The words you are searching are inside this book. To get more targeted content, please make full-text search by clicking here.
Discover the best professional documents and content resources in AnyFlip Document Base.
Search
Published by , 2016-02-23 22:33:11

abar_e_rahmat

abar_e_rahmat

‫منع گوشت کھانا بھائی دا‬
‫بھائی دا گوشت کھان تھیں مراد کسے آدمی دی‬

‫چغلی بخیلی کرنا ہوندی اے۔‬
‫ص ‪118‬‬

‫اول جان اسلم تے قائم ہونا فطرت جان اسلم‬
‫انسان پیارے‬

‫فطرتہ ا التی فطرالناس علیہا ل تبدیل لکلمتہ ا‬
‫انسان ا ہی کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور ا کی‬
‫باتیں تبدیل نہیں ہوا کرتیں ۔۔۔۔قرآن مجید ۔۔۔۔۔۔ کل‬
‫مولود یولد علی فطرتہ فابواہ یھودایہ اوینصرنہ او‬
‫یہجنسادنہ ہر ایک انسان اپنی فطرت پر پیدا ہوتا‬
‫ہے ۔۔۔۔۔جو ا نے بنا دی اور وہ اسلم ہے کیونکہ‬
‫دنیا کا سب سے پہل انسان ۔۔۔۔۔آدم علیہ السلم۔۔۔۔۔‬
‫مسلمان پیدا کیا اور اس کے بعد کل بنی نوع اپنے‬
‫قدیمی والد۔۔۔۔ آدم ۔۔۔۔۔ کی اولد کہلتے ہیں چونکہ‬
‫آدم علیہ السلم کی فطرت اسلم تھی اس لیے ہر‬
‫ایک پیدا ہونے وال آدم کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔‬

‫اس کے بعد اوس کے والدین اس کو یہودی یا‬
‫نصاری بنا دیتے ہیں۔‬

‫سب سے پہلے ا تبارک تعالی نے آدم علیہ‬

‫السلم کو اپنی قدرت کاملہ سے پیدا کیا۔ باقی بنی‬
‫نوع انسان آدم کی اولد کہتے ہیں چونکہ آدم علیہ‬
‫السلم کو ا نے اپنی فطرت پر پیدا کیا تھا اس‬

‫لئے آدم کی فطرت ا ہی کی فطرت ہے اور‬
‫چونکہ ا کی فطرت اسلم ہے اس لئے آدم کی‬
‫فطرت بھی اسلم ہی ہو سکتی ہے چونکہ ہر پیدا‬
‫ہونے والے کی فطرت اول اسلم ہی ہوتی ہے اسی‬
‫لئے وہ پہلے پہل گناہوں سے پاک و صاف کہلتا‬
‫ہے۔ پھ ہوش آنے کے بعد مجلسی فطرت اس میں‬
‫آتی ہے۔ یا تو وہ یہودی بن جاتا ہے۔ یا دہریا۔ یا‬

‫ہندو وغیرہ‬
‫ص‪129‬‬

‫اک امی یتیم تے جنگل دا واسی کیتا نظر‬
‫منظورسرکار پیارے‬

‫امی ناخواندے آدمی کو بھی کہتے ہیں۔ مگر عام‬
‫طور پر یہ لفظ نبی کریم صلی ا علیہ وسلم کے‬
‫متعلق مشہور ہے۔ نیز نبی کریم صلی ا علیہ‬
‫وسلم کو امی اس لئے بھی کہتے ہیں کہ آپ مکہ‬
‫شریف کے رہنے والے ہیں اور مکہ مکرمہ کو ام‬
‫القری بھی کہتے ہیں۔ قری پنڈ کو کہا جاتا ہے۔ یا‬

‫تو یہ تمام پنڈوں اور گاؤں کی ماں ہے اور یا یہ‬
‫کہ حضرت فاطمتہ الزہرہ رضی ا عنہا چونکہ‬
‫تمام مومنین کی ماں ہیں اور آپ مکہ شریف کی‬
‫رہنے والی ہیں اس لئے مکہ کا نام ام القری ہو‬
‫گیا یعنی ماں کے رہنے وال گاؤں یا پنڈ اسی لحاظ‬
‫سے نبی عالم صلی ا علیہ وسلم کو امی کہا جاتا‬

‫ہے یعنی ام القری کے رہنے والے۔‬
‫ص‪131‬‬

‫واہ فقیرئے کرم بخشا اصلی بھید نؤں گئے چھپا‬
‫شاہا‬

‫کہتے ہیں کہ فقر تین حروف سے بنتا ہے ف ق‬
‫اور ر سے اور فقر کا دعوی میں تین اوصاف‬
‫ہونے ضروری ہیں۔ فقر وہ جو فاقہ کا عادی ہو۔‬
‫اگر کچھ کھانے کو مل گیا تو چند لقمےکھا لئے‬
‫ورنہ کسی کے آگے سوال نہ کرئے۔کیونکہ طاقت‬
‫اور ہمت ہوتے ہوئے جو آدمی سوال کرتا ہے‬
‫قیامت کے روز اس کے منہ پر گوشت نہ ہو گا‬
‫بلکہ مردے کی طرح ہڈیاں ہی ہونگی یہی سبب‬
‫ہے کہ گداگر خدا کے ہاں مقبول نہیں ہوتے۔ فقیر‬
‫کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ میری قسمت‬

