51
گورنمنٹ اسلامیہ ک لج قصور میں بہت سے اہل ق کو ک
کرنے ک موقع میسر آی ۔ مثلا
احس ن الہی ن وک اردو پنج بی میں ش عری کرتے تھے۔
نثر نگ ری بھی کرتے تھے۔
احمد ی ر خ ن مجبور ف رسی اردو اور پنج بی کے ش عر
تھے۔ ان پر ای فل سطع ک مق لہ ہو جک ہے۔
ڈاکٹر اختر شم ر ک ل نگ ر صح فی ش عر‘ وہ ڈاکٹر علامہ
بیدل حیدری کے سند ی فتہ ش گرد ہیں۔ ان کے ش ری
مجموعے روشنی کے پھول‘ کسی کی آنکھ ہوہے ہ ‘ جیون
تیرے ن نے بڑا ن کم ی ۔ ہ ئیکو نگ ری میں م تبر ن کے
ح مل ہیں۔ ان دنوں ایف سی ک لج لاہور کے ش بہ اردو کے
چیرمین ہیں۔
ارش د احمد حق نی م روف ک ل نگ ر اور وزیر مم کت
تھے۔
ڈاکٹر ارشد ش ہد ش بہءپنج بی سے مت ہیں۔ ان ک ای فل
ک مق لہ مقصود حسنی کی پنج بی ش عری ک تحقیقی
وتنقیدی مط ل ہ تھ جبکہ پی ایچ ڈی ک مق لہ وارث ش ہ
کے مح ورات سے مت ہے۔ پرمغز اور پڑھنے لائ مق لہ
51
52
ہے۔
اشتی احمد کئ کت کے مولف ہیں۔ مثلا علامت کے
مب حث‘ ک چر۔ منتخ تنقیدی مض من‘ جدیدیت ک تنقیدی
تن ظر‘ محمد حسن عسکری عہد آفرین نق د وغیرہ
پرفیسر اکرا ہوشی ر پوری اردو پنج بی کے ش عر‘ افس نہ
نگ ر‘ ڈرامہ نگ ر اور نثر نگ ر تھے۔
ان کے ک پر بی اے آنرز سطع ک تحقیقی مق لہ ہو چک
ہے۔
ق ضی اکرا بشیراخب رات سے بطور ک ل نگ ر منس ک رہے
ہیں۔ ان کے ک ل آج بھی چھپتے ہیں۔
پروفیسر سید اظہر ک ظمی خوش سخن ش عر تھے۔ ان کے
کلا ک ایک مجموعہ بھی ش ئع ہوا۔
امجد ع ی ش کر بہت اچھے نثر نگ ر اور مترج ہیں۔ انہوں
نے ا ردو مجموعہء کلا اوٹ سے ک پنج بی ترجمہ کی ۔
ک ل بھی لکھتے ہیں۔ ک لج کے پرنسپل رہے ہیں۔ ان کی
پرنسپل شپ ک پریڈ ریک رڈ ک درجہ رکھت ہے۔
پروفیسر جیک پ ل‘ علامہ پ ل کے ص حبزادے ہیں۔علامہ
52
53
مرحو نے ب ئبل مقدس ک اردو میں ترجمہ کی تھ اور کئی
زب نوں پر عبور رکھتے تھے۔ پروفیسر جیک پ ل ری ستی
ایواڑ ی فتہ ہیں۔ ان کی ع می اور ادبی خدم ت ک دائرہ بڑا
وسیع ہے۔ ان کی تحریریں م روف جراءد میں ش ئع ہو
چکی ہیں۔
پرفیسر خواجہ ندی اس اچھے لکھنے والوں میں ہیں۔
ابتدائی دور کے ہ ئیکو نگ ر ہیں۔ ان ک ہ ئیکو پر مشتمل
مجموعہ ش ئع ہوا تھ ۔
پروفیسر راشد اقب ل جوان ہیں۔ ش بہءاردو سے وابستہ
ہیں۔ بلا ک تنقیدی ذو پ ی ہے۔
ان کئ تحریریں مخت ف رس ئل میں ش ءع ہو چکی ہیں۔ ان
کے ای اے اور ای فل کے تحقیقی مق لے س دت حسن
منٹو پر تھے۔ مطبوعہ مض مین کچھ یہ ہیں
غلا عب س متوسط طبقے ک افس نہ نگ ر کت بی س سہ قندیل
اپریل جون
منٹو بحیثیت سی سی افس نہ نگ ر مج ہ سخن ش بہءاردو
اورینٹل ک لج جم ہ پنج لاہور
53
54
نی ق نون کے انگریزی تراج مج ہ سخن ش بہءاردو
اورینٹل ک لج جم ہ پنج لاہور
منٹو کے افس نے مترج ح مد جلال مج ہ شر اورینٹل
ک لج جم ہ پنج لاہور -
