رفیك احمد نمش :افسانوی کردار' مثالی ادیب
مولفہ
ڈاکٹر ذوالفمار علی دانش
ادبی جائزہ
ممصود حسنی
ابوزر برلی کتب خانہ
جنوری 2016
رفیك احمد نمش :افسانوی کردار' مثالی ادیب
بادشاہ سیٹھ اور ان کے جدی پشتی کنمریب' طے شدہ
بڑی مخلوق ہوتی ہے۔ اسی طرح ان کے بچے خلائی
مخلوق ہوتے ہیں۔ ضرورت' حالات یا حادثاتی کنکبوتی
بھی تاریخ و ادب میں بڑے ٹھہرتے ہیں۔ گویا ان کا بڑا
ہونا پہلے سے طے شدہ ہے۔ کسی بھی شدہ پر کلام
کی گنجائش نہیں ہوتی' کیوں کہ ان کی حیثیت پہلے
سے سمجھی سمجھائی ہوتی ہے۔ چوری خور مورکھ
بھی ان کے نام وہ کچھ لکھ جاتا ہے' جس کا انہوں
نے خواب تک نہیں دیکھا ہوتا یا اس نوع کا خواب
سوچنے کی بھی گستاخی نہیں کی ہوتی۔ اگر اچھائی
کی سوچ' ان کے لریب سے بھی گزر جائے' تو جدی
پشتی بڑوں کی صف سے ہی نکال باہر کیے جائیں۔ یا
یوں کہہ لیں' اچھائی ان کے لیے ریورس کے دروازے
کھول سکتی ہے۔
نان جدی پشتی بڑے' ضروری نہیں' بڑے شہروں
محلوں یا بنگلوں میں جنم لیں۔ وہ اپنی کوشش' زہانت'
سچی لگن اور جہد مسلسل کے بل پر' بڑے لرار پاتے
ہیں۔ انہیں زندگی کے ہر موڑ پر' تندی باد مخالف سے
نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔ ان کی ٹانگیں کھنچنے والے'
اطراف میں موجود رہتے ہیں۔ اس کھنچو کھنچی میں'
ان کا لد بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ الله ان کی محنت اور
خلوص نیتی کو' برکت عطا فرماتا ہے۔ وہ کسی
سرکاری' سیٹھی یا شاہی گماشتے کے' ناخواندہ اعزاز
و اکرام کے محتاج نہیں رہتے۔ اصل حمیمت یہ بھی
ہے' کہ زمین کے کسی وڈیرے کی عطائی برکی' ان
کی فکری اپروچ کے لیے' سم لاتل سے کم نہیں ہوتی۔
سرکاری برکی نے' فردوسی کو عوامی نمائندہ نہ
رہنے دیا۔ اس کے کہے کو' اس عہد کی شاہی جاہ و
حشم کا گواہ لرار دیا جا سکتا ہے۔ اسے عوام کے دکھ
سکھ کا شہادتی لرار دینا' اس کی عظمت پر کالک
ملنے کے مترادف ہو گا۔
رفیك احمد نمش کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے' جو
جھونپڑوں سے اٹھ کر بھوک و پیاس کے اژدھوں
سے' نبردآزما ہوتے ہوئے' محنت اور مشمت کی
پرخار وادیوں سے گزرتے' شناخت کے جلوہ کدوں
میں اپنی الامت کا سامان کرتے ہیں۔ محل منارے' آج
کی شان ہوتے ہیں اور کل کے کھنڈرات۔ کتے بلے
ناصرف وہاں بسیرا کرتے ہیں' بل کہ وہ ان کی غلاظت
گاہ بھی ٹھہرتے ہیں۔ آتے ولتوں میں ان کے لیے
مرکب۔۔۔۔۔ سنا ہے۔۔۔۔۔۔ استعمال میں آتا ہے۔ ان کی
شخصی پہچان ختم ہو جاتی ہے۔ رفیك احمد نمش نے'
جس بستی میں بسیرا کیا وہاں کی شناخت' گارے
چونے سے بنی عمارتیں نہیں ہیں بل کہ اس عہد' اس
عہد کے لوگوں اور ان کے معاملات سے متعلك
شہادتیں ہوتی ہیں۔ لفظوں سے تعمیر ہونے والے یہ
پیکر' حرفکر کی شناخت ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے
تاج محل اور نور محل سی خون خور عمارتیں'
شرمندگی کی علامت بنی ہوتی ہیں۔
اس ذیل میں رفیك احمد نمش کا یہ شعر ملاحظہ ہ:و
بہار میں جو گرائے درخت اب کے
کھدے ہوئے تھے کئی نام ساتھ ساتھ ان پر
درخت چھاؤں آکسیجن اور ہریالی فراہم کرتے ہیں۔ یہ
حادثاتی طور گرے نہیں' بل کہ گرائے گئے ہیں۔ لفظ
درخت کا علامتی استعمال' بڑی گری تفہیم کا تماضا
کرتی ہے۔
ڈاکٹر ذوالفمار علی دانش' کا اردو کے بےدار مغز اہل
للم میں شمار ہوتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ وہ
شاہ یا شاہ کے کنکبوتیوں سے' دور کے شخص ہیں۔
