ل –عمر غز ہیں گئے ہو بیکل ہی ہم را سے ذ ہیں گئے ہو ورنہ اوجھل غم سبھی نے تو تھی کی ری کا پیوند ں جہا ہیں گئے ہو جنگل ویران ل د وہ ہے مسئلہ ہی را مسئلہ ہما ہیں گئے ہو حل کے تھ سا ئل مسا کر بسا ل د ہ مرد کے ؤں گا ترے ہیں گئے ہو بوجھل شہر رے ہما کرنے تبلیغ حضرت اسے گئے ہیں گئے ہو جل کا کہ جلے ایسے مسکرائے ہم سے خیر تا بڑی ہیں گئے ہو گل پا نے تھا اس کہا ہے کی میں وں د یا تری ری کا شجر ہیں گئے ہو ل صند پیڑ رے ہما فر مسا تھے گزرے سے کوچے ترے ہیں گئے ہو مخمل ؤں پا ہے سنا 9 4
ا ہوا ت س ن الکھ چہرا دکھے تم کو ہ ا ہوا ت کھ میں غ م ملیاگ چھلک ن آ ھا مگر آج لک ہیں ت تم سے پہلے ن ا ہوا ت ا ہے دن بھر مہک ت رہ ن ُح س رف ہے ہم کو معلوم ہے وقت کم ظ ّچ ھا ہوا ُتجھ کو ا کر ن یا چھی لے گ ئے میری تے پہ چا ئیُاس کے کر گر گ ا ہوا ت ک ت یا مجھ کو اور وہ رہ گ گے نے ل کیمرے میں سبھی قید کر ا ہوا ت پ تڑ ظر ن ثے اک وہ م حاد لسی بھی عذاِب خ دا ہے کے دل ف م ا ہوا ت یا جھمکیوں پر مچل رہ گ ے ہی ت گ ہ ل ت وں کی قیمت پ ن ُان کھلو ا ہوا ت یک معصوم رو یا ا سو گ ھی یہ پھر ھی ت ٹ کی کی ڈولی ا ڑ یک ل ا ا ہوا ت یار ہو ت ھا ت ازا ن اک ج غزل – مبّشرہ محفوظ 95
غزل – مبّشرہ محفوظ تی ہے دگی محسوس ہو ن ش ی میں ز ہمیں جس سرک تی ہے گی محسوس ہو ن زمیں زادوں کو وہ دیوا وات میں غ ت نی ب و کر لوں بھلے ج جہاں والوں سے ت تی ہے دگی محسوس ہو ن رم ش گر ماں سے کروں ا در سے ن کی کو ا ڑ تی ہے جواں ل بت چاٹ لی غ وہ ر تی ہے دگی محسوس ہو ن اب بت دور سے ت غ جو ر و کیا ہیں ت ن دہ ن نے میں خ دا ز ش ے کے زما نط جو تی ہے دگی محسوس ہو ن وں میں ب و فلسف اسے ت ے ت ہیں سک ن ن ّچ ے ارسطو ب ہماری نسل کے ب تی ہے ش ی محسوس ہو و ہیں پیسے کما کر ہی خ ن ا و ہہ کے اب ت ن ا وش لمس و ب غ ض ی ہیں یہ آ مرا ما تی ہے ہوں میں مجھ کو بیہسي محسوس ہو ن ا یری ب ت 96
گل پا ہے بیٹھا کھو صبر یوں اپنا گل پا ہے بیٹھا تو آؤ تم مگر ہے رہا چل گہری ل چا سے سب وہ گل پا ہے بیٹھا جو تھ سا رے تمہا تھی ہوئی رش با کی غم اشکوں شِب گل پا ہے بیٹھا بھگو خط سب ترے ہے مسخرہ لوگوں بخت کم وہی گل پا ہے بیٹھا رو پہ قسمت بھی جو ہے چکا جا وہ کہیں میں تفکر گل پا ہے بیٹھا جو وہ گل پا نہیں کھڑا ہے کے اب یک اس نزد جنوں گل پا ہے بیٹھا ہو ور د سے کسی ل غز عمر – 9 7
میں اپنے گھر پلٹتا ہوں تمہارے ہجر میں ڈوبے ہوئے کمرے میں جاتا ہوں اور اپنے آئینے کے آگے جا کر بیٹھ جاتا ہوں مجھے ُاس میں تو دکھتی ہے میں ُتجھ سے بات کرتے ہوں میں خود کو بھول جاتا ہوں میں تم کو یاد کرتا ہوں تو سب کچھ بھول جاتا ہوں بس اتنا یاد رکھتا ہوں تو جس مّٹی کی خوشبو ہے میں ُاس مّٹی سے آتا ہوں تو جس دریا کا پانی ہے، اسی کا میں کنارا ہوں لِب دریا پہ تیرے جسم کا پانی جب آتا ہے کنارا سبز ہوتا ہے درختوں پہ نی شاخیں نکلتی ہے مگر پھر بھی کنارا منتظر رہتا ہے دریا کا وہ پانی رقص کرتا ہے جزیرہ ڈوبنے کے کوششوں میں مگن رہتا ہی تیری آنکھیں مجھے دیکھیں تو اکثر پوچھتی ہیں یہ کے میرے بن تو کیسا ہے شروع میں ہچکچاتے ہوں پر آخر بول دیتا ہوں کی میں ایک زرد پتہ ہوں بنا چّپو کی نوکا ہوں کسی دریا کی دھارا ہوں وجود اپنا ُتجھ ہی سے ہے میں تیرے بن ادھورا ہوں۔ تو جب بھی رقص کرتی ہے تو جب بھی مسکراتی ہے تو جب بھی کھول کر بانہیں قریب اب اپنے بلاتی ہے مجھے تو خوب بھاتی ہے تیری آنکھوں کو دیکھیں میں تو اکثر سوچتا ہوں یہ تو کس کاغذ پہ لکھی نظم سے سیاہی چراتی ہے وہ کیسا اطر ہے جس کو لگا کر تو میرے آنگن کی ساری تیتلیوں کو اپنی جانب کھینچ لاتی ہے وہ کیسا پھول ہے جس کو تو بالوں میں لگاتی ہے تو کس مّٹی کی خوشبو ہے تھا کس دریا کا پانی ہے کبھی سِر رکھ کے کاندھے پہ تو نغمے گنگناتی ہے کبھی میری ہی نظموں کو تو پڑھ کر کھلکھلاتی ہے کبھی تو چوم لیتی ہے میرے ہونٹوں کے ذریعے روح و دل کی ساری تحداری کبھی نزدیک لا کر ہونٹھ ادا سے دور جاتی ہے دیوانہ پن بڑھاتی ہے کبھی تو عشق کرتی ہے کبھی نظریں چراتی ہے تیرے ُحسِن قیامت پہ تو اس دنیا کے سارے ہی شگوفے رشق کرتے ہیں کوئی آسمان ہو دریا ہوں یہ پھر چاند تارے ہوں جو ُتجھے کو دیکھ لیتے ہیں تو اپنے ہاتھ ملتے ہیں میں جب دریا سے کہتا ہوں تمہاری سرد لہروں سے زیادہ تو رواں اس شوخ لڑکی کے بدن کی کروٹیں ٹہریں تو دریا روٹھ جاتا ہے میں ُتجھ میں ڈوب جاتا ہوں مجھے پانی جلاتا ہے میں ایسی آگ میں صدیوں تلک جلنے کو حاضر ہوں کہاں ہے تو میری جاناں فقط تیرا تصّور ہے مجھے معلوم ہے تو نے بھی میری یاد کو گھر کے کسی کونے میں رکھا ہے مگر یہ علم ہے مجھ کو حفاظت سے سبھی چیزیں تو رکھ کر بھول جاتی ہے سو شکوہ کیا کروں ُتجھ سے میں اب بھی ڈھونڈتا پھرتا ہوں ُتجھ کو صاحبہ ہر دن مگر تو مل نہیں پاتی تو خد سے روٹھ جاتا ہوں ادھورا میں – لنکیش "گوتم" 98
غزل ار خ ھا ہوا ہے حسیں جسم اک ب ڑ مجھ پہ چ ار یری طرح لگ رہی ہے ی یک ش لک ت ہر ا ھ کھول دے ٹ ن یسوؤں کی اگ و ُاس کے گ پہلے ت ار ت پھر جسم سے لباِس ق ف س زاد کو ُا اعرہ ش جا ہے میری ُتجھ سے ت ت نی ہی ال ا فیٔے سے مار ا اک بہر میں پرو کے مجھے ق ش ی بہ بولی ہے خ د ک ت ار مر ز مجھ سے ہ دگی کے پار ن آ چل ُتجھے میں لے کہ چلوں ز ش ت ّٹی میں د و ڈھال دے م اک ہوں ت میں خ کی ار ت پھر قیس ہی کی جیسی کسی ش لک میںُا ھی ت و بھول ّبت ت یری پہلی مح ا کی ت ن ما ار ار ب کیش' ب ن و 'ل بھولیں ہی کر رہا ہے ت و ُاس کے پاس ره کر میرا ہر پل عید ہے یوں ت ّو ل عید ہے ار ا و ی پر وہ میری ہو سکے ت ا ہے کی اب ی یسا وقت آ یک عرصے بعد ا ا ّم ل عید ہے ارے ہیں، مک ت د ن تم ہو، چا میں ہوں، ا رہیاگ کیا مجھے ت ک ھا ہی ت ٹ ھا بی ٹ دور بی پاس آ میرے لگے سے لگ جا پالگ عید ہے ا ہوں روز ہی ت د آج لک میں دیکھ ن عید اک چا ّم ل عید ہے کی جب سے دیکھی ہے مک ڑ یک ل ا ہیں ن نالک یہ د ن ئی دیکھے آسماں میں چا کو ئی ُتجھ کو چھت پہ دیکھے اور کہے لک عید ہے کو غزل – لنکیش "گوتم" – لنکیش "گوتم" 99
وہ مجھے دیکھ کر مسکرانے لگے خواہشوں کے دیے جگمگانے لگے باتوں باتوں میں ہم نے تو کی دلگی اور تم بات دل سے لگانے لگے تم نہ تھے تو کوئی پوچھتا بھی نہ تھا پھر اچانک سبھی لوگ آنے لگے یہ نئے عاشقوں نے بتایا مجھے زخم تم خوبصورت بنانے لگے سامنے سر جھکائے تھی جوگن کھڑی دیوتا کے قدم ڈگمگانے لگے رت جگے ان کے تفریح کیسے بنے کیوں یہ جگنو تماشا لگانے لگے جب ترے نقِش پا کا تعاقب کیا پھر زمانے میرے پیچھے آنے لگے ز ل غ – عمر 100
و کہ مل کر کیا کریں گے ہم ا ہے ت ت ہ پوچھ ش ہمی وش میں گر کر کہیں پہ جا مریں گے ہم غ ری آ ت اروں نجیر ہے ی ق ط ز نے کو ف ہمارے پاس کھو نگ کو جاری رکھیںگے ہم دگی ہے ج ن کہ جب تک ز ش ی حاصل داز کی اک سرک ن لف ا ت خ ہمیں ہے م و یہ سر اکٹ دیں گے ہم گے ت لم ڈھاؤ ظ جو ہم پر ہ ہیرے ہیں ہ زیور ہیں ن ہیں ہیں پاس میں پیسے ن ن نٹ دیں گے ہم ا تم میں ب ف ت ہے جیبوں میں جو ق ط ال ف ہ ن ات میں ور و رہو اوق ہرت ت ش مہیں حاصل ہے ت ا بت کہیں گے ہم ّٹ ی ق اگ ف ن ن مہیں کردار اک ت ے دو ن ا ہی رہ ڑ ا ہمیں اج ی ہیں آ وہ برسوں سے ن ازہ کریں گے ہم ت کو ن و اس حس ت ئے اگ وہ جب آ ڑی اچھی لیں ب ز غ ر میں وہ خ ا ہے آ ت ا ہے کہ ن س ا کریں گے ہم ی م سے آ ز کر ہی اس کی ب ن ل س ز غ ئی چاہیے ہم کو جہاں کے سب اصولوں سے رہا یں گے ہم ٹ ہیں پیچھے ہ ہماری ض د ہے اس ض د سے ن غزل – مبّشرہ محفوظ 101