‫بہرحال مجہکو مل کر ہی رہے گی اسی لئے وہ‬
‫دست سوال دراز نہیں کرتا ہر وقت ا کی یاد میں‬
‫مشغول رہتا ہے۔ اور ا ہی کے حکم کی تابعداری‬
‫اس کا پیشہ ہوتا ہے جب وہ ا کا ہو جاتا ہے تو‬
‫ا اس کا ہو جاتا ہے کیونکہ شیخ سعدی کا مقول‬

‫ہے کہ‬
‫تو ہم گردن از حکم دارد ہیچ کہ‬
‫گردن نہ پیچد ز حکم تو ہیچ‬
‫یعنی تو خدا کے حکم سے گردن نہ پھیر اور‬
‫کوتاہی نہ کر۔ اورتیرے حکموں سے کوئی‬
‫روگردانی نہیں کریگا۔ دیکھئے خلقت فقیر کی تابع‬
‫فرمان ہو گی جو ا کا تابع فرمان ہو گا۔ فقیر ا‬
‫کے فرمان کے ماتحت اور نبی کریم صلی ا علہ‬
‫وسلم کے نقش قدم پر چلتا ہے شریعت کا پابند‬
‫ہوتا ہے غیر شریعت باتوں سے دور رہتا‬
‫ہےبرعکس آجکل کے فقرا کے کہ نام کے فقیر‬
‫ہیں بھنگ وغیرہ پر بھیک مانگنے سے اور‬
‫بےہوش پڑے رہنے سے تعلق اور بس‬
‫فقر کے ق سے قناعت مراد ہے یعنی اگر مل گیا‬
‫تو الحمد ل اور اگر کئی دن تک نہ مل تو صبر‬
‫ہے اور جو مل اسی پر قناعت ہے۔ نہ ملنے پر‬

‫ذکر ربانی ہی ان کی غذا بنا رہتا ہے۔ دوکان دوکان‬
‫اور گھر کی خاک چھانے سے انہیں سخت نفرت‬

‫ہوتی ہے‬
‫فقر کا تیرا حرف ر ہے جس سے مراد ریاضت‬
‫ہے۔ یعنی اگر ا کی اپنی دی ہوئی نعمت سے کچھ‬
‫حصہ مل وہ کھایا اور ذکر میں مشغول ہو گئے یا‬

‫ا کی پیدا کی ہوئی مخلوق کے بگڑے کام‬
‫سنوارنے پر کمر باندھ لی اور جہاں کہیں کسی کا‬
‫کام بگڑتا دیکھا وہیں جا گھسے یا کسی کو کسی‬
‫مصیبت میں پھنسا دیکھا تو اس کے دوست بن‬
‫گئے اور اپنے ا کے فضل سے مصیبت کو ٹال‬
‫دیا۔ نہ تکیہ اور دارا کے فقیر کی طرح کہ مانگ‬
‫کر لئے کھایا اور خواب خرگوش میں پڑے ہیں‬
‫خوائے کوا آنکھ نکال کر لے جائے انہیں دنیا و‬
‫مافیہا کا کچھ پتہ نہیں۔ کھانا زندہ رہنے کیلئے ہے‬
‫اور زندہ رہنا ا کی عبادت کیلئے ہے نہ یہ کہ‬

‫کھانا صحت کیلئے اور صحت بھیک مانگنے‬
‫کیلئے۔‬

‫یہاں ایک اور سوال پیدا ہو گیا یعنی عبادت وما‬
‫خلقت الجن و النس ال لیعبدون یعنی ا نے آدمی‬
‫اور جنوں کو عبادت کے لئے پیدا ہے۔۔۔۔۔ یہاں یہ‬