وہ کام اور کام پر یمین رکھنے والوں میں سے ہیں۔
میری اس بات ثبوت کتاب
۔۔۔۔۔۔ رفیك احمد نمش :افسانوی کردار' مثالی کردار۔۔۔۔۔۔
ہے اس کتاب کو دیکھتے اور پڑھتے ہوئے' اندازہ
ہوتا ہے' کہ بندے نے کام کیا ہے اور جان ماری ہے۔
انہوں نے' کتاب کو بڑے سلیمے اور ہنرمندی سے
مختلف حصوں میں تمسیم کیا ہے۔
کتاب کا آغاز نعت و سلام سے کیا گیا ہے۔ یہ دونوں
رفیك احمد نمش کے للم کا نتیجہ ہیں۔ عمیدت احترم
اور آلا کریم سے محبت' اپنی جگہ لسانیاتی اعتبار
سے بھی' یہ دونوں للم پارے کچھ کم نہیں ہیں۔ نمونہ
کا فمط ایک شعر ملاحظہ ہو۔ اس ایک شعرسے' اندازہ
ہو جاتا ہے کہ وہ زبان پر کس سطع کی دسترس
رکھتے تھے۔
اسی کی ذات ہے ہر طرح سے تملید کے لابل
کہ وہ محفل نشیں بھی ہے وہی خلوت گزیں بھی ہے
تکرار حرفی و تکرار لفظی کے ساتھ دو مرکبات'
مصرع ثانی میں دو ہم صوت لفظوں کا استعمال' جب
کہ صنعت تضاد کا کمال خوبی سے استعمال کیا گیا۔
صرف اس ایک شعر سے' اس امر کا باخوبی اندازہ
کیا جا سکتا ہے' کہ مرحوم اردو زبان اور اس کی
جڑوں سے کتنا اور کس لدر لریب تھے۔
پہلا حصہ رفیك احمد نمش کی حیات اور یادوں سے
متعلك ہے۔ اس میں ڈاکٹر ذوالفمار علی دانش سمیت'
اکتیس جید اہل للم کی تحریریں شامل ہیں۔ انہیں پڑھ
کر' رفیك احمد نمش کی حیات اور عادات و اطوار سے
متعلك' بہت سی معلومات' دستیات ہو سکتی ہیں۔ ان
تحریروں کی حصولی' جمع بندی اور ترتیب کے لیے
انہوں نے' بلاشبہ بڑی محنت اور خلوص نیتی سے
کام لیا ہے۔ اس حوالہ سے' ان کی تحسین نہ کرنا
زیادتی کے مترادف ہو گا۔ چند اک التباس باطور نمونہ
ملاحظہ ہوں۔ ان مختصر ٹکڑوں کے مطالعہ سے'
رفیك نمش کی شخصیت کے بہت سے پہلو' بلاتکلف
اور لگی لپٹی سے بالا سامنے آ جائیں گے۔
رفیك احمد نمش نے
پندرہ مارچ 1959کو میرپور خاص میں جنم لیا۔
ص13 :
اردو زبان و ادب اور ہماری اعلا الدار کا یہ روشن
ستارہ اپنی روشنی سے لوگوں کےللوب واذہان منور
کرکے 15مئی 2013کو دائمی ابر آلودگی میں چھپ
گیا۔ ص16 :
اردو ادب کے حوالے سے رفیك نمش کا بیش تر کام
شاعری' ترجمے' تنمیدی و تحمیمی مضامین' فنی
تدوین اور ادارت سے متعلك ہے۔
سوانح نمش پر ایک نظر از ڈاکٹر ذوالفمار علی دانش
ص 16
وہ بڑے صاف گو بلکہ منہ پھٹ آدمی تھے۔ لگی لپٹی
ہرگز نہیں رکھتے تھے۔ زمانہ سازی انہیں ہرگز نہیں
آتی تھی۔
رفتید ولے نہ از دل ما از ڈاکٹر یونس حسنی ص17:
سوال :رفیك نمش کی موت کے بعد آپ کیا محسوس
کرتے ہیں۔
جواب :اردو کا بہت بڑا نمصان ہوا ہے۔ لوگوں کو اس
کا احساس نہیں ہے۔ یہ میں جانتا ہوں۔ وہ لسانیات کے
آدمی تھے۔ مجھے جب کسی لفظ کے بارے میں معلوم
کرنا ہوتا تو میں فون کرکے پوچھتا تھا کہ استاد یہ
لفظ کس طرح ہے۔ وہ بتا دیا کرتے تھے۔
شکیل عادل زادہ سے گفتگو' ڈاکٹر ذوالفمار علی دانش
ص23 :
رات گئے اچانک کوئی خیال آتا یا کسی کتاب کا سراغ
ملتا تو ان حضرات سے بلاتکلف تبادلہءخیال کرتا اور
کبھی ان کے لہجے میں ناگواری کا تاثر محسوس نہیں
ہوا۔
دو درویش از سید جامعی ص29 :
وہ اکثر اتوار کو ریگل اور فریئر بال پرانی کتابیں
خریدنے کے لیے جاتے تھے۔ کتابوں سے انھیں
جنون کی حد تک شوق تھا۔ ان کی ذاتی لائبریری میں
دس ہزار سے زیادہ کتابیں اور رسالے ہیں۔
رفیك احمد نمش ازایک منفرد شخص ص35:
اپنے رفیك نے تمام عمر' اپنی انوکھی' منفرد اور
یکتا وسیع شخصیت کو جس لفظ میں لید کرنے پر
صرف کر دی' وہ لفظ تھا اصول۔