یاگ ٹ و ہا بدن اس سوچ کی عبرت سے ٹ ت ن میرا یاگ ٹ و لوت سے ٹ یرے پیار کی خ واب ت دِل بے خ یدِہ ہجراں ش غ ِم پو یک دیواِر بدن ہے ا یاگ ٹ و ش ّد ت سے ٹ ڑی گی جس کے اوپر وہ ب گری اداں ن قی دِل ا تی ہے ب ے دی ن ّبت کس کو رہ مح یاگ ٹ و ے کی ہیبت سے ٹ ن و بچ ت یا چ گ و اس سے ب ت ا ہے ت ہ بھی ُتجھے جوڑے ہی رکھ ن ر ڈھا ش یہ ح ِمرا یاگ ٹ و ات سے ٹ ف و میری جان کس آ ت ال ت مجھے ب ف ت ہے مگر پھر بھی ہمارے اگؤں کے لوگ وں میںُال یاگ ٹ و یک دن دھرم کی نسبت سے ٹ ہمارا اگؤں ا غزل – مبّشرہ محفوظ 102
آخریشہکار رہ محفوظ_ ّش مب خدا کے نام پر ہے ایک چّٹھی ڈاک خانے می پتہ کوئی نہ کوئی نام ہے اس میں _رقم ہے خط میں نامعلوم سا وہ درد کچھ ایسے مک ّمل ہو گیا بائیس برسوں کا سفر نامہ" گرا ہے وقت کے گالوں پہ جا کر اشک بیگانہ کسی کے حکم پہ گردن اچانک جا جھکی سب کی کہ محِل تاج کی تعمیر پوری ہو چکی کب کی سبھی شہکار اپنے گھر کہ جانب لوٹ جائیںگے کبھی واپس وہ اپنی زندگی کے دن نہ پائینگے کہ اتنے میں ُانہیں حکِم ا ٰلہی یاد آتا ہے بڑھی حسرت سے اور بے بس وہ اپنے ہاتھ تکتے ہیں رہیں پہلی صِف ماتم میں آگے احم ِد لاہور مطابق حکم کے سب ایک صف تّیار کرتے ہیں کھڑے شہکار ہیں ساکت قطاروں میں کٹے ہاتھوں کے پربت بنتے جاتے ہیں سبھی کاٹے گئے ہاتھوں میں لاتعداد خنجر ہیں وہ خنجر تو خدا جانے انہیں ہاتھوں پہ چلنا تھا کہ جن ہاتھوں نہ کل تک تو تراشا تھا یہ مکرانا بہت بھاری پڑا ُان کو وہ سنگین جرمانہ زمانے کی نظر میں جو محّبت کی نشانی ہے "سبھی شہکار اس کو ظلم کی تصویر کہتے ہیں دکھائی جو دیا مجھ کو وہ اک کہرام تھا سمجھو نظر آتی ہیں بوندیں خون کی صفحے کے آخر میں مجھے لے جا کے ُاس پل میں گواہی دے رہی تھیں کے صفح ِہ ماتم پہ ساکت آخری شہکار باقی تھا" یہ اس شہکار کا خط ہے وہ اپنے ہاتھ میں خنجر نہیں رکھتا قلم اس کا سہارا تھا مگر افسوس اس کے ہاتھ اب باقی نہیں یاروں"۔ 103
غزل جو سمجھتے ہیں کی مجھ پہ وار ہونا چاہیئے ُان سبھی لوگوں کا دل مسمار ہونا چاہیئے خواہِش دید صنم کو میں نے روزہ رکھ لیا آخرش اب شام ہے افطار ہونا چاہیئے کیوں تو مجھ کو جاد ِو لب یوں ہی دکھلاتا نہیں کیوں ضروری ہے کے مجھ کو پیار ہونا چاہیئے آپ نے چاراگری کی تو ملا دل کو سکوں شاید اب پھر سے مجھے بیمار ہونا چاہیئے لیلا مجنوں کی کہانی جب پڑھی تو یوں لگا اس کہانی میں تیرا کردار ہونا چاہیئے ویسے تو میں عشق کے انکار میں رہتا ہوں پر تیر چل جائے تو دل کے پار ہونا چاہیئے یوں تو مجھ کو میری خاطر کوئی بھی منظور ہے بس یہی ایک شرط ہے فنکار ہونا چاہیئے جو میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سب جان لے اس طرح کا کوئی تو سرکار ہونا چاہیئے ذات مذہب دیکھ کر ہی شادیاں ہوتی ہیں تو ذات مذہب دیکھ کر ہی پیار ہونا چاہیئے – ل ن ک ی ش " گ و ت م " 104
105 this page has been left empty on purpose
सि लसि ला संज्ञा , पुल्लिं ग ⬩ एक के बा द एक चलते रहने वा ला क्रम; क्रमि कता ; श्रेणी ; पंक्ति ; कता र
ज़ा द क़ फ़ स आज मुझ को बता ऐ खु़दा क्यों कि या तू ने औरत को पैदा जहाँ में भला फि र दि या हुस्न और हुक्म परदे का भी तब जहाँ में नहीं उस को ज़िं दा न में जन्म देना था ना कै़द में कम से कम सुर्ख़ आरि ज़ तो बुर्के़ से हो ते रि हा पा यलों की सदा गूंज उठती जहाँ ज़ुल्फ उड़ती हवा ओं में फ़र फ़र वहाँ क़हक़हे ख़ा मो शी तक लगा ती जहाँ ओढ़नी नर्म सी ने को खलती नहीं सल्तनत और ज़ंजी र हो ती रवाँ कै़द हो ती ज़माँ की नज़र में मगर ये क़फ़स औरतों को जहाँ के फ़सी लों से करती रि हा आ – मुबमु श्शरा महफ़ूज़ 107
ग़ज़ल – उमर ज़रा से हम ही बेकबे ल हो गए हैं स भी ग़म वरना ओझल हो गए हैं जहाँ पैवंपैवंदका री की थी तू ने वो दि ल वी रा न जंगल हो गए हैं हमा रा मसअला ही मसअला है मसा इल सा थ के हल हो गए हैं तेरेतेरे गाँ व के मुर्दामुर्दा दि ल बसा कर हमा रे शहर बो झल हो गए हैं गए हज़रत उसे तबली ग़ करने जले ऐसे के का जल हो गए हैं बड़ी ता ख़ी र से हम मुस्मुकुरा ए कहा था उस ने पा गल हो गए हैं शजरका री तेरीतेरी या दों में की है हमा रे पेड़पेड़ संदल हो गए हैं तेरेतेरे कूचे से गुज़रे थे मुसामु साफ़ि र सुनासुना है पाँ व मख़मल हो गए हैं 1 0 8
– मुबश्शरा महफ़ूज़ लाख चेहरा दिखेतुम को हंँसहंँ ता हुआ आँख मेंग़म मिलेगा छलकता हुआ तुम से पहले नहीं था मगर आज कल हुस्न रहता है दिन भर महकता हुआ वक़्त कमज़र्फ है हम है को मालूम है ले गया छीन कर तुझको अच्छा हुआ गिर गई उसके कुर्तेपेचाय मेरी और वो रह गया मुझको तकता हुआ कैमरे में सभी कै़द करने लगे हादसेका वो मंज़र तड़पता हुआ मुफ़लिसी भी अज़ाब-ए-ख़ुदा है कि दिल रह गया झुमकियों पर मचलता हुआ उन खिलौनों की क़ीमत पता लगतेही सो गया एक मासूम रोता हुआ एक लड़की की डोली उठी थी या फिर इक जनाज़ा था तैयार होता हुआ ग़ज़ल 109
ग़ज़ल – मुबश्शरा महफ़ूज़ हमें जि स सरकशी में ज़िं दगी महसूस हो ती है ज़मीं -ज़ा दों को वो दी वा नगी महसूस हो ती है जहांँ वा लों से तो कर लूँ भले जि तनी बग़ा वत मैं अगर मांँ से करूँ शर्मिं दगी महसूस हो ती है वो रग़बत चा ट लेती है जवाँ लड़की को अंदअं र से जो रग़बत दूर से ता बिं दगी महसूस हो ती है जो नी त्शे के ज़मा ने में ख़ुदाख़ु दा ज़िं दा नहीं तो क्या उसे तो फ़लसफ़ों में बंदगी महसूस हो ती है हमा री नस्ल के बच्चे अरस्तू बन नहीं सकते इन्हें पैसे कमा कर ही ख़ुशीख़ु शी महसूस हो ती है मि रा मा ज़ी है ये आग़ो श लम्स ओ बांँ ह के अब तो तेरी बा हों में मुझ को बेहि सी महसूस हो ती है 110
यूँ अपना सब्र खो बैठा है पा गल मगर तुम आओ तो बैठा है पा गल वो सब से चा ल गहरी चल रहा है तुम्हा रे सा थ जो बैठा है पा गल शब-ए-ग़म अश्कों की बा रि श हुई थी तुम्हा रे ख़त भि गो बैठा है पा गल वही कमबख़्त लो गों मसख़रा है जो भी क़ि स्मत पे रो बैठा है पा गल तफ़क्कुर में कहीं वो जा चुका है नहीं पा गल वो जो बैठा है पा गल जुनूँ नज़दी क उस के अब खड़ा है कि सी से दूर जो बैठा है पा गल ग़ज़ल – उमर 111
