The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-01-19 05:16:06

rafeeq

rafeeq

‫رفیك احمد نمش‪ :‬افسانوی کردار' مثالی ادیب‬

‫مولفہ‬
‫ڈاکٹر ذوالفمار علی دانش‬

‫ادبی جائزہ‬
‫ممصود حسنی‬
‫ابوزر برلی کتب خانہ‬
‫جنوری ‪2016‬‬

‫رفیك احمد نمش‪ :‬افسانوی کردار' مثالی ادیب‬

‫بادشاہ سیٹھ اور ان کے جدی پشتی کنمریب' طے شدہ‬
‫بڑی مخلوق ہوتی ہے۔ اسی طرح ان کے بچے خلائی‬
‫مخلوق ہوتے ہیں۔ ضرورت' حالات یا حادثاتی کنکبوتی‬
‫بھی تاریخ و ادب میں بڑے ٹھہرتے ہیں۔ گویا ان کا بڑا‬
‫ہونا پہلے سے طے شدہ ہے۔ کسی بھی شدہ پر کلام‬
‫کی گنجائش نہیں ہوتی' کیوں کہ ان کی حیثیت پہلے‬
‫سے سمجھی سمجھائی ہوتی ہے۔ چوری خور مورکھ‬
‫بھی ان کے نام وہ کچھ لکھ جاتا ہے' جس کا انہوں‬
‫نے خواب تک نہیں دیکھا ہوتا یا اس نوع کا خواب‬
‫سوچنے کی بھی گستاخی نہیں کی ہوتی۔ اگر اچھائی‬
‫کی سوچ' ان کے لریب سے بھی گزر جائے' تو جدی‬
‫پشتی بڑوں کی صف سے ہی نکال باہر کیے جائیں۔ یا‬

‫یوں کہہ لیں' اچھائی ان کے لیے ریورس کے دروازے‬
‫کھول سکتی ہے۔‬

‫نان جدی پشتی بڑے' ضروری نہیں' بڑے شہروں‬
‫محلوں یا بنگلوں میں جنم لیں۔ وہ اپنی کوشش' زہانت'‬
‫سچی لگن اور جہد مسلسل کے بل پر' بڑے لرار پاتے‬
‫ہیں۔ انہیں زندگی کے ہر موڑ پر' تندی باد مخالف سے‬
‫نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔ ان کی ٹانگیں کھنچنے والے'‬
‫اطراف میں موجود رہتے ہیں۔ اس کھنچو کھنچی میں'‬

‫ان کا لد بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ الله ان کی محنت اور‬
‫خلوص نیتی کو' برکت عطا فرماتا ہے۔ وہ کسی‬

‫سرکاری' سیٹھی یا شاہی گماشتے کے' ناخواندہ اعزاز‬
‫و اکرام کے محتاج نہیں رہتے۔ اصل حمیمت یہ بھی‬
‫ہے' کہ زمین کے کسی وڈیرے کی عطائی برکی' ان‬

‫کی فکری اپروچ کے لیے' سم لاتل سے کم نہیں ہوتی۔‬
‫سرکاری برکی نے' فردوسی کو عوامی نمائندہ نہ‬
‫رہنے دیا۔ اس کے کہے کو' اس عہد کی شاہی جاہ و‬

‫حشم کا گواہ لرار دیا جا سکتا ہے۔ اسے عوام کے دکھ‬
‫سکھ کا شہادتی لرار دینا' اس کی عظمت پر کالک‬
‫ملنے کے مترادف ہو گا۔‬

‫رفیك احمد نمش کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے' جو‬
‫جھونپڑوں سے اٹھ کر بھوک و پیاس کے اژدھوں‬
‫سے' نبردآزما ہوتے ہوئے' محنت اور مشمت کی‬
‫پرخار وادیوں سے گزرتے' شناخت کے جلوہ کدوں‬
‫میں اپنی الامت کا سامان کرتے ہیں۔ محل منارے' آج‬
‫کی شان ہوتے ہیں اور کل کے کھنڈرات۔ کتے بلے‬
‫ناصرف وہاں بسیرا کرتے ہیں' بل کہ وہ ان کی غلاظت‬
‫گاہ بھی ٹھہرتے ہیں۔ آتے ولتوں میں ان کے لیے‬
‫مرکب۔۔۔۔۔ سنا ہے۔۔۔۔۔۔ استعمال میں آتا ہے۔ ان کی‬
‫شخصی پہچان ختم ہو جاتی ہے۔ رفیك احمد نمش نے'‬
‫جس بستی میں بسیرا کیا وہاں کی شناخت' گارے‬
‫چونے سے بنی عمارتیں نہیں ہیں بل کہ اس عہد' اس‬
‫عہد کے لوگوں اور ان کے معاملات سے متعلك‬
‫شہادتیں ہوتی ہیں۔ لفظوں سے تعمیر ہونے والے یہ‬
‫پیکر' حرفکر کی شناخت ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے‬

‫تاج محل اور نور محل سی خون خور عمارتیں'‬
‫شرمندگی کی علامت بنی ہوتی ہیں۔‬

‫اس ذیل میں رفیك احمد نمش کا یہ شعر ملاحظہ ہ‪:‬و‬

‫بہار میں جو گرائے درخت اب کے‬

‫کھدے ہوئے تھے کئی نام ساتھ ساتھ ان پر‬

‫درخت چھاؤں آکسیجن اور ہریالی فراہم کرتے ہیں۔ یہ‬
‫حادثاتی طور گرے نہیں' بل کہ گرائے گئے ہیں۔ لفظ‬
‫درخت کا علامتی استعمال' بڑی گری تفہیم کا تماضا‬

‫کرتی ہے۔‬

‫ڈاکٹر ذوالفمار علی دانش' کا اردو کے بےدار مغز اہل‬
‫للم میں شمار ہوتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ وہ‬
‫شاہ یا شاہ کے کنکبوتیوں سے' دور کے شخص ہیں۔‬
‫وہ کام اور کام پر یمین رکھنے والوں میں سے ہیں۔‬

