منع گوشت کھانا بھائی دا
بھائی دا گوشت کھان تھیں مراد کسے آدمی دی
چغلی بخیلی کرنا ہوندی اے۔
ص 118
اول جان اسلم تے قائم ہونا فطرت جان اسلم
انسان پیارے
فطرتہ ا التی فطرالناس علیہا ل تبدیل لکلمتہ ا
انسان ا ہی کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور ا کی
باتیں تبدیل نہیں ہوا کرتیں ۔۔۔۔قرآن مجید ۔۔۔۔۔۔ کل
مولود یولد علی فطرتہ فابواہ یھودایہ اوینصرنہ او
یہجنسادنہ ہر ایک انسان اپنی فطرت پر پیدا ہوتا
ہے ۔۔۔۔۔جو ا نے بنا دی اور وہ اسلم ہے کیونکہ
دنیا کا سب سے پہل انسان ۔۔۔۔۔آدم علیہ السلم۔۔۔۔۔
مسلمان پیدا کیا اور اس کے بعد کل بنی نوع اپنے
قدیمی والد۔۔۔۔ آدم ۔۔۔۔۔ کی اولد کہلتے ہیں چونکہ
آدم علیہ السلم کی فطرت اسلم تھی اس لیے ہر
ایک پیدا ہونے وال آدم کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔
اس کے بعد اوس کے والدین اس کو یہودی یا
نصاری بنا دیتے ہیں۔
سب سے پہلے ا تبارک تعالی نے آدم علیہ
السلم کو اپنی قدرت کاملہ سے پیدا کیا۔ باقی بنی
نوع انسان آدم کی اولد کہتے ہیں چونکہ آدم علیہ
السلم کو ا نے اپنی فطرت پر پیدا کیا تھا اس
لئے آدم کی فطرت ا ہی کی فطرت ہے اور
چونکہ ا کی فطرت اسلم ہے اس لئے آدم کی
فطرت بھی اسلم ہی ہو سکتی ہے چونکہ ہر پیدا
ہونے والے کی فطرت اول اسلم ہی ہوتی ہے اسی
لئے وہ پہلے پہل گناہوں سے پاک و صاف کہلتا
ہے۔ پھ ہوش آنے کے بعد مجلسی فطرت اس میں
آتی ہے۔ یا تو وہ یہودی بن جاتا ہے۔ یا دہریا۔ یا
ہندو وغیرہ
ص129
اک امی یتیم تے جنگل دا واسی کیتا نظر
منظورسرکار پیارے
امی ناخواندے آدمی کو بھی کہتے ہیں۔ مگر عام
طور پر یہ لفظ نبی کریم صلی ا علیہ وسلم کے
متعلق مشہور ہے۔ نیز نبی کریم صلی ا علیہ
وسلم کو امی اس لئے بھی کہتے ہیں کہ آپ مکہ
شریف کے رہنے والے ہیں اور مکہ مکرمہ کو ام
القری بھی کہتے ہیں۔ قری پنڈ کو کہا جاتا ہے۔ یا
تو یہ تمام پنڈوں اور گاؤں کی ماں ہے اور یا یہ
کہ حضرت فاطمتہ الزہرہ رضی ا عنہا چونکہ
تمام مومنین کی ماں ہیں اور آپ مکہ شریف کی
رہنے والی ہیں اس لئے مکہ کا نام ام القری ہو
گیا یعنی ماں کے رہنے وال گاؤں یا پنڈ اسی لحاظ
سے نبی عالم صلی ا علیہ وسلم کو امی کہا جاتا
ہے یعنی ام القری کے رہنے والے۔
ص131
واہ فقیرئے کرم بخشا اصلی بھید نؤں گئے چھپا
شاہا
کہتے ہیں کہ فقر تین حروف سے بنتا ہے ف ق
اور ر سے اور فقر کا دعوی میں تین اوصاف
ہونے ضروری ہیں۔ فقر وہ جو فاقہ کا عادی ہو۔
اگر کچھ کھانے کو مل گیا تو چند لقمےکھا لئے
ورنہ کسی کے آگے سوال نہ کرئے۔کیونکہ طاقت
اور ہمت ہوتے ہوئے جو آدمی سوال کرتا ہے