‫ڈر لگتا ہے کہ کہیں مجھ پر وہابی یا لمذہبی کا‬
‫فتوی نہ لگ جائے ا تعالی محفوظ رکھے۔۔۔۔۔‬
‫نماز کا پڑھنا۔ روزہ کا رکھنا۔ حج کرنا۔ زکواتہ دینا‬
‫عبادت نہیں۔ بلکہ یہ احکام الہی فرضیت کا دعوی‬
‫رکھتے ہیں جو ان چیزوں سے روگردانی کرتا ہے‬
‫وہ کفر تک جا پہنچتا ہے جس کے لئے خدائی‬
‫جیل خانہ یعنی جہنم تیار ہے۔ عبادت اس چیز کا‬
‫نام ہے جس کیلئے ا تعالی نے تاکیدی حکم نہیں‬
‫دیا۔ نفل پڑھنا۔ غریب کی نگہداشت کرنا مخلوق خدا‬
‫کی ہمدردی۔ خلق۔ پنچگانہ کے علوہ نمازیں‬
‫پڑھنا۔ اپنے بچوں کی پرورش اس نیت سے کرنا۔‬
‫مسجد کی حفاظت و نگہدشت رکھنا۔ مسافروں کے‬
‫آرام کیلئے سرائے یا کنواں بنانا وغیرہ اس قسم‬
‫کے کاموں کا نام عبادت ہے وا اعلم بااصواب‬
‫سید محمد حسین شاہ مشتاق عرف شاہ جی کاتب‬

‫ص‪136‬‬

‫اپنا اٹھا نہ سکے ضامن بنے لوکائیدا‬
‫یہ غالبا امام مسجدوں کی طرف اشارہ ہے۔ کہ خود‬
‫تو بیچارے سراپا گناہوں سے بھرپور ہوتے ہیں‬

‫اور دوسروں کی وکالت کرنے کے لئے امام بن‬

‫جاتے ہیں۔ خود گناہ کرتے ہیں اور دوسرونکو‬
‫ہدایت کرتے ہیں۔ خود یتیموں کا مال کھاتے‬
‫ہیں ۔۔۔۔۔۔ اگر کوئی آدمی چھوٹے چھوٹے بچے‬
‫چھوڑ کر مر جائے تو بچے یتیم ہو گئے اور گھر‬
‫کی جائیداد میں ان کا حصہ ہوتا ہے۔ اور انکی ماں‬
‫یا ان کا کوئی بڑا بھائی اس مشترکہ جائیداد سے‬
‫تیسرے ساتے اور چالیسویں وغیرہ کرتے ہیں اس‬
‫طرح بڑوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے یتیموں کا حق‬
‫بھی جاتا ہے جسکو عام لوگ عموما اور ملں‬
‫لوگ خصوصا بڑے مزے اور دلچسپی سے ہضم‬
‫کر جاتے ہیں۔ اسمیں بعض عالم ربانی مستثنے‬
‫ہیں کہ وہ اس قسم کے مال کے نزدیک تک نہیں‬
‫جاتے۔۔۔۔۔۔ اور لوگوں کو اس سے منع کرتے ہیں۔‬
‫خود تو حرام کھانے ہیں۔۔۔۔۔ جوا کھیلنے والوں کی‬
‫کمائی حرام رشوت لینے والے کی کمائی حرام‬
‫شراب بیچنے والے بھنگ چرس وغیرہ بیچنے‬
‫والے کی کمائی حرام ہوتی ہے اور ملں لوگ ان‬
‫کے ہاں کا کھانا بغیر کسی ملل کے چٹ کر جاتے‬
‫ہیں اور حرام خور بن جاتے ہیں وغیرہ۔۔۔۔۔ اور‬
‫لوگوں کو حرام سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔‬
‫خود تو عیب جوئی اور بخیلی کرے میں ذرا شرم‬

‫نہیں کرتے لیکن عوام کو منع کرتے ہیں۔ ا تعالی‬
‫محفوظ رکھے‬

‫دوسرا اشارہ غالبا پیروں کی طرف ہے۔ یہاں‬
‫پیروں کا مختصر حال بیان کرنا بےجا نہ ہو گا۔ پیر‬

‫کے معنی ہیں پرہیزگار۔ پارسا اور بزرگ۔ لیکن‬
‫پنجاب میں جہاں کی آب و ہوا۔ تمدن۔ اخلق۔ ذہنیت۔‬

‫خیالت کچھ دوسری دنیا سے نرالے ہیں بعض‬
‫بعض الفاظ کے معنی بھی نرالے ہیں۔ یہاں پیر کے‬

‫معنی پیروں وال لئے جاتے ہیں جو سفر کرنے‬
‫وال ہو اسکو پیر کہا جاتا ہے۔ یا جو لوگوں کو اپنا‬

‫خادم بنائے اس کو پیر کہا جاتا ہے۔‬
‫ہندوستان کی زمین عموما پنجاب کی زمین‬
‫خصوصا اپنی ذرخیزی کے لحاظ سے ثانی نہیں‬
‫رکھتی اور ایک سال میں کئی کئی فصلیں دیتی ہے‬
‫اسی ذرخیزی کی برکت سے پیر بھی پیدا ہوتا ہے۔‬
‫اس خطہ ۔۔۔۔۔ منطقہءپیراں۔۔۔۔ میں پیروں کی بہت‬
‫سی قسمیں ہیں۔ سہ ماہی پیر۔۔۔ششماہی پیر ۔۔۔۔۔‬
‫سالنہ پیر۔ وہ پیر جو تین ماہ کے بعد مریخ کی‬
‫طرح گردش کرتے ہیں۔ اور وہ پیر جو سال میں‬
‫دو دفعہ زحل کی طرف دورہ کرتے ہیں اور سال‬
‫میں ایک دفعہ دورہ کرنے والے۔ یعنی چھوٹے‬