‫میری اس بات ثبوت کتاب‬
‫۔۔۔۔۔۔ رفیك احمد نمش‪ :‬افسانوی کردار' مثالی کردار۔۔۔۔۔۔‬
‫ہے اس کتاب کو دیکھتے اور پڑھتے ہوئے' اندازہ‬
‫ہوتا ہے' کہ بندے نے کام کیا ہے اور جان ماری ہے۔‬
‫انہوں نے' کتاب کو بڑے سلیمے اور ہنرمندی سے‬

‫مختلف حصوں میں تمسیم کیا ہے۔‬

‫کتاب کا آغاز نعت و سلام سے کیا گیا ہے۔ یہ دونوں‬
‫رفیك احمد نمش کے للم کا نتیجہ ہیں۔ عمیدت احترم‬
‫اور آلا کریم سے محبت' اپنی جگہ لسانیاتی اعتبار‬

‫سے بھی' یہ دونوں للم پارے کچھ کم نہیں ہیں۔ نمونہ‬
‫کا فمط ایک شعر ملاحظہ ہو۔ اس ایک شعرسے' اندازہ‬

‫ہو جاتا ہے کہ وہ زبان پر کس سطع کی دسترس‬
‫رکھتے تھے۔‬

‫اسی کی ذات ہے ہر طرح سے تملید کے لابل‬
‫کہ وہ محفل نشیں بھی ہے وہی خلوت گزیں بھی ہے‬

‫تکرار حرفی و تکرار لفظی کے ساتھ دو مرکبات'‬
‫مصرع ثانی میں دو ہم صوت لفظوں کا استعمال' جب‬
‫کہ صنعت تضاد کا کمال خوبی سے استعمال کیا گیا۔‬
‫صرف اس ایک شعر سے' اس امر کا باخوبی اندازہ‬
‫کیا جا سکتا ہے' کہ مرحوم اردو زبان اور اس کی‬

‫جڑوں سے کتنا اور کس لدر لریب تھے۔‬

‫پہلا حصہ رفیك احمد نمش کی حیات اور یادوں سے‬
‫متعلك ہے۔ اس میں ڈاکٹر ذوالفمار علی دانش سمیت'‬
‫اکتیس جید اہل للم کی تحریریں شامل ہیں۔ انہیں پڑھ‬
‫کر' رفیك احمد نمش کی حیات اور عادات و اطوار سے‬
‫متعلك' بہت سی معلومات' دستیات ہو سکتی ہیں۔ ان‬
‫تحریروں کی حصولی' جمع بندی اور ترتیب کے لیے‬

‫انہوں نے' بلاشبہ بڑی محنت اور خلوص نیتی سے‬
‫کام لیا ہے۔ اس حوالہ سے' ان کی تحسین نہ کرنا‬
‫زیادتی کے مترادف ہو گا۔ چند اک التباس باطور نمونہ‬
‫ملاحظہ ہوں۔ ان مختصر ٹکڑوں کے مطالعہ سے'‬
‫رفیك نمش کی شخصیت کے بہت سے پہلو' بلاتکلف‬

‫اور لگی لپٹی سے بالا سامنے آ جائیں گے۔‬

‫رفیك احمد نمش نے‬
‫پندرہ مارچ ‪ 1959‬کو میرپور خاص میں جنم لیا۔‬

‫ص‪13 :‬‬
‫اردو زبان و ادب اور ہماری اعلا الدار کا یہ روشن‬
‫ستارہ اپنی روشنی سے لوگوں کےللوب واذہان منور‬
‫کرکے ‪ 15‬مئی ‪ 2013‬کو دائمی ابر آلودگی میں چھپ‬

‫گیا۔ ص‪16 :‬‬

‫اردو ادب کے حوالے سے رفیك نمش کا بیش تر کام‬
‫شاعری' ترجمے' تنمیدی و تحمیمی مضامین' فنی‬
‫تدوین اور ادارت سے متعلك ہے۔‬

‫سوانح نمش پر ایک نظر از ڈاکٹر ذوالفمار علی دانش‬
‫ص ‪16‬‬

‫وہ بڑے صاف گو بلکہ منہ پھٹ آدمی تھے۔ لگی لپٹی‬
‫ہرگز نہیں رکھتے تھے۔ زمانہ سازی انہیں ہرگز نہیں‬

‫آتی تھی۔‬
‫رفتید ولے نہ از دل ما از ڈاکٹر یونس حسنی ص‪17:‬‬

‫سوال‪ :‬رفیك نمش کی موت کے بعد آپ کیا محسوس‬
‫کرتے ہیں۔‬

‫جواب‪ :‬اردو کا بہت بڑا نمصان ہوا ہے۔ لوگوں کو اس‬
‫کا احساس نہیں ہے۔ یہ میں جانتا ہوں۔ وہ لسانیات کے‬
‫آدمی تھے۔ مجھے جب کسی لفظ کے بارے میں معلوم‬
‫کرنا ہوتا تو میں فون کرکے پوچھتا تھا کہ استاد یہ‬

‫لفظ کس طرح ہے۔ وہ بتا دیا کرتے تھے۔‬
‫شکیل عادل زادہ سے گفتگو' ڈاکٹر ذوالفمار علی دانش‬

‫ص‪23 :‬‬

‫رات گئے اچانک کوئی خیال آتا یا کسی کتاب کا سراغ‬
‫ملتا تو ان حضرات سے بلاتکلف تبادلہءخیال کرتا اور‬
‫کبھی ان کے لہجے میں ناگواری کا تاثر محسوس نہیں‬

‫ہوا۔‬
‫دو درویش از سید جامعی ص‪29 :‬‬

‫وہ اکثر اتوار کو ریگل اور فریئر بال پرانی کتابیں‬
‫خریدنے کے لیے جاتے تھے۔ کتابوں سے انھیں‬
‫جنون کی حد تک شوق تھا۔ ان کی ذاتی لائبریری میں‬

‫دس ہزار سے زیادہ کتابیں اور رسالے ہیں۔‬
‫رفیك احمد نمش ازایک منفرد شخص ص‪35:‬‬

‫اپنے رفیك نے تمام عمر' اپنی انوکھی' منفرد اور‬
‫یکتا وسیع شخصیت کو جس لفظ میں لید کرنے پر‬