پری چند کی راجپوتیت مج ہ سخن ش بہءاردو اورینٹل ک لج
جم ہ پنج لاہور
بجوک کی موت افس نہ مج ہ سخن ش بہءاردو اورینٹل ک لج
جم ہ پنج لاہور
ان کے کئی ایک مض مین غیر مطبوعہ ہیں۔
پروفیسر راؤ اختر ع ی ک لج ہذا کے سربراہ ہیں۔ بنی دی
طور پر انگریزی کے است د ہیں۔ زبردست منتظ ہیں۔ مذہبی
ع سے خو خو آگ ہ ہیں۔ ط ب ء میں تقریری فن پیدا
کرنے کے لیے ہمہ وقت کوش ں رہتے ہیں۔ م رننگ اسمب ی
ان ک ایس اقدا ہے جو ت دیر ی د رکھ ج ئے گ ۔ ان کے ع
واد سے مت انٹرویوز ان کی اد دوستی اور اد
پروری ک منہ بولت ثبوت ہیں۔
پروفیسر راؤ ندی احس ن بنی دی طور پر انگریزی کے
54
55
است د ہیں لیکن اردو سے محبت رکھتے ہیں۔
خوش فکر ش عر ہیں۔ ان کی غزلیں مخت ف رس ئل میں
ش ئع ہوتی رہتی ہیں۔
پروفیسر زاہد حسین اس وقت سینئراس تذہ میں ہیں۔ لکھنے
پڑھنے ک شروع سے ذو پ ی ہے۔ ان کی کت میں
کے عمرانی افک ر‘ ع لمی واق یت اسلا
ع مہ
اسلامی دنی کے اہ شہر
‘ New world order
خصوصیت ک درجہ رکھتی ہیں۔
پروفیسر سرفراز احمد م ین ک لج ہذا کے ح ضر وائس
پرنسپل ہیں۔ بنی دی طور پر عربی کے است د ہیں ت ہ
اخب رات سے منس ک ہونے کے سب مخت ف موضوع ت
پر خ مہ فرس ئ کرتے رہے ہیں۔
پروفیسر علامہ س ید ع بد مدینہ یونیورسٹی سے ف ضل
تھے۔ اقب ل اور غ ل ان کے مط ل ہ میں رہتے تھے۔
55
56
خطوط نویسی میں انھیں کم ل ح صل تھے۔ یہ خطوط مجھ
ن چیز کو بڑے اہتم سے پڑھ کر سن تے اور پڑھنے کو
بھی عط کرتے۔
ڈاکٹر شبیہ الحسن ہ شمی ک ن کسی ت رف ک محت ج نہیں۔
ان ک بطور سٹ ف ک لج سے گہرا ت رہ ہے۔
ڈاکٹر ص د جنجوعہ بنی دی طور پر پنج بی کے است د تھے
لیکن اردو سے بھی گہرا ت رکھتے تھے۔
ان کی کت مقصود حسنی کی ش عری ک تنقیدی مط ل ہ
حوالے ک درجہ اختی کر چکی ہے۔
پروفیسر ط ر ج وید شحبہءک مرس سے ت رکھتے ہیں۔
جوان ہیں‘ کچھ کرنے کے جذبے سے سرش ر ہیں۔ اردو
سے محبت رکھتے ہیں۔ اخب ر و رس ئل میں لکھتے رہتے
ہیں۔ افس نہ اور آزاد نظ خصوصی میدان ہے۔
ڈاکٹر ظہور احمد چوہدری اد ‘ موسیقی اور عصری
م ملات میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ موسیقی کے آلات
ک ش ندار ذخیرہ سمبھ لے ہوئے ہیں۔ کئ کت کے مصنف
ہیں ت ہ جہ ن فن اپن جوا نہیں رکھتی۔ روزن مہ مس وات
اور روزن مہ پ کست ن میں ان کے فکر انگیز ک ل ش ءع
56
57
ہوتے رہے ہیں۔ خ قت سے بھی وابستگی رہی ہے۔
پروفیسر عب س ت بش بھی علامہ بیدل حیدری کے ش گردوں
میں ہیں۔ ان کے دو ش ری مجموعے تمہید اور عش ت ب ں
ان کی پرواز کو واضح کر چکے ہیں۔
پروفیسر عبدالغنی مرحو ‘ پروفیسر منور غنی کےوالد
گرامی تھے۔ بڑے خوش فکر پنج بی ش عر تھے۔
انگریزی کے است د تھے۔ چینی زب ن سے بھی گہری
واق یت اور لگ ؤ رکھتے تھے۔
پروفیسر عبدالغ ور ظ ر مرحو اسلا کے شیدائ تھے۔