رفتید ولے نہ از دل ما از یعموب خاور ص38:
رفیك احمد نمش کتابوں کا تحفہ دینے کے معاملہ میں
بڑے فراخ دل تھے۔ وہ اپنے دوستوں کو ادب میں ہر
ولت فعال دیکھنا پسند کرتے تھے۔
کاغذی ہے پیرہن از بشیر عنوان ص55:
رفیك فل کمٹ منٹ کے آدمی تھے۔ ایک اچھے طالب
علم اور ایک اچھے استاد' وہ ناصرف اپنی تدریسی
ذمہ داریاں بڑی تن دہی سے نبھاتے بلکہ استادوں کی
فلاح کے لیے کام کرنے والی تنظیموں سے بھرپور
تعاون کرتے۔
رفیموں کے رفیك' رفیك احمد نمش از کرن سنکھ
ص61 :
میں نے اپنی ساری زندگی میں صاف گوئی میں رفیك
کا کوئی ہم سر نہیں دیکھا۔ برجستگی اس کے وسیع
مطالعے کی مرہون منت تھی' جب کہ حك گوئی اس
کے سچ اور صرف سچ پر مکمل ایمان کا ثبوت تھی۔
رفیك احمد نمش کی صاف گوئی اور برجستگی از
ڈاکٹر نصیر احمد ناصر ص63:
رفیك کی زندگی میں جتنی بھی عورتیں آئیں وہ یا تو
خوش فہم تھیں یا غلط فہمی کا شکار ہوئیں۔ رفیك نے
اگر کسی سے اچھا برتاؤ کیا تو غلط معنی اخذ کر لینا
یمینا بےولوفی تھی اور ہے۔ جس طرح میری کوئی
بھی بات رفیك سے پوشیدہ نہ تھی' اسی طرح انہوں
نے ہر چھوٹی بڑی بات سےباخبر رکھا۔ یہ رفیك کی
عظمت تھی کہ انھوں نے کبھی میری بڑی سے بڑی
بھول پر بھی مجھے طعنہ نہ دیا' نہ خود سے دور
رکھا۔ آفرین ہے اس شخص پر' بہت بڑے حوصلے
والا تھا۔
ہر چند کہیں کہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ از زکیہ سلطانہ ص73:
مسلسل مطالعہ' علم کی پیاس' دوسروں کو علم بانٹنا.
اصول پسندی اور اجتماعی سماجی خدمت جیسی
خوبیوں نے رفیك احمد نمش کو علم و ادب کا حمیمی
استاد بنا دیا تھا۔
میرا دوست رفیك احمد نمش از احمد سعید لائم خانی
ص77 :
وہ بےلوث' پرخلوص اور ہم درد انسان تھے۔ وہ
حمیمی طور پر مولوی عبدالحك کے جانشین نہیں تو
اس کارواں کے ایک فرد ضرور تھے۔
کچھ یادیں از ڈاکٹر ممتاز عمر ص81:
بلیک بورڈ پر روزانہ بہت خوب صورت' اشعار لکھا
کرتا تھا۔ اس کی لکھائی بھی بہت خوب صورت تھی۔
وہ اکثر میرپور خاص سے حیدرآباد آتا تھا اور سارے
رستے کچھ ناکچھ پڑھتا ہوا ہی آتا تھا۔ کتاب سے اس
کی محبت کا اندازہ مجھے اس ولت ہو گیا تھا۔ وہ
ہمارا جونیر تھا۔
ماضی کے جھروکے از عفت بانو ص82:
رفیك احمد نمش سے بہت سی باتوں پر اختلاف ہونا
ممکن ہے۔ ان سے کچھ شکایتوں کا ہونا سمجھ میں
آتا ہے۔ ان سے ناراض ہونے کی کئی وجوہ میں یمینا
معمولیت ہے' لیکن ان سب کے باوجود ہم اس لیے ان
کی لدر کرتے ہیں' ان کا ذکر کرتے ہیں' ان کی مثال
دیتے ہیں کہ وہ کئی روائتوں کے امین تھے۔ انھوں
نے ان کی خدمت کی' ان کی حفاظت کی ہے۔ ان کے
ولار کے لیے لربانیاں دی ہیں۔ ان میں سے ایک
روایت پابندی ولت ہے۔
پاس دار از حسن غزالی ص17 :
نمش ایک کھلی کتاب تھے۔ جسے ہر شخص پڑھ سکتا
تھا۔ ایک چشمہءرواں تھے' جس سے ہر ایک بمدر
ظرف سیراب ہو سکتا تھا۔ وہ محبتوں کا سفیر تھا اور
شفمت' دریا دلی' سچائی خلوص اور ہم دردی اس کا
معتبر حوالہ تھیں۔
دل پہ نمش تری محبت کا نمش ہے از مجید ارشد ص:
116
میں نے رفیك نمش کو بس اس لدر سمجھا' آدمی کم
مشین تھے۔
دید و بازدید از سلیم البال ص91:
رفیك نمش ایک پرخلوص اور محبت بھرا دل رکھنے
والے انسان تھے' پھر ان کی علمی لابلیت نے ان کو
مزید معتبر بنا دیا۔
آہ! رفیك احمد نمش از افروزہ خضر ص92 :
رفیك بھائی ایک ایسے شخص کا نام ہے جو مسلسل
کسی نمطے' کسی علمی و ادبی اصطلاح' کوئی
سماجی پہلو' کسی شعر کی تفہیم اور اس لسم کے