‫صرف کر دی' وہ لفظ تھا اصول۔‬
‫رفتید ولے نہ از دل ما از یعموب خاور ص‪38:‬‬

‫رفیك احمد نمش کتابوں کا تحفہ دینے کے معاملہ میں‬
‫بڑے فراخ دل تھے۔ وہ اپنے دوستوں کو ادب میں ہر‬

‫ولت فعال دیکھنا پسند کرتے تھے۔‬
‫کاغذی ہے پیرہن از بشیر عنوان ص‪55:‬‬

‫رفیك فل کمٹ منٹ کے آدمی تھے۔ ایک اچھے طالب‬
‫علم اور ایک اچھے استاد' وہ ناصرف اپنی تدریسی‬
‫ذمہ داریاں بڑی تن دہی سے نبھاتے بلکہ استادوں کی‬
‫فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے بھرپور‬

‫تعاون کرتے۔‬

‫رفیموں کے رفیك' رفیك احمد نمش از کرن سنکھ‬
‫ص‪61 :‬‬

‫میں نے اپنی ساری زندگی میں صاف گوئی میں رفیك‬
‫کا کوئی ہم سر نہیں دیکھا۔ برجستگی اس کے وسیع‬
‫مطالعے کی مرہون منت تھی' جب کہ حك گوئی اس‬
‫کے سچ اور صرف سچ پر مکمل ایمان کا ثبوت تھی۔‬

‫رفیك احمد نمش کی صاف گوئی اور برجستگی از‬
‫ڈاکٹر نصیر احمد ناصر ص‪63:‬‬

‫رفیك کی زندگی میں جتنی بھی عورتیں آئیں وہ یا تو‬
‫خوش فہم تھیں یا غلط فہمی کا شکار ہوئیں۔ رفیك نے‬
‫اگر کسی سے اچھا برتاؤ کیا تو غلط معنی اخذ کر لینا‬
‫یمینا بےولوفی تھی اور ہے۔ جس طرح میری کوئی‬
‫بھی بات رفیك سے پوشیدہ نہ تھی' اسی طرح انہوں‬
‫نے ہر چھوٹی بڑی بات سےباخبر رکھا۔ یہ رفیك کی‬
‫عظمت تھی کہ انھوں نے کبھی میری بڑی سے بڑی‬

‫بھول پر بھی مجھے طعنہ نہ دیا' نہ خود سے دور‬
‫رکھا۔ آفرین ہے اس شخص پر' بہت بڑے حوصلے‬

‫والا تھا۔‬
‫ہر چند کہیں کہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ از زکیہ سلطانہ ص‪73:‬‬

‫مسلسل مطالعہ' علم کی پیاس' دوسروں کو علم بانٹنا‪.‬‬
‫اصول پسندی اور اجتماعی سماجی خدمت جیسی‬

‫خوبیوں نے رفیك احمد نمش کو علم و ادب کا حمیمی‬
‫استاد بنا دیا تھا۔‬

‫میرا دوست رفیك احمد نمش از احمد سعید لائم خانی‬
‫ص‪77 :‬‬

‫وہ بےلوث' پرخلوص اور ہم درد انسان تھے۔ وہ‬
‫حمیمی طور پر مولوی عبدالحك کے جانشین نہیں تو‬

‫اس کارواں کے ایک فرد ضرور تھے۔‬
‫کچھ یادیں از ڈاکٹر ممتاز عمر ص‪81:‬‬

‫بلیک بورڈ پر روزانہ بہت خوب صورت' اشعار لکھا‬
‫کرتا تھا۔ اس کی لکھائی بھی بہت خوب صورت تھی۔‬
‫وہ اکثر میرپور خاص سے حیدرآباد آتا تھا اور سارے‬
‫رستے کچھ ناکچھ پڑھتا ہوا ہی آتا تھا۔ کتاب سے اس‬
‫کی محبت کا اندازہ مجھے اس ولت ہو گیا تھا۔ وہ‬

‫ہمارا جونیر تھا۔‬
‫ماضی کے جھروکے از عفت بانو ص‪82:‬‬

‫رفیك احمد نمش سے بہت سی باتوں پر اختلاف ہونا‬
‫ممکن ہے۔ ان سے کچھ شکایتوں کا ہونا سمجھ میں‬
‫آتا ہے۔ ان سے ناراض ہونے کی کئی وجوہ میں یمینا‬
‫معمولیت ہے' لیکن ان سب کے باوجود ہم اس لیے ان‬
‫کی لدر کرتے ہیں' ان کا ذکر کرتے ہیں' ان کی مثال‬
‫دیتے ہیں کہ وہ کئی روائتوں کے امین تھے۔ انھوں‬
‫نے ان کی خدمت کی' ان کی حفاظت کی ہے۔ ان کے‬

‫ولار کے لیے لربانیاں دی ہیں۔ ان میں سے ایک‬
‫روایت پابندی ولت ہے۔‬

‫پاس دار از حسن غزالی ص‪17 :‬‬

‫نمش ایک کھلی کتاب تھے۔ جسے ہر شخص پڑھ سکتا‬
‫تھا۔ ایک چشمہءرواں تھے' جس سے ہر ایک بمدر‬
‫ظرف سیراب ہو سکتا تھا۔ وہ محبتوں کا سفیر تھا اور‬
‫شفمت' دریا دلی' سچائی خلوص اور ہم دردی اس کا‬

‫معتبر حوالہ تھیں۔‬
‫دل پہ نمش تری محبت کا نمش ہے از مجید ارشد ص‪:‬‬

‫‪116‬‬

‫میں نے رفیك نمش کو بس اس لدر سمجھا' آدمی کم‬
‫مشین تھے۔‬

‫دید و بازدید از سلیم البال ص‪91:‬‬

‫رفیك نمش ایک پرخلوص اور محبت بھرا دل رکھنے‬
‫والے انسان تھے' پھر ان کی علمی لابلیت نے ان کو‬

