اورعمر ف رو کی‬
‫خلاف کے ابتدائی دورمیں ایک طلا قراردی ج ت تھ ؟ حضر‬
‫ابن عب س نے فرم ی کیو ننہیں‪ ،‬شوہر ج اپنی بیوی کے س تھ‬

‫دخول (خ و ی جم ع) سے پہ ے تین طلا دے دیت توعہد‬
‫رس ل وعہد صدی ی میں اورعمر ف رو کی خلاف کے ابتدائی‬
‫عہدمیں اسے ایک طلا م ن ج ت تھ پھر ج حضر عمر نے‬
‫یہ مش ہدہ کی کہ لوگ ایک س تھ تین طلا دینے لگے ہیں تواپ‬

‫نے فرم ی کہ تینوں طلا ان پرف فذ کردو۔‬

‫)ص حہ‪، :‬ج د‪( :‬‬

‫مس شریف کی حدیث جو حضر ابن عب س سے مروی ہے‬
‫اس کے ال ظ’’قد استج وا فی امر ک ن لہ ان ة‘‘ ک بھی م د‬
‫یہی ہے کہ الگ الگ تین طلا میں ڈھیل تھی‪ ،‬لیکن انہوں نے‬

‫ج دب زی کرکے ایک س تھ تینوں طلا دین شروع کردی ۔‬

‫اس حدیث پ ک سے بہ کھل کریہ ث ب ہواکہ حضر ابن عب س‬
‫کی دوسری روای جس سے تین طلا کے ایک ہونے ک شبہ‬
‫پیداہورہ تھ اس ک ت خ ص اس صور سے ہے ج کہ‬
‫شوہر نے اپنی غیر مدخولہ کوتین ب ر تین طلا دی ہواوراس‬
‫ب میں ہم را مذہ یہی ہے کہ غیر مدخولہ کواس طرح طلا‬
‫دی ج ئے تو صرف ایک طلا پڑے گی‪،‬س تھ ہی یہ بھی م و‬

‫ہوگی کہ خلاف ف روقی میں لوگوں کی ع د تبدیل ہوچکی تھی‬
‫اوروہ تین ب ر میں طلا دینے کے بج ئے ایک س تھ ہی دف ۃ‬

‫تین طلا دینے لگے تھے‪ ،‬اس لیے حضر عمر ف رو رضی‬
‫اللہ ت لی عنہ نے اسے صح بہ کرا کی موجودگی میں تین طلا‬
‫قراردی ‪ ،‬کیوں کہ ا صور مسئ ہ بدل چکی تھی اوریہی ہم را‬
‫مذہ ہے۔ چونکہ حضر عمر ک یہ فیص ہ شری اسلامیہ کے‬

‫عین مط ب تھ ‪ ،‬اس لیے صح بہ کرا نے بلاانک ر نکیراسے‬
‫تس ی فرم ی جوان کے اجم ع کی دلیل ہے۔‬

‫الح صل کت اللہ‪ ،‬سن رسول اللہ اوراجم ع ام سے یہ ث ب‬
‫ہوگی کہ اگر کوئی مس م ن اپنی مدخولہ بیوی کوایک مج س میں‬
‫تین طلا دے دے خواہ ایک دف ہ مینی کئی دف ہ میں توبہر ح ل‬
‫اس پر تینوں طلاقیں واقع ہوج ئیں گی اوراگر اپنی غیر مدخولہ‬
‫بیوی کوایک مج س میں ایک س تھ تین طلا دے توبھی تینو ں‬

‫طلا پڑج ئیں گی‪ ،‬ہ ں اگرغیرمدخولہ کوایک مج س میں ی‬
‫مت دد مج لس میں‪ ،‬کئی مرتبہ میں‪ ،‬ی کئی ک م میں الگ الگ‬

‫تین طلا دے تو صرف پہ ی طلا پڑے گی اورب دکی دوطلا‬
‫لغو ہو ں گی ۔‬

‫یہی مذہ تم حن یوں‪،‬م لکیوں‪،‬ش ف یون ورحنب یوں ک ہے‬
‫اوریہی مذہ صح بہ کرا ک ہے اور یہی اح دیث سے ث ب ہے۔‬
‫اس کے خلاف اگرکوئی ح ک مس ی غیر مس فیص ہ دے گ تو‬

‫وہ ن فذ نہ ہوگ ب کہ ک ل د وب طل ہوگ ۔ واللہ ت لی اع‬

‫طلا ثلاثہ اورمخت ف افک رو نظری‬

‫مولان غلا رسول س یدی‬

‫ت خیص‪:‬محمد ص بررہبر مصب حی‬

‫بیک وق تین طلاقوں ک حک ‪:‬ام ابوحنی ہ اورام م لک کے‬
‫نزدیک بیک وق تین طلا دین بدع اور گن ہ ہے ۔ ام ش ف ی‬
‫کے نزدیک بیک وق تین طلا دین ہرچند کہ مستح کے خلاف‬
‫ہے ت ہ گن ہ نہیں ہے اور اس مسئ ہ میں دو قول ہیں‪ :‬ایک قول‬

‫میں ام ش ف ی کے مواف ہیں اوردوسرے قول میں ام‬
‫ابوحنی ہ کے س تھ ہیں۔‬

‫علامہ ابن قدامہ حنب ی‪ ،‬ام احمد کے دونوں قولوں کی‬
‫وض ح کرتے ہوئے لکھتے ہیں‪:‬بیک وق تین طلاقوں کے‬
‫دینے میں ام احمد سے مخت ف روای ہیں۔ایک روای یہ ہے‬
‫کہ یہ حرا نہیں ہے اوریہی ام ش ف ی ک مذہ ہے۔ حضر‬
‫حسن بن ع ی‪ ،‬حضر عبدالرحمن بن عوف اورش بی ک بھی‬
‫یہی نظریہ ہے ۔کیونکہ حضر عویمر عجلانی نے ج اپنی‬
‫بیوی سے ل ن کی توکہ ‪ ،‬ی رسول اللہ! ا اگر میں نے ا س کو‬
‫اپنے پ س رکھ تومیرا اسے تہم لگ ن جھوٹ ہوگ ‪،‬اوررسول‬
‫اللہ ص ی اللہ ت لی ع یہ وس کے حک دینے سے پہ ے اس کو‬

‫)تین طلا دے دی۔ (بخ ری ومس‬

‫اوراس س س ے میں نبی ص ی اللہ ت لی ع یہ وس ک انک ر‬

‫من ول نہیں ہے‪ ،‬نیزبخ ری اورمس میں ہے ۔حضر ع ئشہ‬
‫رضی اللہ عنہ بی ن کرتی ہیں کہ حضر رف عہ کی بیوی نے‬
‫رسول اللہ ص ی اللہ ت لی ع یہ وس کی خدم میں ح ضر ہوکر‬
‫عرض کی ‪ ،‬ی رسول اللہ! رف عہ نے مجھے طلا البتہ(مغ ظہ)‬
‫دے دی اورحضر ف طمہ بن قیس رضی اللہ عنہ بی ن کرتی ہیں‬
‫کہ ان کے خ وند نے پیغ کے ذری ہ ان کو تین طلاقیں بھیجیں‪،‬‬
‫اورع ی دلیل یہ ہے کہ ج طلا مت ر طورپر دین ج ئز ہے‬

‫توایک س تھ تین طلا دین بھی ج ئز ہے۔‬

‫ام احمد سے دوسری روای ہے کہ بیک وق تین طلا دین‬
‫بدع اورحرا ہے۔ حضر عمر‪ ،‬حضر ع ی‪ ،‬حضر ابن‬
‫مس ود‪ ،‬حضر ابن عب س‪ ،‬اورحضر ابن عمر ک ی‬

‫‪...‬‬

‫‪aapka10‬‬
‫‪7/24/14‬‬

‫ایک مج س کی تین طلاقوں ک شرعی حک کت وسن کی‬
‫روشنی میں‬

‫ابوالحسن ع وی‬

‫‪:‬طلا دینے ک صحیح طری ک ر‬
‫شری اسلامیہ میں طلا دینے ک صحیح شرعی طری ہ ک ر یہ‬

‫ہے کہ‬
‫۔ بیوی کو ایک وق میں ایک ہی طلا دی ج ئے۔‪1‬‬

‫۔ اور یہ طلا بھی ح ل طہر میں ہو۔‪2‬‬
‫۔ اور اس طہر میں ہو کہ جس میں بیوی سے مب شر ی ت ‪2‬‬

‫زوجی ق ئ نہ کی ہو۔‬
‫پس ایسے طہر میں کہ جس میں بیوی سے مب شر نہ کی ہو‪،‬‬

‫ایک طلا دین طلا سنی کہلات ہے جبکہ ایک وق میں تین‬
‫طلاقیں دین ی حیض و ن س کی ح ل میں طلا دین ی جس طہر‬

‫میں بیوی سے ت ق ئ کی ہو‪ ،‬اس میں طلا دین ‪ ،‬طلا‬

‫بدعی ہے ی نی سن کے مط ب نہیں ہے اور بدع ہے۔‬

‫ج عور کو ح ل طہر میں ایک وق میں ایک طلا دی‬
‫ج ئے تو یہ طلا ‪ ،‬طلا رج ی کہلاتی ہے اور اس کی عد تین‬