معاملات میں غور و فکر کرتے دکھائی دیں گے۔ وہ ہر
ولت کچھ نہ کچھ سیکھنے سکھانے کی جستجو میں
رہتے تھے۔
دنیا ہے اک سرائے کہاں مستمل لیام از نوید سروش
ص95 :
رفیك صاحب طنزومزاح کا ایک خاص ذوق رکھتے
تھے۔ جب کبھی موڈ میں ہوتے تو خوب لطیفے
سناتے۔ انھینبےشمار لطائف از بر تھے۔ آپ جب
گفتگو کرتے تو محفل کشت زعفران بن جاتی۔ رنجیدہ
ہونا' ان کے ہاں ممنوع تھا' وہ کسی کو دکھی
نہیندیکھ سکتے تھے۔ ہر کسی کے مسلے کو اپنا
مسگہ سمجھتے اور ہر ممکن مدد کرتے۔
سب کا رفیك از صابر عدنانی ص125 :
وہ کہا کرتے تھے کہ ہمیں حتی الممدور کوشش کرنی
چاہیے کہ اردو بولیں تو تمام گفتگو اردو ہی میں ہو
۔ انگریزی کے غیر ضروری الفاظ کے استعمال سے
احتزاز کریں۔ اسی طرح اگر انگریزی میں بات کی جا
رہی ہو تو پھر تمام گفتگو انگریزی ہی میں ہو۔ آدھا
تیتر آدھا بٹیر والی بات نہ ہو۔
رفیك اردو۔۔۔۔ رفیك نمش از شکیل احمد بھوج ص:
132 '131
انھوں نے تادم مرگ طبماتی فرق کو نہ صرف رد کیا
بلکہ اس کا عملی ثبوت بھی فراہم کیا۔
رفیك احمد نمش; چند تآثرات از عابد علی ص137:
رفیك احمد نمش کی زندگی کے کئی پہلو تھے۔ مراسم
کا خیال رکھنے والے' روایت پرست اور مذہب کی اعلا
روایات کا پاس رکھنے والے۔
کچھ یادیں نمش ہیں از عزیز احمد ص140:
وہ جس انداز سے علم کو فروغ دے رہے تھے' کسی
کو کتب فراہم کر رہے ہیں' کسی کو کتابوں کی فوٹو
کاپی کرا کے علمی معاونت کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا تھا
کہ علم و ادب کے ڈسٹری بیوٹر ہیں۔
عظیم محسن از رئیسہ شریف ص142:
ان کی ایک ملالات والعتا ڈھیروں کتابیں پڑھنے کے
مترادف تھی۔
ایک نمش خاص از عازم رحمان ص144 :
بھائی جان کم عمری میں مذہبی بھی رہے۔ وہ پانچ
ولت کی نہ صرف نماز پڑھتے تھے بلکہ مسجد میں
ازان بھی دینے جاتے اورتبلیغی جماعت کے مرکز بھی
جاتے۔
بچپن کی کچھ یادیں از رشیدہ ص146:
کتاب کے دوسرے حصہ میں
منظوم خراج عمیدت کے نام سے' آٹھ شعری
منظومات ہیں۔ ہر کسی نے انہیں ان کی شخصیت اور
ان کی علمی و ادبی خدمات کو خراج عمیدت پیش کیا
ہے۔ یہ منظومات' ممفی آزاد اور نثری ہیں۔ یہ
منظومات رسمی نہیں ہیں۔ ان میں شاعر کی محبت'
عمیدت' شخصی تعلك اور مرحوم کی شخصیت سے
متعلك' کوئی ناکوئی پہلو ضرور موجود ہے۔ ان
منظومات کو لکھوانے اور ان کی جمع بندی میں'
ڈاکٹر ذوالفمار علی دانش نے بڑے تردد سے کام لیا
ہوگا۔ دو تین نمونے ملاحظہ فرمائیں۔
وہ گیا ایسا کہ سارے گھر کو سونا کر گیا
پیاسی آنکھوں کو وہ دے کے ہائے چشم تر گیا
لطعہ تاریخ شاعر مختار اجمیری ص147:
بےساختگی' ورفتگی اور مرحوم سے للبی تعلك' اس
شعر پارے کا خصوصی وصف ہے۔ گنتی میں یہ شعر
فمط نو ہیں لیکن کہے میں' سیکڑوں صفحات پر محیط
ہیں۔ معنوی حسن' اپنی جگہ لسانیاتی حظ بھی کمال کا
ہے۔
ماہر اجمیری کا یہ شعر دیکھیں' کس کمال اور
ہنرمندی سے مرحوم کی شخصیت کے' اہم ترین پہلو
کو واضح کر رہا ہے۔
میں کیا بتاؤں تمہیں کس لدر خلیك تھا وہ
رفیك نام تھا ہر شخص کا رفیك تھا وہ
خوشبو کی نظم۔۔۔۔۔۔۔ ایک عام آدمی کی موت۔۔۔۔۔۔ کی یہ
سطور درد' کرب اور ارضی الامت کی گرہ کھول رہی
ہیں۔
کبھی اس آس میں
کہ ایک دن وہ لمحہ آئے گا
جب وہ دنیا بھر کے جھمیلوں سے نجات پا کر
اپنی ایک نئی دنیا بسائے گا
اس کی یہ خواہش اس ولت پوری ہوتی ہے
جب تمام امیدیں دم توڑ جاتی ہیں
اور عام آدمی
خاص و عام کی تخصیص سے ماورا ہو جاتا ہ .ے.....