قیامت کے روز اس کے منہ پر گوشت نہ ہو گا
بلکہ مردے کی طرح ہڈیاں ہی ہونگی یہی سبب
ہے کہ گداگر خدا کے ہاں مقبول نہیں ہوتے۔ فقیر
کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ میری قسمت
بہرحال مجہکو مل کر ہی رہے گی اسی لئے وہ
دست سوال دراز نہیں کرتا ہر وقت ا کی یاد میں
مشغول رہتا ہے۔ اور ا ہی کے حکم کی تابعداری
اس کا پیشہ ہوتا ہے جب وہ ا کا ہو جاتا ہے تو
ا اس کا ہو جاتا ہے کیونکہ شیخ سعدی کا مقول
ہے کہ
تو ہم گردن از حکم دارد ہیچ کہ
گردن نہ پیچد ز حکم تو ہیچ
یعنی تو خدا کے حکم سے گردن نہ پھیر اور
کوتاہی نہ کر۔ اورتیرے حکموں سے کوئی
روگردانی نہیں کریگا۔ دیکھئے خلقت فقیر کی تابع
فرمان ہو گی جو ا کا تابع فرمان ہو گا۔ فقیر ا
کے فرمان کے ماتحت اور نبی کریم صلی ا علہ
وسلم کے نقش قدم پر چلتا ہے شریعت کا پابند
ہوتا ہے غیر شریعت باتوں سے دور رہتا
ہےبرعکس آجکل کے فقرا کے کہ نام کے فقیر
ہیں بھنگ وغیرہ پر بھیک مانگنے سے اور
بےہوش پڑے رہنے سے تعلق اور بس
فقر کے ق سے قناعت مراد ہے یعنی اگر مل گیا
تو الحمد ل اور اگر کئی دن تک نہ مل تو صبر
ہے اور جو مل اسی پر قناعت ہے۔ نہ ملنے پر
ذکر ربانی ہی ان کی غذا بنا رہتا ہے۔ دوکان دوکان
اور گھر کی خاک چھانے سے انہیں سخت نفرت
ہوتی ہے
فقر کا تیرا حرف ر ہے جس سے مراد ریاضت
ہے۔ یعنی اگر ا کی اپنی دی ہوئی نعمت سے کچھ
حصہ مل وہ کھایا اور ذکر میں مشغول ہو گئے یا
ا کی پیدا کی ہوئی مخلوق کے بگڑے کام
سنوارنے پر کمر باندھ لی اور جہاں کہیں کسی کا
کام بگڑتا دیکھا وہیں جا گھسے یا کسی کو کسی
مصیبت میں پھنسا دیکھا تو اس کے دوست بن
گئے اور اپنے ا کے فضل سے مصیبت کو ٹال
دیا۔ نہ تکیہ اور دارا کے فقیر کی طرح کہ مانگ
کر لئے کھایا اور خواب خرگوش میں پڑے ہیں
خوائے کوا آنکھ نکال کر لے جائے انہیں دنیا و
مافیہا کا کچھ پتہ نہیں۔ کھانا زندہ رہنے کیلئے ہے
اور زندہ رہنا ا کی عبادت کیلئے ہے نہ یہ کہ
کھانا صحت کیلئے اور صحت بھیک مانگنے
کیلئے۔
یہاں ایک اور سوال پیدا ہو گیا یعنی عبادت وما
خلقت الجن و النس ال لیعبدون یعنی ا نے آدمی
اور جنوں کو عبادت کے لئے پیدا ہے۔۔۔۔۔ یہاں یہ
ڈر لگتا ہے کہ کہیں مجھ پر وہابی یا لمذہبی کا
فتوی نہ لگ جائے ا تعالی محفوظ رکھے۔۔۔۔۔
نماز کا پڑھنا۔ روزہ کا رکھنا۔ حج کرنا۔ زکواتہ دینا
عبادت نہیں۔ بلکہ یہ احکام الہی فرضیت کا دعوی
رکھتے ہیں جو ان چیزوں سے روگردانی کرتا ہے
وہ کفر تک جا پہنچتا ہے جس کے لئے خدائی
جیل خانہ یعنی جہنم تیار ہے۔ عبادت اس چیز کا
نام ہے جس کیلئے ا تعالی نے تاکیدی حکم نہیں