‫مزید معتبر بنا دیا۔‬
‫آہ! رفیك احمد نمش از افروزہ خضر ص‪92 :‬‬

‫رفیك بھائی ایک ایسے شخص کا نام ہے جو مسلسل‬
‫کسی نمطے' کسی علمی و ادبی اصطلاح' کوئی‬

‫سماجی پہلو' کسی شعر کی تفہیم اور اس لسم کے‬
‫معاملات میں غور و فکر کرتے دکھائی دیں گے۔ وہ ہر‬
‫ولت کچھ نہ کچھ سیکھنے سکھانے کی جستجو میں‬

‫رہتے تھے۔‬
‫دنیا ہے اک سرائے کہاں مستمل لیام از نوید سروش‬

‫ص‪95 :‬‬

‫رفیك صاحب طنزومزاح کا ایک خاص ذوق رکھتے‬
‫تھے۔ جب کبھی موڈ میں ہوتے تو خوب لطیفے‬
‫سناتے۔ انھینبےشمار لطائف از بر تھے۔ آپ جب‬
‫گفتگو کرتے تو محفل کشت زعفران بن جاتی۔ رنجیدہ‬
‫ہونا' ان کے ہاں ممنوع تھا' وہ کسی کو دکھی‬

‫نہیندیکھ سکتے تھے۔ ہر کسی کے مسلے کو اپنا‬
‫مسگہ سمجھتے اور ہر ممکن مدد کرتے۔‬
‫سب کا رفیك از صابر عدنانی ص‪125 :‬‬

‫وہ کہا کرتے تھے کہ ہمیں حتی الممدور کوشش کرنی‬
‫چاہیے کہ اردو بولیں تو تمام گفتگو اردو ہی میں ہو‬
‫۔ انگریزی کے غیر ضروری الفاظ کے استعمال سے‬
‫احتزاز کریں۔ اسی طرح اگر انگریزی میں بات کی جا‬
‫رہی ہو تو پھر تمام گفتگو انگریزی ہی میں ہو۔ آدھا‬

‫تیتر آدھا بٹیر والی بات نہ ہو۔‬
‫رفیك اردو۔۔۔۔ رفیك نمش از شکیل احمد بھوج ص‪:‬‬

‫‪132 '131‬‬

‫انھوں نے تادم مرگ طبماتی فرق کو نہ صرف رد کیا‬
‫بلکہ اس کا عملی ثبوت بھی فراہم کیا۔‬

‫رفیك احمد نمش; چند تآثرات از عابد علی ص‪137:‬‬

‫رفیك احمد نمش کی زندگی کے کئی پہلو تھے۔ مراسم‬
‫کا خیال رکھنے والے' روایت پرست اور مذہب کی اعلا‬

‫روایات کا پاس رکھنے والے۔‬
‫کچھ یادیں نمش ہیں از عزیز احمد ص‪140:‬‬

‫وہ جس انداز سے علم کو فروغ دے رہے تھے' کسی‬
‫کو کتب فراہم کر رہے ہیں' کسی کو کتابوں کی فوٹو‬
‫کاپی کرا کے علمی معاونت کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا تھا‬

‫کہ علم و ادب کے ڈسٹری بیوٹر ہیں۔‬
‫عظیم محسن از رئیسہ شریف ص‪142:‬‬

‫ان کی ایک ملالات والعتا ڈھیروں کتابیں پڑھنے کے‬
‫مترادف تھی۔‬

‫ایک نمش خاص از عازم رحمان ص‪144 :‬‬

‫بھائی جان کم عمری میں مذہبی بھی رہے۔ وہ پانچ‬
‫ولت کی نہ صرف نماز پڑھتے تھے بلکہ مسجد میں‬
‫ازان بھی دینے جاتے اورتبلیغی جماعت کے مرکز بھی‬

‫جاتے۔‬
‫بچپن کی کچھ یادیں از رشیدہ ص‪146:‬‬

‫کتاب کے دوسرے حصہ میں‬
‫منظوم خراج عمیدت کے نام سے' آٹھ شعری‬
‫منظومات ہیں۔ ہر کسی نے انہیں ان کی شخصیت اور‬
‫ان کی علمی و ادبی خدمات کو خراج عمیدت پیش کیا‬

‫ہے۔ یہ منظومات' ممفی آزاد اور نثری ہیں۔ یہ‬
‫منظومات رسمی نہیں ہیں۔ ان میں شاعر کی محبت'‬
‫عمیدت' شخصی تعلك اور مرحوم کی شخصیت سے‬

‫متعلك' کوئی ناکوئی پہلو ضرور موجود ہے۔ ان‬
‫منظومات کو لکھوانے اور ان کی جمع بندی میں'‬
‫ڈاکٹر ذوالفمار علی دانش نے بڑے تردد سے کام لیا‬

‫ہوگا۔ دو تین نمونے ملاحظہ فرمائیں۔‬

‫وہ گیا ایسا کہ سارے گھر کو سونا کر گیا‬
‫پیاسی آنکھوں کو وہ دے کے ہائے چشم تر گیا‬

‫لطعہ تاریخ شاعر مختار اجمیری ص‪147:‬‬

‫بےساختگی' ورفتگی اور مرحوم سے للبی تعلك' اس‬
‫شعر پارے کا خصوصی وصف ہے۔ گنتی میں یہ شعر‬
‫فمط نو ہیں لیکن کہے میں' سیکڑوں صفحات پر محیط‬
‫ہیں۔ معنوی حسن' اپنی جگہ لسانیاتی حظ بھی کمال کا‬

‫ہے۔‬

‫ماہر اجمیری کا یہ شعر دیکھیں' کس کمال اور‬
‫ہنرمندی سے مرحوم کی شخصیت کے' اہم ترین پہلو‬

‫کو واضح کر رہا ہے۔‬

‫میں کیا بتاؤں تمہیں کس لدر خلیك تھا وہ‬
‫رفیك نام تھا ہر شخص کا رفیك تھا وہ‬

‫خوشبو کی نظم۔۔۔۔۔۔۔ ایک عام آدمی کی موت۔۔۔۔۔۔ کی یہ‬
‫سطور درد' کرب اور ارضی الامت کی گرہ کھول رہی‬