‫حیض ہے۔ (الب رة ‪ ) :‬اگر اس عد میں خ وند رجوع کر‬
‫لے توعور اس کے نک ح میں ب قی رہے گی ۔ اور اگر خ وند‬
‫ح ل طہر میں ایک طلا دینے کے ب د رجوع نہ کرے تو عد‬
‫گزرنے کے ب د عور اپنے خ وند سے جدا ہو ج تی ہے لیکن‬

‫‪ :‬اس صور میں عور کے پ س دو اپشن ہوتے ہیں‬

‫۔ چ ہے تواپنے س ب ہ خ وند سے دوب رہ نک ح کر لے۔‪1‬‬

‫۔ اگر چ ہے تو کسی اور مرد سے نک ح کر لے۔‪2‬‬

‫طلا کی یہ صور طلا احسن کہلاتی ہے کہ جس میں ایک‬
‫طلا کے ذری ے دوران عد رجوع نہ کر کے بیوی کو ف ر کر‬

‫دی ج ت ہے اور اس میں اپس میں دوب رہ نک ح ک اپشن بھی‬
‫موجود ہے۔ ہم رے ہ ں جہ ل کے سب سے عوا ‪ ،‬ب کہ عرضی‬
‫ذری ے ایک )‪ (client‬نویس اور وکلاء تک بھی اپنے کلائنٹ‬

‫ہی وق میں تین طلاقوں کے تحریری نوٹس بھجوا دیتے ہیں‬
‫ح لانکہ یہ طرزعمل سراسر شری کے خلاف ہے۔ ایک روای‬

‫‪:‬کے ال ظ ہیں‬

‫محمود بن لبید ق ل ‪ :‬اخبر رسول اللہ ص ی اللہ ع یہ وس عن رجل‬
‫ط امراتہ ثلاث تط ی جمی ف غضب ن ث ق ل ‪ :‬ای‬

‫بکت اللہ وان بین اظھرک حتی ق رجل وق ل ‪ :‬ی رسول اللہ‬
‫الااقت ہ۔(سنن النس ئی‪ ،‬کت الطلا ‪ ،‬ب الثلاث المجموعۃوم فیہ‬

‫)من التغ یظ‬

‫محمود بن لبید سے روای ہے کہ اللہ کے رسولﷺ کو ’’‬
‫ایک شخص کے ب رے خبر دی گئی کہ جس نے ایک ہی س تھ‬
‫اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں۔ اپﷺ (یہ سن کر )‬

‫غصے سے کھڑے ہو گئے اور اپﷺ نے فرم ی ‪ :‬کی کت‬
‫اللہ کو کھیل تم شہ بن لی گی ہے جبکہ میں ابھی تمہ رے درمی ن‬
‫موجود ہوں۔ (اللہ کے رسول ﷺ کو اس قدر شدید غصے میں‬
‫دیکھ کر ح ضرین مج س میں سے) ایک شخص نے کہ ‪ :‬کی میں‬

‫اسے (ی نی ایک س تھ تین طلاقیں دینے والے کو) قتل کر‬
‫‘‘دوں؟‬

‫‪ :‬اسی طرح ارش د ب ری ت لی ہے‬

‫)الطلا مرت ن (الب رة ‪:‬‬

‫‘‘ طلا دو مرتبہ ہے۔ ’’‬

‫اس ای مب رکہ میں’ط ت ن‘ ی نی دو طلاقیں نہیں کہ ہے ب کہ یہ‬
‫کہ ہے کہ طلا دو مرتبہ ہے ی نی ایک ب ر ایک طلا ہے اور‬
‫پھر دوسری ب ر کسی دوسرے وق میں دوسری طلا ہو گی۔‬
‫پس ایک وق میں ایک ہی طلا ج ئز ہے ۔(ت سیر احسن البی ن‬
‫‪ :‬ص ‪ ،‬مولان صلاح الدین یوسف‪ ،‬مطبع ش ہ فہد کمپ یکس‪،‬‬

‫)مدینہ منورہ‪ ،‬مم ک س ودی عر‬

‫‪:‬ایک وق کی تین طلاقوں ک شرعی حک‬

‫ایک وق کی تین طلاقوں کے ب رے اہل ع میں اختلاف ہے ۔‬
‫ب ض اہل ع کے نزدیک ایک وق کی تین طلاقیں تین ہی شم ر‬
‫ہوتی ہیں اور پ کست ن میں ع طور حن ی ع م ک موقف یہ ہے‬

‫کہ ایک وق میں تین طلاقیں دین ‪،‬طلا بدعی ہے اور ایس‬
‫کرنے والا گن گ ر ہے لیکن تین طلاقیں واقع ہو ج ئیں گی جبکہ‬

‫اہل ع کی ایک دوسری جم ع ک موقف یہ ہے کہ ایک وق‬
‫میں تین طلاقیں ‪ ،‬طلا بدعی ہیں اوراس ک مرتک گن ہ گ ر ہو‬
‫گ لیکن یہ تین طلاقیں ایک ہی طلا شم ر ہوں گی۔ پ کست ن میں‬
‫ب ض حن ی ع م اور ع طور اہل حدیث ع م ک یہی موقف ہے۔‬

‫ہم ری رائے میں دوسرا موقف ہی راجح ‪ ،‬کت وسن اور‬
‫‪:‬م صد شری کے مط ب ہے۔ ایک روای کے ال ظ ہیں‬

‫عن ابن عب س ق ل ط رک نۃ بن عبد یزید اخو بن مط امراتہ‬
‫ثلاث فی مج س واحد‪ ،‬فحزن ع یھ حزن شدیدا‪ ،‬ق ل ‪ :‬فس لہ‬

‫رسول اللہ ص ی اللہ ع یہ وس ‪:‬کیف ط تھ ؟ ق ل ‪ :‬ط تھ ثلاث ‪،‬‬
‫ق ل ‪ :‬ف ل ‪ :‬فی مج س واحد ؟ ق ل ‪ :‬ن ‪ ،‬ق ل ‪ :‬ف نم ت ک واحدة‪،‬‬

‫ف رج ھ ان شئ ‪ ،‬ق ل ‪ :‬فرج ھ ‪ ،‬فک ن ابن عب س یری انم‬
‫الطلا عند کل طھر ۔(مسند احمد ‪ :‬؍ ‪ ،‬موسسۃ الرس لۃ‪،‬‬

‫)بیرو‬

‫حضر عبد اللہ بن عب س سے روای ہے کہ حضر رک نہ ’’‬
‫بن عبد یزید نے اپنی بیوی کو ایک ہی مج س میں تین طلاقیں‬
‫دے دیں اور اس پر شدید غمگین ہوئے۔ راوی کہتے ہیں کہ اللہ‬

‫کے رسول ﷺ نے ان صح بی سے دری ف فرم ی ‪ :‬ت نے‬
‫اپنی بیوی کو کیسے طلا دی ہے؟ حضر رک نہ نے عرض‬

‫کی ‪ :‬میں نے اسے تین طلاقیں دی ہیں۔ اللہ کے رسول ﷺ‬
‫نے فرم ی ‪ :‬کی ایک ہی وق میں تین طلاقیں ؟ رک نہ نے‬
‫عرض کی ‪ :‬جی ہ ں ! اللہ کے رسول ﷺ نے فرم ی ‪ :‬یہ‬

‫صرف ایک ہی طلا ہے۔ پس اگر تو چ ہت ہے تو اپنی بیوی‬
‫سے رجوع کر لے۔ پس رک نہ ﷺنے اپنی بیوی سے رجوع‬
‫کر لی ۔ ابن عب س ک کہن تھ کہ ہر طہر میں ایک طلا ہو گی۔‬
‫(ی نی خ وند نے اگر تین طلاقیں دینی ہو تو ایک س تھ دینے کی‬
‫بج ئے ہر طہر میں ایک طلا دے گ ی نی ایک ایک مہینے کے‬

‫‘‘وق ے کے س تھ دوسری اور تیسری طلا دے گ )۔‬

‫اللہ کے رسول ﷺ کی زندگی میں ‪،‬حضر ابو بکر کی‬
‫خلاف اور حضر عمر کی خلاف کے ابتدائی دو س لوں میں‬

‫ایک ہی وق کی تین طلاقیں ایک ہی شم ر ہوتی تھیں۔ حضر‬
‫عمر کے زم نے میں ایک ہی مج س میں تین طلاقیں دینے ک‬
‫رجح ن بہ بڑھ گی تو حضر عمر نے صح بہ سے مشورہ کی‬

‫کہ ایسے شخص کی کی سزا تجویز کرنی چ ہیے جو ایک ہی‬
‫وق میں تین طلاقیں دیت ہے جبکہ شری نے سختی سے اس‬

‫سے منع فرم ی ہے۔ صح بہ کی ب ہمی مش ور سے یہ طے‬
‫پ ی کہ ایسے شخص کی سزا یہ ہے کہ اس پر تین طلاقیں ق نون‬

‫‪:‬ن فذ کر دی ج ئیں۔ ایک روای کے ال ظ ہیں‬

‫عن ابن عب س رضی اللہ عنہ ق ل ک ن الطلا ع ی عھد رسول اللہ‬
‫ص ی اللہ ع یہ وس وابی بکر وسنتین من خلافۃ عمر‪ ،‬طلا‬

‫الثلاث واحدة۔ ف ل عمر بن الخط ان الن س قد است ج وا فی امر‬
‫قد ک ن لھ فیہ ان ة ف وامضین ھ ع یہ ف مض ہ ع یھ ۔(صحیح‬
‫)مس ‪ ،‬کت الطلا ‪ ،‬ب طلا الثلاث‬