دیا۔ نفل پڑھنا۔ غریب کی نگہداشت کرنا مخلوق خدا
کی ہمدردی۔ خلق۔ پنچگانہ کے علوہ نمازیں
پڑھنا۔ اپنے بچوں کی پرورش اس نیت سے کرنا۔
مسجد کی حفاظت و نگہدشت رکھنا۔ مسافروں کے
آرام کیلئے سرائے یا کنواں بنانا وغیرہ اس قسم
کے کاموں کا نام عبادت ہے وا اعلم بااصواب
سید محمد حسین شاہ مشتاق عرف شاہ جی کاتب
ص136
اپنا اٹھا نہ سکے ضامن بنے لوکائیدا
یہ غالبا امام مسجدوں کی طرف اشارہ ہے۔ کہ خود
تو بیچارے سراپا گناہوں سے بھرپور ہوتے ہیں
اور دوسروں کی وکالت کرنے کے لئے امام بن
جاتے ہیں۔ خود گناہ کرتے ہیں اور دوسرونکو
ہدایت کرتے ہیں۔ خود یتیموں کا مال کھاتے
ہیں ۔۔۔۔۔۔ اگر کوئی آدمی چھوٹے چھوٹے بچے
چھوڑ کر مر جائے تو بچے یتیم ہو گئے اور گھر
کی جائیداد میں ان کا حصہ ہوتا ہے۔ اور انکی ماں
یا ان کا کوئی بڑا بھائی اس مشترکہ جائیداد سے
تیسرے ساتے اور چالیسویں وغیرہ کرتے ہیں اس
طرح بڑوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے یتیموں کا حق
بھی جاتا ہے جسکو عام لوگ عموما اور ملں
لوگ خصوصا بڑے مزے اور دلچسپی سے ہضم
کر جاتے ہیں۔ اسمیں بعض عالم ربانی مستثنے
ہیں کہ وہ اس قسم کے مال کے نزدیک تک نہیں
جاتے۔۔۔۔۔۔ اور لوگوں کو اس سے منع کرتے ہیں۔
خود تو حرام کھانے ہیں۔۔۔۔۔ جوا کھیلنے والوں کی
کمائی حرام رشوت لینے والے کی کمائی حرام
شراب بیچنے والے بھنگ چرس وغیرہ بیچنے
والے کی کمائی حرام ہوتی ہے اور ملں لوگ ان
کے ہاں کا کھانا بغیر کسی ملل کے چٹ کر جاتے
ہیں اور حرام خور بن جاتے ہیں وغیرہ۔۔۔۔۔ اور
لوگوں کو حرام سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔
خود تو عیب جوئی اور بخیلی کرے میں ذرا شرم
نہیں کرتے لیکن عوام کو منع کرتے ہیں۔ ا تعالی
محفوظ رکھے
دوسرا اشارہ غالبا پیروں کی طرف ہے۔ یہاں
پیروں کا مختصر حال بیان کرنا بےجا نہ ہو گا۔ پیر
کے معنی ہیں پرہیزگار۔ پارسا اور بزرگ۔ لیکن
پنجاب میں جہاں کی آب و ہوا۔ تمدن۔ اخلق۔ ذہنیت۔
خیالت کچھ دوسری دنیا سے نرالے ہیں بعض
بعض الفاظ کے معنی بھی نرالے ہیں۔ یہاں پیر کے
معنی پیروں وال لئے جاتے ہیں جو سفر کرنے
وال ہو اسکو پیر کہا جاتا ہے۔ یا جو لوگوں کو اپنا
خادم بنائے اس کو پیر کہا جاتا ہے۔
ہندوستان کی زمین عموما پنجاب کی زمین
خصوصا اپنی ذرخیزی کے لحاظ سے ثانی نہیں
رکھتی اور ایک سال میں کئی کئی فصلیں دیتی ہے
اسی ذرخیزی کی برکت سے پیر بھی پیدا ہوتا ہے۔
اس خطہ ۔۔۔۔۔ منطقہءپیراں۔۔۔۔ میں پیروں کی بہت
سی قسمیں ہیں۔ سہ ماہی پیر۔۔۔ششماہی پیر ۔۔۔۔۔
سالنہ پیر۔ وہ پیر جو تین ماہ کے بعد مریخ کی