‫ہیں۔‬

‫کبھی اس آس میں‬
‫کہ ایک دن وہ لمحہ آئے گا‬
‫جب وہ دنیا بھر کے جھمیلوں سے نجات پا کر‬
‫اپنی ایک نئی دنیا بسائے گا‬
‫اس کی یہ خواہش اس ولت پوری ہوتی ہے‬
‫جب تمام امیدیں دم توڑ جاتی ہیں‬

‫اور عام آدمی‬
‫خاص و عام کی تخصیص سے ماورا ہو جاتا ہ ‪.‬ے‪.....‬‬

‫ص‪160 :‬‬

‫اس سے اگلا حصہ نگارشات نمش سے متعلك ہے۔‬
‫اس میں شعر و نثر سے متعلك مرحوم کی کاوش ہا‬

‫فکر درج کی گئی ہیں۔ شاعری میں‬

‫غزلیں ‪13‬‬
‫چو مصرعے یعنی لطعات ‪6‬‬

‫رباعی ‪1‬‬
‫شعر ‪1‬‬
‫آزاد نظمیں ‪2‬‬

‫شامل کتاب ہیں۔ ان کی شاعری' فکری و فنی اعتبار‬
‫سے' ان کی شخصیت اور عصری سماجی رویوں کی‬
‫عکاس ہے۔ ہاں البتہ ان کی شعری زبان کا رویہ اور‬

‫لوازمات شعر روایت سے لدرے ہٹ کر ہیں۔‬

‫ایک غزل چھے لفظی ردیف پر استوار ہے۔ غزل کا‬
‫مطلع دیکھیے۔‬

‫ہر سانس ہے کراہ مگر تم کو اس سے کیا‬
‫ہو زندگی تباہ مگر تم کو اس سے کیا‬

‫پرلطف بات یہ ہے کہ لافیہ اور ردیف کا آخری لفظ‬
‫فطری طور پر اور حسب ضرورت ہم صوت ہے۔ اس‬

‫سے غنا اور نغمیت میں ہرچند اضافہ ہوا ہے۔‬

‫ایک غزل کا ردیف پانچ لفظی ہے۔ اس میں پہلی‬
‫صورت حال نہیں ہے۔ لافیہ اور ردیف کا آخری لفظ ہم‬

‫صوت نہیں ہیں۔ مطلع ملاحظہ ہو۔‬

‫آمد فصل گل پر ہوائے طرب ناک چلنے لگی' تیری یاد‬
‫آ گئی‬

‫دھیرے دھیرے فضائے جہاں اپنی رنگت بدلنے لگی'‬
‫تیری یاد آ گئی‬

‫پہلی غزل کا ردیف چہار لفظی اور ہی کچھ تھے' ہے۔‬
‫اس سے آہنگ اور غنا کا الگ سے ذائمہ میسر آتا‬
‫ہے۔ باطور نمونہ فمط ایک شعر ملاحظہ فرمائیں۔‬

‫رفتہ رفتہ ہر اک گھاؤ بھر جاتا ہے‬
‫پہلے پہل ہم تجھ سے بچھڑ کر اور ہی کچھ تھے‬

‫اس کے علاوہ ایک غزل چولفظی جب کہ دو غزلیں‬
‫سہ لفظی ردیف رکھتی ہیں۔‬

‫تکرار لفظی کے ساتھ ساتھ صنعت تضاد کا استعمال‬

‫ملاحظہ فرمائیں۔‬

‫سینے میں تھا درد مگر ہونٹوں پہ تبسم‬
‫باہر ہم کچھ اور تھے اندر اور ہی کچھ تھے‬

‫لفظ ہی تدبر کا متماضی ہے۔‬

‫اب ذرا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں۔‬

‫جس کے سخن میں زہر سے زائد ہیں تلخیاں‬
‫اس کے لبوں میں شہد سے بڑھ کر مٹھاس تھی‬

‫دونوں مصرعوں کا' ہم صوت الفاظ سے آغاز ہوا ہے۔‬
‫لفظوں کی حسین ترتیب اور پرذائمہ استعما 'ل بصیرتی‬

‫اور بصارتی حظ میسر کرتا ہے۔‬

‫متعلك الفاظ‬
‫پہلا مصرع سخن‬
‫دوسرا مصرع لبوں‬

‫مترادف الفاظ‬

‫زائد‬ ‫پہلا مصرع‬
‫بڑھ کر‬ ‫دوسرا مصرع‬

‫متضاد الفاظ‬
‫پہلا مصرع زہر‬

‫دوسرا مصرع شہد‬

‫زہر ہلاکت کے ساتھ ساتھ کڑواہٹ کے لیے بھی عرف‬

‫میں ہے۔‬

‫تلخیاں‬ ‫پہلا مصرع‬

‫دوسرا مصرع مٹھاس‬

‫سوچتا ہوں میں' یہاں سے کہ یہاں سے پہلے‬

‫اس مصرع میں' صنعت تکرار لفظی کا استعمال نمش‬
‫کی زبان پر گرفت کو' واضح کر رہا ہے۔ فصاحت اور‬
‫بلاغت پر' کہیں ٹیڑھ پن طاری نہیں ہوتا۔ اس سے غنا‬
‫اور نغمیت میں اضافہ یوا ہے۔ تذبذب سوچ کے دائروں‬

‫کو وسیع کر دیتا ہے۔‬

‫سوچتا ہوں میں'‬
‫یہاں سے‬

‫کہ یہاں سے پہلے‬

‫تفہیم کی ذیل میں' لاری جہاں لفظوں کی مہک سے‬
‫لطف اٹھاتا ہے' وہاں وحدت تاثر' اس کے سوچ کو‬
‫رائی بھر ادھر نہیں ہونے دیتا۔ دوسرا مصرع اشتیاق‬
‫پیدا کرنے کے ساتھ تذبذب کی گھتی بھی کھولتا ہے۔‬

‫داستاں اپنی سناؤں تو کہاں سے پہلے‬
‫پہلے مصرعے میں یہاں' جب کہ دوسرے میں کہاں‬
‫کے استعمال سے کیفیتی حظ میسر آتا ہے۔ بلاشبہ داد‬