मैं अपने घर पलटता हूँ तुम्हा रे हि ज्र में डूबे हुए कमरे में जा ता हूँ और अपने आइने के आगे जा कर बैठ जा ता हूँ मुझे उसमें तू दि खती है मैं तुझ से बा त करता हूँ मैं ख़ुद को भूल जा ता हूँ मैं तुमको या द करता हूँ तो सब कुछ भूल जा ता हूँ बस इतना या द रखता हूँ तू जि स मि ट्टी की खुशबू है मैं उस मि ट्टी से आता हूँ तू जि स दरि या का पा नी है उसी का मैं कि ना रा हूँ लब-ए-दरि या पे तेरे जि स्म का पा नी जब आता है कि ना रा सब्ज़ हो ता है दरख़्तों पे नई शा ख़ें नि कलती हैं मगर फि र भी कि ना रा मुंतज़ि र रहता है दरि या का वो पा नी रक्स करता है जज़ी रा डूबने की को शि शों में मग्न रहता है तेरी आँखें मुझे देखें तो अक्सर पूछती हैं ये कि मेरे बि न तू कैसा है शुरु' में हि चकि चा ता हूँ पर आख़ि र बो ल देता हूँ कि मैं इक ज़र्द पत्ता हूँ बि ना चप्पू की नौ का हूँ कि सी दरि या की धा रा हूँ वजूद अपना तुझी से है मैं तेरे बि न अधूरा हूँ तू जब भी रक़्स करती है तू जब भी मुस्कुरा ती है तू जब भी खो ल कर बा हें क़री ब अपने बुला ती है मुझे तू ख़ूबख़ू भा ती है तेरी आँखों को देखूँ मैं तो अक्सर सो चता हूँ ये तू कि स का ग़ज़ पे लि खी नज़्म से स्या ही चुरा ती है वो कैसा इत्र है जि सको लगा कर तू मेरे आँगन की सा री ति तलि यों को अपनी जा नि ब खीं च ला ती है वो कैसा फूल है जि सको तू बा लों में लगा ती है तू कि स मि ट्टी की खुशबू है तू कि स दरि या का पा नी है कभी सर रखके काँ धे पे तू नग़्मे गुनगुना ती है कभी मेरी ही नज़्मों को तू पढ़कर खि लखि ला ती है कभी तो चूम लेती है मेरे हो ठों के ज़रि ए रूह ओ दि ल की सा री तहदा री कभी नज़दी क ला कर हो ठ अदा से दूर जा ती है दि वा ना पन बढ़ा ती है कभी तू इश्क़ करती है कभी नज़रें चुरा ती है तेरे हुस्न-ए-क़या मत पे तो इस दुनि या के सा रे ही शगूफ़े रश्क करते हैं को ई असना म हो दरि या हो या फि र चाँ द ता रें हो जो तुझको देख लेते हैं तो अपने हा थ मलते हैं मैं जब दरि या से कहता हूँ तुम्हा री सर्द लहरों से ज़ि या दा तो रवाँ उस शो ख लड़की के बदन की करवटें ठहरी तो दरि या रूठ जा ता है मैं तुझमें डूब जा ता हूँ मुझे पा नी जला ता है मैं ऐसी आग में सदि यों तलक जलने को हा ज़ि र हूँ कहाँ है तू मेरी जा नाँ फक़त तेरा तसव्वुरवु है मुझे मा लूम है तूने भी मेरी या द को घर के कि सी को ने में रक्खा है मगर ये इल्म है मुझको हि फा ज़त से सभी ची ज़ें तू रखकर भूल जा ती है सो शि कवा क्या करूँ तुझ से मैं अब भी ढूँढता फि रता हूँ तुझको सा हि बा हर दि न मगर तू मि ल नहीं पा ती तो ख़ुदख़ु से रूठ जा ता हूँ अधूरा मैं – लंकेश "गौ तम" 112
ग़ज़ल मुझ पे चढ़ा हुआ है हसीं जि स्म का बुखा र हर एक शक्ल तेरी तरह लग रही है या र पहले तो उसके गेसुओं की गाँ ठ खो ल दे फि र जि स्म से लि बा स-ए-क़फ़स-ज़ा द को उता र इतनी ही इल्ति जा है मेरी तुझ से शा 'इरा इक बहर में पि रो के मुझे का फ़ि ए से मा र मुझ से हज़ा र मर्तबा बो ली है ख़ुदकुशी आ चल तुझे मैं लेके चलूँ ज़िं दगी के पा र मैं ख़ा क़ हूँ सो ढा ल दे मि ट्टी में दश्त की फि र क़ैस ही की जैसी कि सी शक्ल में उता र मा ना कि तेरी पहली मुहब्बत तो भूल थी भूलें ही कर रहा है तू 'लंकेश' बा र बा र यूँ तो उसके पा स रहकर मेरा हर पल ईद है पर वो मेरी हो सके तो या र अव्वल ईद है एक अरसे बा द ऐसा वक़्त आया है कि जब मैं हूँ,हूँतुम हो , चाँ द ता रे हैं,हैंमुकम्मल ईद है दूर बैठा -बैठा ही तकता रहेगाहेगा क्या मुझे पा स आ मेरे गले से लग जा पा गल ईद है ईद का चाँ द आजकल मैं देखता हूँ रो ज़ ही एक लड़की जब से देखी है मुसलसल ईद है को ई देखे आसमाँ में चाँ द नि कला या नहीं को ई तुझको छत पे देखे और कहे कल ईद है ग़ज़ल – लंकेश "गौ तम" – लंकेश "गौ तम" 113
वो मुझेमु झेदेख कर मुस्मुकुरा ने लगे ख्वा हि शों के दि ए जगमगा ने लगे बा तों बा तों में हम ने तो की दि ल्लगी और तुमतु बा तसेदि ल लगा ने लगे तुमतु न थे तो को ई पूछपू ता भी न था फि र अचा नक सभी लो गआने लगे ये नएआशि कों ने बता या मुझेमु झे ज़ख़्म तुमतु ख़ूबख़ू सूरसूत बना ने लगे सा मने सि र झुका ए थी जो गन खड़ी देवता के कदम डगमगा ने लगे रतजगे उन की तफरी ह कैसेबने क्यों ये जुगजु नू तमा शे लगा ने लगे जब तेरेतेरेनक़्श-ए-पा का तअक़्क़ुब कि या फि र ज़मा ने मेरे पी छेआने लगे ग़ज़ल – उमर 114
हमेशा पूछता है तू कि मि ल कर क्या करेंगे हम तेरी आग़ो श में गि र कर कहीं पे जा मरेंगे हम हमा रे पा स खो ने को फ़क़त ज़ंजी र है या रों कि जब तक ज़िं दगी है जंग को जा री रखेंगे हम हमें है मुख़्तलि फ़ अंदा ज़ की इक सरकशी हा सि ल जो हम पे ज़ुल्म ढा ओगे तो ये सि र का ट देंगे हम नहीं हैं पा स में पैसे न ज़ेवर हैं न ही रे हैं फ़क़त उलफ़त है जेबों में जो सब में बाँ ट देंगे हम तुम्हें हा सि ल है शो हरत तो रहो औक़ा त में वरना तुम्हें कि रदा र का नंगा फ़क़ि ट्टा बुत कहेंगेहेंगेहम वो बरसों से नहीं आया हमें उजड़ा ही रहने दो वो जब आएगा तो इस हुस्न को ता ज़ा करेंगे हम सुना है कहता है आखि र में वो ग़ज़लें बड़ी अच्छी ग़ज़ल सुन कर ही उसकी बज़्म से आया करेंगे हम रि हा ई चा हि ए हमको जहाँ के सब उसूलों से हमा री ज़ि द है इस ज़ि द से नहीं पी छे हटेंगेटेंगेहम ग़ज़ल – मुबश्शरा महफ़ूज़ 115
मि रा तन्हा बदन इस सो च की इबरत से टूटेगा दि ल-ए-बेख़्वा ब तेरे प्या र की ख़लवत से टूटेगा बदन है एक दी वा र-ए-ग़म-ए-पो शी दा -ए-हि जराँ गि रेगी जि स के ऊपर वो बड़ी शि द्दत से टूटेगा मुहब्बत कि स को रहने देती है बा क़ी दि ल-ए-ना दाँ तू इस से बच गया तो बचने की हैबहै त से टूटेगा मि रा ये हश्र ढा ना भी तुझे जो ड़े ही रखता है मुझे बतला तू मेरी जा न कि स आफ़त से टूटेगा हमा रे गाँ व के लो गों में उलफ़त है मगर फि र भी हमा रा गाँ व इक दि न धर्म की नि सबत से टूटेगा ग़ज़ल – मुबश्शरा महफ़ूज़ 116
आख़ि री शहका र – मुबश्शरा महफ़ूज़ ख़ुदा के ना म पर है एक चि ट्ठी डा क ख़ा ने में पता को ई न को ई न को ई ना म है इस में रक़म है ख़त में ना -मा लूम सा वो दर्द कुछ ऐसे "मुकम्मल हो गया बा ईस बरसों का सफ़रना मा गि रा है वक़्त के गा लों पे जा कर अश्क बेगा ना कि सी के हुक्म पे गर्दन अचा नक जा झुकी सब की कि महल-ए-ता ज की ता मी र पूरी हो चुकी कब की सभी शहका र अपने घर कि जा नि ब लौ ट जा एँगे कभी वा पस वो अपनी ज़िं दगी के दि न न पा एँगे कि इतने में उन्हें हुक्म-ए-इला ही या द आता है बढ़ी हसरत से और बेबस वो अपने हा थ तकते हैं मुता बि क़ हुक्म के सब एक सफ़ तैया र करते हैं रहें पहली सफ़-ए-मा तम में आगे अहमद-ए-ला हौ र खड़े शहका र हैं सा कि त कता रें हैं,हैं कटे हा थों के परबत बनते जा ते हैं सभी का टे गए हा थों में ला ता दा द ख़ंजर हैं वो ख़ंजर तो ख़ुदा जा ने उन्हीं हा थों पे चलना था कि जि न हा थों ने कल तक तो तरा शा था यह मकरा ना बहुत भा री पड़ा उन को भी जुर्मा ना ज़मा ने की नज़र में जो मो हब्बत की नि शा नी है सभी शहका र उस को ज़ुल्म की तस्वी र कहते हैं"हैं दि खा ई जो दि या मुझको वो इक को हरा म था समझो नज़र आती हैं बूंदें ख़ून की सफ़्हे के आख़ि र में मुझे ले जा के उस पल में गवा ही दे रही थीं के "सफ़-ए-मा तम पे सा कि त आख़ि री शहका र बा क़ी था ये उस शहका र का ख़त है वो अपने हा थ में ख़ंजर नहीं रखता क़लम उस का सहा रा था मगर अफसो स उस के हा थ अब बा क़ी नहीं या रों "। 117