طرح گردش کرتے ہیں۔ اور وہ پیر جو سال میں
دو دفعہ زحل کی طرف دورہ کرتے ہیں اور سال
میں ایک دفعہ دورہ کرنے والے۔ یعنی چھوٹے
بڑے اور سب سے بڑے پیر۔ پھر اس میں بہت
سی قسمیں ہیں میراثیوں کے پیر۔ جولہوں کے
پیر۔ کشمیریوں کے پیر۔ لوہاروں۔ ترکھانوں۔
موچیوں کے پیر۔ زمینداروں کے پیر۔ امیروں کے
پیر وغیرہ وغیرہ غالبا آپ مطلب نہ سمجھے ہوں۔
میراثیوں سے مانگنے والے۔ جولہوں سے
مانگنے والے۔ موچیوں سے مانگنے والے پیر ان
کے مانگنے کی بھی کئی قسمیں ہیں زکواتہ
مانگنے والے۔ صدقہ مانگنے والے۔ خیرت
مانگنے والے۔ گیارہویں مانگنے والے اور اپنی
شرنی یعنی نیاز مانگنے والے۔ کون۔ پیر۔گیارہویں
مانگنے والے پیر ہر قمری ماہ کی 5-4کو نکلتے
ہیں۔ اور مریدوں کو کہتے پھرتے ہیں کہ اگر تم
نے گیاہویں دینی ہے تو لؤ ہم خو پکا دیں گے۔۔۔
اپنے بچونکو۔۔۔۔۔ صدقہ خیرات اور نذر نیاز لینے
والے پیر عموما چار پانچ ماہ کے بعد دورہ
شروع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ۔ لؤ بھائی
کوئی صدقہ یا خیرات یعنی کوئی منت میں مانی
ہوئی اور نیاز مانی ہوئی تمہاری طرف سے ہم پکا
دیں گے۔۔۔۔دینگے کسکو۔۔۔۔بعض صرف زکوتہ ہی
لینے نکلتے ہیں اور سال کے بعد نکلتے ہیں۔ یہ
پیر اپنے پاک مکام سے صرف لینے کے لئے ہی
آتے ہیں اور جب تک کچہ مل نہ جائے واپس نہیں
ہوتے برابر غریب کی دہلیز پکڑے رہتے ہیں نہ
نماز سے سروکار۔ نہ کسی نیک کام سے واسطہ۔
اگر تعلق ہے تو اپنی نیاز سے اور گھر پر کبوتر
بازی۔ مرغ بازی۔ اور کئی قسم کی اور بازی سے
اور شوق اور ہوس یہ کہ حلقہءمریداں فراخ ہو
اور خوب آمدن ہو یہ سلسلہ بعیت بہت مشکل ہے۔
اس کے معنی ہیں کسی کا ضامن بننا جیسا کہ
منشی کرم بخش رح نے فرمایا۔ دنیا کے مصائب
سے نجات دلنا اور نیکی کی رغبت دل کر عاقبت
کو سرخرو کرانا۔ اور جنت دلنا۔ اور یہ اوپر والے
پیر بھل نیکی کو کیا جانیں۔ خود کبھی کی نہیں
دوسرونکو ہدایت دی نہیں۔ اسی لئے مصنف نے
کہا ہے کہ تو اپنا بوجھ اٹھا نہیں سکتا دوسروں کا
ضامن کیوں بنتا ہے۔
پیر جو واقعی پیر ہیں وہ اول تو اپنا حلقہ مریداں
اتنا وسیع نہیں کرتے اور اگر کسی کو مرید کریں
بھی تو اس کے پوری طرح محافظ ۔ ضامن بنتے
ہیں وہ مرید کو یہ نہیں پوچھا کرتے تیرا نام کیا
ہے میں بھول گیا ہوں۔ توں کہاں سے آیا ہے۔ کب
سے مرید ہوا ہے۔ بلکہ ان کے فیض نورانی کی
شعائیں سورج کی کرنوں کی طرح سب مریدوں پر
بیک وقت اور یکساں پڑتی ہیں۔ کسے کے ہاں جا
کر مانگتے نہیں۔ اور اگر کہیں جانا بھی پڑ جائے
تو کھانا بڑی تحقیق کے بعد تناول فرماتے ہیں ان
کو گوشت۔ پلؤ سے پرہیز ہوتا ہے نفس کی