‫سے بالاتر زبان کے پڑھنے کا اتفاق ہوتا ہے۔‬

‫اب دو بصارتی اطوار ملاحظہ فرمائیں‬

‫کبھی رو بہ رو کبھی خواب میں دیکھنا‬

‫دیکھنا‬
‫کبھی رو بہ رو‬
‫کبھی خواب میں‬

‫دونوں مصرعوں میں کبھی کی تکرا 'ر جاری سلسلے‬
‫کو واضح کرتی ہے۔ گویا سکوت یا ٹھہراؤ کی صورت‬

‫پیدا نہیں ہوتی۔‬

‫سرخ ہونٹوں کے اثر کو ترسوں‬

‫اثر کے تناظر میں' لمس سے متعلك یہ مصرع ملاحظہ‬
‫فرمائیں۔ مرکب سرخ ہونٹ بصارتی وارفتگی کو بڑھاوا‬

‫دیتا ہے۔‬

‫اب ان کے چند مختلف نوعیت کے مرکبات ملاحظہ‬
‫فرمائیں۔‬

‫رفتہ رفتہ‬

‫پہلے پہل‬

‫خوش بو کا ذائمہ‬
‫سوچ کے محور‬
‫الفاظ کی گرفت‬

‫ہونٹوں پہ تبسم‬

‫کھنڈر سا مکاں‬

‫کرب ذات‬

‫خواب نگر‬

‫نمش کی نظم تشنگی پر ایک نظر ڈالیں‬

‫تیری یاد اک بادل ہے‬
‫پر بادل سے‬

‫کب پیاس بجھی‬
‫پیاس کی ماری دھرتی تو بس‬

‫بارش کی‬
‫بوچھاڑیں مانگے‬

‫میرا دل بھی‬
‫پیاسی دھرتی‬
‫ساون بن کر آ جاؤ نا!‬

‫تشبہی طور دیکھیے‬

‫تیری یاد ‪ :‬اک بادل ہے‬

‫میرا دل بھی ‪ :‬پیاسی دھرتی‬

‫ممثالتی طور دیکھیے‬
‫دھرتی‬
‫دل‬

‫دھرتی ‪ :‬پیاس کی ماری‬
‫دل ‪ :‬پیاسی دھرتی‬

‫مطلوب‬
‫دھرتی ‪ :‬بارش کی بوچھاڑیں مانگے‬

‫دل ‪ :‬ساون مانگے‬

‫متعلك لفظوں کا استعمال دیکھیے‬
‫بادل ‪ :‬بارش‬
‫دل ‪ :‬یاد‬

‫آخری سطر گیت کا طور لیے ہوئے ہے۔‬
‫ساون بن کر آ جاؤ نا!‬

‫پوری نظم پر ورفتگی کی کیفیت طاری ہے اور سماعی‬

‫حظ میسر کرتی ہے۔‬

‫خیر اور سکھ کی فراہمی' اتنا آسان کام نہیں۔ نمش کے‬
‫ہاں اس امر کا اظہار کمال کی شیفتگی رکھتا ہے۔‬

‫جو بھی سایہ مہیا کرتا ہے نمش‬
‫جھیلنی پڑتی ہے اس کو کڑی دھوپ‬

‫لربانی‬

‫بعض شعر تو' ورفتگی اور بےساختگی میں اپنا جواب‬
‫نہیں رکھتے۔ بےساختہ منہ سے واہ واہ نکل جاتا ہے۔‬

‫مثلا‬
‫پیڑوں کو کاٹنے سے پہلے خیال رکھنا‬
‫شاخوں پہ کوئی غنچہ حیران رہ نہ جائے‬

‫لفظ حیران کو مستعمل معنوں سے ہٹ کر لیا گیا۔‬

‫مرے کچے مکان کو نمش' ڈھا کر‬
‫ہوائے شہر اب کس لہر میں ہے‬

‫لہر کی تفہیم سٹریٹ کے بول چال کے مطابك لی‬

‫جائے۔ معاملہ بھی سٹریٹ کا ہے۔‬

‫اب ذرا یہ دو شعر ملاحظہ فرمائیں‬
‫سندر لڑکی‬

‫یوں تو خاموش ہی رہتی ہے وہ سندر لڑکی‬
‫سخنور لڑکی‬

‫بات کرنے میں نہیں اس سی سخنور لڑکی‬

‫اس کے دل میں بھی کبھی نمش محبت جاگے‬
‫پتھر لڑکی‬

‫موم ہو جائے کسی روز وہ پتھر لڑکی‬
‫لڑکی ایک' تین صفتی لاحمے استعمال ہوئے ہیں۔‬

‫نثر میں' دیوان غالب کے نسخہء خواجہ سے متعلك'‬
‫چار تنمیدی مضمون شامل ہیں۔ جن کے عنوان کچھ‬

‫یوں ہیں۔‬

‫غالب اور جعل سازی‬
‫نسخہءخواجہ یا نسخہ لاہور‬

‫ضمیر کی خلش‬
‫تفو بر تو اے چرخ گرداں۔۔۔۔۔۔‬

‫یہ مسلہ متنازعہ تھا اور آج بھی ہے۔ میں نے بھی‬
‫اس موضوع پر کچھ لکھا تھا' یاد نہیں کہاں شائع ہوا۔‬
‫اصل مسلہ نسخہءخواجہ یا نسخہ لاہور نہیں' کوئی اور‬

‫تھا۔‬

‫اس کے بعد کچھ مختصر تحریریں اداریے اور ابتدایے‬
‫وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے بعد نمش کے فارسی'‬

‫انگریزی' سندھی اور پنجابی نظموں کے کچھ ترجمے‬
‫شامل کیے گیے ہیں۔ ایک نظم شاعر کی موت کے‬

‫عنوان سے شامل ہے۔ اسے دیوناگری سے اردو لیپی‬
‫میں منتمل کیا گیا ہے۔ خدا لگتی تو یہ ہی ہ 'ے کہ یہ‬
‫تراجم صاف' سادہ' واضح' سلیس اور شعری لوازم‬
‫سے مالا مال ہیں۔ ان پر طبع زاد ہونے کا گمان گزرتا‬