انھوں نے انجمن فدی ن اسلا ق ئ کی تھی۔ خبر نویسی میں
اپن جوا نہیں رکھتے تھے۔ ان کے ق سے سیکڑوں
نہیں‘ ہزاروں خبریں نکل کر م ک کے قومی اخب رات کی
زینت بنیں۔
ڈاکٹر عط ء الرحمن میو قصور کی انجمنوں کے حوالہ سے
اتھ رٹی خی ل کیے ج تے ہیں۔ ان کے ای فل اور پی ایچ ڈی
کے مق لہ ج ت بھی قصور کی انجمنوں کے مت ہیں۔
ص ح ع اور ب ریک بین ہیں۔ ان کی ک وش ہ مخت ف
جرائد میں ش ئع ہوتی رہی ہیں۔
57
58
پروفیسر ع ی حسن چوہ ن اس وقت ش بہءاردو کے صدر
ہیں۔ لکھنے ک ذو بڑا قدیمی ہے۔ ان کی کت میں سے
انمول ت میح ت‘ کہ وت اور کہ نی‘ فن اد وعروض‘ حرف
ہی حرف‘ چوہ ن اردو املا‘ اردو قواعد وانش ء‘ مض مین
اردو ق بل ذکر ہیں۔ آئینہء اردو لغت کے مرتبین میں سے
بھی ہیں۔ ان ک ای فل ک مق لہ خواجہ درد کی ت میح ت پر
تھ ۔ سرمد اور منصور پر ق بل تحسین ک پڑھنے کو دی
ہے۔
پروفیسر غلا رب نی عزیز ک لج کے پہ ے پرنسپل اورعربی
ف رسی کے زبردست ع ل ف ضل تھے۔ ان کی زندگی ع و
اد کی خدمت میں گزری۔ انت لیس کت کے مصنف تھے۔
علاوہ ازیں نو کت کی ترتی وتصحیح کی۔ ایک کت ان
کے مض مین کے مجموعے پر مشتمل ہے۔ ایک کت عربی
سے اردو اور ایک انگریزی سے اردو ترجمے پر مشتمل
ہے۔ پندرہ نص بی مواد سے مت ہیں۔ غیر مطبوعہ کت
میں چ ر کت عربی‘ دو ف رسی اور دو انگریزی ترجمہ
سے مت ہیں۔ تین دیگر کت ہیں جبکہ چ ر کت نص بی
مواد کے مت ہیں۔
58
59
ڈاکٹر محمد عبدالله ق ضی ڈبل پی ایچ ڈی ہیں۔ ان ک تحقیقی
ک مخت ف جہتوں پر مشتمل ہے۔ شرح بخ ری اور سیرت
پر ان ک ک ان کی محنت اور خ وص ک منہ بولت ثبوت
ہے۔
مقصود حسنی کی دو کت کے مرت ہیں اور یہ کت نیٹ
پر دستی ہیں۔
مقصود حسنی ک بھی ک لج ہذا سے رشتہ رہ ہے۔ مقصود
حسنی نے اپنی حد تک اردو سے وف داری ک رشتہ نبھ نے
کی س ی کی ہے۔ ان کے ک پر دو ای فل کے مق لے ہو
چکے ہیں‘ دو ہو رہے ہیں۔ ایک مق لہ ای اے سطع ک ہو
رہ ہے۔ قصور کے حوالہ سے دو ای فل کے مق لوں میں
شراکت دار ہیں۔ ڈاکٹر علامہ بیدل حیدری پر ہونے والے
مق لے میں بھی اپن حصہ رکھتے ہیں۔
پروفیسر نی مت ع ی ش بہءانگریزی سے مت ہیں۔
انگریزی اردو اور پنج بی کے خوش خی ل وب ند فکر ش عر
ہیں۔ اردو میں افس نہ بھی لکھتے ہیں۔ بلا کے ذہین فطین
است د ہیں۔ پنج بی صنف ک فی میں ان رادیت کے م لک ہیں۔
ان کے ای فل کے تحقیقی مق لے ک عنوان
59
60
A critical study of maqsood hasni's english poetry
تھ ۔ یقین سے کہ ج سکت ہے کہ آتے وقتوں میں ک فی ان
کی وجہءپہچ ن ٹھہرے گی۔
پروفیسر یونس حسن ش بہء اردو سے مت ہیں۔ ان ک ای
فل ک مق لہ قرتہ ال ین حیدر کے ن ول چ ندنی بیگ سے
مت تھ ۔ ان کے ڈیڑھ سو سے زی دہ تحقیقی و تنقیدی
مض مین اور مق لے م ک کے م روف رس ئل و جراءد میں