‫بڑے اور سب سے بڑے پیر۔ پھر اس میں بہت‬
‫سی قسمیں ہیں میراثیوں کے پیر۔ جولہوں کے‬

‫پیر۔ کشمیریوں کے پیر۔ لوہاروں۔ ترکھانوں۔‬
‫موچیوں کے پیر۔ زمینداروں کے پیر۔ امیروں کے‬
‫پیر وغیرہ وغیرہ غالبا آپ مطلب نہ سمجھے ہوں۔‬

‫میراثیوں سے مانگنے والے۔ جولہوں سے‬
‫مانگنے والے۔ موچیوں سے مانگنے والے پیر ان‬

‫کے مانگنے کی بھی کئی قسمیں ہیں زکواتہ‬
‫مانگنے والے۔ صدقہ مانگنے والے۔ خیرت‬
‫مانگنے والے۔ گیارہویں مانگنے والے اور اپنی‬
‫شرنی یعنی نیاز مانگنے والے۔ کون۔ پیر۔گیارہویں‬
‫مانگنے والے پیر ہر قمری ماہ کی ‪ 5-4‬کو نکلتے‬
‫ہیں۔ اور مریدوں کو کہتے پھرتے ہیں کہ اگر تم‬
‫نے گیاہویں دینی ہے تو لؤ ہم خو پکا دیں گے۔۔۔‬
‫اپنے بچونکو۔۔۔۔۔ صدقہ خیرات اور نذر نیاز لینے‬
‫والے پیر عموما چار پانچ ماہ کے بعد دورہ‬
‫شروع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ۔ لؤ بھائی‬
‫کوئی صدقہ یا خیرات یعنی کوئی منت میں مانی‬
‫ہوئی اور نیاز مانی ہوئی تمہاری طرف سے ہم پکا‬
‫دیں گے۔۔۔۔دینگے کسکو۔۔۔۔بعض صرف زکوتہ ہی‬
‫لینے نکلتے ہیں اور سال کے بعد نکلتے ہیں۔ یہ‬

‫پیر اپنے پاک مکام سے صرف لینے کے لئے ہی‬
‫آتے ہیں اور جب تک کچہ مل نہ جائے واپس نہیں‬
‫ہوتے برابر غریب کی دہلیز پکڑے رہتے ہیں نہ‬
‫نماز سے سروکار۔ نہ کسی نیک کام سے واسطہ۔‬
‫اگر تعلق ہے تو اپنی نیاز سے اور گھر پر کبوتر‬
‫بازی۔ مرغ بازی۔ اور کئی قسم کی اور بازی سے‬
‫اور شوق اور ہوس یہ کہ حلقہءمریداں فراخ ہو‬
‫اور خوب آمدن ہو یہ سلسلہ بعیت بہت مشکل ہے۔‬

‫اس کے معنی ہیں کسی کا ضامن بننا جیسا کہ‬
‫منشی کرم بخش رح نے فرمایا۔ دنیا کے مصائب‬
‫سے نجات دلنا اور نیکی کی رغبت دل کر عاقبت‬
‫کو سرخرو کرانا۔ اور جنت دلنا۔ اور یہ اوپر والے‬
‫پیر بھل نیکی کو کیا جانیں۔ خود کبھی کی نہیں‬
‫دوسرونکو ہدایت دی نہیں۔ اسی لئے مصنف نے‬
‫کہا ہے کہ تو اپنا بوجھ اٹھا نہیں سکتا دوسروں کا‬

‫ضامن کیوں بنتا ہے۔‬

‫پیر جو واقعی پیر ہیں وہ اول تو اپنا حلقہ مریداں‬
‫اتنا وسیع نہیں کرتے اور اگر کسی کو مرید کریں‬
‫بھی تو اس کے پوری طرح محافظ ۔ ضامن بنتے‬
‫ہیں وہ مرید کو یہ نہیں پوچھا کرتے تیرا نام کیا‬

‫ہے میں بھول گیا ہوں۔ توں کہاں سے آیا ہے۔ کب‬
‫سے مرید ہوا ہے۔ بلکہ ان کے فیض نورانی کی‬
‫شعائیں سورج کی کرنوں کی طرح سب مریدوں پر‬
‫بیک وقت اور یکساں پڑتی ہیں۔ کسے کے ہاں جا‬
‫کر مانگتے نہیں۔ اور اگر کہیں جانا بھی پڑ جائے‬
‫تو کھانا بڑی تحقیق کے بعد تناول فرماتے ہیں ان‬