ص160 :
اس سے اگلا حصہ نگارشات نمش سے متعلك ہے۔
اس میں شعر و نثر سے متعلك مرحوم کی کاوش ہا
فکر درج کی گئی ہیں۔ شاعری میں
غزلیں 13
چو مصرعے یعنی لطعات 6
رباعی 1
شعر 1
آزاد نظمیں 2
شامل کتاب ہیں۔ ان کی شاعری' فکری و فنی اعتبار
سے' ان کی شخصیت اور عصری سماجی رویوں کی
عکاس ہے۔ ہاں البتہ ان کی شعری زبان کا رویہ اور
لوازمات شعر روایت سے لدرے ہٹ کر ہیں۔
ایک غزل چھے لفظی ردیف پر استوار ہے۔ غزل کا
مطلع دیکھیے۔
ہر سانس ہے کراہ مگر تم کو اس سے کیا
ہو زندگی تباہ مگر تم کو اس سے کیا
پرلطف بات یہ ہے کہ لافیہ اور ردیف کا آخری لفظ
فطری طور پر اور حسب ضرورت ہم صوت ہے۔ اس
سے غنا اور نغمیت میں ہرچند اضافہ ہوا ہے۔
ایک غزل کا ردیف پانچ لفظی ہے۔ اس میں پہلی
صورت حال نہیں ہے۔ لافیہ اور ردیف کا آخری لفظ ہم
صوت نہیں ہیں۔ مطلع ملاحظہ ہو۔
آمد فصل گل پر ہوائے طرب ناک چلنے لگی' تیری یاد
آ گئی
دھیرے دھیرے فضائے جہاں اپنی رنگت بدلنے لگی'
تیری یاد آ گئی
پہلی غزل کا ردیف چہار لفظی اور ہی کچھ تھے' ہے۔
اس سے آہنگ اور غنا کا الگ سے ذائمہ میسر آتا
ہے۔ باطور نمونہ فمط ایک شعر ملاحظہ فرمائیں۔
رفتہ رفتہ ہر اک گھاؤ بھر جاتا ہے
پہلے پہل ہم تجھ سے بچھڑ کر اور ہی کچھ تھے
اس کے علاوہ ایک غزل چولفظی جب کہ دو غزلیں
سہ لفظی ردیف رکھتی ہیں۔
تکرار لفظی کے ساتھ ساتھ صنعت تضاد کا استعمال
ملاحظہ فرمائیں۔
سینے میں تھا درد مگر ہونٹوں پہ تبسم
باہر ہم کچھ اور تھے اندر اور ہی کچھ تھے
لفظ ہی تدبر کا متماضی ہے۔
اب ذرا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں۔
جس کے سخن میں زہر سے زائد ہیں تلخیاں
اس کے لبوں میں شہد سے بڑھ کر مٹھاس تھی
دونوں مصرعوں کا' ہم صوت الفاظ سے آغاز ہوا ہے۔
لفظوں کی حسین ترتیب اور پرذائمہ استعما 'ل بصیرتی
اور بصارتی حظ میسر کرتا ہے۔
متعلك الفاظ
پہلا مصرع سخن
دوسرا مصرع لبوں
مترادف الفاظ
زائد پہلا مصرع
بڑھ کر دوسرا مصرع
متضاد الفاظ
پہلا مصرع زہر
دوسرا مصرع شہد
زہر ہلاکت کے ساتھ ساتھ کڑواہٹ کے لیے بھی عرف
میں ہے۔
تلخیاں پہلا مصرع
دوسرا مصرع مٹھاس
سوچتا ہوں میں' یہاں سے کہ یہاں سے پہلے
اس مصرع میں' صنعت تکرار لفظی کا استعمال نمش
کی زبان پر گرفت کو' واضح کر رہا ہے۔ فصاحت اور
بلاغت پر' کہیں ٹیڑھ پن طاری نہیں ہوتا۔ اس سے غنا
اور نغمیت میں اضافہ یوا ہے۔ تذبذب سوچ کے دائروں
کو وسیع کر دیتا ہے۔
سوچتا ہوں میں'
یہاں سے
کہ یہاں سے پہلے
تفہیم کی ذیل میں' لاری جہاں لفظوں کی مہک سے
لطف اٹھاتا ہے' وہاں وحدت تاثر' اس کے سوچ کو
رائی بھر ادھر نہیں ہونے دیتا۔ دوسرا مصرع اشتیاق
پیدا کرنے کے ساتھ تذبذب کی گھتی بھی کھولتا ہے۔
داستاں اپنی سناؤں تو کہاں سے پہلے
پہلے مصرعے میں یہاں' جب کہ دوسرے میں کہاں
کے استعمال سے کیفیتی حظ میسر آتا ہے۔ بلاشبہ داد
سے بالاتر زبان کے پڑھنے کا اتفاق ہوتا ہے۔
اب دو بصارتی اطوار ملاحظہ فرمائیں
کبھی رو بہ رو کبھی خواب میں دیکھنا
دیکھنا
کبھی رو بہ رو
کبھی خواب میں
دونوں مصرعوں میں کبھی کی تکرا 'ر جاری سلسلے
کو واضح کرتی ہے۔ گویا سکوت یا ٹھہراؤ کی صورت
پیدا نہیں ہوتی۔
سرخ ہونٹوں کے اثر کو ترسوں
اثر کے تناظر میں' لمس سے متعلك یہ مصرع ملاحظہ
فرمائیں۔ مرکب سرخ ہونٹ بصارتی وارفتگی کو بڑھاوا
دیتا ہے۔
اب ان کے چند مختلف نوعیت کے مرکبات ملاحظہ
فرمائیں۔
رفتہ رفتہ
پہلے پہل
خوش بو کا ذائمہ
سوچ کے محور
الفاظ کی گرفت
ہونٹوں پہ تبسم
کھنڈر سا مکاں
کرب ذات
خواب نگر
نمش کی نظم تشنگی پر ایک نظر ڈالیں
تیری یاد اک بادل ہے
پر بادل سے
کب پیاس بجھی
پیاس کی ماری دھرتی تو بس
بارش کی
بوچھاڑیں مانگے
میرا دل بھی
پیاسی دھرتی
ساون بن کر آ جاؤ نا!