ग़ज़ल जो समझते हैं कि मुझपे वा र हो ना चा हि ए उन सभी लो गों का दि ल मि समा र हो ना चा हि ए ख़्वा हि श-ए-दी द-ए-सनम को मैंने रो ज़ा रख लि या आख़ि रश अब शा म है इफ़्ता र हो ना चा हि ए क्यों तू मुझको जा दू-ए-लब यूँही दि खला ता नहीं क्यों ज़रूरी है के मुझको प्या र हो ना चा हि ए आप ने चा रा -गरी की तो मि ला दि ल को सुकूँ शा यद अब फि र से मुझे बी मा र हो ना चा हि ए लैला मजनू की कहा नी जब पढ़ी तो यूँ लगा इस कहा नी में तेरा कि रदा र हो ना चा हि ए वैसे तो मैं इश्क के इनका र में रहता हूँ पर ती र चल जा ए तो दि ल के पा र हो ना चा हि ए यूँ तो मुझ को मेरी खा ति र को ई भी मंज़ूरज़ू है बस यही इक शर्त है फ़नका र हो ना चा हि ए जो मेरी आँखों में आँखें डा लकर सब जा न ले इस तरह का को ई तो सरका र हो ना चा हि ए जा त, मज़हब देखकर ही शा दि याँ हो ती हैं तो जा त, मज़हब देखकर ही प्या र हो ना चा हि ए – लं के श " गौ त म " 118
अरुणो दय संज्ञा , पुल्लिं ग ⬩ सूर्यो दय के पहले का समय जब आसमा न में ला ली छा जा ती है;है उषा का ल; भो र; तड़का
का श! मैं लि ख पा ता – अद्वैत आनंद कुछ शि का यतें हैं ख़ुद से, लि खने लगा हूंँ जब से, ख़ुद से पर कुछ नहीं कह पा ता , का श ! का श मैं लि ख पा ता । का श मैं लि ख पा ता चैत की चि लचि ला ती धूप पर, का श मैं लि ख पा ता पूस के कुरूप पर, का श मैं लि ख पा ता बच्चे से चंचल मन पर, का श मैं लि ख पा ता समस्या ओं के शूल पर बैठे हमा रे जी वन पर। कलम रुकी है मेरी हरेक छंद पर, क्यों कि दि मा ग में थी वे उंगलि याँ , जो उठी थी मेरे और का व्य के संबंध पर, का श मैं लि ख पा ता चलते कलम के अद्वैत आनंद पर। का श मैं लि ख पा ता अपनी पंक्ति यों की ओर अपनी प्रति बद्धता पर, का श मैं लि ख पा ता अपने पद्य के उन्मा दकता पर, का श मैं लि ख पा ता मुझे प्रेरि त करते कवि ता के उन वर्णों के मेल पर, का श मैं लि ख पा ता वि चा रों में कूदते शब्दों के खेल पर। का श मैं अलंका र के अलंका र को थो ड़ा और अलंकृत कर पा ता , का श मैं उन रसों से कि सी एक को भी संक्रमि त कर पा ता । का श मैं लि ख पा ता मुझ पर हो रहे अट्टहा स पर, का श मैं लि ख पा ता मेरे कलम के अद्वि ती य सा हस पर। का श मैं लि ख पा ता वो जो आजतक लि खा न गया हो , का श मैं कह पा ता वो जो आज तक कहा न गया हो , का श मैं अपने असंख्य वि चा रों को छाँ ट पा ता , का श मैं अपनी बेचैनी अपनी पंक्ति यों से बाँ ट पा ता । का श मैं लि ख पा ता आपके वि चा रों पर, का श मैं लि ख पा ता अपने वि का रों पर, का श मैं लि ख पा ता अपने व्यक्ति त्व पर, का श मैं लि ख पा ता अपनी कवि ता के अस्ति त्व पर । का श मैं लि ख पा ता श्रो ता ओं की रहनुमा ई पर, का श मैं लि ख पा ता उनके ही हौ सला -अफ़ज़ा ई पर, का श मैं लि ख पा ता उन्हीं के आलो चना ओं पर, का श मैं लि ख पा ता मेरे शब्दों के पी छे छि पे वि वेचना ओं पर। का श मेरी पंक्ति याँ कि सी को हँसा सकतीं , का श मेरी पंक्ति याँ कि सी को उसके गहरे अर्थों में फँसा सकतीं , का श मेरे भा व थो ड़े और नि र्मल हो ते, का श मेरे शब्द थो ड़े और सरल हो ते। का श मैं लि ख पा ता अपने भा वों पर, का श मैं लि ख पा ता मेरे कलम के जटि ल स्वभा वों पर, का श मेरी स्या ही एक अमि ट छा प छो ड़ पा ती , का श वो लि खने वा ले से पढ़ने वा ले को जो ड़ पा ती । का श ये का श ही जी वन से हट पा ते, का श मुझ पर घुमड़ते यह का ले बा दल छट पा ते, बेशक चुनौ ति यों से यह मेरी पहली ही मुला क़ा त है, बेशक यह वि पदा ओं की अभी सि र्फ़ शुरुआत है। तैया र हूँ मैं भी सबकुछ लि खने के लि ए, तैया र हूँ मैं कुछ अद्भुतद्भु सी खनेे के लि ए, मुझ पर उछले का लि ख से तैया र हूँ अपनी ही गा था लि खने के लि ए , अनंत वि चा रों का तैया र हूँ मैं सा र लि खने के लि ए । जब तक ये कलम ये स्या ही सा थ देगी तब तक लि खूँगा मैं, जब तक सभी का श को खत्म न कर दूँ तब तक लि खूँगा मैं, सब कुछ लि खूँगा मैं, हाँ , सब कुछ लि खूँगा मैं।। 120
अनमो ल रत्न सुन बहना ! रा खी का ये धा गा , बाँ धा जो तूने कला ई पर; बंधन यह वि श्वा स का , कर्ज़ है तेरा , इस भा ई पर। बस इतना है कहना , रत्नों में ही रे जैसी है तू, पुष्पों में कमल जैसी है तू, मुस्का न लि ए यूँ ही चमकती रहना , सूर्य से नि कल रही कि रण जैसी है तू। एक छो टी सी बच्ची , आई नज़र कॉ लेज में, कई बा र तुझे नहीं पहचा ना था ; वो भी क्या शुभ घड़ी थी न, जब भा ई तूने मा ना था । तुझे नहीं पता ! मेरी प्रेरणा है तू, मा सूमि यत की मूरत है, चेहरे से तो सभी हो ते हैं, तू दि ल से भी खूबसूरत है। आता है तुझे, अपने लक्ष्य के लि ए तपना । यह तू जा न ले, परि श्रम तेरा सच्चा है, पूरा भी हो गा , हर सपना ; कहती नहीं मगर, थक जा ती हो गी न दि नभर की मेहनत से? वक्त से सो या कर, रख ख़्या ल तू अपना । मुश्कि ल हो गा यह सफ़र तेरा , क्यों कि घर से आज तू दूर है, बरा बरी नहीं हो सकती उनसे कभी , पर फि र भी या द दि ला ना चा हता हूँ, यहाँ भी सा थ खड़ा एक भा ई जरूर है। – समी र बस एक आवा ज लगा ना , मैं ना आऊँ तो बता ना । यूँ तो रूठो को मना ता नहीं मैं, पर अगर तू ना रा ज हो गी ; और ना मना ऊं तो बता ना । वैसे तो गुस्सा पी ना मैंने सी ख लि या , पर अगर आँसू तेरे फि र आयेंगे, तब शा यद सब्र का बाँ ध ये टूटेगा , शा यद ये संसा र मुझसे रूठेगा और जो आएगा बी च में पहले वो फूटेगा । और जो लो ग तेरे खि ला फ हैं, लि ख देता हूँ आज; सबसे लड़ जा ऊँगा मैं, बहन तेरे लि ए सबसे भि ड़ जा ऊँगा मैं। न जा नें क्यों है ऐसा , थो ड़ा भा वुक हूँ मैं बहनों के उदा स चेहरे, झकझो र देते हैं रो म-रो म मेरा । तू जैसी भी है, को ई शि का यत नहीं मुझको । परवा ह बहुत है तेरी , बस शा यद बता या नहीं कभी तुझको । 121
चिं ता ते रे चे ह रे प र जँ च ती न हीं , खुश रहा कर… उदा स तू अच्छी लगती नहीं ; तुझे खुश देखकर मैं खुश हो जा ता हूँ, अपनी मुश्कि लें बस तुझे ही तो बता ता हूँ । क भी क भी ल ग ता है ते रे पा स आ ऊँ, "कैसी है बहन" बो लकर बैठ जा ऊँ, फि र परेशा नि यों की लंबी दा स्तां तुझे सुना ऊँ; उस दि न रो ते-रो ते रुक गया था मैं, मन करता है अब सब दुः ख तुझे बता ऊँ। फि र तू चली जा येगी तो , रक्षा बंधन पर या द तेरी सता एगी ; कर वा दा आज मुझसे भी एक, हर श्रा वण मा स की पूर्णि मा , लेकर एक रा खी तू आएगी । डरता हूँ, तू भी चली जा एगी , ये बचा हुआ सा ल भी पता नहीं कब नि कल जा एगा ; पूछ लि या करूँगा तेरी खैरि यत, जब जब ख़्या ल तेरा आएगा । शा यद दि न ऐसे भी हो सकते हैं, जब कि सी से बा त नहीं करूँगा मैं। जी वन के जि स भी मुक़ा म पर रहूँगा , बहन कभी यह मत सो चना , कि तुझे या द नहीं करूँगा मैं। तमन्ना है मेरी , ज़िं दगी में हर ची ज़ पा एगी तू। और अंत में एक ही सवा ल; कभी -कभी झगड़े भी हो सकते हैं, पर बहन भूल तो नहीं जा एगी तू? 1 2 2