‫کو گوشت۔ پلؤ سے پرہیز ہوتا ہے نفس کی‬
‫بجائے روح کو تازہ رکھتے ہیں۔ ہمیشہ ذکر الہی‬

‫کی یاد میں مصرف رہتے ہیں۔‬
‫سید محمد حسین شاہ مشتاق‬

‫ص‪153‬‬

‫تشبیہ رب دی دیہہ نہ غیر تائیں صفت کر رب‬
‫غفار پیارے‬

‫ل یضرب ا المثال یعنی ا کے ساتھ کسی کو‬
‫تشبیہ مت دو۔ کسی پیر یا بزرگ کا حد سے زیادہ‬
‫اعتقاد رکھنے والے بعض جہل اکثر ایسا کرتے‬
‫ہیں‪ .‬مثل یہ کہدیا کہ جس طرح خدا اپنی شان و‬

‫صفات میں واحد ہے اسی طرح یہ ۔۔۔۔بزرگ یا‬
‫پیر۔۔۔۔ بھی اپنی مثال یا ثانی نہیں رکھتے۔ کسی‬
‫بزرگ نے چلہ میں اناج کھانا چھوڑ دیا تو جاہل‬

‫معتقد کہہ دیتے ہیں۔ کہ یہ ا کے نیک بندے ہیں۔‬
‫ا بھی نہیں کھاتا۔ یہ بھی کچھ نہیں کھاتے۔ یا‬
‫کوئی جاہل بزرگ بننے کا شوقین شب بیداری‬
‫کرے تو کہتا ہے کہ چونکہ میرا ا نہیں سوتا ہم‬
‫بھی نہیں سوتے۔ اس قسم کے کلمات خدا کے‬
‫سات مقابلے میں آتے ہیں لہذا یہ کلمے کہنا یا‬

‫کوئی ایسا اور کلمہ کہہ دینا کفر تک پہنچا دیتا ہے‬
‫اس لئے خدا کا کوئی ثانی نہیں۔ اسی لئے ارشاد‬

‫ہوا کہ ل یضرب ا المثال ص‪155‬‬
‫نیکی بدی کولوں کیتا خوب واقف کیتا تدوں انسان‬

‫اعتبار سائیں‬
‫قدتبین الرشد من الغنیی فمن یکفر باالطاغون‬
‫فیومن باا ہم نے انسان کو نیکی اور بدی سے‬
‫واقف کر دیا ہے اب جس کی مرضی ہو نیکی‬
‫اختیار کرے اور جس کی مرضی ہو بدی اختیار‬

‫کرے‬
‫ص‪167‬‬
‫مردہ دین آ زندہ کیتا پیر محبوب الہی‬
‫حضرت کے متعلق مشہور ہے کہ آپ نے ایک‬
‫دفعہ ایک برات کے ڈوبے ہوئے بیڑے کو گیارہ‬
‫برس کے بعد دریا سے باہر نکال۔ حالنکہ معتبر‬

‫کتابوں میں ہے کہ آپ نے دین کے ڈوبے ہوئے‬
‫بیڑے کو باہر نکال اور دین محمدی زندہ کیا۔‬

‫ص‪171‬‬
‫عاشق سوئی جو موت بن فوت ہووے زندہ رہن دا‬

‫دبول دہیان ہووے‬
‫موالوا قبل انت موتوا موت آنے سے پہلے مر جاؤ‬

‫ص‪177‬‬
‫کرم چھوڑ نماز رواج سندی نائیں اس تھیں بری‬

‫دوکان ہووے‬
‫رواجی نماز دکھاوے کی نماز کو کہا گیا ہے جو‬

‫کہ صرف اس نیت سے پڑھی جاوے کہ لوگ‬
‫مجھے نمازی اور پارسا سمجہیں۔ لیکن یو یہ یاد‬
‫رہے کہ دنیا و عاقبت کیلئے اس سے بڑھکر بری‬

‫دوکان اور کوئی نہیں‬
‫کل بیحیائی نوں روکدی اے جیکر رب دا خوف‬

‫دہیان ہووے‬
‫نماز کا اصلی مقصد یہ ہے کہ انسان برے کاموں‬
‫سے بچے۔ ظاہری اور باطنی پلیدی سے پاک ہو‬
‫کر ا کے درگاہ میں حاضر ہو۔ جب یہ ظاہری‬
‫پلیدی سے پاک ہو کر دل کو پاک کرنے کی غرض‬

‫سے ا کےحضور میں جائے گا تو اک نور‬

‫مسرت حاصل کرے گا جس کی لذت دنیا میں نہیں‬
‫مل سکتی۔ اس لذت کو دوبارہ حاصل کرنے کی‬
‫خاطر دل میں حب رکھیگا اور برے کاموں سے‬
‫بچتا رہے گا اسی لئے فرمایا ان الصوتہ تنھی عن‬
‫الفحشاء وامنکر یعنی حقیقی نماز انسان کو برے‬
‫کاموں سے بجاتی ہے‬
‫ص‪184‬‬