بجائے روح کو تازہ رکھتے ہیں۔ ہمیشہ ذکر الہی
کی یاد میں مصرف رہتے ہیں۔
سید محمد حسین شاہ مشتاق
ص153
تشبیہ رب دی دیہہ نہ غیر تائیں صفت کر رب
غفار پیارے
ل یضرب ا المثال یعنی ا کے ساتھ کسی کو
تشبیہ مت دو۔ کسی پیر یا بزرگ کا حد سے زیادہ
اعتقاد رکھنے والے بعض جہل اکثر ایسا کرتے
ہیں .مثل یہ کہدیا کہ جس طرح خدا اپنی شان و
صفات میں واحد ہے اسی طرح یہ ۔۔۔۔بزرگ یا
پیر۔۔۔۔ بھی اپنی مثال یا ثانی نہیں رکھتے۔ کسی
بزرگ نے چلہ میں اناج کھانا چھوڑ دیا تو جاہل
معتقد کہہ دیتے ہیں۔ کہ یہ ا کے نیک بندے ہیں۔
ا بھی نہیں کھاتا۔ یہ بھی کچھ نہیں کھاتے۔ یا
کوئی جاہل بزرگ بننے کا شوقین شب بیداری
کرے تو کہتا ہے کہ چونکہ میرا ا نہیں سوتا ہم
بھی نہیں سوتے۔ اس قسم کے کلمات خدا کے
سات مقابلے میں آتے ہیں لہذا یہ کلمے کہنا یا
کوئی ایسا اور کلمہ کہہ دینا کفر تک پہنچا دیتا ہے
اس لئے خدا کا کوئی ثانی نہیں۔ اسی لئے ارشاد
ہوا کہ ل یضرب ا المثال ص155
نیکی بدی کولوں کیتا خوب واقف کیتا تدوں انسان
اعتبار سائیں
قدتبین الرشد من الغنیی فمن یکفر باالطاغون
فیومن باا ہم نے انسان کو نیکی اور بدی سے
واقف کر دیا ہے اب جس کی مرضی ہو نیکی
اختیار کرے اور جس کی مرضی ہو بدی اختیار
کرے
ص167
مردہ دین آ زندہ کیتا پیر محبوب الہی
حضرت کے متعلق مشہور ہے کہ آپ نے ایک
دفعہ ایک برات کے ڈوبے ہوئے بیڑے کو گیارہ
برس کے بعد دریا سے باہر نکال۔ حالنکہ معتبر
کتابوں میں ہے کہ آپ نے دین کے ڈوبے ہوئے
بیڑے کو باہر نکال اور دین محمدی زندہ کیا۔
ص171
عاشق سوئی جو موت بن فوت ہووے زندہ رہن دا
دبول دہیان ہووے
موالوا قبل انت موتوا موت آنے سے پہلے مر جاؤ
ص177
کرم چھوڑ نماز رواج سندی نائیں اس تھیں بری
دوکان ہووے
رواجی نماز دکھاوے کی نماز کو کہا گیا ہے جو
کہ صرف اس نیت سے پڑھی جاوے کہ لوگ
مجھے نمازی اور پارسا سمجہیں۔ لیکن یو یہ یاد
رہے کہ دنیا و عاقبت کیلئے اس سے بڑھکر بری
دوکان اور کوئی نہیں
کل بیحیائی نوں روکدی اے جیکر رب دا خوف
دہیان ہووے
نماز کا اصلی مقصد یہ ہے کہ انسان برے کاموں
سے بچے۔ ظاہری اور باطنی پلیدی سے پاک ہو
کر ا کے درگاہ میں حاضر ہو۔ جب یہ ظاہری
پلیدی سے پاک ہو کر دل کو پاک کرنے کی غرض
سے ا کےحضور میں جائے گا تو اک نور
مسرت حاصل کرے گا جس کی لذت دنیا میں نہیں
مل سکتی۔ اس لذت کو دوبارہ حاصل کرنے کی
خاطر دل میں حب رکھیگا اور برے کاموں سے
بچتا رہے گا اسی لئے فرمایا ان الصوتہ تنھی عن
الفحشاء وامنکر یعنی حقیقی نماز انسان کو برے
کاموں سے بجاتی ہے
ص184
دیکے رب بہشت خرید کیتو توں غلم عاجز
بولنہار ناہیں