‫ہے۔ باطور نمونہ فمط ایک نظم ملاحظہ ہو۔‬

‫کھڑکی کھلی‬
‫کھڑکی بند ہوئی‬

‫'ہوا‬
‫ہوائے دل پذیر تھی‬
‫مگر میرا لدیم دل کہاں گیا‬

‫شاعر‪ :‬محمد زہری‬

‫انگریزی' سندھی پنجابی اور سرائیکی سے چار‬
‫افسانوں کے اردو ترجمے کیے ہیں۔ رما کانت کے‬
‫ایک افسانے کو دیوناگری سے اردو رسم الخط میں‬
‫منتمل کیا ہے۔ تراجم کو پڑھ کر' اندازہ ہوتا ہے کہ‬
‫مرحوم کو' ناصرف اردو زبان پر لدرت حاصل تھی بل‬
‫کہ دیگر زبانوں یعنی فارسی' انگریزی' سندھی' پنجابی‬
‫اور سرائیکی پر بھی گرفت رکھتے تھے۔ اسی طرح وہ‬
‫دیوناگری رسم الخط کو' اس کی باریکیوں کے ساتھ‬
‫جانتے تھے۔ ان کے یہ تراجم' زیب سماعت و بصارت‬
‫ہیں۔ اسی طرح' انتخاب میں بھی ملکہ رکھتے تھے۔‬
‫اس امر سے باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے' کہ نمش‬
‫مرحوم کا ذوق کیسا اور کس نوعیت کا تھا۔ باطور‬
‫نمونہ اور ان کی اردو پنجابی پر گرفت کے حوالہ‬
‫سے' بیدی کے پچیس سطری پنجابی افسانے کی چند‬

‫چنیدہ سطریں ملاحظہ فرمائیں‪:‬‬

‫لڑکی نے اپنی نظریں نیچی کر لیں اور اپنے ابرو' اپنی‬
‫ہی پلکوں کی پرچھائیوں میں مسکراتی ہوئی ہنسی۔۔۔۔۔‬

‫اندر ہی اندر گٹکتی رہی۔‬

‫ہوں' لڑکے نے سوچا اور چلا گیا‬
‫یہ ترسی ہوئی دھرتی' وہ ساون کا بادل۔۔۔۔۔ اور‬

‫بہاروں کی فضا۔۔۔۔۔‬

‫‪..............‬‬
‫لڑکی کے ماتھے پر سات بل پڑے ہوئے تھے۔ لڑکے‬
‫نے اسے دوسروں کی طرح ہی نک چڑھی' مغرور‬

‫سی لڑکی سمجھا اور چلا گیا۔‬
‫حالاں کہ بات صرف اتنی سی تھی۔‬
‫تو نے پہلے کیوں نہ مجھے بلایا‬
‫وہ ازل سے اکیلی۔۔۔۔۔ وہ ابد تک اداس ۔۔۔۔۔‬
‫اور سامنے کچھ بچے کھیل رہے تھے۔‬

‫افسانہ ۔۔۔۔۔۔ بہانہ ص ‪232 '231‬‬

‫ایک انگریزی اور ایک سندھی مضمون کا ترجمہ'‬
‫کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ دونوں مضمون بڑے کام‬
‫کے ہیں۔ پہلا مضمون لرتہ العین حیدر کے ناول ۔۔۔۔۔‬

‫چاندنی بیگم ۔۔۔۔۔ سے متعلك ہے۔ بڑا اچھا اور‬
‫غیرجانبدارنہ لسم کا مضمون ہے۔ دوسرا مضمون ۔۔۔۔۔‬
‫آزاد کشمیر کی زبانیں۔۔۔۔۔ مختصر مختصر ہوتے' اپنے‬
‫عنوان کے تعارف کے ضمن میں کامیاب اور کارکشا‬

‫ہے۔ ہر دو مضامین' کی زبان ترجمہ کی زبآن نہیں ہے۔‬
‫براہ راست تحمیك و تنمید کی زبان ہے۔ کہیں ناہمواری‬
‫اور ابہامی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ یہ امر نمش مرحوم‬
‫کی' ہر سہ زبانوں پر گرفت کا غماز ہے۔ گویا وہ جہاں‬

‫اچھے شاعر اچھے نثار ہیں' وہاں شعر و نثر کے‬
‫اچھے مترجم بھی تھے۔‬

‫پانچ اہل للم کے نام لکھے گیے خطوط بھی کتاب کا‬
‫حصہ بنائے گیے ہیں۔‬

‫بشیر عنوان کے نام سات خط‬
‫یعموب خاور کے نام چار خط‬
‫لاسم رحمان کے نام دو خط‬
‫حسن منظر کے نام ایک خط‬
‫ذوالفمار دانش کے نام ایک خط‬

‫گویا تعداد کے اعتبار سے یہ کل پندر خط ہیں۔ ڈاکٹر‬
‫ذوالفمار دانش کے نام خط کی عکسی نمل پیش کی‬
‫گئی ہے۔ خطوط میں' بےتکلفی' برجستگی اور والہانہ‬
‫پن پایا جاتا ہے۔ یہ خطوط ادبی حوالہ سے بھی کمال‬

‫کے ہیں۔ باطور نمونہ دو ایک مثالیں پیش ہیں۔‬

‫کہتے ہیں کہ کسی کی لدر مرنے کے بعد ہوتی ہے اور‬
‫یا چلے جانے کے بعد۔ اب مجھے احساس ہوا کہ‬

‫دونوں صورتوں کے علاوہ ایک تیسری صورت بھی‬
‫ہے' جس کے ظہور پذیر ہونے کے بعد کسی کی لدر و‬

‫لیمت کا احساس ہوتا ہے اور وہ صورت ہے جدائی‬
‫کی! عارضی نہیں طویل جدائی کی۔‬

‫خط رفیك نمش بنام بشیر عنوان ص‪251:‬‬

‫اچھا اب والعی خدا حافظ‬

‫خط رفیك نمش بنام بشیر عنوان ص‪252:‬‬

‫کشمیری صورتوں کو گلاب کے بجائے آم سے تشبیہ‬
‫دینے پر میں تم پر لکھ واری لعنت بھیجتا ہوں۔‬