‫دیکے رب بہشت خرید کیتو توں غلم عاجز‬
‫بولنہار ناہیں‬

‫ان ا اشتری من المومنین انفسھم واموالھم بان‬
‫لھم لجنتہ یعنی ا جل جلل نے مومنین کی جانیں‬
‫اور مال جنت کے عوض خرید لیا ہے۔ سبحان ا‬

‫کیسی عجیب خوشخبری ہے کہ ا تعالی نے ہم‬
‫سے یہ سودا کیا ہے کہ تم اپنی جانیں اور مال ا‬

‫کے سپرد کر دو اور ا سے جنت لے لو۔ اور‬
‫دائمی خوشی اور مسرت اور بےفکری کے مالک‬

‫بن جاؤ۔‬
‫آپ کو معلوم ہو گا۔ کہ پہلے زمانے میں نبی اکرم‬
‫صلی ا علیہ وسلم فداہ ابی امی کے مقدس زمانہ‬
‫میں بھی غلم خریدتے کا رواج عام تھا۔ غریب‬

‫لوگ اپنی جانیں اور مال امیروں کے ہاتھ کچھ‬
‫پیسے یا روپے لیکر بیچ دیتے تھے اور وہ غلم‬
‫تازیست اپنے مالک کے پاس رہتا۔ مالک کا کام‬
‫بغیر تنخواہ کے کرتا۔ یا مالک اسے کہیں مزدوری‬
‫یا تجارت وغیرہ کیلئے بھیجتا تو وہ اپنی حاصل‬

‫کردہ مزدوری یا تجارت کا نفح ل کر من وعن‬
‫مالک کے حوالے کر دیتا۔ اور اس میں سے کچہ‬
‫نقدی وغیرہ اپنے پاس رکھنے یا اپنے لوحقین کو‬
‫دینے کا مجاز نہ ہوتا۔ مالک اس سے جب چاہتا‬
‫کام لیتا۔ جو چاہتا کام کراتا۔ سخت سردی اور بارش‬
‫یا برف کے موسم میں اور شدت کی گرمی کے‬

‫دنوں میں رات ہو یا دن چاندنی ہو یا اندھیرا‬
‫خواہے کیسا بھی موسم ہوتا غلم کو انکار کی‬
‫گنجائش نہ ہوتی۔ مالک کو اختیار ہوتا کہ اس کی‬
‫بیماری کو ملحوظ رکھے یا نہ رکھے۔ اچھا کھانہ‬
‫دے یا خراب حتی کہ مالک کو کسی کام کے‬
‫کرانے کی رکاوٹ نہ ہوتی اور غلم کو انکار کی‬

‫جگہ نہ ہوتی۔‬
‫مثال کے طور پر گو یہ مثال یہاں اچھی نہیں‬
‫مگرعوام کو سمجہانے کے لئے خوب کام دے گی۔‬
‫آپ اپنے جانوروں کو دیکھئے۔ آپ جب چاہیں ہل‬

‫جوتیں۔ کوئیں میں جوتیں کولہو میں لگائیں۔ گاڑی‬
‫میں باندھیں۔ ماریں پیٹیں۔ چارہ اچھا دیں یا برا۔‬
‫سردی میں کام لیں یا گرمی میں بوجھ لدیں یا‬
‫سواری کریں ذبح کریں یا کچہ بھی اور جسیا بھی‬
‫چاہیں ان سے کام لیں انہیں عذر کی گنجائش۔ بیٹا‬
‫اپنے باپ کے سامنے ایک وقت انکار کر سکتا‬
‫ہے۔ ملزم غیر حاضری کر سکتا ہے اور ایک‬
‫وقت کام سے انکار بھی کر سکتا ہے۔ لیکن غلم‬
‫ایک منٹ کیلئے نہیں۔ بلکہ ایک لمحہ بھر کیلئے‬

‫بھی اپنے مالک سے سرتابی نہیں کر سکتا‬
‫کیونکہ وہ خریدا ہوا ہوتا ہے۔ بکا ہوا ہوتا ہے۔ یہ‬

‫الگ بات ہے کہ رحم دل آقا یا مالک غلم سے‬
‫سخت کام نہ لے۔ اور یہ عموما ہوتا ہے کہ رحم‬
‫دل مالکوں کے غلموں کو کئی قسم کی سہولتیں‬
‫ہوتیں۔۔۔۔۔ بشرظیکہ وہ سچے غلم اور مالک کے‬
‫حکم کو بخوشی و بطبیت کے خاطر ماننے والے‬
‫ہوتے یہی نہیں بلکہ دیکھا گیا کہ اس قسم کے‬
‫غلم اکثر فوج کے علم بردار ہوتے۔ سپہ سالر‬
‫ہوتے۔ بلکہ بادشاہ وقت بھی ہوتے۔ اور یہ باتیں‬
‫آپ صرف کہانی یا وعظ نہ سمجہیں بلکہ اسلمی‬
‫بادشاہوں کی تاریخوں میں پڑھئے۔ خلفائے راشدہ‬