ش ئع ہو چکے ہیں۔
اسلامیہ ک لج قصور کے اس تذہ حصول ع کے حوالہ سے
دیگر ت یمی ادارے سے پیچھے نہیں ہیں۔ قدی میں ڈاکٹر
ص د ندی اور ڈاکٹر آصف اقب ل نے خدم ت انج دیں۔
ڈاکٹر ص د جنجوعہ بھی ع می وادبی خدمت انج دیتے
رہے۔ تینوں ص حب ن پی ایچ ڈی تھے۔ پروفیسر امجد ع ی
ش کر پہ ے بیج کے ای فل تھے۔ وہ یہ ں بطور پرنسپل ک
کرتے رہے۔ ای فل کے دوسرے بیج سے مقصود حسنی
اور ڈاکٹر عط ءالرحمن ت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر
عط ءالرحمن نے اسی ک لج میں رہتے ہوئے پی ایچ ڈی کی
ڈگری ح صل کی۔ ڈاکٹر آف اسی ک لج سے چ ءنہ پی ایچ
60
61
ڈی کرنے گیے۔ ڈاکٹر عبدالله ق ضی نے یہ ں رہتے ہوءے
پی ایچ ڈی لس نی ت کی ڈگری ح صل کی۔ ڈاکٹر ارشد نے
اسی ک لج میں رہتے ہوئے ای فل اور پی ایچ کی ڈگری
ح صل کی۔
ڈاکٹر عمران خ لد اسی ک لج سے پی ایچ ڈی کرنے گیے۔
راشد اقب ل‘ شرافت ع ی‘ سرور گوہر‘ یونس حسن‘ محمد
ریح ن حمید‘ ط ت رشید‘ وق ص حسن‘ ع ی حسن چوہ ن‘
غلا سرور ق سمی‘ محمد س ی اختر‘منیر احمد‘ محمد رفی
س گر‘ نی مت ع ی وغیرہ ای فل کی تحقیقی ڈگری ں ح صل
کر چکے ہیں۔ اظہر ع ی اور ک شف جوی
ع مر رشید اس ذیل میں مصروف ک ر ہیں۔
محمد ط ہر‘ محمد ج ر‘ط ہرالرحمن‘ غلا مصط ے پی ایچ
ڈی کر چکے ہیں۔ پی ایچ کے لیے درج ذیل اس تذہ ہمہ تن
مصروف ہیں۔ خ یل احمد‘ عزیری ج وید‘ ع ی حسن چوہ ن‘
یونس حسن نی مت ع ی‘ غلا سرور ق سمی‘ سرور گوہر‘
ری ض محبو ‘ بدر نواز‘ ن صر زم ن
ذیش ن افض وغیرہ
61
62
میں نے یہ ت صیلات محض بطور نمونہ پیش کی ہیں جن
میں اسی قدر ی اس سے زی دہ اض فے کی گنج ءش موجود
ہے۔ ان ت صیلات سے بخوبی اندازہ لگ ی ج سکت ہے کہ
گورنمنٹ اسلامیہ ک م ضی ہی نہیں‘ ح ل بھی درخشندہ و
ت بندہ ہے اور اسے پنج کے بہترین ک لجز میں شم ر
کرن مبنی برح و انص ف ہو گ ۔
62
63
فرو و ترویج اردو کے س س ہ میں اسلامیہ ک لج قصور
ک
کردار
انجمن اسلامیہ ک لج قصور کے زیر اہتم و انتظ
میں اسلامیہ ک لج قصور ک قی عمل میں آی ۔ پروفیسر غلا
رب نی عزیز ک لج کے پہ ے پرنسپل مقرر ہوئے۔ موصوف
اردو انگریزی عربی اور ف رسی پر دسترس رکھتے تھے
جبکہ ک لج میں م راج الدین اور احمد ی ر خ ں ایسی
شخصی ت بھی خدمت انج دے رہی تھیں۔ ک لج میں ع و
کے فرو کے لیے مخت ف انجمن ہ ق ئ کی گئیں۔ ان میں
پرشین سوس ئٹی عزیز اور مجبور کے حوالہ سے ف ل
تھی۔ ک لج میں اس حوالہ سے خوش کن م حول پروان چڑھ
رہ تھ ۔ مخت ف تقریب ت ک ک لج اور نجی سطع پر اہتم
ہوت رہت تھ لیکن ابھی تک کوئ اردو سوس ئٹی ق ئ نہ
ہوئی تھی۔
پرفیسر مبشر احمد کی آمد کے ب د یہ کمی بھی پوری ہو
گئی۔ ان کی تحریک پر انجمن اردو ک قی عمل میں آی ۔
63
64
میں انجمن اردو کے انتخ ہوئے۔ نور اکتوبر