‫حضر عبد اللہ بن عب س سے روای سے اللہ کے رسول ’’‬
‫ﷺ کے زم نہ‪ ،‬حضر ابو بکر کے دور خلاف اور حضر‬
‫عمر کے دورخلاف کے ابتدائی دو س لوں میں تین طلاقیں ایک‬
‫ہی شم ر ہوتی تھیں۔ پس حضر عمر نے کہ کہ لوگوں نے‬
‫طلا کے م م ے میں ج دی کی ہے(ی نی ایک ہی وق میں تین‬
‫طلاقیں دینے لگے ہیں) ح لانکہ انہیں اس ب رے مہ دی گئی‬
‫تھی( کہ وہ تین طہر ی تین مہینوں میں تین طلاقیں دیں)۔ پس‬

‫اگر ہ ایسے لوگوں پر تین طلاقیں ج ری کر دیں۔ پس حضر‬
‫‘‘عمر نے انہیں تین طلاقوں کے طور ج ری کر دی ۔‬

‫پس اس وق سے اہل ع میں یہ اختلاف چلا ا رہ ہے کہ ایک‬
‫وق کی تین طلاقیں ایک ہی شم ر ہوں گی ی تین۔ حن ی اہل ع‬

‫ک کہن یہ ہے کہ حضر عمر رضی اللہ عنہ ک یہ فیص ہ‬
‫اگرچہ سی سی اور ق نونی نوعی ک تھ لیکن )‪(judgement‬‬

‫چونکہ اس میں صح بہ کی ایک بڑی جم ع کی مش ور بھی‬
‫ش مل تھی لہذا ہم رے لیے حضر عمر ک فیص ہ حج‬

‫ہے جبکہ اہل ع کی دوسری جم ع ک کہن یہ ہے )‪(binding‬‬
‫کہ حضر عمر ک یہ فیص ہ سی س و قض سے ت رکھت‬
‫ہے جو اس وق کے لوگوں کے لیے تو بطور ق نون‪ ،‬لازمی‬

‫کی حیثی رکھت ہے لیکن ب د میں انے والے )‪(binding‬امر‬
‫ع م ‪ ،‬م تی ن کرا اور جج حضرا کے لیے اس فیص ے کی‬

‫سے زی دہ کچھ نہیں )‪ (precedent‬حیثی ایک عدالتی نظیر‬
‫‪ (primary‬ہے اور ج یہ عدالتی فیص ہ اصل ق نون‬

‫سے ٹکرا رہ ہو گ تو اس )‪source of islamic law‬‬
‫صور میں اصل ق نون کو ترجیح دی ج ئے گی ی نی حدیث‬
‫کی یہ )‪(judgement‬رک نہ کو ترجیح ہو گی۔ اور اس فیص ہ‬
‫توجیح کی ج ئے گی کہ یہ فیص ہ ضرور کے نظریہ کے تح‬

‫عبوری اور وق دور کے لیے ایک صدارتی ارڈیننس‬
‫کی حیثی رکھت تھ ۔ )‪(ordinance‬‬

‫ام ابن قی رحمہ اللہ نے لکھ ہے کہ صح بہ میں حضر عبد‬
‫اللہ بن عب س‪ ،‬زبیر بن عوا ‪ ،‬عبد الرحمن بن عوف‪ ،‬ایک روای‬
‫کے مط ب حضر ع ی اور عبد اللہ بن مس ود رضی اللہ عنہ‬
‫ک بھی یہی فتوی ہے کہ ایک وق کی تین طلاقیں ایک ہی شم ر‬

‫ہوتی ہیں۔ ت ب ین میں سے حضر عکرمہ‪ ،‬ط وس اور تبع‬
‫ت ب ین میں محمدبن اسح ‪ ،‬خلاص بن عمرو‪ ،‬ح رث عک ی‪ ،‬داود‬
‫بن ع ی اور ب ض اہل ظ ہر‪ ،‬ب ض م لکیہ‪ ،‬ب ض حن یہ اور ب ض‬

‫حن ب ہ ک بھی یہی موقف رہ ہے کہ ایک مج س کی تین طلاقیں‬
‫ایک ہی شم ر ہوں گی۔(اعلا الموق ین ‪۳ :‬؍ ‪ ،‬اغ ثۃ ال ھ ن ‪:‬‬

‫) ؍ ‪۳۳‬۔ ‪۳‬‬

‫یہ بی ن کرن بھی ف ئدہ سے خ لی نہ ہو گ کہ ‪1929‬ء میں مصر‬
‫میں حن ی‪ ،‬م لکی‪ ،‬ش ف ی او رحنب ی اہل ع کی ایک جم ع کی‬
‫س رش پر وضع کیے ج نے والے ایک ق نون کے ذری ے ایک‬

‫وق کی مت دد طلاقوں کو ق نون ایک ہی طلا شم ر کی ج ت‬
‫ہے۔ اسی قس ک ق نون سوڈان میں ‪1935‬ء میں‪ ،‬اردن میں‬
‫‪1951‬ء میں‪ ،‬ش میں ‪ 1953‬ء میں‪ ،‬مراکش میں ‪1958‬ء‬
‫میں‪ ،‬عرا میں ‪1909‬ء میں اور پ کست ن میں ‪1961‬ء میں‬
‫ن فذ کی گی ۔(ایک مج س کی تین طلاقیں اور ان ک شرعی حل‬

‫)‪:‬ص ‪ ،‬مطبع دار السلا ‪ ،‬لاہور‬

‫ایک مج س کی تین طلاقوں کو ایک شم رکرنے والوں میں‬
‫م صر حن ی ع م میں م روف دیوبندی ع ل دین مولان س ید‬
‫احمد اکبر اب دی (انڈی )‪،‬مولان عبد الح ی ق سمی (ج م ہ حن یہ‬
‫گ برگ‪ ،‬لاہور) اور ج م ہ ازہر کے ف ر التحصیل بری وی حن ی‬

‫ع ل دین مولان پیر کر ش ہ (س ب جج سپری اپی یٹ شری‬
‫بنچ‪ ،‬پ کست ن) وغیرہ بھی ش مل ہیں۔ م صر ع م ئے عر میں‬
‫شیخ ازہر شیخ محمود ش تو حن ی (ج م ہ ازہر‪ ،‬مصر) ‪ ،‬ڈاکٹر‬

‫وہبہ الزحی ی ش ف ی (دمش ‪ ،‬ش ) ‪ ،‬شیخ جم ل الدین ق سمی‬
‫‪،‬شیخ سید رشید رض مصری اور ڈاکٹر یوسف قرض وی نے بھی‬

‫ایک وق کی تین طلاقوں کو ایک ہی شم ر کی ہے۔ ان اہل اع‬
‫کے ت صی ی فت وی ج کے لیے درج ذیل کت کی طرف رجوع‬

‫‪:‬کریں‬

‫ایک مج س کی تین طلاقیں اور ان ک شرعی حل ‪ ،‬ح فظ صلاح (‬
‫الدین یوسف‪ ،‬مشیر وف قی شرعی عدال ‪ ،‬پ کست ن‪ ،‬مطبع دار‬
‫)السلا ‪ ،‬لاہور‬

‫‪http://groups.google.com/group/BAZMeQAL‬‬
‫‪AM‬‬

‫‪www.urduaudio.com‬‬

‫‪http://hudafoundation.org/‬‬

‫‪Zubair H Shaikh‬‬

‫‪7/24/14‬‬

‫سبح ن اللہ‪ ،‬آپ تم محتر و موقر حضرا نے اخلاص اور‬
‫مستند حوالوں کے س تھ طلا کے مس یل پر مدلل بحث کی ہے‬
‫‪ ...‬اللہ ت لی س کو جزائے خیر دے‪ ....‬جو کچھ بھی مس کی‬

‫اختلاف واقع ہوئے ہیں وہ ج تک اللہ سبح ن ت لی چ ہے‬
‫رہے ی نہ رہے لیکن یہ ب تو طے ہے کہ تم ایمہ کرا اور‬

‫ع م ئے کرا نے اپنی تم زندگی ت وی کے س تھ دینی خدم‬
‫میں عر ریزی کرتے ہوئے گزاردی اور انک اجر اللہ کے پ س‬
‫مح وظ ہے‪ ،‬اور س ک بڑا اجر ہی ہوگ انش اللہ ‪ ،‬اس لئے اس‬

‫کے آگے انکی ت وی وں اور دلی وں پر بحث انہیں کے ق ئ م‬
‫کر سکتے ہیں‪....‬مس کی بحث و مب حث اور قران و حدیث کی‬
‫ت وی وں اور دلی وں ک م ش اللہ ک فی ذخیرہ موجود ہے اور اسے‬
‫صرف دین سے قرب رکھنے والے پڑھتے ہیں اور انہیں کے‬
‫درمی ن یہ بحث بھی ہوتی رہتی ہے جو ب کل ضروری بھی ہے‪،‬‬
‫لیکن اسکے س تھ س تھ مس م ن الن س کی کثیر ت داد کے مسئ ہ‬
‫‪ ..‬ک ق بل ن ذ حل بھی ضروری ہے‪..‬اور طلا کے مسئ ہ میں‬