‫کی سوانح حیات ملحظہ کیجئے آپ کو یہ سب‬
‫کچھ مل جائیگا کہ برے غلم ہمیشہ تکلیف‬

‫مصیبتوں میں رہے اور بھلے غلم تخت شاہی پر‬
‫جلوہ افروز نظر آئے اور شننشاہ نظر آئے۔ وتعز‬
‫من تشاء و تزل من تشاء۔ بعینہ یہی حال آپ کا اور‬
‫ا تعالی کا ہے۔ ا تعالی نے آپ کو خریدا ہوا ہے‬

‫۔۔۔۔۔ مگر ہاں بھئی ایک فرق ہے۔ اور وہ یہ‬
‫غلموں کے مالک ان کو خرید کر ان کے لواحقین‬
‫کو پیسے دیتے تھے۔ اور یہاں کون لواحق۔ بیٹے‬

‫بھی غلم والدین بھی غلم تو دام کسے دئے‬
‫جائیں۔ یہاں ان داموں کے مالک خود غلم ہی ہیں۔‬
‫مگر بھئی سوچو تو ا ہمیں تھوڑی سی محنت‬
‫اور اس کی اپنی دی ہوئی جان کے بدلے ہمیں دیتا‬

‫کیا ہے۔ بہشت جیسی بےبہا نعمت۔ روپیہ پیسہ‬
‫فانی چیز نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے باقی رہنے‬
‫والی اور مسرت دینے والی عیش و عشرت کرنے‬
‫والی۔ خدمتیں۔۔ اور ا اکبر۔ ا کا دیدار کرانے‬
‫والی۔ کیا۔ بہشت بھائی بہشت۔ بہشت جانتے ہو‬
‫کسے کہتے ہیں۔ نام ہے ایک باغ کا جس میں‬
‫ہمارے لئے خدمتگار موجود ہیں۔ طرح طرح کے‬
‫میوے اور شربت و شہد کی نہریں موجود ہیں‬

‫جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے اور یہ ایک فضول‬
‫بات نہیں بلکہ یہ ایک ہو کر رہنے والی بات ہے۔‬
‫ہاں تو ہماری جانیں اور مال تو لے لیا ا نے اور‬
‫ہمیں بنا لیا غلم اب ہمیں ا کہتا کیا ہے۔ کرنا کیا‬
‫ہے۔سنئے! ا کا سب سے پہل حکم اتکم الرسول‬
‫فخذہ اور اطیعوا و رسول۔۔۔۔۔ یعنی ا اور اس‬

‫کے رسول کی اطاعت کرو اور جو کچہ رسول‬
‫کھے اس کا کہا مانو۔ اقیموالصلوہ۔ نمازیں پڑھو‬
‫واتوالزکوتہ زکوتہ دو۔ فاما الیتلیم فل تقھر یتیم کو‬
‫برا نہ کہو اور نہ ذلیل سمجہو۔ امانت میں خیانت‬

‫نہ کرو۔ جوٹ بول کر ا کی لعنت نہ لو۔‬
‫وقولواقولسدید جو منہ سے نکلے اچھی نکلے۔‬

‫یصلح لکم اعمالکم اچھے کام کرو۔ یغفر لکم‬
‫ذنوبکم تمہاری بھول کر کی ہوئی غلطیاں ا‬
‫معاف کر دے گا۔ ومن یطع ا ورسولہ اور اگر تم‬
‫اسی طرح ا اور اس کے فرمانبداری کرتے رہے‬
‫توفقد ناز فوزا عظیما ا تمہاری شان اور عزت‬
‫بلند کر دے گا۔ اور عجیب نہیں کہ تمہیں بھی فوج‬
‫کا سالر یا بادشاہ بنا دے۔ اور لیکلف ا نفسا ال‬
‫وسعھا اور ا تعالی کسی کو اس کی ہمت سے‬
‫زیادہ تکلیف نہیں دیتا اور یہ سب انعام فرمانبردار‬

‫بندوں کیلئے ہیں۔ ظالموں سے ا تمہیں بچا‬
‫رکھے گا کیونکہ وہ بہترین نگہبان ہے۔ اور دین و‬
‫دنیا کی راحتیں اور مسرتیں صرف نیکوکاروں کے‬

‫لئے ہیں۔ فاعتبروایااولی الصبار‬
‫ص‪196-195‬‬

‫بےخیالی نماز ہووے خیال والی نہ پڑھن جیہی‬
‫مندی کار ہووے‬

‫ل صلوتہ ال بحضور قلب۔ یعنی جب تک دل کا‬
‫رجوع نہ ہو نماز نہیں ہوتی۔ جہل کا طبقہ جن کو‬
‫کہ نہ کچھ علم سے واسطہ ہے اور نہ نماز کا‬