ان ا اشتری من المومنین انفسھم واموالھم بان
لھم لجنتہ یعنی ا جل جلل نے مومنین کی جانیں
اور مال جنت کے عوض خرید لیا ہے۔ سبحان ا
کیسی عجیب خوشخبری ہے کہ ا تعالی نے ہم
سے یہ سودا کیا ہے کہ تم اپنی جانیں اور مال ا
کے سپرد کر دو اور ا سے جنت لے لو۔ اور
دائمی خوشی اور مسرت اور بےفکری کے مالک
بن جاؤ۔
آپ کو معلوم ہو گا۔ کہ پہلے زمانے میں نبی اکرم
صلی ا علیہ وسلم فداہ ابی امی کے مقدس زمانہ
میں بھی غلم خریدتے کا رواج عام تھا۔ غریب
لوگ اپنی جانیں اور مال امیروں کے ہاتھ کچھ
پیسے یا روپے لیکر بیچ دیتے تھے اور وہ غلم
تازیست اپنے مالک کے پاس رہتا۔ مالک کا کام
بغیر تنخواہ کے کرتا۔ یا مالک اسے کہیں مزدوری
یا تجارت وغیرہ کیلئے بھیجتا تو وہ اپنی حاصل
کردہ مزدوری یا تجارت کا نفح ل کر من وعن
مالک کے حوالے کر دیتا۔ اور اس میں سے کچہ
نقدی وغیرہ اپنے پاس رکھنے یا اپنے لوحقین کو
دینے کا مجاز نہ ہوتا۔ مالک اس سے جب چاہتا
کام لیتا۔ جو چاہتا کام کراتا۔ سخت سردی اور بارش
یا برف کے موسم میں اور شدت کی گرمی کے
دنوں میں رات ہو یا دن چاندنی ہو یا اندھیرا
خواہے کیسا بھی موسم ہوتا غلم کو انکار کی
گنجائش نہ ہوتی۔ مالک کو اختیار ہوتا کہ اس کی
بیماری کو ملحوظ رکھے یا نہ رکھے۔ اچھا کھانہ
دے یا خراب حتی کہ مالک کو کسی کام کے
کرانے کی رکاوٹ نہ ہوتی اور غلم کو انکار کی
جگہ نہ ہوتی۔
مثال کے طور پر گو یہ مثال یہاں اچھی نہیں
مگرعوام کو سمجہانے کے لئے خوب کام دے گی۔
آپ اپنے جانوروں کو دیکھئے۔ آپ جب چاہیں ہل
جوتیں۔ کوئیں میں جوتیں کولہو میں لگائیں۔ گاڑی
میں باندھیں۔ ماریں پیٹیں۔ چارہ اچھا دیں یا برا۔
سردی میں کام لیں یا گرمی میں بوجھ لدیں یا
سواری کریں ذبح کریں یا کچہ بھی اور جسیا بھی
چاہیں ان سے کام لیں انہیں عذر کی گنجائش۔ بیٹا
اپنے باپ کے سامنے ایک وقت انکار کر سکتا
ہے۔ ملزم غیر حاضری کر سکتا ہے اور ایک
وقت کام سے انکار بھی کر سکتا ہے۔ لیکن غلم
ایک منٹ کیلئے نہیں۔ بلکہ ایک لمحہ بھر کیلئے
بھی اپنے مالک سے سرتابی نہیں کر سکتا
کیونکہ وہ خریدا ہوا ہوتا ہے۔ بکا ہوا ہوتا ہے۔ یہ
الگ بات ہے کہ رحم دل آقا یا مالک غلم سے
سخت کام نہ لے۔ اور یہ عموما ہوتا ہے کہ رحم
دل مالکوں کے غلموں کو کئی قسم کی سہولتیں
ہوتیں۔۔۔۔۔ بشرظیکہ وہ سچے غلم اور مالک کے
حکم کو بخوشی و بطبیت کے خاطر ماننے والے
ہوتے یہی نہیں بلکہ دیکھا گیا کہ اس قسم کے
غلم اکثر فوج کے علم بردار ہوتے۔ سپہ سالر
ہوتے۔ بلکہ بادشاہ وقت بھی ہوتے۔ اور یہ باتیں
آپ صرف کہانی یا وعظ نہ سمجہیں بلکہ اسلمی
بادشاہوں کی تاریخوں میں پڑھئے۔ خلفائے راشدہ