‫‪...‬کے تح ضروری ہے‬

‫اللہ ت لی اس خ کس ر ک مدع اہل ع و نظر تک پہنچ ئے اور ان‬
‫کے ذری ہ ع م ئے دین تک‪ ..‬اس ط ل ع ک یہ ں موقف‬

‫مس کی بحث اور دلیل و ت ویل کے بج ئے یہ ہے کہ دین کے‬
‫دائرے میں وہ حل پیش کی ج ئے جس سے ع مس م نوں میں‬
‫غیر ضروری اور غیر اصولی طلا ک رحج ن ک ہو‪ ....‬ایک خلا‬

‫ہے جسے پرکرن بے حد ضروری ہے اور جو فی الح ی‬
‫مس م ن الن س اور ع م ئے کرا کے درمی ن پ ی ج ت ہے اور‬
‫جس ک سب ایک کثیر ت داد کی دین سے دوری ہے‪ ...‬جہ ں‬
‫مس م نوں ک ایک بڑا طب ہ دین کو صرف طلا اور نم ز جن زہ‬
‫تک محدود کر کے رکھت ہے اور پیدائیش سے لے کر ب یہ تم‬
‫عمر غیر دینی اصولوں کی پیروی میں گزارت ہے‪ ...‬انہیں قرآن‬
‫واح دیث کی ان دلی وں اور ت وی وں کی نہ ہی سوجھ بوجھ ہے‬
‫اور نہ ہی وہ اسے سمجھن چ ہتے ہیں ‪ ....‬لیکن نہ ہی دین نے‬
‫اور جید ایمہ کرا اور ع م ئے کرا نے انکی اس کوت ہی ک یہ‬
‫مط لی ہے کہ انکے دینی مس ئل کے حل پیش کرنے سے پہ و‬
‫تہی کی ج ئے‪ .....‬ب کہ انکی تو یہ کوشش رہی ہے کہ وہ ایسے‬
‫دین سے دور مس م نوں تک پہنچن چ ہتے ہیں‪ ...‬ا کسی نہ‬
‫کسی کو یہ خلا پر کرن ہوگ اور پل ک ک کرن ہوگ اور زمینی‬
‫ح ئ ع م ئے کرا اور م تی ن کرا تک پہنچ نے ہونگے ت کہ‬
‫‪...‬طلا کے مس ئل ک حل بطور 'ح ظ م ت د ' ح صل کی ج ئے‬

‫لیتے ہوئے اور ‪Preventive Measures‬‬
‫ہوتے ہوئے‪ ....‬اور دور جدید میں اس پل کی ‪pro-active‬‬

‫ذمہ داری اہل ع و نظر و خبر بہتر طور سے انج دے سکتے‬
‫ہیں‪ ،‬خ صکر وہ جو دور جدید کے عوا الن س کے بھی قری‬
‫‪....‬ہیں اور دین اور ع م ئے دین کے بھی‬

‫زمینی ح ئ وہی ہیں جس ک تذکرہ ب رہ اہل فکر و نظر کرتے‬
‫ہیں‪ ....‬اول تو نک ح اور طلا کے ضمن میں جو دلی یں اور‬
‫ت وی یں ہیں انہیں دور جدید کے مس م نوں کی اکثری نہ ہی‬

‫سمجھتی ہے اور نہ سمجھن چ ہتی ہے‪ ....‬انکی کی دینی تربی‬
‫ایک الگ مو ضوع ہے جس پر یہ ں بحث بے ج ہے ‪ ....‬اس‬
‫لئے نک ح ن مہ کے س تھ ایک ق نونی قرار داد ہوسکتی ہے جس‬
‫میں ع فہ زب ن میں‪ ،‬ب کہ انکی اپنی اپنی م دری زب ن میں‬

‫اختص ر کے س تھ نک ح و طلا کے م ملا کو پیش کی‬
‫ج سکت ہے‪ ،‬مس کی ترجیح کے س تھ لیکن بغیر مس کی بحث‬

‫کے س تھ کہ ع مس م ن کو اس بحث سے کوئی واسطہ نہیں‬
‫اور نہ ہی وہ رکھن چ ہت ہے‪ ،‬بھ ے یہ اسکی ن اہ ی ہے‪......‬‬
‫لیکن وہ نک ح کو ایک دینی فریضہ سمجھ کر انج دین ضرور‬
‫چ ہت ہے‪ ،‬اور یہ نکتہ بے حد اہ ہے کہ وہ کہیں نہ کہیں دین‬
‫سے جڑا ہے اور مست بل میں قوی امک ن ہیں کہ وہ دین سے‬
‫اور بھی قری ہوج ئے ‪ .....‬الغرض نک ح اور طلا کے ضمن‬
‫میں ایک مختصر ع فہ ق نونی قرارداد اور ممکن ہوسکے تو‬
‫دس منٹ ک مختصر تربیتی پروگرا اگر نک ح سے قبل ی عین‬
‫نک ح خوانی کے وق دونوں فری کے لئے لاز کر دی ج ئے تو‬
‫اس خ کس ر کے خی ل میں دین میں اسکی کوئی مم ن نہیں‬

‫ہوگی‪ ....‬دور جدید کے اکثر نک ح ی نک ح ن موں کی حیثی دین‬
‫سے دور رہنے والوں کے نزد ق نونی قراردار کی نہیں ہے ‪..‬‬
‫ع بول چ ل کی زب ن میں اسے نک ح کے دو بول ہی کہ ج ت‬

‫ہے‪ ...‬نک ح کو آس ن کرنے کے احک ک اس قدر غ ط مط اخذ‬
‫کی گی ہے کہ اس کی اہمی ا ش دی کی طویل رسموں میں‬

‫اتنی ہی رہ گئی ہے جتنی ہوائی جہ ز میں چڑھنے کے لئے بے‬
‫قرار مس فر کو بورڈنگ پ س کے حصول کی ہوتی ہے‪ ...‬دنی‬
‫کے اکثر مس مم لک کے ق نون دنیوی اور دینی نظ ک‬

‫مجموعہ وا قع ہوئے ہیں اور خ لص اسلامی نہیں ہیں اس لئے‬
‫بھی نک ح ن مہ کی مس حیثی تبھی تک ق ئ رہتی ہے ج تک‬

‫‪...‬طلا در پیش نہیں ہوتی‬

‫‪ ....‬واللہ ہو ع ل ب لصوا‬

‫خ کس ر‬

‫زبیر‬

‫‪Rana Humayun Rasheed‬‬

‫‪7/28/14‬‬

‫جن مکر نی ز ص ح ‪ ،‬جیس کہ آپ ج نتے ہیں کہ ب ض‬
‫اختلاف صح بہ رضی اللہ عنھ اور ت ب ین رحمھ اللہ سے چ ت آ‬

‫رھ ہے‪ ،‬مثلا رفع الیدین اور ف تحہ خ ف الام وغیرہ۔ ان کے‬
‫اختلاف سے کوئی بھی انک رنہیں کرت ۔ لیکن جس مسئ ے میں‬

‫اختلاف ہی نہ رھ ہو اس میں اختلاف کرن کہ ں کی ع مندی‬
‫ہے؟ آپ کو م و ہو گ کہ ک ر مکہ نے کہ تھ کہ ایک دن ہ‬
‫آپکے خدا کی عب د کرتے ہیں ایک دن آپ ہم رے کی کریں۔‬
‫بظ ہر یہ وسیع نظری ہی تھی لیکن اسلا نے اسے مسترد کر‬
‫دی ۔ جن محتر ‪ ،‬مث ل تھوڑی سخ ہے لیکن وسیع نظری اور‬
‫حد سے گزرنے میں فر ہے۔ وسیع نظری ہمیں قبول ہے لیکن‬

‫حد سے گزرن نہیں۔‬

‫اگر آپ ایک مح ل کی تین طلاقوں کے ایک ہونے کو مس ک‬
‫م نتے ہیں تو برائے مہرب نی ان س ف ص لحین ی نی صح بہ‬
‫رضی اللہ عنھ ‪ ،‬ت ب ین آئمہ اور محدثین رحمھ اللہ ک ن بت ئیے‬
‫جو اسکے ق ئل تھے اور فتوی دیتے تھے کیونکہ قرآن اور‬
‫حدیث کو میں اور آپ تو غ ط سمجھ سکتے ہیں صح بہ نہیں۔‬
‫جبکہ ایک جم ے کی تین طلا کے تین ہونے ک صح بہ اور‬
‫ت ب ین رضی اللہ عنھ ک فتوی اسی گ تگو میں میں پہ ے مع‬

‫عربی متن اور حوالے کے ذکر کر چک ہوں دوب رہ ملاحظہ فرم‬
‫لیں۔ ی نی پہ ی صدی میں کون صح بی اور ت ب ی رضی اللہ عنہ‬

‫تین کے ایک ہونے ک فتوی دیت تھ ۔‬

‫امید ہے نکتے ک نکتے کے س تھ ہی جوا دیں گے۔ اور اگر‬
‫س ف ص لحین رحمھ اللہ ک فتوی ایک جم ے کی تین ک تین م نن‬

‫ہی ہے تو اسکی مخ ل کو مس ک کیسے م ن ج سکت ہے‬
‫جبکہ دوسری صدی میں آئمہ ارب ہ سیکڑوں اختلاف کے‬

‫ب وجود بھی اس مسئ ے میں مت ہیں۔‬

‫نوٹ‪ :‬جن ص ح کی کت آپ نے رابط میں بھیجی ہے انہوں‬
‫نے بہ جگہوں پر خی ن کی ہے جسک پھر ذکر کریں گے کہ‬