‫بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں! ایک بار پھر‬
‫لعنت‬

‫خط رفیك نمش بنام یعموب خاور ص‪272 :‬‬

‫روٹی جب تک میسر ہے' اس ولت تک نئی باتیں‬
‫سوجھتی ہیں اور جب روٹی کا حصول مشکل ہو جائے‬

‫تو حصول نان جویں ہی واحد مسلہ رہ جاتا ہے۔ اس‬
‫مولع پر عشك وشك سب دل و دماغ سے محو ہو‬
‫جاتے ہیں۔ غالبا شیخ سعدی نےاس تجربے کو بیان‬

‫کیا ہے۔‬
‫چناں لحط سالی شد اندر دمشك‬

‫کہ یاراں فراموش کر دند‬
‫خط رفیك نمش بنام لاسم رحمان ص‪276 :‬‬

‫رائٹ برادران کا بنایا ہوا ہوائی جہاز آج کے جدید‬
‫طیاروں کے ممابلے میں بچوں کا کھلونا معلوم ہوتا‬
‫ہے تاہم یہ بھی حمیمت ہے کہ اس ہوائی جہاد کے‬
‫وجود میں آئے بغیر موجودہ طیاروں کا وجود میں آنا‬

‫ممکن نہیں تھا۔‬
‫خط رفیك نمش بنام ذوالفمار دانش ص‪280 :‬‬

‫کتاب کے آخر میں ۔۔۔۔۔ تیرے فن میں حسن کےاعلا‬
‫ہیں نمش۔۔۔۔ کے عنوان سے نو تحریریں شامل کتاب‬
‫کی گئی ہیں۔ ان میں ایک ڈاکٹر انورسدید کا خط بنام‬
‫رفیك احمد نمش ہے۔ خط کے دو جملے درج ہیں۔‬
‫مستعمل میں بدل گڑبڑی کا باعث بنتا ہے دوسرا گلی‬
‫اسے لبول نہیں کرتی ہے۔ للفی عرف میں ہے اس‬

‫لیے لفلی لبولیت کی سند نہ پا سکے گا۔ خیر یہ دو‬
‫جملے دیکھیے۔‬

‫ایک ذاتی گزارش یہ ہے کہ میرا نام انور سدید معرف‬
‫ہے لیکن آپ اسے نئے اصول و ضوابط کے تحت‬
‫سدید انور درج فرماتے ہیں۔ درخواست ہے کہ اسے‬
‫انور سدید ہی درج کیجیے۔‬
‫خط انور سدید بنام رفیك احمد نمش ص‪283:‬‬

‫بالی آٹھ تحریریں ان کے فن سے متعلك ہیں۔‬
‫ان کی شاعری کے بارے پروفیسر انوار احمد زئی کا‬

‫کہنا ہے۔‬

‫رفیك نمش باطور شاعر‬

‫رفیك نمش کے شاعرانہ نموش میں محاکات اور تماثیل‬
‫کے ساتھ منظرنامے بھی ایسے مصور ملتے ہیں کہ‬
‫ان کی شاعری' فکری گیلری اور شعری تصویر خانہ‬
‫معلوم ہوتی ہے۔ میرے نزدیک ولت کے نئے پن کے‬
‫مضمون کے بعد' تشبیہ و تمثیل کا اچھوتا اور نیا پن'‬

‫رفیك نمش کی شاعری کا دوسرا بڑا کمال ہے۔‬

‫نمش آئینہءمسرت میں از روفیسر انوار احمد زئی ص‪:‬‬
‫‪285‬‬

‫رفیك احمد نمش اور ترجمہ نگاری‬

‫رفیك احمد نمش طبعا کاملیت پسند تھے۔ وہ جو بھی‬
‫کام کرتے' پوری ذمہ داری سے کرتے تھے' یہی‬
‫خوبی ان کے تراجم میں بھی نمایاں ہے‪ .‬وہ ترجمے‬
‫کے فن کو لدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ان فن‬
‫کو حمیر سمجھنے والی سوچ کے سخت خلاف تھے۔‬
‫رفیك احمد نمش ترجمے کے فن کے افادی اہمیت کے‬

‫لائل تھے۔‬
‫رفیك احمد نمش بہ حیثیت مترجم ازبشیر عنوان ص‪:‬‬

‫‪302‬‬

‫رفیك احمد نمش کا طور تنمید‬

‫رفیك نمش دھیمے' پراثر مگر انتہائی جرآت مندی کے‬
‫ساتھ تنمید کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ان کی‬

‫بےباکی کسی ظاہری عہدے یا بڑےپن سے خائف نظر‬
‫نہیں آتی' مگر وہ عزت و احترام کو ہاتھ سے نہیں‬

‫جانے دیتے۔ پہلے کسی معاملے کے اصل پہلو کو‬
‫اجاگر کرتے ہیں' پھر جزئیات کے سہارے اسے‬
‫ابھارتے ہیں۔ جہاں کہیں غلطی کا احتمال ہوتا ہے‬

‫دست نشان دہی کرتے ہیں۔‬
‫رفیك احمد نمش کا تنمیدی شعور از ڈاکٹر ممتاز عمر‬

‫ص‪314 :‬‬

‫رفیك احمد نمش اور اردو املا‬

‫املا کےحوالے سے رفیك نمش کا زیادہ تر زور اس‬
‫بات پر رہا ہے کہ جو بولو' وہی لکھو۔ لکھاوٹ میں‬

‫تلفظ کی تملید ان کے لیے لازمی تھی۔‬
‫رفیك احمد نمش اور اردو املا از انصار احمد شیخ‬

‫ص‪331 :‬‬

‫رفیك احمد نمش کا تحمیمی مزاج‬

‫رفیك نمش پوری یک سوئی سے تحمیك کی جانب‬
‫راغب نہیں ہو سکے' وہ اس شعبے کو اپنانا چاہتے‬
‫تھے اور اردو ادب کی کئی حمیمتوں سے پردہ کشائی‬
‫کرنے کے خواہاں تھے مگر موت کی حمیمت نے ایک‬








Click to View FlipBook Version