تشبہی طور دیکھیے
تیری یاد :اک بادل ہے
میرا دل بھی :پیاسی دھرتی
ممثالتی طور دیکھیے
دھرتی
دل
دھرتی :پیاس کی ماری
دل :پیاسی دھرتی
مطلوب
دھرتی :بارش کی بوچھاڑیں مانگے
دل :ساون مانگے
متعلك لفظوں کا استعمال دیکھیے
بادل :بارش
دل :یاد
آخری سطر گیت کا طور لیے ہوئے ہے۔
ساون بن کر آ جاؤ نا!
پوری نظم پر ورفتگی کی کیفیت طاری ہے اور سماعی
حظ میسر کرتی ہے۔
خیر اور سکھ کی فراہمی' اتنا آسان کام نہیں۔ نمش کے
ہاں اس امر کا اظہار کمال کی شیفتگی رکھتا ہے۔
جو بھی سایہ مہیا کرتا ہے نمش
جھیلنی پڑتی ہے اس کو کڑی دھوپ
لربانی
بعض شعر تو' ورفتگی اور بےساختگی میں اپنا جواب
نہیں رکھتے۔ بےساختہ منہ سے واہ واہ نکل جاتا ہے۔
مثلا
پیڑوں کو کاٹنے سے پہلے خیال رکھنا
شاخوں پہ کوئی غنچہ حیران رہ نہ جائے
لفظ حیران کو مستعمل معنوں سے ہٹ کر لیا گیا۔
مرے کچے مکان کو نمش' ڈھا کر
ہوائے شہر اب کس لہر میں ہے
لہر کی تفہیم سٹریٹ کے بول چال کے مطابك لی
جائے۔ معاملہ بھی سٹریٹ کا ہے۔
اب ذرا یہ دو شعر ملاحظہ فرمائیں
سندر لڑکی
یوں تو خاموش ہی رہتی ہے وہ سندر لڑکی
سخنور لڑکی
بات کرنے میں نہیں اس سی سخنور لڑکی
اس کے دل میں بھی کبھی نمش محبت جاگے
پتھر لڑکی
موم ہو جائے کسی روز وہ پتھر لڑکی
لڑکی ایک' تین صفتی لاحمے استعمال ہوئے ہیں۔
نثر میں' دیوان غالب کے نسخہء خواجہ سے متعلك'
چار تنمیدی مضمون شامل ہیں۔ جن کے عنوان کچھ
یوں ہیں۔
غالب اور جعل سازی
نسخہءخواجہ یا نسخہ لاہور
ضمیر کی خلش
تفو بر تو اے چرخ گرداں۔۔۔۔۔۔
یہ مسلہ متنازعہ تھا اور آج بھی ہے۔ میں نے بھی
اس موضوع پر کچھ لکھا تھا' یاد نہیں کہاں شائع ہوا۔
اصل مسلہ نسخہءخواجہ یا نسخہ لاہور نہیں' کوئی اور
تھا۔
اس کے بعد کچھ مختصر تحریریں اداریے اور ابتدایے
وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے بعد نمش کے فارسی'
انگریزی' سندھی اور پنجابی نظموں کے کچھ ترجمے
شامل کیے گیے ہیں۔ ایک نظم شاعر کی موت کے
عنوان سے شامل ہے۔ اسے دیوناگری سے اردو لیپی
میں منتمل کیا گیا ہے۔ خدا لگتی تو یہ ہی ہ 'ے کہ یہ
تراجم صاف' سادہ' واضح' سلیس اور شعری لوازم
سے مالا مال ہیں۔ ان پر طبع زاد ہونے کا گمان گزرتا
ہے۔ باطور نمونہ فمط ایک نظم ملاحظہ ہو۔
کھڑکی کھلی
کھڑکی بند ہوئی
'ہوا
ہوائے دل پذیر تھی
مگر میرا لدیم دل کہاں گیا
شاعر :محمد زہری
انگریزی' سندھی پنجابی اور سرائیکی سے چار
افسانوں کے اردو ترجمے کیے ہیں۔ رما کانت کے
ایک افسانے کو دیوناگری سے اردو رسم الخط میں
منتمل کیا ہے۔ تراجم کو پڑھ کر' اندازہ ہوتا ہے کہ
مرحوم کو' ناصرف اردو زبان پر لدرت حاصل تھی بل
کہ دیگر زبانوں یعنی فارسی' انگریزی' سندھی' پنجابی
اور سرائیکی پر بھی گرفت رکھتے تھے۔ اسی طرح وہ
دیوناگری رسم الخط کو' اس کی باریکیوں کے ساتھ
جانتے تھے۔ ان کے یہ تراجم' زیب سماعت و بصارت
ہیں۔ اسی طرح' انتخاب میں بھی ملکہ رکھتے تھے۔
اس امر سے باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے' کہ نمش