‫اس رستے پر نک نے سے کوئی ف ئدہ نہیں ہو گ ۔‬

‫مع السلا ‪،‬‬

‫ہم یوں رشید۔‬

‫‪aapka10‬‬

‫‪7/28/14‬‬

‫طلا دین ہوت ہے ی طلا کہن ؟‬

‫طلا ک مط چھوڑن ہوت ہے۔ چ ہے مرد سو ب ر یہ ال ظ کہے‬
‫عم ی طورپر تو ایک ہی ب ر چھوڑا ہے۔‬

‫آپ یہ مث ل دیتے ہیں کہ تین پتھر م ر کر تین شم ر کریں ایک‬
‫کیوں شم ر کرتے ہین‬

‫لیکن اگر ایک ب رپتھر م ر کر تین ب ر کہے کہ میں نے پتھر م را‬
‫میں نے پتھر م را میں نے پتھر م را۔ تو کی اس نے تین پھر‬
‫م رے؟‬

‫ایک ب ر کھ ن کھ کر تین ب ر کہے کہ میں نے کھ ن کھ ی تو‬
‫عم ی طور پر کھ ن تو اس نے ایک ہی ب ر کھ ی‬

‫اسی طرح ج ایک موقع پر مرد طلا دیت ہے تو وہ ایک ہی‬
‫موقع ہوت ہے کیونکہ اس نے کسی ایک سب سے عم ی طور‬
‫پر ایک ہی ب ر چھوڑا ہے۔ ج دو اور ایسے مواقع ہو ج ئیں تو‬

‫اس ک مط گزارہ ممکن نہیں‬

‫ایک طلا سوچ سمجھ کر دی ج تی ہے۔ اس کے بہ سے‬
‫اسب ہو سکتے ہیں۔اس کے لیے توتین طہر والا طری ے پر‬

‫آس نی سے عمل ہو سکت ہے۔‬
‫ایک طلا کسی ایک خ ص موقع پر انتہ ئی اشت ل کے ع ل میں‬

‫دی ج تی ہے۔اس میں انس ن اپنی جذب تی کمزوری اور وقتی‬
‫اشت ل کی وجہ سے کئی ب ر کہہ دیت ہے۔ آپ اس صور میں‬
‫اس کی واپسی ک راستہ ہی بند کردیتے ہیں۔ فطری طری ہ یہی‬
‫نظر آت ہے کہ ایک مج س کی طلا ایک ہی ہو۔ اس پر میں ایک‬
‫مضمون قرآن و سن کی روشنی میں بھیج چک ہوں۔ ش ید آپ‬

‫کی نظر سے نہیں گزرا۔‬
‫مخ ص‬

‫‪sabirrahbar10‬‬

‫‪7/28/14‬‬

‫مخ ص ص ح اسلامی اصول ع ل کسوٹی پر نہیں تولے ج تے‬
‫ہیں ۔میں نے اس ت سے قران وحدیث کی روشنی میں کئی‬

‫مض مین بھیجے ہیں ۔اپ اس ک سنجیدگی سے س تھ مط ل ہ‬
‫کریں ۔عہد صح بہ میں کوئی ایسی مث ل نہیں م تی ہے جہ ں تین‬
‫طلا کوایک شم ر کی گئی ہو۔ ہ ں حدیث رک نہ کوسمجھنے میں‬
‫کچھ لوگ ف ش غ طی کربیٹھے ہیں اوراسی ایک حدیث کی بنی د‬

‫پر اسلا کے ایک مستحک اصول سے چھیڑ کرنے کی جرا کی‬
‫ج رہی ہے۔‬

‫جن کوئی بھی سخ ق نون جر سے ب ز رکھنے کی ئے‬
‫بن ی ج ت ہے اورطلا بھی اسلا میں سخ ن پسندہ مب ح قراردی‬

‫گئی ہے اگر کوئی اسلامی اصول کے پرواکئے بغیر طلا دیت‬
‫ہے تواسے سزا ضرور م نی چ ہئے ت کہ دوسرونکی ئے تمثتیل‬
‫بن سکے نہ کہ اس کے س تھ ہمدردانہ س وک اختی ربرتی ج ئے‬

‫۔‬

‫میں یہ ں حدیث رک نہ پر ایک مضمون پوسٹ کررہ ہوں۔‬

‫ملاحظہ فرم ئیں‬

‫حدیث رک نہ ک تح ی ی ج ئزہ‬

‫مولان کوثر ام ق دری‬

‫اہل ع اس ب سے بخوبی واقف ہینکہ ایک س تھ دی ج نے‬
‫والی تین طلا تین ہی شم ر ہوتی ہیں۔ عہد رس ل ص ی اللہ ع یہ‬

‫وس ی دور خلاف صدی ی و ف روقی میں بھی تین ہی شم ر‬
‫ہوتی رہی ہیں۔ لہذا یہ ام مس مہ ک اجم عی مسئ ہ بن گی اور‬

‫اس پر صح بہ‪ ،‬ت ب ین‪ ،‬تبع ت ب ین‪ ،‬ائمہ مجتہدین اور ع م ء‬
‫مت دمین ومت خرین نے اپنے اپنے زم نے میں فت وے ص در‬

‫کیے‪ ،‬جنہیں ف ہ ارب ہ کی کت بوں میں ب س نی دیکھ ج سکت‬
‫ہے۔ نیز اس کی صراح بھی مت دد کت بوں میں مل سکتی ہے۔‬

‫ام نووی نے فرم ی ‪’’:‬وقد اخت ف ال م ء فی من ق ل لامراتہ ان‬
‫ط ل ثلاث ف ل الش ف ی و م لک و ابو حنی ہ و احمد وجم ہیر‬
‫)ال م ء من الس ف و الخ ف ی ع الثلاث۔‘‘ (‪1‬‬

‫ع م ے کرا ک اس میں اختلاف ہے کہ جس شخص نے اپنی‬
‫بیوی سے کہ ‪:‬تجھے تین طلا ‪ ،‬تو ام ش ف ی‪ ،‬ام م لک‪،‬‬
‫ام ابوحنی ہ‪ ،‬ام احمدا ور جمہور ع م ے س ف و خ ف نے‬

‫فرم ی کہ وہ تین طلا واقع ہو ج ئیں گی۔‬

‫ام ہم حن ی نے فرم ی ‪’’:‬ذہ جمہور من الصح بۃ والت ب ین و‬
‫)من ب دہ من ائمۃ المس مین الی انہ ی ع الثلاث‘‘(‪2‬‬

‫جمہور صح بہ و ت ب ین اور اس کے ب د کے ائمہ مس مین اس‬
‫ب کی طرف گئے ہیں کہ تین طلاقینواقع ہو ج ئیں گی۔‬

‫علامہ عینی فرم تے ہیں‪’’:‬مذہ جم ہیر ال م ء من الت ب ین و من‬
‫ب دہ من الاوزاعی و النخ ی والثوری وابوحنی ۃ و اصح بہ و‬

‫م لک واصح بہ والش ف ی و اصح بہ واحمد و اصح بہ واسح و‬
‫ابو ثور و ابو عبید واخرون کثیر ع ی ان من ط امراتہ ث ث و‬
‫)ق ن و لکنہ ی ث ۔ (‪3‬‬

‫جمہور ع م ء‪ ،‬ت ب ین‪ ،‬تبع ت ب ین مثلا ام اوزاعی‪ ،‬ام نخ ی‪،‬‬
‫ام ابو س ی ن ثوری‪ ،‬ام ابو حنی ہ اور ان کے تلامذہ‪ ،‬ام‬

‫م لک اور ان کے تلامذہ‪ ،‬ام ش ف ی اور ان کے تلامذہ‪ ،‬ام‬
‫احمد اور ان کے تلامذہ‪ ،‬ام اسح ‪ ،‬ابوثور‪،‬ابوعبید اور‬

‫دوسرے کثیر ع م ء ک مذہ یہ ہے کہ جو اپنی بیوی کو تین‬
‫طلا دے گ تو وہ تین واقع ہو ج ئیں گی‪،‬ہ ں وہ گنہگ ر ہوگ ۔‬

‫علامہ ابن رشد فرم تے ہیں‪’’:‬جمہور ف ہ ء الامص ر ع ی ان‬
‫)الطلا ب ظ الثلاث حکمہ حک الط ۃ الثلاثۃ۔‘‘ (‪4‬‬

‫تم بلاد اسلامیہ کے جمہور ف ہ ء اس پر ہیں کہ ایک ل ظ سے‬
‫تین طلا دینے ک وہی حک ہے جو تیسری طلا ک حک ہے۔‬

‫مذکورہ عب را سے یہ ت ریخی شہ د ح صل ہوئی کہ بیک وق‬
‫دی ج نے والی تین طلا تین ہی شم ر ہوتی رہی ہیں‪ ،‬عہد‬

‫رس ل سے س تویں واٹھویں صدی ہجری تک جمہور ع م ء ک‬
‫یہی موقف رہ اور اس کے ب د کے ع م ء ف ہ ء نے بھی اسی پر‬
‫فتوی ج ری فرم ی ۔ ع یدہ کے اعتب ر سے ع م ء دیوبند خواہ جو‬
‫کچھ بھی ہوں لیکن وہ بھی اس مسئ ہ میں اہ سن وجم ع کے‬