محمد بسمل س ل اول صدر‘ خ لد اکبر س ل دو ن ئ صدر‘
محمد اس شیخ س ل اول م تمد عمومی‘ ج وید غ ور س ل
اول ن ی م تمد اور عرف ن س ل اول م تمد م لی ت منتح
ہوئے جبکہ مج س منتظمہ کے لیے مظ ر احمد س ل اول‘
سید احمد س ل دو ؛ محمد اس اصلاحی س ل اول منتح
ہوئے۔ ای ف رو اختر س ل اول‘ خ لد پرویز س ل اول ن ظ
ج سہ مقرر ہوئے۔
انجمن ک افتت ح ڈاکٹر وحید قریشی نے کی ۔
انہوں نے انجمن کے افتت حی اجلاس سے خط بھی
فرم ی ۔ انجمن اردو کی نگرانی پروفیسر مبشر احمد اور
سرپرستی کی ذمہ داری ک لج کے پرنسپل نے قبول کی۔
میں زیرصدارت انجمن کی دوسری تقری اپریل
میرزا ادی ہوئ۔ مذاکرے ک موضوع ذری ہ ت ی اور اردو
تھ ۔ مذاکرے میں محمد ی مین س ل اول‘ محمد اس اصلاحی
س ل اول‘ محمد ش کر س ل اول‘ ح مد نواز س ل اول‘ رحمت
الله خ ں سوری س ل اول‘ محمد ف رو اختر س ل اول‘ سج د
احمد س ل اول‘ ج وید غ ور س ل اول‘ مشکور ع ی س ل
64
65
اول‘ نسی رض س ل اول نے حصہ لی ۔ منص ین کے فراءض
ارش د احمد حق نی‘ مسز فرخ مس ود اور احمد ی ر خ ن
مجبور نے انج دیے۔ مت قہ طور پر ح مد نواز اول‘ ج وید
غ ور دو ‘ محمد ی مین سو جبکہ نسی رض چہ ر قرار
-میں انجمن کے پ ئے۔ الاد کے شم رہ
عہدےداران ک گروپ فوٹو لگ ی گی ۔
عموم اعتراض کی ج ت ہے کہ اردو زب ن س ئنسی ع و و
م ملات کے اظہ ر سے ق صر ہے۔ اسی س ل میں
انجمن اردو کی ایک تقری ک اہتم کی گی ۔ گورنمنٹ ک لج
لاہور کے پروفیسر حمید عسکری نے جوہری توان ئ کے
موضوع پر ڈیرھ گھنٹہ لیکچر دے کر ث بت کر دی کہ اردو
زب ن س ئنسی امور کے اظہ ر کے حوالہ سے م ذور
نہیں۔
ہی میں انجمن اردو کے حوالہ سے ایک اور تقری ک
انتظ کی گی ۔ اس تقری میں ڈاکٹر وحید قریشی‘ ڈاکٹر
غلا حسین ذوال ق ر‘ سید وق ر عظی اور ڈاکٹر سید محمد
عبدالله ایسی بڑی شخصی ت نے شرکت کی۔ اس کے
65
66
علاوہ لاہور سے دس مہم ن تشریف لائے۔ سید وق ر
عظی نے تقری سے خط کی جبکہ ڈاکٹر سید محمد
عبدالله نے بہترین مقررین میں ان م ت تقسی کیے۔ بہترین
ک رگزاری دکھ نے والوں کو اسن د دی گئیں۔
اسی ش ڈاکٹر وحید قریشی ڈاکٹر غلا حسین ذوال ق ر اور
ڈاکٹر سید محمد عبدالله نے شہر قصور کی انجمن ترویج
اردو ک افتت ح کی ۔ اس تقری میں قصور کے ایس ڈی ای
پرویز بٹ نے بھی شرکت کی اور ح ضرین سے خط
کی ۔
نئے س ل کے لیے انتخ ب ت ہوئے۔ محمد ح یظ ع وی س ل
دو صدر‘ محمد ی مین س یمی س ل دو سنیر ن ئ صدر‘
محمد بلال شیخ س ل دو ن ئ صدر‘ اسدالله غ ل س ل دو
م تمد عمومی‘ محمد اکبر س ل اول م تمد‘ محمد غوث س ل
دو کو م تمد م لی ت منتخ کی گی ۔ الاد کے شم رہ
-میں انجمن اردو کے عہدیداران ک گروپ فوٹو
لگ ی گی ۔ مج س ع م ہ کے لیے محمد حی ت‘ عط ءالرحمن‘
محمد اس اصلاحی‘ مس ود خ ں‘ فقیر حسین‘ ح مد نواز‘