वि का सशी ल से वि कसि त की ओर, तेजी से हो रहे हैं अग्रसर हम,, अगर दुश्मन आँख दि खा ए तो , बि ल्कुल नहीं छो ड़ते कसर हम,, गर हमा रे लि ए को ई मि ट्टी की ईट है,है तो उसके लि ए करगि ल के पत्थर हम,, आतंकवा द एवम् नक्सलवा द के लि ए, यमरा ज रूप में मौ त के सौ दा गर हम कुछ बि मा री स्वयं हमा रे अंदअं र है,है जि सका उपचा र अति शी घ्र करा ना है,है, भ्रष्टा चा र जैसे को रो ना से भा गना है,है, जा त धर्म जैसे को रो ना को भगा ना है,है, नि र्धन के घर ती न वक्त चूल्हा जला ना है,है, भेदभा व भुखमरी को चूल्हे में जला ना है,है, सि या चि न से कन्या कुमा री कच्छ से कि बि थू, हर घर जन गण मन का उद्घो ष करवा ना है।है। हर घर तिं रगा गर्व व अभि मा न से फहरा ना है,है एक भा रत श्रेष्ठ भा रत का ना रा जो र से गा ना है,है भूल मत जा ना आज़ा दी के अमृत महो त्सव में, हमें स्वतंत्रता दि वस धूम धा म से मना ना है।है। स्वतंत्रता दि वस की हा र्दि क शुभका मना एंँ – ऋति क रा ज अमृतमृ महो त्सव आजा दी का अमृत महो त्सव, हम शा न से मना रहे हैं,हैं, वि श्व पटल पर प्या रा ति रंगा , हम गर्व से फहरा रहे हैं,हैं, यूक्रेन और अफगा नि स्ता न में, आपने देखा ही है हजरा त,, अपनों के लि ए युद्ध वि रा म की , हम घो षणा करवा रहे हैं।हैं। अंतअं ररा ष्ट्री य युद्ध वि रा म लगवा ना , कदा पि हो ता नहीं है आसा न,, गर गलती से भी हो गई गलती , तो बन जा एंगेएं गेकई श्मशा न,, पर 75 वर्षों में हमने अपने, रि श्ते ही तो कमा ए हैं जना ब,, और बढ़ा ई है भा रत मा ता की , आन बा न शा न और पहचा न।। 123
सभी तो जा रहे थे इस रा स्ते से, इधर से नि कलना मेरी मज़बूरी था , अगर यह जुर्मजु र्मथा तो , संवि धा न में लि खना भी ज़रूरी था । रो ककर मुझेमु ,झेलगे पूछपू ने सवा ल, "संदि ग्ध लग रहे हो तुमतु " शा यद उनका यह कहना था , अफ़सो स मैंने कुर्ता पहना था ! डरा सहमा सा मैं खड़ा था , वो पल एक घंटे से भी बड़ा था , "पा स वा ले कॉ लेज का वि द्या र्थी हूँ"हूँ मैं बस इसबा त पर अड़ा था । नज़रों के सा मने भवि ष्य , और मन में वर्तमार्त मान था । टो पी भी थी मेरे पा स, इसलि एऔर परेशा न था । क्षण भर को तन मेरा काँ पकाँ गया , झट से इरा दे उनके मन मेरा भांँ पभांँ गया , पहले मैंने टो पी छि पा ई, डर सेआवा ज़ मेरी भर्ररा ई। थो ड़ा डरा वना , थो ड़ा अजी ब था , मैं ही क्यों वो बदनसी ब था ! सो चा न था ऐसा भी हो सकता है,है मैं तो कॉ लेज के ही करी ब था । कभी कुछ गलत न करके भी डर लगता है,है और देखकरव्यवहा र लगता है शा यद… मुझेमु झेअपनी एक पहचा न छि पा कररहना था , अफ़सो स उसदि न मैने कुर्ता पहना था ! सो चता हूँआज मैं… क्यों डर डर कर चलना पड़ता है,है हर गली हर कूचे… प्रमा ण देकरनि कलना पड़ता है।है ज़िं दज़िं गी में हर कदम हर सी ढ़ी पर, हर पल सौ ख़्या ल हो ते हैं,हैं वफा दा री सा बि त करूँ कैसे, मन में बसये सवा ल हो ते हैं।हैं फरवरी – समी र 7- 124
मेरी कल्पना तेरे ही ख़्या लों में खो रहा हूँ मैं, मत पूछो कब से यूँ ही रो रहा हूँ मैं, तू हक़ी क़त या सि र्फ़ एक सपना है, वा स्तव में तू तो मेरी बस एक कल्पना है। मेरे गी ले तकि ये भी मेरे रो ने की गवा ही दे रहे हैं, मेरे इसी रूख़ को कुछ लो ग मेरी तबा ही कह रहे हैं, तेरे लि ए तो बर्बा द हो ने को भी तैया र हूँ मैं, लो गों के लि ए बहका हुआ पर तेरे लि ए सि र्फ़ प्या र हूँ मैं। मेरे ख़्या ल मेरी हैसि यत से बहुत परे हैं, इसलि ए हम आज एक अजी ब से दो रा हे पर खड़े हैं, जहाँ एक रा ह तेरी ओर जा ता है, वही दूसरा तुझसे दूर, चुना व कठि न है, चा हे हो तुझ पर हमें कि तना भी ग़ुरूर। क्यों कि एक रा ह है आज की ओर, दूजा दि खा रहा है कल, मेरे नि र्णय के यह क्षण तय करेंगे न जा ने मेरे आने वा ले कि तने पल, पहले रा ह पर मुझे सब कुछ अच्छा दि ख रहा है, तेरे मेरे मि लन को स्वयं वि धा ता लि ख रहा है। मैं और तुम एक अलग से बंधन में हैं, मा नों दो नों मन एक तन में हैं, मैं हूँ, तुम हो और हमा री लंबी बा तें हैं, हमा री कभी न ख़त्म हो ने वा ली मुला का तें हैं। ये ख़ूबसूरत तेज़ हवा का झों का दि खता है, बा रि श कर रहे सा फ़ आसमां का धो खा दि खता है। तेरी आवा जें वा ता वरण को ची रते का नों में मि ठा स घो लती हैं, तुम खा मो श रहो , तब भी तुम्हा री आँखें सबकुछ बो लती हैं। हमा रे प्रेम का एक अलग ही ज़ुनून है, तुझे चा हनें में कि तना सुकून है, मेरे कमजो र दि ल को अब जा कर थो ड़ी रा हत है, मेरे जी वन का लक्ष्य बन रही सि र्फ़ तुम्हा री चा हत है। दूसरी ओर, दूसरा मा र्ग मुझे मेरे कल की ओर ले जा रहा है, हर गज पर मुझे एक नए वा स्तवि कता से मि ला रहा है। इस रा ह पर मुझे सबकुछ सच्चा सा दि ख रहा है, हमा रे अलगा व से तो ये ज़मा ना भी अब सी ख रहा है। – अद्वैतआनंदनं 125
मेरा और तेरा अलग हो ना तो पूर्व से ही तय है , इसी अद्वैत , अटल सत्य में यह सृष्टि लय है , मैं हूँ , तुम हो और हमा री शि का यतों की लंबी कता र है , हमा री क भी न ख़त्म हो ने वा ली तकरा र है। यह ज़ो रदा र हवा एँ तेज तूफा न ला रहे हैं, सब कुछ ख़त्म करना इन का ले बा दलों को भी भा रहे हैं , तेरी कर्क श आवा ज खंजर की तरह का नों में चु भ रही है , हमा री करुणा एक - दूसरे की आँखों के आंसु ओं में डूब रही है। हमा रे संबंधों में दुर्भा वना ओं का एक लहर है, एक दूसरे को मा रने वा ला हमा रा शब्द ही ज़हर है, मेरे दि ल को अब जख्मी हो ने की आदत लगी है, पूर्व में इसी संबंध को कुछ लो गों ने चा हत कही है। चुना व इन वि चा रों के बा द और कठि न हो गा , कि सी भी रा ह पर चलना मेरे लि ए जटि ल हो गा । क्यों कि जब भी गुजरूँगा पहले रा ह से, सम्भवतः सफर का अंत करुँगा दूसरे रा ह पर। हर एक रि श्ते का अन्त बदस्तूर यही हो ता है, और लो ग कहते हैं जो हो ता है सही हो ता है, अफसो स है कि जो हो ता है उसे ही हम अच्छा मा न लेते हैं, नि यति के हर नि र्णय को बि ना प्रश्न कि ए ही मा न लेते हैं। हमा रा अलगा व तो हमा रे मि लन के वक्त ही तय था , इसलि ए हमा रा जुड़ा व शा यद केवल हमा रे वक्त का व्यय था , इसलि ए तुम सदा मेरी कल्पना ओं की हि रा सत में रहना , मैं तुम्हें कि तना भी चा ह लूँ इसे कभी मेरी चा हत मत कहना । मैं यूँ ही ख़्या लों में खो जा या करूँगा , बेवजह यूँ ही रो ज़ रो जा या करूँगा , हरवक्त, यूँ ही , हमेशा की तरह, तुम मुझे देखकर खि लना , और हर वक्त मुझसे मेरी कल्पना ओं में आकर मि लना । 1 2 6
हा थों की रेखा रंग है उमंग है,है जि स पल तू मेरे संग है,है देख हा थों की रेखा क्यों भा ग्य मेरा दंग है।है न द्वंद्व है - न दो ष है,है न कि सी नर से रो ष है,है आक्रो श है प्रचंड सी , उदंड यह समा ज पर। रंग मेरी खुशि यों का , संग मेरे सा थी का । भा ग्य मेरा बगी यों सा , नि त सौ फूल खि ला ती है,है कर अठखेलि यां उमंग संग नि त दि न मुझे यह सता ती है।है द्वेष है कलेश है,है समा ज के हर प्रां त में, न प्रेमप्रे है न प्री त है,है न रा ग है न गी त है।है बस शी त है स्व प्रगति की , बसंत है नि ज उन्नति की , उन्मा द है स्व रचना की , रंज है स्व जग संरचना की । वि का र में नि ज पी ड़ा की , वि का र में नि ज भंजन की , हा थों की रेखा में चर्चि त शि व रूपा है,है पर जी वन रूपी गा ड़ी अना ड़ी स्व रूपा है।है छो ड़ो ये वि द्या ये कला आजमा ना , हा थों को पढ़ना या ग़ैरों का पढ़ा ना , भर जो श रक्त रुधि र में, तू ही रा पि घला एगा , मुमकि न तो मुमकि न, ना मुमकि न भी कर दि खा एगा । चंद पंक्ति की सो च मैं समर्पि त करता हूंँ,हूंँ फि र भी मैं न जा ने क्यों डरता हूंँ,हूंँ पा ठक की रुचि से, पा ठक की नूतन अभि रूची से। फि र भी मैं कहता हूंँ,हूंँ रंग है उमंग है,है जि स पल तू मेरे संग है,है देख हा थों की रेखा , क्यों भा ग्य मेरा दंग है,है क्यों भा ग्य मेरा दंग है।है। – नंदन चौ बे 127