کی سوانح حیات ملحظہ کیجئے آپ کو یہ سب
کچھ مل جائیگا کہ برے غلم ہمیشہ تکلیف
مصیبتوں میں رہے اور بھلے غلم تخت شاہی پر
جلوہ افروز نظر آئے اور شننشاہ نظر آئے۔ وتعز
من تشاء و تزل من تشاء۔ بعینہ یہی حال آپ کا اور
ا تعالی کا ہے۔ ا تعالی نے آپ کو خریدا ہوا ہے
۔۔۔۔۔ مگر ہاں بھئی ایک فرق ہے۔ اور وہ یہ
غلموں کے مالک ان کو خرید کر ان کے لواحقین
کو پیسے دیتے تھے۔ اور یہاں کون لواحق۔ بیٹے
بھی غلم والدین بھی غلم تو دام کسے دئے
جائیں۔ یہاں ان داموں کے مالک خود غلم ہی ہیں۔
مگر بھئی سوچو تو ا ہمیں تھوڑی سی محنت
اور اس کی اپنی دی ہوئی جان کے بدلے ہمیں دیتا
کیا ہے۔ بہشت جیسی بےبہا نعمت۔ روپیہ پیسہ
فانی چیز نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے باقی رہنے
والی اور مسرت دینے والی عیش و عشرت کرنے
والی۔ خدمتیں۔۔ اور ا اکبر۔ ا کا دیدار کرانے
والی۔ کیا۔ بہشت بھائی بہشت۔ بہشت جانتے ہو
کسے کہتے ہیں۔ نام ہے ایک باغ کا جس میں
ہمارے لئے خدمتگار موجود ہیں۔ طرح طرح کے
میوے اور شربت و شہد کی نہریں موجود ہیں
جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے اور یہ ایک فضول
بات نہیں بلکہ یہ ایک ہو کر رہنے والی بات ہے۔
ہاں تو ہماری جانیں اور مال تو لے لیا ا نے اور
ہمیں بنا لیا غلم اب ہمیں ا کہتا کیا ہے۔ کرنا کیا
ہے۔سنئے! ا کا سب سے پہل حکم اتکم الرسول
فخذہ اور اطیعوا و رسول۔۔۔۔۔ یعنی ا اور اس
کے رسول کی اطاعت کرو اور جو کچہ رسول
کھے اس کا کہا مانو۔ اقیموالصلوہ۔ نمازیں پڑھو
واتوالزکوتہ زکوتہ دو۔ فاما الیتلیم فل تقھر یتیم کو
برا نہ کہو اور نہ ذلیل سمجہو۔ امانت میں خیانت
نہ کرو۔ جوٹ بول کر ا کی لعنت نہ لو۔
وقولواقولسدید جو منہ سے نکلے اچھی نکلے۔
یصلح لکم اعمالکم اچھے کام کرو۔ یغفر لکم
ذنوبکم تمہاری بھول کر کی ہوئی غلطیاں ا
معاف کر دے گا۔ ومن یطع ا ورسولہ اور اگر تم
اسی طرح ا اور اس کے فرمانبداری کرتے رہے
توفقد ناز فوزا عظیما ا تمہاری شان اور عزت
بلند کر دے گا۔ اور عجیب نہیں کہ تمہیں بھی فوج
کا سالر یا بادشاہ بنا دے۔ اور لیکلف ا نفسا ال
وسعھا اور ا تعالی کسی کو اس کی ہمت سے
زیادہ تکلیف نہیں دیتا اور یہ سب انعام فرمانبردار
بندوں کیلئے ہیں۔ ظالموں سے ا تمہیں بچا
رکھے گا کیونکہ وہ بہترین نگہبان ہے۔ اور دین و
دنیا کی راحتیں اور مسرتیں صرف نیکوکاروں کے
لئے ہیں۔ فاعتبروایااولی الصبار
ص196-195
بےخیالی نماز ہووے خیال والی نہ پڑھن جیہی
مندی کار ہووے
ل صلوتہ ال بحضور قلب۔ یعنی جب تک دل کا
رجوع نہ ہو نماز نہیں ہوتی۔ جہل کا طبقہ جن کو