منیر احمد‘ غلا ق در‘ ہ رون رشید منتخ ہولے۔ خ لد
66
67
بزمی نے اردو کے ح میں ایک رب عی پیش کی جو الاد
-میں بطور خ ص ش ئع کی گئی :کے شم رہ
اردو ک رواج ع ہو گ کہ نہیں
حک وطن یہ ک ہو کہ نہیں
دور انگریز کی ل نت ہے انگ ش
ک اس ک تم ہو گ کہ نہیں
انجمن اردو کی سرگرمی ں ج ری رہیں اور ان سرگرمیوں
کے حوالہ سے الاد میں تص ویر ش ءع ہوتی رہیں۔
میں ک لج کے پروفیسر وق ر احمد خ ں کے دور
س لانہ ج سہءتقسی ان م ت کے موقع پر ڈاکٹر سید محمد
عبدالله کو مدعو کی گی ۔ اس موقع پر سید ص ح نے اردو
سوس ئٹی کے قی کی تحریک دی۔ اس ذیل میں انہوں نے
اس تذہ اور ط ب ء کی مشترکہ انتظ می کمیٹی کی تشکیل کی
تجویز دی۔ اردو کو سرک ری زب ن ک درجہ دینے کے لیے
دستخطوں کی مہ چلائ اور کہ کہ وہ دستخط انہیں لاہور
پنچ ئے ج ئیں۔ اس مہ ک آغ ز ارش د احمد حق نی کی
نگرانی میں ہوا۔ اس مہ میں پروفیسر محمد اکرا
ہوشی رپوری‘ پروفیسر ح یظ ہ شمی‘ پرفیسر منیر بخ ری‘
67
68
پروفیسر منظور نذر‘ اکبر راہی جبکہ منیر راج اور
بشیرذاکر پیش پیش تھے۔ ایک ہزار دستخطوں پر مشتمل
فہرست ممت ز منگ وی کے توسط سے سید ص ح کو پنچ
دی گئی۔
انجمن اردو کی سرگرمی ں م ند سی پڑ گئی تھیں۔ پروفیسر
محمد اکرا ہوشی رپوری کی کوششوں اور پروفیسر وق ر
احمد خ ں کے ت ون سے انجمن کو ف ل بن ی گی ۔ انجمن
اردو کے انتخ ب ت ک ان ق د ہوا۔ اس میں پرویز محمود‘
منیر راج‘ ش ہد رشید‘ محمد ذکری قریشی‘ ن ی محمود‘
محمد س ی شیخ‘ منظور حسین‘ ق ضی محمد رؤف‘ محمد
ادریس ش د اور سردار قیصر خ ں ش مل تھے۔
-میں احمد ندی انجمن اردو کی دو تقریب ت
کی تقری کے حوالہ سے ان ق سمی تشریف لائے۔
کے س تھ ش بھی من ئی گئی۔
میں انجن اردو کے زیر اہتم ایک تقری ہوئی جس کی
صدارت ڈیپٹی کمشنر قصور نے کی۔ اسی س ل ایک اور
68
69
تقری من قد ہوئی جس میں اش احمد اور ب نو قدسیہ نے
شرکت کی۔ اس تقری میں اش احمد کی افس نہ نگ ری
پر مض مین پڑھے گیے۔ اسی س ل انجمن اردو کی اور
تقری ہوئی جس میں پنج بی ش عر فضل ش ہ گجراتی کو
مدعو کی گی ۔ تقری کے اختت پر سید امتی ز ع ی ت ج کے
س نحہءقتل کے س س ہ میں ت زیتی قرار منظور گئی۔ اس
تقری میں وق ر احمد خ ں‘ پروفیسر منش س یمی‘ پروفیسر
عبدالغ ور‘ پروفیسر محمد اکرا ہوشی رپوری‘ پروفیسر
عبدالغنی‘ پروفیسر الہ ی ر خ ں‘ خ یل آتش اور محمد ع ی
ظہوری بھی ش مل تھے۔ اسی س ل انجمن کی ایک اور
تقری میں ڈاکٹر عب دت بری وی نے شرکت کی۔
میں پرفیسر ثن ءالرحمن نے انجمن اردو کو ف ل بن ی ۔ اسی
س ل انجمن اردو کے زیر اہتم ایک ش سید ع بد ع ی
ع بد کے س تھ من ئ گئ۔ موسیقی ک پروگرا بھی ہوا۔
س زندوں سے سید ص ح خود اٹھ کر م ے اور ش ک
راگ ایمن سن نے فرم یش کی۔ ح فظ محمد ش ع نے طب ے