इक अंधेरी रा त में ग़म भी भटक कर सो गया , इक हवा के झों के में ख़त भी चटक कर खो गया । फि र भी उदा सी न छँटी , बि न कही बा त की , मा न लूँ कैसे कि बी ती रा त में जो हो गया । मा नता हूँ इक पहल से तू भी तन्हा हो गया , पर कि सका था कसूर जो जा म खा ली हो गया । ग़र मौ न था तो कौ न था जो रो ते-रो ते सो गया , पा पों की ये मैली चा दर बि न पा नी ही धो गया । मैं नहीं था तू नहीं थी बा वजूद सा ज़ि श हो गया , मा या के इस जा ल में ना शा द दि ल जो खो गया । मा नता हूँ इक पहल से तु भी तन्हा हो गया , पर कि सका था कसूर जो जा म खा ली हो गया । इक अंधेरी रा त में ग़म भी भटक कर सो गया , इक हवा के झों के में ख़त भी चटक कर खो गया ।। ख़ा ली जाम – नंदन चौ बे 128
पहेली है वो , समझना मुश्कि ल है , या यूँ कहूँ असंम्भव है , जि स क्षण लगे , कि समझने लगा हूँ , ठी क अगले पल , कर देती है सा बि त , कि गलत हूँ मैं , सही है वो , पहेली है वो । को शि शें मेरी भी , तनि क भी न कम थी , पर वो समझ आने को , कदा पि रा ज़ी न थी , उसके तबस्सुम की खा ति र , या सच कहूँ तो , खो देने के खौ फ़ से , मैंने भी ख़ुद को चुप रखा , सि र्फ स्वयं की सहेली है वो , पहेली है वो । बड़े ही असमंजस में , है मेरी मृत हृदय , अपनी धड़कनों को , ढूंढ़ रहा है ख़ुद , नब्ज़ों को टटो ल कर , औ' कर रहा है बचा नें की , असंख्य को शि शें वो हृदय , खुद को हृदया घा त से , मी ठी पर गो ल , जलेबी है वो , पहेली है वो । पहेलीहे ली है वो – अद्वैत आनंदनं 1 2 9
न ही कि या उसने , लफ़्ज़ों को स्वी का र , और न ही उसने , कि या शब्दों को इनका र , शा यद खुद भी है वो , उलझनों की गि रफ़्त में , औ' शा य़द उसे ही नहीं हो ना , है आज़ा द इन बंदि शों से , चंद्रमा सी अकेली है वो , पहेली है वो । ऐसा नहीं है कि , कि या नहीं अद्वैत ने , को शि शें जा नने की , बा तें जो रहतीं हैं , उसके दि ल के को नों में , पर वो नि का लना , शा यद चा हती ही नहीं , मुझे व ख़ुद को तज़ब्ज़ुब से , खुबसूरत पर वी रा न हवेली है वो , पहेली है वो । चेहरा को रा है उसका , पर अंदर एक सैला ब है , वि चा रों और ख़्या लों का , जो व्यस्त रखता है उसे , स्वयं उसकी उलझनों में , तो कैसे वक्त नि का ले वो , जि समें सो च सके ज़मा ने की , को ई सो चे तो सो चे कैसे , उसके ख़्या लों के पा स आने की , दौ र - ए - मो हब्बत में , नई नवेली है वो , पहेली है वो । अब तो मर गई है इच्छा मेरी , उसके जवा बों को सुनने की , अब चा हत ही नहीं रही , कि ना म दूँ उस ना ते को , बेना मी ही रह जा ए , वो जो अब तक था , रि श्तों के गलि या रों में भटकता , अपने ना म की तला श में , जवा बों को कैद की , हुई हथेली है वो , पहेली है वो , पहेली है वो ।। 1 3 0
मेज़ पर रखा जा म, जा म में भरी हा ला , हा ला से ज्या दा न शा , न शा तुझमें है बा ला , बा ला की सुरभि में मैं, मैं पि या रूप में तेरे संग, संग तुझे जी रहा हूं मैं।। मयख़ा ने का मि ज़ा ज ए सूफ़ी , सूफ़ी में कव्वा ल खा न नुसरत, नुसरत कृत सा क़ी तेरी आंँखें, आंँखों से तेरी हो गई मो हब्बत, मुहब्बत के न शे में हमा री आंखें, आंँखों में म शग़ूल तुम और मैं, मैं दृग शरा बी रूप में तेरे संग, संग तेरी आंँखों से पी रहा हूं मैं।। जा म जैसे कां ति कृत कांँ च, कांँ च के वो का मुक चषक, चषक पर लगी तेरी ला ली , ला ली अभि ला षी ला ल हो ठ, हो ठला ली ही पी रहा हूं मैं, मैं तृषि त रूप में तेरे संग, संग तुझे जी रहा हूं मैं।। दा एँ हा थ से कस मैंने, मैंने था मा तेरा बा याँ हा थ, हा थ दा एँ से कर रही तुम, तुम मेरे बा लों से बा त, बा तों में हैं तुम और मैं मैं वा र्ता रूप में तेरे संग, संग तेरे गप्-पी रहा हूं मैं।। गंभी र हो रही हमा री सां सें, सां से ले रहे हम एक संग, संग करी ब हैं हम कि जैसे, जैसे हों एक जि स्म के अंग, अंग की उन्मत्त ऊष्मा में तुम, तेरी ऊर्जा महसूस कर रहा मैं, मैं अनुभूति रूप में तेरे संग, संग तुझे जी रहा हूं मैं।। कल रा त की ठंडी भो र, भो र की वो सुहा नी नीं द, नीं द में वो प्या रा ख़्वा ब, ख़्वा ब में हैं तुम और मैं, मैं शुद्ध रूप से तेरे संग, संग तेरे जी रहा हूं मैं।। स्था न है वो एक आलय, आलय अर्था त् मदि रा लय, मदि रा लय का का मी को ना , को ने में बैठे तुम और मैं, मैं मधु रूप में तेरे संग, संग तुझे पी रहा हूं मैं।। भो र के स्वप्न भो – ऋति क रा ज 1 3 1
सहसा तुमने हो ठ ला ली , ला ली लगा ई मेरे गा ल पर, पर समझ नहीं आया क्यों , क्यों गई उसके बा द ठहर, ठहरी तुम पर मेरे लि ए यह, यह शा यद दां पत्य इ शा रा था , था शर्मी ला बहुत ज्या दा पर, पर मदि रा लय का कि ना रा था , थे एकां त को ने में तुम और मैं, मैं प्र थम नि क्षण में तेरे संग, संग तुझे पी कर रहा हूं मैं।। तभी टूटी मेरी भो र की नीं द, नीं द ने तो ड़ा वो प्या रा ख़्वा ब, ख़्वा ब देख रहा था मैं जि सका , जि सका नहीं था को ई जवा ब, जवा ब जा नने के लि ए सि र्फ़ मैं, मैं ख़ुद के स्वप्न स्मृति के संग, संग महबूबा को जी रहा हूं मैं।। त भी उठ कर लि खा शी र्षक, शी र्षक लि खा भो र के स्वप्न, स्वप्न देख तुझे सी रहा हूं मैं, मैं तो न हूं महबूबा संग तेरे, तुझे फि र भी जी रहा हूं मैं, मैं न हूं म धु शा ला संग तेरे, तुझे फि र भी पी रहा हूं मैं, तुझे फि र भी जी रहा हूं मैं, ऐ स्वप्न, तुझे सी रहा हूं मैं।। 1 3 2
मैंने ग़म लि खें - मैंने सब लि खें, मैं लि खता रहा हूँ रा त भर, मेरी जी वनी - मेरी संगि नी , मैं तुझे तकता रहा हूँ रा त भर, तेरी खुशि यां - तेरी ख़ा मो शि यां जो तू मुझे बता न सकी , तेरे सा थ को - तेरे बा त को , मैं सब सुनता रहा हूँ रा त भर, मैंने ग़म लि खें - मैंने सब लि खें, मैं लि खता रहा हूँ रा त भर। तू सरि ता सी नि र्मल है,है मैंने महसूस हर कदम कि या तुझे, तेरे चरण रज को स्वयं सी ने से लगा कर, तुझे सो चा है रा त भर, मेरी धा रणा , मुझे जा गना - मुझे समझना , पड़ा है तुझे रा त भर, तेरे सपने, तेरे अपने, मुझे बतला सब, न देर कर , मैंने ग़म लि खें - मैंने सब लि खें, मैं लि खता रहा हूँ रा त भर। तेरी बा रि कि याँ - तेरी ना का मि याँ , तेरी चा हत को जि या मैंने रा त भर, तेरी सो च को , उस संजो ग को , तेरे संग को , उस ढंग को जो , हर पल बि ता या , तुझ संग रा त भर, मेरी सा धना - मेरी आरा धना , तू सब में समा , न बेर कर, मैंने ग़म लि खें - मैंने सब लि खें, मैं लि खता रहा हूँ रा त भर। त मेरी चेतना - मेरी प्रि यतमा , क्यों तू रूष्ट है,हैमुझसे आ न बा त कर, मैं घबरा रहा हूँ,हूँतुझे सो चकर, तू ख़ा मो श है क्यों इस वि षय पर, तेरे हा थ को मेरे हा थ में, मैं पकड़ा रहा हूँ रा त भर, तेरे ज्ञा न को , अभि ज्ञा न कर न देर कर, मुझे सुला ले अपनी गो द में, मैं थक चुका हूँ,हूँहा र कर, तू आ और न रा त कर, आ एक बा र फि र मुझे बर्दा श्त कर, मैंने ग़म लि खें - मैंने सब लि खें, मैं लि खता रहा हूँ रा त भर।। – यो गेश कुमा र द्वि वेदी रा भर 133