کہ نہ کچھ علم سے واسطہ ہے اور نہ نماز کا
شوق اور نہ احکام خداوندی کی پرواہ ۔ وہ
نمازیوں کو اکثر یہ طعن دیا کرتے ہیں۔ کہ میاں
جب کہ تمہارا وجود نماز میں کھڑا ہے اور دل
تمہارا ادھر ادھر دنیا کی سیر کر رہا ہے تو تمہیں
نماز پڑھنے کا کیا فائدہ ۔ ایسی نماز سے نہ پڑہنی
بتر ہے۔ للیاذ باا کیا فضول بات ہے ذرا سوچیے
اور غور کجئے -1علماء کے اس طبقے کو
لیجئے جو کہ ہر قسم کے علوم سے مال مال ہوں۔
جب وہ نماز پڑہیں گے اورنماز کے معنی کی
طرف جائیں گے تو پہلے وہ کہیں گے الحمد ل
رب العمین۔ یعنی اس ا کی تعریف جو کہ
دوجہانوں کو پالنےوال نہیں بلکہ دنیاومافیہا کی
اٹھارہ ہزار قسم کی مخلوق کا پالنے وال ہے۔ جب
رب العلمین پڑھینگے تو یہ اٹھارہ ہزار قسم کی
مخلوق انکی آنکھوں کے سامنے آ لے گی۔ اور
جب الرحمن الرحیم تو یقینا ا کی رحمت اور
بخشش کا عدیم المثال سمندر ان کے سامنے
ٹھاٹھیں مارتا ہوا ہو گا۔ اور جب مالک یوم الدین
پر آئیں گے تو قیامت وہ دن ان کے سامنے ہوگا
جس دن ا عزاسمہ کی قدرت کامل برسر عدالت
ہو گی کوئی دوزخ میں جائیگا کوئی بہشت کی سیر
کریگا۔ کوئی گرمی آفتاب و عذاب جہنم اور
جبروتی باری تعالی کے خوف سے نفسا نفسی
پکاریگا اور جنت کی خوشبوؤں اور اس میں ا
تعالی کے دیدار کے شوق میں امتی امتی کی صدا
بلند کریگا۔ اور آگے چل کر جب ایاک نعبد و ایاک
نستعین پر پہنچیگا تو اپنی عاجزی ظاہر کرکے
اپنے گناہ بخشانے اور فراخ دستی اور جنت
حاصل کرنے کی خاطر ا سے مد مانگے گا۔ اور
اھدناالصراط المستقیم یعنی سیدہے اور ہدایت
والے رستہ پر چلنے کیلئے توفیق مانگے گا اور
درخواست کریگا کہ صراط الذین انعمت علیہم کہ یا
ا مجھے ان لوگوں کے نقش قدم پر چلنے کی
ہمت اور استطاعت کہ جنہوں نے اس رستہ پر چل
کر تیری خوشنودی حاصل کی اور تو نے خوش ہو
کر ان کو انعامات دئے اس کے ساتھ ہی اس قسم
کے مقرب الی ا لوگ اور انکی فہرست سامنے
آئیگی جن پر عزاسمہ خوش ہوا یعنی اولیائے
گراماور انبیاء عظام اور پھر یہ بھی کہیگا کہ
غیرالمضوب علیھم ولالضالین یعنی یا ا جن ترا
غضب ہوا مجھے ان میں سے نہ کرنا جیسا کہ
فرعون۔ نمرود۔ قوم نوح وغیرہ اور نہ مجھے انکا
ساتھی بنانا جو کہ گمراہ ہو گئے اور تجھے بھول
گئے۔ یہ سب باتیں کہہ چکنے کے بعد امین بھی
کہیگا یعنی یا ا میں نے جو کچھ کہا ہے میری
ان درخواستوں اور التجاؤں اور دعاؤں تو سن
اور منظور کر۔سوچنے کا مقام ہے کہ نماز میں یہ
خیالت نہیں تھے۔ نماز کیلئے آئے اور کہاں سے
کہاں تک پہنچے۔
2-
اس قسم کی اور مثالوں کو چھوڑ کر صرف یہ ہی
کافی ہو گی۔ کہ تم نے چار رکعت نماز کی نیت