مرحوم کا ذوق کیسا اور کس نوعیت کا تھا۔ باطور
نمونہ اور ان کی اردو پنجابی پر گرفت کے حوالہ
سے' بیدی کے پچیس سطری پنجابی افسانے کی چند
چنیدہ سطریں ملاحظہ فرمائیں:
لڑکی نے اپنی نظریں نیچی کر لیں اور اپنے ابرو' اپنی
ہی پلکوں کی پرچھائیوں میں مسکراتی ہوئی ہنسی۔۔۔۔۔
اندر ہی اندر گٹکتی رہی۔
ہوں' لڑکے نے سوچا اور چلا گیا
یہ ترسی ہوئی دھرتی' وہ ساون کا بادل۔۔۔۔۔ اور
بہاروں کی فضا۔۔۔۔۔
..............
لڑکی کے ماتھے پر سات بل پڑے ہوئے تھے۔ لڑکے
نے اسے دوسروں کی طرح ہی نک چڑھی' مغرور
سی لڑکی سمجھا اور چلا گیا۔
حالاں کہ بات صرف اتنی سی تھی۔
تو نے پہلے کیوں نہ مجھے بلایا
وہ ازل سے اکیلی۔۔۔۔۔ وہ ابد تک اداس ۔۔۔۔۔
اور سامنے کچھ بچے کھیل رہے تھے۔
افسانہ ۔۔۔۔۔۔ بہانہ ص 232 '231
ایک انگریزی اور ایک سندھی مضمون کا ترجمہ'
کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ دونوں مضمون بڑے کام
کے ہیں۔ پہلا مضمون لرتہ العین حیدر کے ناول ۔۔۔۔۔
چاندنی بیگم ۔۔۔۔۔ سے متعلك ہے۔ بڑا اچھا اور
غیرجانبدارنہ لسم کا مضمون ہے۔ دوسرا مضمون ۔۔۔۔۔
آزاد کشمیر کی زبانیں۔۔۔۔۔ مختصر مختصر ہوتے' اپنے
عنوان کے تعارف کے ضمن میں کامیاب اور کارکشا
ہے۔ ہر دو مضامین' کی زبان ترجمہ کی زبآن نہیں ہے۔
براہ راست تحمیك و تنمید کی زبان ہے۔ کہیں ناہمواری
اور ابہامی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ یہ امر نمش مرحوم
کی' ہر سہ زبانوں پر گرفت کا غماز ہے۔ گویا وہ جہاں
اچھے شاعر اچھے نثار ہیں' وہاں شعر و نثر کے
اچھے مترجم بھی تھے۔
پانچ اہل للم کے نام لکھے گیے خطوط بھی کتاب کا
حصہ بنائے گیے ہیں۔
بشیر عنوان کے نام سات خط
یعموب خاور کے نام چار خط
لاسم رحمان کے نام دو خط
حسن منظر کے نام ایک خط
ذوالفمار دانش کے نام ایک خط
گویا تعداد کے اعتبار سے یہ کل پندر خط ہیں۔ ڈاکٹر
ذوالفمار دانش کے نام خط کی عکسی نمل پیش کی
گئی ہے۔ خطوط میں' بےتکلفی' برجستگی اور والہانہ
پن پایا جاتا ہے۔ یہ خطوط ادبی حوالہ سے بھی کمال
کے ہیں۔ باطور نمونہ دو ایک مثالیں پیش ہیں۔
کہتے ہیں کہ کسی کی لدر مرنے کے بعد ہوتی ہے اور
یا چلے جانے کے بعد۔ اب مجھے احساس ہوا کہ
دونوں صورتوں کے علاوہ ایک تیسری صورت بھی
ہے' جس کے ظہور پذیر ہونے کے بعد کسی کی لدر و
لیمت کا احساس ہوتا ہے اور وہ صورت ہے جدائی
کی! عارضی نہیں طویل جدائی کی۔
خط رفیك نمش بنام بشیر عنوان ص251:
اچھا اب والعی خدا حافظ
خط رفیك نمش بنام بشیر عنوان ص252:
کشمیری صورتوں کو گلاب کے بجائے آم سے تشبیہ
دینے پر میں تم پر لکھ واری لعنت بھیجتا ہوں۔
بابا ہمیں تو یہ نظر آتی ہیں روٹیاں! ایک بار پھر
لعنت
خط رفیك نمش بنام یعموب خاور ص272 :
روٹی جب تک میسر ہے' اس ولت تک نئی باتیں
سوجھتی ہیں اور جب روٹی کا حصول مشکل ہو جائے
تو حصول نان جویں ہی واحد مسلہ رہ جاتا ہے۔ اس
مولع پر عشك وشك سب دل و دماغ سے محو ہو
جاتے ہیں۔ غالبا شیخ سعدی نےاس تجربے کو بیان
کیا ہے۔
چناں لحط سالی شد اندر دمشك