‫مش ئخ کے قول پرہی فتوی دیتے رہے ہیں۔‬

‫ہندوست ن کے مش ہیر ع م ء و ف ہ ء مثلا م کراسلا ام احمد‬
‫رض ق دری بری وی‪ ،‬صدر الشری ہ مولان امجد ع ی گھوسوی‪،‬‬
‫م ک ال م ء مولان ظ ر الدین ق دری ‪ ،‬صدر الاف ضل مولان ن ی‬
‫الدین مراداب دی‪ ،‬ح فظ م مولان عبد ال زیز محدث مب رکپوری‪،‬‬
‫ت ج الشری ہ حضر م تی اختر رض خ ں ق دری ازہری ‪ ،‬محدث‬
‫کبیر علامہ ضی ء المصط ی ق دری گھوسوی و دیگر فضلائے‬

‫اسلا ک بھی یہی نظریہ ہے اور اسی کے یہ پ بند بھی ہیں۔‬

‫خو د س ودی حکوم کے سرک ری م تی ن نے بھی بحث و‬
‫تح ی ‪،‬ت تیش و تن ید کے ب د اسی موقف کی ت ئید کی ہے۔‬
‫ع م ئے س ودیہ عربیہ نے اپنے ف ہی سمین ر میں کچھ اسی‬
‫طرح طے کی ‪’’:‬ب د الاطلاع ع ی البحث الم د من الام نۃ ال مۃ‬
‫لہیئۃ کب ر ال م ء والم د من قبل ال جنۃ الدائمۃ ل بحوث والافت ء‬
‫فی موضوع الطلا الثلاث ب ظ واحد۔ و ب د دراسۃ المسئ ۃ و‬
‫تداول الرای واست راض الاقوال التی ق فیہ و من قشۃ م ع ی‬
‫کل قول من ایراد توصل المج س ب کثریتہ الی اختی رال ول بوقوع‬

‫الطلا الثلاث ب ظ واحد ثلاث ‘‘۔( (‪5‬‬

‫ایک ل ظ سے تین طلا واقع ہونے کے موضوع پر مج س‬
‫ع م ء کب ر کے سکریٹریٹ کی گذشتہ تح ی اور مج س ق ئمہ‬
‫برائے تح ی وافت ء کے فٹ نوٹ سے مط ع ہونے کے ب د اور‬
‫مسئ ہ کی تح ی ‪ ،‬تب دلہ خی ل اور اس ب رے میں کہی گئی ب توں‬

‫کے ج ئزے اور ہر ب پر وارد ہونے والے اعتراض پر‬
‫مب حثے کے ب د مج س اکثری رائے کے س تھ اس نتیجے پر‬
‫پہنچی ہے کہ ایک ل ظ سے تین طلا واقع ہونے ک قول مخت ر‬

‫ہے اور مج س ک یہی فیص ہ ہے۔‬

‫یہ ں یہ بھی عرض کرت چ وں کہ اس اجم لی مسئ ہ کے خلاف‬
‫ابن تیمیہ نے راہ اپن ئی اور اج ان کے م ننے والوں کی ایک‬
‫چھوٹی سی ٹولی اسی راہ پر گ مزن ہے اور ابن تیمیہ کے‬

‫م دین سیدھے س دھے مس م نوں کو ض یف روایتیں سن کر یہ‬
‫ب ور کرانے کی س ی لاح صل کر رہے ہیں کہ تم مس م ن‬

‫حدیث کے خلاف عمل کر رہے ہیں اور پوری دنی میں صرف اور‬
‫صرف ہ ہی ہیں جو سن صحیحہ پر ک ربند ہیں۔ اس لیے‬

‫ضروری ہے کہ ہ دیکھیں کہ ان روایتوں ک م ی ر کی ہے جن‬
‫سے اس اہ مسئ ہ میں ابن تیمیہ کے پیروک ر استدلال کرتے‬
‫ہیں۔‬

‫عن ابن عب س ق ل ط رک نہ بن عبد یزید اخو بنی مط ’’‬
‫امراتہ ثلاث فی مج س واحد فحزن ع یہ حزن شدیدا‪ ،‬ق ل‪ ،‬فس لہ‬
‫رسول اللہ ص ی اللہ ع یہ وس کیف ط ہ ق ل ط تہ ثلاث ق ل ف ل‬
‫فی مج س واحد ق ل ن ق ل انم ت ک واحدة ف رج ہ ان شئ ق ل‬

‫( فراج ہ ‘‘۔) ‪6‬‬

‫حضر ابن عب س رضی اللہ عنہ نے فرم ی کہ رک نہ نے اپنی‬
‫بیوی کو ایک ہی مج س میں تین طلاقیں دے ڈالی‪ ،‬پھر اپ کو‬

‫سخ غ لاح ہوا‪ ،‬درب ر رسول ﷺ میں ح ضر ہوئے ‪،‬‬
‫عرض کی ‪ ،‬سرک ر نے فرم ی کس طرح طلا دیے؟ عرض گذار‬

‫ہوئے‪ :‬میں نے اسے تین طلاقیں دی‪ ،‬فرم ی ‪ :‬ایک ہی مج س‬
‫میں؟ عرض کی ‪ :‬ہ ں‪ ،‬فرم ی ‪ :‬وہ ایک ہی طلا ہے‪ ،‬چ ہو تو‬
‫رجوع کر سکتے ہو‪ ،‬تو انہوں نے رجوع کر لی ‘‘۔ اس حدیث‬
‫کے ب رے مین لامہ ابن جوزی فرم تے ہیں‪’’:‬ہذا حدیث لا یصح‬
‫ابن اسح مجروح و داود اشد منہ ض ‘‘یہ حدیث صحیح نہیں‬

‫ہے۔ اس کی سند ک ایک راوی ابن اسح مجروح ہے اور‬
‫دوسرا راوی داود اس سے بھی زی دہ ض یف ہے۔‬

‫( )ام ابن حب ن نے کہ ‪’’:‬فیج مج نبۃ روایتۃ‘‘‪7‬‬

‫اس کی روای سے اجتن کرن واج ہے۔‬

‫ام نس ئی نے فرم ی ’’محمد بن اسح لیس ب ل وی‘‘‪( )8‬‬
‫ابن اسح قوی نہیں۔‬

‫داود بن حصین کے ب رے میں ابن حجر فرم تے ہیں‪’’:‬ق ل‬
‫الس جی منکر الحدیث یتہ برای الخوارج‘‘ وہ فرقہ خ رجیہ ک‬

‫داعی ہے۔‬

‫ابن المدینی نے کہ ‪’’:‬م روی عن عکرمۃ فمنکر‘‘ ان کی‬
‫عکرمہ سے مروی س کے س منکر ہیں۔‬

‫ام ابن ح ت نے کہ ۔’’لو لا ان م لک روی عنہ لترک حدیثہ‘‘اگر‬
‫ام م لک نے ان سے روای نہ لی ہوتی تو ان سے روای لین‬
‫ترک کر دی ج ت ۔‬

‫ابن عیینہ کہتے ہیں‪’’:‬کن نت ی حدیث داود‘‘ ہ ان کی حدیثوں‬
‫سے پرہیز کرتے تھے۔‬

‫ابو زرعہ کہتے ہیں‪’:‬لین الحدیث۔‘‘ ‪( )9‬حدیث میں کمزور ہے۔‬

‫سمذکورہ حدیث تو مسند ام احمد میں بھی ہے جس کی سند کی‬
‫ح ی اپ کے س منے ہے لیکن یہی حدیث ام ابو داود نے‬

‫بھی اپنی سنن میں لی ہے جس کی سند میں ب ض بنورافع ہے‬
‫چونکہ راوی ک ن نہینہے ۔اس لیے اس کی حدیث ‪ ،‬حدیث‬
‫مجہول کے درجہ میں ائمہ نے شم ر کی ہے۔‬

‫جم ع غیر م دین کے بہ بڑے ع ل علامہ ابن حز فرم تے‬
‫ہیں‪’’:‬م ن لہ شیئ احتجوابہ غیر ہذا و ہذا لا یصح لانہ عن غیر‬

‫)مسمی من بنی ابی رافع ولا حجۃ فی مجہول‘‘(‪10‬‬

‫ہم رے ع میں اس حدیث کے سوا ان لوگوں کی اور کوئی دلیل‬
‫نہیں ہے اور یہ حدیث صحیح نہیں ہے‪ ،‬کیونکہ ابو رافع کی‬

‫اولاد میں سے جس شخص سے یہ روای ہے اس ک ن نہیں‬
‫لی گی ۔‬

‫ہ ں! ب ض محدثین نے اس ب کی صراح کی ہے کہ راوی‬
‫مجہول نہیں‪ ،‬م و ہے اور وہ محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع‬
‫ہے۔ اس لیے اس صور میں یہ حدیث مجہول نہیں ہو سکتی تو‬

‫ا ہ اس راوی کے ب رے میں بھی م و کر لیں۔‬

‫ح فظ ابن حجر عس لانی تحریر فرم تے ہیں‪’’:‬ق ل البخ ری منکر‬
‫الحدیث‘‘ ام بخ ری نے کہ یہ منکر الحدیث ہے۔‬