हो ती है रो ज़ मुला का तें हज़ा रों से, एक तुमसे भी हो ती तो क्या बा त हो ती , आते तो हो तुम ख़्या लों में रा तों को , सा मने भी आते तो क्या बा त हो ती , अगर तुम हो ते तो क्या बा त हो ती ! तुम्हा री बा तें, यूँ मि लना बि छड़ना , सा री ची ज़ें एक सौ गा त हो ती , तुमसे ही तो हो ती है भो र औ' शा म मेरी , तुम न हो ते तो क्या रा त हो ती , अगर तुम हो ते तो क्या बा त हो ती ! तेरी वो मुस्कुरा हट, तेरी हर आहट, वो सा वन की पहली बरसा त हो ती , यदि तुम रो ते प्रि य मुझसे बि लखर, मेरी चेतना के हर अंग में तुम सा थ हो ती , अगर तुम हो ते तो क्या बा त हो ती ! तुमसे प्रेम करता था कभी मैं, अब यदि ज्या दा करता तो तुम या द हो ती , गुमसुम बैठी है कलम मेरी , लि ख भी रहा हूँ यहां रा तों को , तुम्हा रे लि ए लि खता , क्या तुम सा थ हो ती ? अगर तुम हो ते तो क्या बा त हो ती !! तो क्या बा त हो ती – यो गेश कुमा र द्वि वेदी 134
मेरी रा धे लौ टा दो – ऋति क रा ज हे मा धव, मुझे मेरी रा धे लौ टा दो , ये अनुरो ध, आपके द्वा रे कर रहा हूंँ।हूंँ। देखो दशा मेरी , जी वि त हूंँ - मुस्कुरा ता हूंँ,हूंँ पर तुम्हें तो पता है,है दि न - प्रति दि न मर रहा हूंँ।हूंँ। या दों में उसकी , नयन वर्षों से खुले हैं,हैं उसके लि ए, उसी रस्ते पर ठहर रहा हूंँ।हूंँ। कुछ बा तें उसकी , नि त दि न स्मरण करके, स्वतः , अपनी आंँखें भर रहा हूंँ।हूंँ। आजी वन वि रह, के दुः स्वप्न मा त्र से ही , स्वयं मैं, ऋति क टूट और बि खर रहा हूंँ।हूंँ। चलो स्वी का रा , सा री गलती मेरी थी का न्हा , तप स्वरूप, क्षमा या चना भी कर रहा हूं ।। अबो ध हूंँ,हूंँ प्रेमप्रे ज्ञा न नहीं मुझमें रा धेपति , केवल अपनी , भा र्या के लि ए सुधर रहा हूंँ।हूंँ। गर न बो ले मो हन, तो कैसी दो स्ती अपनी , चौ खट पर तेरी , प्रा ण न्यो छा वर कर रहा हूंँ।हूंँ। हे मा धव, मुझे मेरी रा धे लौ टा दो , ये अनुरो ध, आपके द्वा रे कर रहा हूंँ।हूंँ। 135
कैसे कहूँ मैं तुम्हें – अभि प्सा प्रि यदर्शनी हे कृष्ण! कैसे कहूँ मैं तुम्हें;हें तुम्हा री रा धा अब भी तुम्हा री रा ह देखती है,है रा तों के सन्ना टे में भी , बाँ सुरी की मधुर धुन इन का नों में गूंजती है,है यमुना तट तुम तो नहीं पर, छवि तुम्हा री यमुना में झलकती है,है हवा ओं में सुगंध घुलीघु ली है तुम्हा री , मेरी साँ सों की मा ला अब भी कृष्ण जपती है।है। हे कृष्ण! कैसे कहूं मैं तुम्हें;हें सां झ सवेरे सदा पुका रती हूँ तुम्हें,हें बा ग-बगी चे फूल-फल पूछ लि या है सबसे, मेरी प्रश्नों का उत्तर को ई देता है ही नहीं , तुम्हा रे लौ टने की खबर को ई सुना ता है ही नहीं ।। हे कृष्ण! कैसे कहूं मैं तुम्हें;हें सूर्य-ए-शा म-ए-वि रह डुबा ए डूबती ही नहीं , तुम नहीं तो यह चाँ द कभी खि लता ही नहीं , अमा वा स का यह अंधअं हटता -छटता ही नहीं , औ' छो ड़ गए हो तुम वो मो र पंख मेरे संग, वह मुझे नि त रा त या द दि ला ती तुम्हा री है।है। हे कृष्ण! कैसे कहूं मैं तुम्हें;हें वृंदावृं दावन में जो अमर हैं स्मृति याँ हमा री , वक्त की धूल-धूप उस पर जमती ही नहीं , अक्षु से अश्कों की धा रा अब रुकती ही नहीं , वा पस वा दा -ए-मि लन करके, यूं जो छो ड़ गए तुम मुझे, क्या मथुरा में मेरी या दें तुम्हें तरपा ती ही नहीं ।। 136
मेरे दि ल-ए-दरि या की डूबी कश्ती तैरी तो सही पर ! अब फि र डूबने की कगा र पर है,है कि तने ही दि न तेरे संग मैंने गुजा रे ओ ज़ा लि म पर तेरी रा तें अब भी उसके इंतज़ा र में हैं।हैं हांँ , को ई जा न-मा ल की हा नि तो नहीं पर हल्की ख़रों च दुबा रा आई है,है मो हब्बत मैंने इस बा र भी तुझसे ही की पर सज़ा फि र वही पा यी है।है जब तेरी आँखों में प्या र है,है तो लफ़्ज़ों में उता र न, मुझे हर बा र छू कर, मेरा जि स्म यूँ सवा र न। सँवर तो रहा है पर, पल भर लगता है बि खरने में, क्या है,है सो चती ज़रा ज़्या दा हूं डर लगता है फि र गि रने से। कभी सो चती हूँ कि कस कर पकड़ लूँ तेरा हा थ या कहूँ कि ठहर जा -ठहर जा कि बस एक ही पहर बा क़ी है,है थो ड़ा ठहर कि बस इसके बा द चाँ द की झाँ की है।है भवि ष्य का बहा ना – अंजली 137
ख़्या लों के इस दौ र से नि कल, नि ष्कर्ष सि र्फ़ ये नि कल पा या , कि तेरा मेरा सा थ सि र्फ़ ख़्या लों तक ही सी मि त रहे तो ठी क है,है तेरा ना म मेरी जुबा न पर अनि यमि त रहे तो ठी क है।है क्यों कि सा थ जंचते तो खूब हैं हम, क्यों कि सा थ दि खते तो खूब है हम, लेकि न सा थ हो ते नहीं ! तो बेहतर यही हो गा कि अब मैं जा ती हूँ,हूँ को ई पूछे तो अपने करि यर व भवि ष्य का बहा ना बना ती हूँ।हूँ। हम सा थ में गि न कर ता रें सा री रा त गुजा रेंगे, छत पर हम सा थ बैठ रो एँगे - ठहा के मा रेंगे। लेकि न तेरा हा थ पकड़ सकूँ अब इतनी हि म्मत कहाँ , या तुझे ठहरने को कहूँ इतनी फ़ुर्सत कहाँ । ज़िं दगी कुछ बहुत अलग चल रही है,है क भी तो ख़ुद को बहला -फुसला कर, सब वक़्त पे छो ड़ती हूँ,हूँ फि र क भी ख़ुद को रा ज़ी कर तेरे-मेरे ता रें जो ड़ती हूँ।हूँ 1 3 8
एक तरफ हमने सी खा , कि मा नवता से बड़ा को ई धर्म नहीं , औ' दूसरी ओर के कर्म से बड़ा को ई धर्म नहीं । देखा हमने मा नवता का मूल उद्देश्य, के कहना देखा हमने मा नवता का मूल उद्देश्य, बेहद करी ब से, जो गुजर गए उनकी आत्मा को , शत शत नमन। हमने तो मौ त से आँखें मि ला , उससे जंग जी तना देखा है,है उजड़ गई ला खों की तो दुनि या ही , उजड़ गई ला खों की तो दुनि या ही , तुम महफ़ि लों की बा त करते हो , हमने तो पूरा देश बि लखते देखा है।है वा ल अस्ति त्व पर पूछे कभी जो आने वा ली पी ढ़ी तुमसे, सवा ल उठा ए तुम्हा रे अस्ति त्व पर तो मुस्कुरा ना और कहना , "हमने देखा है कुदरत का कहर, उसका प्रचंड स्वरूप" के देखा है हमने तड़पते लो गों को , हमने देखा है अपनों से दूर हो ते अपनों को । गंगा कि ना रे तैरती ला वा रि स ला शों को , हमने देखा है बि लखते बच्चों को । कुदरत ऐसा कहर बरपा एगा , ये हमने सो चा न था , आधुनि कता के मद में चूर थे हम, किं तु इस दौ र में पा स हो कर भी दूर थे हम। पूछे जो कभी आने वा ली पी ढ़ी तुमसे, तो कहना , "गलत थे हम जो कुदरत के वि रुद्ध गए, परंतु मौ त को बेहद करी ब से देखा हमने एक तुक्ष से जी व के रूप में" सो चा न था प्रचंड हो गा यह कभी , हमने तो ईश्वर को भी मुंह मो ड़ते देखा है कि पूछे कभी आने वा ली पी ढ़ी तुमसे तो कहना , "तुम शख्सि यत की बा त करते हो हमने अक्सर बेनका ब रहने वा ले चेहरो को नका ब ओढ़ते देखा है"है के प्रचंड रूप के सा मने अधी र हो ती महा शक्ति यों को देखा है,है हमने हा थ मि ला गले लगा ने वा ली पश्चि मी सभ्यता को भा रती य सभ्यता अपना ते देखा है।है तुम शख्सि यत की बा त करते हो , हमने अनेक मुल्कों के बा दशा हों को ख़ा क में मि लते देखा है।है तुम प्रश्न उठा ते हो हमा रे अस्ति त्व पर, तुम प्रश्न उठा ते हो हमा रे अस्ति त्व पर, हमने तो वि ज्ञा न को भी दम तो ड़ते देखा है।है पूछे जो कभी आने वा ली पी ढ़ी तुमसे, तो मुस्कुरा ना और कहना , "यो द्धा तो नहीं है हम", पर हमने जी वन मरण के भेद को सा क्षा त रूप में देखा है।है। स – नि कि ता सिं हसिं 139