کہ یاراں فراموش کر دند
خط رفیك نمش بنام لاسم رحمان ص276 :
رائٹ برادران کا بنایا ہوا ہوائی جہاز آج کے جدید
طیاروں کے ممابلے میں بچوں کا کھلونا معلوم ہوتا
ہے تاہم یہ بھی حمیمت ہے کہ اس ہوائی جہاد کے
وجود میں آئے بغیر موجودہ طیاروں کا وجود میں آنا
ممکن نہیں تھا۔
خط رفیك نمش بنام ذوالفمار دانش ص280 :
کتاب کے آخر میں ۔۔۔۔۔ تیرے فن میں حسن کےاعلا
ہیں نمش۔۔۔۔ کے عنوان سے نو تحریریں شامل کتاب
کی گئی ہیں۔ ان میں ایک ڈاکٹر انورسدید کا خط بنام
رفیك احمد نمش ہے۔ خط کے دو جملے درج ہیں۔
مستعمل میں بدل گڑبڑی کا باعث بنتا ہے دوسرا گلی
اسے لبول نہیں کرتی ہے۔ للفی عرف میں ہے اس
لیے لفلی لبولیت کی سند نہ پا سکے گا۔ خیر یہ دو
جملے دیکھیے۔
ایک ذاتی گزارش یہ ہے کہ میرا نام انور سدید معرف
ہے لیکن آپ اسے نئے اصول و ضوابط کے تحت
سدید انور درج فرماتے ہیں۔ درخواست ہے کہ اسے
انور سدید ہی درج کیجیے۔
خط انور سدید بنام رفیك احمد نمش ص283:
بالی آٹھ تحریریں ان کے فن سے متعلك ہیں۔
ان کی شاعری کے بارے پروفیسر انوار احمد زئی کا
کہنا ہے۔
رفیك نمش باطور شاعر
رفیك نمش کے شاعرانہ نموش میں محاکات اور تماثیل
کے ساتھ منظرنامے بھی ایسے مصور ملتے ہیں کہ
ان کی شاعری' فکری گیلری اور شعری تصویر خانہ
معلوم ہوتی ہے۔ میرے نزدیک ولت کے نئے پن کے
مضمون کے بعد' تشبیہ و تمثیل کا اچھوتا اور نیا پن'
رفیك نمش کی شاعری کا دوسرا بڑا کمال ہے۔
نمش آئینہءمسرت میں از روفیسر انوار احمد زئی ص:
285
رفیك احمد نمش اور ترجمہ نگاری
رفیك احمد نمش طبعا کاملیت پسند تھے۔ وہ جو بھی
کام کرتے' پوری ذمہ داری سے کرتے تھے' یہی
خوبی ان کے تراجم میں بھی نمایاں ہے .وہ ترجمے
کے فن کو لدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ان فن
کو حمیر سمجھنے والی سوچ کے سخت خلاف تھے۔
رفیك احمد نمش ترجمے کے فن کے افادی اہمیت کے
لائل تھے۔
رفیك احمد نمش بہ حیثیت مترجم ازبشیر عنوان ص:
302
رفیك احمد نمش کا طور تنمید
رفیك نمش دھیمے' پراثر مگر انتہائی جرآت مندی کے
ساتھ تنمید کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ان کی
بےباکی کسی ظاہری عہدے یا بڑےپن سے خائف نظر
نہیں آتی' مگر وہ عزت و احترام کو ہاتھ سے نہیں
جانے دیتے۔ پہلے کسی معاملے کے اصل پہلو کو
اجاگر کرتے ہیں' پھر جزئیات کے سہارے اسے
ابھارتے ہیں۔ جہاں کہیں غلطی کا احتمال ہوتا ہے
دست نشان دہی کرتے ہیں۔
رفیك احمد نمش کا تنمیدی شعور از ڈاکٹر ممتاز عمر
ص314 :
رفیك احمد نمش اور اردو املا
املا کےحوالے سے رفیك نمش کا زیادہ تر زور اس
بات پر رہا ہے کہ جو بولو' وہی لکھو۔ لکھاوٹ میں
تلفظ کی تملید ان کے لیے لازمی تھی۔
رفیك احمد نمش اور اردو املا از انصار احمد شیخ
ص331 :
رفیك احمد نمش کا تحمیمی مزاج
رفیك نمش پوری یک سوئی سے تحمیك کی جانب
راغب نہیں ہو سکے' وہ اس شعبے کو اپنانا چاہتے
تھے اور اردو ادب کی کئی حمیمتوں سے پردہ کشائی
کرنے کے خواہاں تھے مگر موت کی حمیمت نے ایک