پر ایک ایسی دھن پیش کی کہ س حیران رہ گیے۔
69
70
تقری کے آخر میں سید ص ح نے اپن کلا سن ی ۔ جس ک
:مقطع یہ تھ
وقت رخصت وہ چپ رہے ع بد
آنکھ میں پھی ت گی ک جل
میں انجمن اردو کی ایک تقری میں ح یظ ج لندھری مدعو
میں بھی انجمن اردو کے مہم ن تھے۔ اسی طرح
بنے اور ان کے س تھ ش من ئی گئی۔ فروری میں
انجمن اردو کی تقری میں ڈاکٹر سید محمد عبدالله دوسری
ب ر تشریف لائے۔ بلاشبہ ک لج ہذا کے لیے یہ بہت بڑے
اعزاز کی ب ت تھی۔
میں انجمن اردو نے اپنی ایک تقری میں احس ن دانش کو
مدعو کی ۔ تقری بھرپور رہی۔ ش را نے اپنے کلا سے
ح ضرین کو محظوظ کی ۔
بز اردو قصور جو عرصہ دراز سے انجمن اسلامیہ قصور
70
71
کے زیر اہتم اہل قصور کے لیے ادبی تسکین ک ذری ہ
میں شیخ محمد اقب ل سودائی کی تھی۔ فروری
صدارت میں بس س ہ ترویج وترقی اردو‘ انجمن کے دفتر
میں اجلاس ہوا۔ اجلاس میں شیخ ری ض احمد اور شیخ
محمد ط ہر بھی ش مل تھے۔ اجلاس میں پروفیسر محمد
اکرا ہوشی رپوری کو مت قہ طور پر سیکرٹری منتخ کی
گی ۔ بدقسمتی سے منظور کی گئ قراردادیں س زشوں ک
شک ر ہو گیں اور ترویج و ترقی اردو کے لیے کچھ نہ ہو
سک ۔
میں گورنمنٹ ک لج لاہور کے است د مولان اظہر انجمن اردو
کے مہم ن بنے۔انہوں نے انجمن ہذا کی ک رگزاری کو
سراہ ۔
میں ایک ب ر پھر پرفیسر محمد اکرا نومبر
ہوشی رپوری اور پروفیسر مقصود حسنی کی کوششوں سے
مج س اردو ق ئ ہوئی۔ اس میں پروفیسر علامہ عبدالغ ور
‘ظ ر پروفیسر ع ی حسن چوہ ن
پروفیسر عبدالغ ور رفیقی اور پروفیسر محمد مشت
71
72
انص ری سرگر رکن تھے۔ بدقسمتی سے یہ بھی ح لات ک
شک ر ہو گئی۔
میں مقصود حسنی نے اردو سوس ئٹی کی بنی د رکھی۔ اردو
سوس ئٹی کے حوالہ سے پ کست ن بھر میں ک ہوا۔
قراردادیں منظور کی گئیں۔ ع م ء کرا سے فتوی ج ت
ح صل کیے گیے۔ ن ذ اردو کے لیے حک ب لا کو
دخواستیں گزاری گیں۔ مضمون لکھے اور لکھوائے گیے۔
وف قی متس اور چیف جسٹس شری ت کورٹ میں م م ہ
رکھ گی ۔ مقصود حسنی نے ن ذ اردو کے حوالہ سے ادارہ
ع واد پ کست ن اور تحریک ن ذ اردو پ کست ن سے بڑھ
چڑھ کر ت ون کی ۔
میں بز اردو ق ئ ہوئی ب ق عدہ انتخ ب ت ہوئے۔ پروفیسر
عبدالغ ور ظ ر صدر‘ پروفیسر مقصود حسنی ن ء صدر‘
پروفیسر عط ءالرحمن جنرل سیکرٹری‘ پروفیسر عظی اکبر
سیکرٹری م لی ت اور پروفیسر محمد رفی س گر سیکرٹری
نشرواش عت منتخ ہوئے۔ بز اردو کے پندرہ روزہ
72
73
اجلاس ب ق عدگی سے ہوتے۔ اراکین ن صرف ن ذ ارددو کے
لیے آواز ب ند کرتے رہتے ب کہ اپنی نثری اور ش ری
تخ یق ت بھی پیش کرتے۔ علامہ عبدالغ ورظ ر اس حوالہ
سے ق بل تحسین سرگرمی دکھ تے۔ اس انجمن کے اجلاس
ممبران کے گھروں پر ہوتے۔
بروفیسر راؤ اختر ع ی کے عہد میں م رننگ اسمب ی ک