‫ق ل ابن م ین لیس بشئی‘‘ ابن م ین نے کہ یہ کوئی چیز نہیں۔’’‬

‫‘‘ق ل ابو ح ت ض یف الحدیث منکر الحدیث جدا ذاہ ۔’’‬

‫ابو ح ت نے کہ یہ ض یف الحدیث ‪،‬منکر الحدیث اور ذاہ‬

‫الحدیث ہے۔‬

‫ق ل ابن عدی ہو فی عدا شی ۃ الکوفۃ ویروی من ال ض ئل اشی ء ’’‬
‫)لا یت بع ع یہ ۔‘‘(‪11‬‬

‫ابن عدی نے کہ یہ کوفہ کے شی ہ میں سے ہے اور فض ئل میں‬
‫اس نے ایسی روای بی ن کی ہیں جن ک کوئی مت بع نہیں ہے ۔‬
‫برق نی نے دار قطنی سے روای کی کہ یہ متروک ہے۔یہی وہ‬
‫ن ئص ہیں جن کی بن ء پر حدیث رک نہ (ی نی مذکورہ حدیث) کو‬
‫اہل ع نے ض یف قرار دی ہے ۔‬

‫چن نچہ ام نووی فرم تے ہیں‪’’:‬ام الروایۃ التی رواہ المخ ل ون‬
‫ان رک نۃ ط ثلاث فج ہ واحدة فروایۃ ض ی ۃ عن قو مجہولین‬

‫)۔‘‘(‪12‬‬

‫رہی وہ روای جس کو مخ ل ین نے روای کی کہ رک نہ نے اپنی‬
‫بیوی کو تین طلا دی تو حضور نے ایک ہی ن فذ فرم ئی‪ ،‬یہ‬
‫روای ض یف ہے جو مجہول لوگوں سے مروی ہے۔‬

‫ام ابن تیمیہ نے کہ ‪’’:‬و حدیث رک نۃ ض یف عند ائمۃ الحدیث‬
‫ض ہ احمد والبخ ری و ابو عبید و ابن حز ب ن رواتہ لیسوا‬
‫)موصوفین ب ل دل والضبط۔‘‘(‪13‬‬

‫حدیث رک نہ ائمہ محدثین کے نزدیک ض یف ہے ۔اس کو ض یف‬
‫کہنے والوں میں ام احمد‪ ،‬ام بخ ری‪ ،‬ابو عبید‪ ،‬اور ابن حز‬

‫ہیں کیونکہ اس کے راوی عدل و ضبط والے نہیں تھے۔‬

‫غیر م دین اپنے مس ک کی ت ئید میں جو حدیث پیش کرتے ہیں‪،‬‬
‫اس کی سند کی ح ی س منے اگئی۔ ا اس کے متن پر غور‬
‫کیجیے تو م و ہوگ کہ متن میں بھی کچھ الٹ پھیر ہے۔اس‬

‫لیے کہ یہی محتر رک نہ کی حدیث جو دوسری صحیح سند کے‬
‫س تھ ائی ہے۔ اس میں ط ثلاث کی جگہ البتہ ک ل ظ ای‬

‫ہے‪،‬ی نی انہوں نے طلا نہیں دی تھ ب کہ طلا بتہ دی تھی۔‬

‫طلا بتہ والی حدیث مت دد سندوں سے مروی ہے۔ ام ترمذی‬
‫نے اس کو ذیل کی سندوں کے س تھ استخراج فرم ی ہے۔ سند و‬

‫متن ملاحظہ کیجیے‪’’:‬حدثن ہن د‪ ،‬ن قبیصۃ‪ ،‬عن جریر بن ح ز ‪،‬‬
‫عن الزبیر بن س د‪ ،‬عن عبد اللہ بن یزید بن رک نۃ‪،‬عن ابیہ‪ ،‬عن‬

‫جدہ‪ ،‬ق ل‪ :‬اتی النبی ص ی اللہ ع یہ وس ف ی رسول اللہ!‬
‫ص ی اللہ ع یہ وس انی ط امراتی البتۃ‪ ،‬ف ل‪ :‬م ارد بہ ؟‬

‫)ق ‪ :‬واحدة‪ ،‬ق ل‪ :‬واللہ؟ ق ‪ :‬واللہ فہو م ارد ۔‘‘(‪14‬‬

‫‪:‬اس سند کے راویوں کے ب رے میں ائمہ فن کہتے ہیں‬

‫ہن دکے ب رے میں ح فظ ابن حجر نے لکھ ہے کہ ام احمد )‪(1‬‬
‫بن حنبل نے کہ ت ہن د کو لاز رکھو ۔ام ابو ح ت نے کہ وہ‬
‫بہ سچے ہیں۔ قتیبہ نے کہ ‪ :‬میں نے دیکھ کہ وکیع ہن د سے‬
‫زی دہ کسی کی ت ظی نہیں کرتے تھے۔ ام نس ئی نے کہ کہ وہ‬

‫ث ہ ہیں۔ام ابن حب ن نے بھی ان ک ث میں ذکر کی ہے۔‬

‫قبیصہ کے ب رے میں ح فظ ابن حجر لکھتے ہیں‪’’:‬سئل ابو )‪(2‬‬
‫زرعۃ عن قبیصۃ و ابی ن ی ف ل ک ن قبیصۃ افضل‬

‫الرج ین۔‘‘ح فظ ابو زرعہ سے قبیصہ اور ابو ن ی کے ب رے میں‬
‫پوچھ گی تو فرم ی ان دونوں میں قبیصہ افضل ہیں۔‬

‫ق ل ابن ابی ح ت س ل ابی عن قبیصۃ ف ل قبیصۃ اع ی عندی ’’‬
‫وہو صدو ‘‘ابن ح ت کہتے ہیں ۔ میں نے اپنے والد سے قبیصہ‬

‫کے ب رے میں پوچھ تو انہوں نے کہ ‪،‬قبیصہ بہ سچے ہیں۔‬

‫‘‘ق ل اسح بن سی ر ‪،‬م رای اح ظ منہ من الشیوخ’’‬

‫اسح بن سی ر نے کی ۔ میں نے شیوخ میں سے قبیصہ سے‬
‫بڑھ کر کوئی ح فظ نہیں دیکھ ۔‬

‫ق ل النس ئی لیس بہ ب س ‘‘ام نس ئی نے کہ ان سے روای ’’‬
‫میں کوئی حرج نہیں۔‬

‫‘‘ ذکرہ ابن حب ن فی’’الث ’’‬

‫)ام ابن حب ن نے ث میں ان ک ذکر کی ہے۔ (‪16‬‬

‫جریر بن ح ز کے ب رے میں ح فظ ابن حجر لکھتے )‪(3‬‬
‫ہیں‪’’:‬ق ل موسی م رای حم دا ی ظ احدا ت ظیمہ جریر بن‬

‫‘‘ح ز ۔‬

‫موسی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھ کہ حم د جتنی ت ظی جریر بن‬
‫ح ز کی کرتے تھے کسی اور کی نہیں کرتے تھے۔‬

‫‘‘ق ل عثم ن الدارمی عن ابن م ین ث ۃ’’‬

‫عثم ن دارمی نے ابن م ین سے ن ل کی کہ یہ ث ہ ہیں۔‬

‫ق ل الدوری س ل یحی عن جریر بن ح ز و ابی الاشہ ف ل ’’‬
‫جریراحسن حدیث منہ و اسند‘‘دوری کہتے ہیں میں نے یحی‬

‫سے پوچھ کہ جریر بن ح ز اور ابوالاشہ میں کس کی روای‬
‫بہتر ہے‪ ،‬تو فرم ی کہ جریر کی روای احسن و اسند ہے۔‬

‫ق ل ابو ح ت صدو ص لح ‘‘ ابو ح ت نے کہ یہ بہ سچے ’’‬
‫)اور نیک ہیں۔ (‪17‬‬

‫زبیر بن س ید کے ب رے میں ح فظ ابن حجر تحریر فرم تے )‪(4‬‬
‫ہیں‪ ’’:‬ق ل الدوری عن ابن م ین ث ۃ ‪،‬ق ل الدار قطنی ی تبرہ بہ‪ ،‬و‬

‫)ذکرہ ابن حب ن فی ث ‘‘(‪18‬‬

‫دوری نے ابن م ین سے ن ل کی کہ یہ ث ہ ہیں۔ دار قطنی نے کہ‬
‫یہ م تبر ہیں۔ ام ابن حب ن نے ث میں ان ک ذکر کی ۔‬

‫عبد اللہ بن ع ی بن یزید بن رک نہ۔یہ خود حضر رک نہ کے )‪(5‬‬
‫اہل بی سے ہیں ‪،‬ام ابن حب ن نے ان ک ذکر ث میں کی ہے‬

‫) (‪19‬‬

‫مذکورہ ب لات صیل سے م و ہوا کہ طلا بتہ والی حدیث کے‬
‫جم ہ راوی صحیح وث ہ ہیں۔ لہذا یہ حدیث صحیح ہے۔مولان‬

‫حبی الرحمن اعظمی اس عنوان پر ن یس بحث کرتے ہوئے رق‬
‫طراز ہیں‪:‬علامہ شوک نی نے نیل الاوط ر میں لکھ ہے‪ ’’:‬اثب‬
‫)م روی فی قصۃ رک نۃ انہ ط ہ البتۃ لاثلاث ‘‘(‪20‬‬

‫س سے زی دہ صحیح ب روای رک نہ کے قصے میں یہ ہے‬
‫کہ انہوں نے ل ظ بتہ سے طلا دی نہ کہ ثلاث سے۔‬