‫شوق اور نہ احکام خداوندی کی پرواہ ۔ وہ‬
‫نمازیوں کو اکثر یہ طعن دیا کرتے ہیں۔ کہ میاں‬
‫جب کہ تمہارا وجود نماز میں کھڑا ہے اور دل‬
‫تمہارا ادھر ادھر دنیا کی سیر کر رہا ہے تو تمہیں‬
‫نماز پڑھنے کا کیا فائدہ ۔ ایسی نماز سے نہ پڑہنی‬
‫بتر ہے۔ للیاذ باا کیا فضول بات ہے ذرا سوچیے‬
‫اور غور کجئے ‪ -1‬علماء کے اس طبقے کو‬
‫لیجئے جو کہ ہر قسم کے علوم سے مال مال ہوں۔‬
‫جب وہ نماز پڑہیں گے اورنماز کے معنی کی‬
‫طرف جائیں گے تو پہلے وہ کہیں گے الحمد ل‬

‫رب العمین۔ یعنی اس ا کی تعریف جو کہ‬
‫دوجہانوں کو پالنےوال نہیں بلکہ دنیاومافیہا کی‬
‫اٹھارہ ہزار قسم کی مخلوق کا پالنے وال ہے۔ جب‬
‫رب العلمین پڑھینگے تو یہ اٹھارہ ہزار قسم کی‬
‫مخلوق انکی آنکھوں کے سامنے آ لے گی۔ اور‬
‫جب الرحمن الرحیم تو یقینا ا کی رحمت اور‬

‫بخشش کا عدیم المثال سمندر ان کے سامنے‬
‫ٹھاٹھیں مارتا ہوا ہو گا۔ اور جب مالک یوم الدین‬
‫پر آئیں گے تو قیامت وہ دن ان کے سامنے ہوگا‬
‫جس دن ا عزاسمہ کی قدرت کامل برسر عدالت‬
‫ہو گی کوئی دوزخ میں جائیگا کوئی بہشت کی سیر‬

‫کریگا۔ کوئی گرمی آفتاب و عذاب جہنم اور‬
‫جبروتی باری تعالی کے خوف سے نفسا نفسی‬
‫پکاریگا اور جنت کی خوشبوؤں اور اس میں ا‬
‫تعالی کے دیدار کے شوق میں امتی امتی کی صدا‬
‫بلند کریگا۔ اور آگے چل کر جب ایاک نعبد و ایاک‬
‫نستعین پر پہنچیگا تو اپنی عاجزی ظاہر کرکے‬
‫اپنے گناہ بخشانے اور فراخ دستی اور جنت‬
‫حاصل کرنے کی خاطر ا سے مد مانگے گا۔ اور‬
‫اھدناالصراط المستقیم یعنی سیدہے اور ہدایت‬
‫والے رستہ پر چلنے کیلئے توفیق مانگے گا اور‬

‫درخواست کریگا کہ صراط الذین انعمت علیہم کہ یا‬
‫ا مجھے ان لوگوں کے نقش قدم پر چلنے کی‬
‫ہمت اور استطاعت کہ جنہوں نے اس رستہ پر چل‬

‫کر تیری خوشنودی حاصل کی اور تو نے خوش ہو‬
‫کر ان کو انعامات دئے اس کے ساتھ ہی اس قسم‬
‫کے مقرب الی ا لوگ اور انکی فہرست سامنے‬

‫آئیگی جن پر عزاسمہ خوش ہوا یعنی اولیائے‬
‫گراماور انبیاء عظام اور پھر یہ بھی کہیگا کہ‬
‫غیرالمضوب علیھم ولالضالین یعنی یا ا جن ترا‬
‫غضب ہوا مجھے ان میں سے نہ کرنا جیسا کہ‬
‫فرعون۔ نمرود۔ قوم نوح وغیرہ اور نہ مجھے انکا‬
‫ساتھی بنانا جو کہ گمراہ ہو گئے اور تجھے بھول‬
‫گئے۔ یہ سب باتیں کہہ چکنے کے بعد امین بھی‬
‫کہیگا یعنی یا ا میں نے جو کچھ کہا ہے میری‬
‫ان درخواستوں اور التجاؤں اور دعاؤں تو سن‬
‫اور منظور کر۔سوچنے کا مقام ہے کہ نماز میں یہ‬
‫خیالت نہیں تھے۔ نماز کیلئے آئے اور کہاں سے‬

‫کہاں تک پہنچے۔‬
‫‪2-‬‬

‫اس قسم کی اور مثالوں کو چھوڑ کر صرف یہ ہی‬
‫کافی ہو گی۔ کہ تم نے چار رکعت نماز کی نیت‬








Click to View FlipBook Version