رواج پڑا۔ اس پ یٹ فور کے حوالہ سے ط ب ء کو اردو
تق ریر کی طرف راغ کی گی ۔ فرو اردو کے حوالہ سے
یہ اقدا ک رگز ث بت ہو رہ ہے۔ یہ عمل ت ح ل ج ری ہے۔
-ص حوالہ ج ت
-ص ۔ الاد
-ص ۔ الاد
-ص ۔ الاد
۔ الااد
73
74
-ص ۔ الاد
-ص ۔ الاد
-ص ۔ الاد
-ص ۔ الاد
-ص ۔ الاد
ت راویت پروفیسر محمد اکرا ہوشی رپوری
74
75
الاد اور اردو کے مش ہیر
ت یمی ادارے مش ہیر کی تخ یقی تحقیقی اور تنقیدی
ک وشوں سےآگہی اور ان کے حوالہ سے میسر آنے والی
سرب ندیوں کو ع کرنے اور ان کی ت ہی و تشریح ت ک
ذری ہ ہوتے ہیں۔ تدریسی عمل کے علاوہ انھیں مدعو
کرکے ان کی فکر سے‘ ہر سطع پر است دے ک دروازہ
کھولا ج ت رہ ہے۔ ج م ت اور ک لجز ن صرف ان کی
خدم ت ح صل کرتے آئے ہیں‘ ب کہ ان کی اور ان سے
مت م وم ت اپنے پرچوں میں ش ئع کرتے رہتے ہیں۔
اس طرح ان کی فکر کی ت ہیم ت کے رستے ہموار ہوتے
رہتے ہیں اور عمومی سطع پر بھی ب وغت ک رنگ چڑھ
ج ت ہے۔
اسلامیہ ک لج‘ قصور ان تینوں حوالوں سے‘ یہ اہ ترین
فریضہ سرانج دیت آی ہے۔ سیکڑوں نہیں ہزاروں‘ ط ب
نے یہ ں سے کس فیض کے ب د ن صرف ن پ ی ہے‘ ب کہ
زندگی کے حس س ش بوں میں خدم ت انج دیتے آئے ہیں۔
جس ک تذکرہ کسی دوسرے مضمون میں مل سکے گ ۔
75
76
سردست صرف اتن بت ن مقصود ہے‘ کہ ک ج ہذا کے پرچے
الاد نے بھی مش ہیر کو نظرانداز نہیں کی ۔ ان کی تخ یق ت
کے س تھ س تھ‘ ان سے مت مض مین ش ءع ہوتے رہے
ہیں۔ اگ ے ص ح ت میں اس کی ت صیل درج کر دی گئ ہے۔
ممکن ہے کہ یہ ت صیل تحقیقی ک کرنے والوں کے لیے‘
:کسی ن کسی سطع پرک کی نک ے
ح لی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تنقید برکت ع ی
میر حسن دہ وی کی غزل گوئ پروفیسر منش س یمی
خواجہ الط ف حین کی غزل گوئ محمد ص د
ڈاکٹر محمد ش ع محمد ی مین س یمی -
مولان ح لی اور اردو اد پروفیسر محمد اکرا
ہوشی رپوری
غ ل ک نظریہءحی ت احس ن الہی ن وک ۔
میر کی غزل زکری ف رو -
مولان حسرت موہ نی اور ان کی غزل بلال احمد شیخ
-
76
77
غ ل ک ایک ش ر ڈاکٹر سید محمد عبدالله -
مرزا غ ل کے خطوط بلال احمد شیخ -
غ ل ایک زندہء ج وید کردار پروفیسر محمد اکرا
ہوشی رپوری
ف رسی میں مرزا غ ل ک مق محمد عب س انج ن
-
ش ہی کی ش عری -تحقیقی وتنقیدی مط ل ہ مقصوود حسنی
-
ڈاکٹر گوہر نوش ہی کے تحقیقی تنقیدی اور لس نی نظریے
مقصود حسنی -
پروین ش کر اور اس کی مسکراہٹ کی ش عری ق ضیہ
الم س -
مط ل ہءغ ل -خطوط کی روشنی میں ڈاکٹر حسرت
ک سگنجوی -
اد کے وزیر -وزیر آغ پروفیسر تنویر احمد -
مش خواجہ کوئ کہ ں سے تمہ را جوا لائے ڈاکٹر غلا
77
78
شبیر ران -
مقصود حسنی -عہد ح ضر کے ایک ن مور غ ل شن س
پروفیسر یونس حسن -
قرتہ ال ین حیدر ہندی تہذی کی نم ئندہ ن ول نگ ر پروفیسر
یونس حسن -
78