शहर तेरा क्या छो ड़ आए, अब या दों में रो ना पड़ता है,है स्वयं आंसू पों छ-पों छ कर, रा त्रि में चौ बे सो ना पड़ता है।है बदन में दर्द बा बजूद भी ख़ुदख़ु संभल कर सो ना पड़ता है,है तेरा शहर क्या छो ड़ आए अब या दों में रो ना पड़ता है।है पैसें भी हैं मा त्र गि नें-चुनें, इस बच्चे को बड़े सा हो ना पड़ता है,है शहर तेरा क्या छो ड़ आए, अब या दों में तेरे रो ना पड़ता है।है अपने तो अब सा थ नहीं , तो ग़ैरों का हो ना पड़ता है,है तेरा शहर क्या छो ड़ आए, अब या दों में रो ना पड़ता है।है बड़ी दूर है तू, लंबी है मेरी सफर, अब यूँ ही या दों का बो झा ढो ना पड़ता है,है तेरा शहर क्या छो ड़ आए, अब या दों में रो ना पड़ता है।है दुनि या की नुमा इश पर शि कवा नहीं मुझे, ज़िं दगी की जंग में अदब से हो ना पड़ता है,है तेरा शहर क्या छो ड़ आए, अब या दों में रो ना पड़ता है।है स्मृतयः रो दन्ति – नंदन चौ बे शि का यते करूँ तो कि ससे करूँ, फरमा इशें करूँ तो कि ससे करूँ, सभी की शा न मैं ही हूँ,हूँ सभी की मा न मैं ही हूँ,हूँ अब सो च के बा ते खुद में सबल भी हो ना पड़ता है,है शहर तेरा क्या छो ड़ आए, अब या दों में रो ना पड़ता है।है मेरे शौ क ऐसे थे या , तेरी भी ला चा री थी , पर हवा के झों के ने, कुछ कह सुना ई थी , जि से तू छो ड़ आया है,है वो तो इक बेचा री थी । पर तेरे बि न तो जी वन है,है बि न पगा र दि हा ड़ी सी , तेरे बि न भवन है,है जलती -तपती जंगल पुरा नी सी , तेरे बि न ये का या है,है बि न मा या त्रि पुरा री सी । मन की ये व्यथा को , शब्दों में उलझा ना पड़ता है,है थो ड़ी कम पी ड़ा मन में, शब्दों को भी गी त सा हो ना पड़ता है,है तेरा शहर क्या छो ड़ आए, अब या दों में रो ना पड़ता है।है। 140
अकल्पनी य सा क्षा त् वि ष्य है,है सा क्षा त् मनुष्य है।है सा क्षा त् पवन की डो र देती मुझको आहट है,है सा क्षा त् नवजा त बा लक की खि लखि ला हट है।है फि र अकल्पनी य क्या है,है जब सब कुछ मेरे सम क्ष है,है क्या भा वना ओं का सि र्फ़ खेल, या यद्यपि को ई शख़्स है।है क्या अकल्पनी य मेरी उसकी , दो क्षण की मुला क़ा त है,है या अकल्पनी य चेहरे पर उसके, ईश्वर के नूर की सौ गा त है।है क्या अकल्पनी य वो दृ श्य, जब कुसुम डो र के श को उसकी घेरती है,है या अकल्पनी य वो दृ श्य, जब मुस्का न लि ए यूँ ही वह मुँह फेरती है।है यह अकल्पनी य नहीं , यह सब तो सा क्षा त् है,है यह कला तो संसा र में, बहुत जनों को प्रा प्त है।है अकल्पनी य उसकी वि शेषता है,है अकल्पनी य उसके शी लता है।है अकल्पनी य उसकी रूह में बहता झरना है,है जि समें सि र्फ़ दया जि समें सि र्फ़ करुणा है।है मैं अपने दुखों पर रो ता हूँ,हूँ वो औरों के दुख हरती है,है मैं जी वन में पल ढूंढता , वह पलों में जी वन भरती है।है अकल्पनी य यह त थ्य है,है अकल्पनी य यह सत्य है।है आगमन पर उसके मा नों , बचती न को ई कमी है,है हर व्यक्ति के आंखों की , मि ट जा ती नमी है।है सो चता रहता हूँ क्षण - क्षण में, मैं उस जैसा वरदा न क्यों न परलो क से ले पा या , क्यों न औरों के दुख - कष्ट उस तरह मैं सुन पा या । अकल्पनी य उसका अंश, जी वन सो च के पा र है,है अकल्पनी य उसका मन, ईश्वर का उसमें सा र है।है। – प्रणव भूटा नी 1 4 1
मैं मजनू तो बन गया , उसका लैला बनना रह गया । लफ्ज़ जुबा न पे तो आये, मगर इज़हा र करना रह गया । उसके हा थों में मेरे हा थ तो थे, ये हा थ था मना चा हता हूँ ये कहना रह गया । बा त जि स्म तक तो आ पहुंचीहुं ची थी , बस रूह मे उतरना रह गया । उसने मेहंदीहं दी रचा ई कि सी और के ना म की , इसी लि ए तो मेहंदीहं दी का नि खरना रह गया । कई दफा आँखों को भि गो या उसके खा ति र, कि तनी मो हब्बत है उससे, ये बता ना रह गया । बि छड़े तो वज़ह मौ त हो गी ! कहा था , बि छड़ तो गए बस मौ त का आना रह गया । भूलना तो बहुत चा हा मगर, उसकी या दों से उभरना रह गया । उसे लि खे सभी ख़त जला दी मैंने, शब्दों का जेहन से उतरना रह गया । शहर तो कबका छो ड़ दि या उसका , पर ज़ख़्मों का भरना रह गया । तुम गए क्या सबने मेरा सा थ ही छो ड़ दि या , बस सां सों का रुकना रह गया । मयखा ने तक तो आ ही गया था , मदि रा का हलक् से उतरना रह गया । जला ई तो सि गरेट भी थी मैंने, बस उसे हो ठों से लगा ना रह गया । इतने ज़ख़्म दि ये हैं तेरे इश्क़ ने, टूट तो गया ही हूँ बस मेरा बि खरना रह गया । मेरा बि खरना रह गया - सुशा न्त या दव 142
दूसरी मो हब्बत शायरों की ख़त्म की सारी, स्याही पहली मोहब्बत ने, किताबों का कोरा रह गया, कागज दूसरी मोहब्बत में। बनीं फ़िल्में, पढ़ी गईं नगमें, चर्चा रहा सिर्फ़ पहली मोहब्बत का, गुमनाम रहा कहीं ख़तों में, पर्चादूसरी मोहब्बत का। शोर रहा ज़माने भर में, बातेंहुई असफल पहली मोहब्बत की, बस ख्यालों मेंखो कर रह गई, नुमाइश दूसरी मोहब्बत की। हज़ारों कोशिशों के बाद भी, दिलों-दिमाग से न निकल सका, ऐसा असर रहा उस कमबख़्त, ज़ालिम पहली मोहब्बत का। एक बार मेंजो खिल गया, वह कोमल कली प्रेम का, बाज़ारों मेंगिर गया, भाव दूसरी मोहब्बत का। हालांकि कामयाब नहीं हुई, किसी की भी यहाँ पहली मोहब्बत, फिर भी न जानेंक्यों डूबी, रही इतनेगुरुर में, पहली मोहब्बत। उधर कामयाब हो कर भी, ख़ामोश रही दूसरी मोहब्बत, उठती रही निगाहों मेंफिर भी, जुड़ी रही ज़मीं से, दूसरी मोहब्बत। –अद्वैत आनंद जो भी थीं गलतियाँ पहली मोहब्बत की, वो ही थीं सुधारें दूसरी मोहब्बत की, जो भी थे अस्वीकार्य पहलेमोहब्बत के, वो ही तो थेचाहतेंदूसरे मोहब्बत के। एहसास तो यक़ीनन एक से रहे,हे शब्द भी लगभग एक सेही कहे,हे हर बार थी मोहब्बतों में बहुत सी समानता, हर कोई श्रेष्ठ फिर भी पहली को ही मानता। एक सी ही थीं वो बातें, एक सेही थेवेमुलाकातें, एक सी ही थीं वो ख़्वाब भरी रातें, औ' एक सेही हमेशा कोयल थेगाते। धुन सुनाई दिए थे एक सेही, बागवानों मेंफूल खिलेथे एक सेही, आसमांभी लगा था सुहाना एक सा ही, उन्माद बिन मदिरा के रहा एक सा ही। चाहत का मुकाम लगभग एक सा ही रहा, और ख़्यालों मेंखोना भी एक सा ही रहा, तबस्सुम के तलबदार भी एक से रहे,हे आपसी ऐतबार भी लगभग एक से रहे।हे चाहे बात हो पहली या हो दूसरी मोहब्बत की, शायर और फिज़ा रहा पक्षधर बस पहली मोहब्बत का, और चाहे मोहब्बत कोई सी भी हो, क्यों सर्वप्रिय रही वही जो पहली हो? 143