‫اور ح فظ ابن حجر نے مسند احمد کی یہی روای ذکر کے ب و‬
‫المرا میں لکھ ہے‪’’:‬وقد روی ابو داود من وجہ اخر احسن منہ‬

‫)ان رک نۃ ط امراتہ سہیمۃ البتۃ‘‘ (‪22‬‬

‫ام ابوداود نے ایک دوسرے طری ے سے جو مسند احمد کے‬
‫طری ہ سے بہتر ہے‪،‬روای کی ہے کہ رک نہ نے اپنی بیوی‬

‫سہیمہ کو ل ظ بتہ سے طلا دی۔یہی وجہ ہے کہ ابوداود‪ ،‬ابن‬
‫حب ن ‪،‬ح ک ‪ ،‬دارقطنی اور طن فسی نے بتہ والی حدیث کی تصحیح‬

‫)کی ہے ۔(‪23‬‬

‫ا افت نی روز کی طرح واضح ہو گی کہ جمہور ع م ء اسلا‬
‫ک موقف صحیح حدیث سے ث ب ہے۔ جبکہ غیروں کے موقف‬
‫کی بنی د ض یف حدیث پر ہے اور چونکہ یہ مسئ ہ ب حلال و‬

‫حرا سے مت ہے‪،‬اس لئے اس ب میں صحیح حدیث کی‬
‫موجودگی میں ض یف ومخ لف حدیث سے استدلال ج ئز نہیں۔‬

‫؎شرح مس ‪ ،‬ج د اول ص‪1478‬‬

‫؎فتح ال دیر ج د‪3:‬؍ ص‪225:‬‬

‫؎عمدة ال ری شرح بخ ری ج د ‪20‬؍ص‪333:‬‬

‫؎بدایۃ المجتہد ج د‪ :‬؍ ص‪457:‬‬

‫‪؎:‬ابح ث ہیئۃ کب ر ال م ء ج د اول ص‪5408‬‬
‫‪؎:‬مسند ام احمد ج داول ص‪6408‬‬

‫‪؎:‬ال ل المتن ہیہ‪ ،‬بیرو ج د دو ص‪7640‬‬
‫‪؎:‬الض ء والمتروکین ص ‪8230‬‬

‫‪؎:‬تہذی التہذی ج د دو ص ‪9349‬‬
‫‪؎:‬المح ی ج د دہ ص‪10168‬‬

‫‪؎:‬تہذی التہذی ج د‪:5‬؍ ص‪11724‬‬
‫؎شرح مس نووی ج د اول ‪12478‬‬
‫‪؎:‬توضیح الاحک شرح ب و المرا ج د ‪:5‬؍ ص‪1320‬‬

‫‪؎:‬ترمذی ج د ‪:‬اول ص‪14140‬‬
‫‪؎:‬تہذی التہذی ج‪ :11‬ص ‪1571‬‬
‫‪؎:‬تہذی التہذی ج‪:5‬؍ ص‪16323,24‬‬
‫؎تہذی التہذی ج د‪1‬؍ ص‪؎18 :545‬تہذی التہذی ج د‪2‬؍ ‪17‬‬

‫‪:‬ص ‪468‬‬
‫‪؎:‬کت الث ج د ‪ :7‬؍ ص ‪1915‬‬
‫‪:‬الاعلا المرفوعۃ فی حک الط المجموعۃ ص‪22,21,2040‬‬

‫‪؎:‬ترمذی ج د ‪:‬اول ص‪14140‬‬

‫‪؎:‬تہذی التہذی ج‪ :11‬ص ‪1571‬‬

‫‪؎:‬تہذی التہذی ج‪:5‬؍ ص‪16323,24‬‬

‫؎تہذی التہذی ج د‪1‬؍ ص‪؎18 :545‬تہذی التہذی ج د‪2‬؍ ‪17‬‬
‫‪:‬ص ‪468‬‬

‫‪؎:‬کت الث ج د ‪ :7‬؍ ص ‪1915‬‬

‫الاعلا المرفوعۃ فی حک الط المجموعۃ ‪23,22,21,20‬‬
‫‪:‬ص‪40‬‬

‫‪Rana Humayun Rasheed‬‬

‫‪7/28/14‬‬

‫جن ص بر ص ح ‪ ،‬بج فرم ی ۔‬

‫ع ی طور پر بھی اس پر بحث ہو سکتی ہے اور قرآن و سن‬
‫کے دلائل کے س تھ بھی۔ لیکن اسطرح تو نہ میں تیری م نوں نہ‬

‫تو میری والی ب چ تی رہے گی۔ اسی لئے میں نے یہ تجویز‬
‫پیش کی تھی کہ صح بہ‪ ،‬ت ب ین‪ ،‬مجتھدین اور محدثین رضی اللہ‬
‫عنھ کے فت وی پہ ے ذکر کر دئیے ج ئیں ت کہ یہ تو م و ہو‬
‫کہ صدر اول میں یہ مس ک تھ بھی کہ نہیں۔ اگر نہیں تھ تو م ن‬
‫لی ج ئے صدر اول والے بھی قرآن اور سن کو نہ سمجھ سکے‬
‫اور اسکے خلاف فتوی دیتے رہے۔ حیر ت ہوتی ہے کہ لوگ‬

‫خود کو س ی کہتے ہیں اور س ف ک فتوی پیش نہیں کر پ تے۔‬
‫بہرح ل میرے خی ل میں مزید کسی ب سے پہ ے اگر مزعومہ‬
‫مس ک کے صدر اول کے فت وی پیش ہو ج ئیں تو من س ہے۔‬

‫مع السلا ۔‬
‫ہم یوں رشید۔‬

‫‪https://groups.google.com/forum/#!topic/bazmeqalam/Ouobi0uxf4g‬‬

‫فتوی نمبر ‪2001 :‬‬
‫یکب رگی کی تین طلاقیں )‪(498‬‬

‫شروع از عبد الوحید س جد‬
‫‪ September 2012 11:14 AM‬بت ریخ ‪04 :‬‬

‫السلا ع یك ورحم اللہ وبرك ته‬
‫ایک آدمی نے مورخہ ۔ ۔ کو اپنی زوجہ کو ایک ہی‬
‫مج س میں یکب رگی تین طلاقیں دے دی تھیں۔ ا اپنی بیوی‬
‫سے رجوع کرن چ ہت ہے جبکہ بیوی اپنے والدین کے گھر ت‬
‫میری صور ح ل کو س منے رکھتے ہوئے سے رہ رہی ہے ۔‬
‫قرآن وسن کی روشنی میں ’’مسئ ہ رجوع‘‘ واضح کیجئے؟‬

‫الجوا ب ون الوھ بشرط صح الس ال‬

‫!وع یک السلا ورحم اللہ وبرک ته‬

‫!الحمد للہ‪ ،‬والصلاة والسلا ع رسول اللہ‪ ،‬أم ب د‬

‫آ پ کی مسئولہ صور میں ایک طلا واقع ہو چکی ہے کیونکہ‬
‫یکب رگی تین طلاقیں ایک طلا ہوتی ہے صحیح مس ج د اول‬
‫‪:‬ص میں ہے‬

‫عن ابن عب س ق ل ‪ :‬ک ن الطلا ع ی عھد رسول االلہﷺ‪« ،‬‬
‫)وأبی بکر ‪ ،‬وسنتین من خلاف عمر طلا الثلاث واحدة»(الحدیث‬

‫تین طلاقیں رسول اللہﷺاور ابوبکر کے زم نہ میں اور عمر‬
‫بن خط ‪ ฀‬کی خلاف کے دو س ل ایک ہی طلا ہوتی تھی۔‬

‫ایک طلا کے ب د عد کے اندر رجوع بلا نک ح درس ہے‬

‫وب ولتھن أح بر ِّدھن في ذل إن أرادوا إص ح ‪--‬ب رة‪228‬‬

‫اور خ وند ان کے بہ ح دار ہیں س تھ پھیر لینے ان کے کے ’’‬
‫بیچ اس کے اگر چ ہیں ص ح کرن ‘‘ الآیۃ اور ایک طلا کے ب د‬

‫عد گذر ج ئے تو اسی بیوی سے نی نک ح درس ہے‬
‫وإذا ط ت ٱل ِّنس ء فب غن أج ھن فلا ت ض وھن أن ینكحن أزوجھن‬

‫إذا ترضوا بینھ بٱلم روف ‪ --‬ب رة‪232‬‬

‫اور ج طلا دو ت عورتوں کو پس پہنچیں عد اپنی کو پس ’’‬

‫م منع کرو ان کو یہ کہ نک ح کریں خ وندوں اپنے سے ج‬
‫راضی ہوں آپس میں س تھ اچھی طرح کے‘‘الآیۃ۔صور مسئولہ‬

‫میں طلا میں دی گئی ا ہے ظ ہر ہے عد تو گذر‬
‫چکی ہے لہذا می ں بیوی ا ب ہمی رض مندی کے س تھ شروط‬

‫نک ح کی پ بندی میں نی نک ح کر سکتے ہیں۔‬

‫وب للہ التوفی‬

‫احک و مس ئل‬

‫طلا کے مس ئل ج‪1‬ص ‪343‬‬

‫محدث فتوی‬

‫‪http://www.urdufatwa.com/index.php?/Knowledgebase/Article/View/2001/64/498‬‬


Click to View FlipBook Version