معاشرہ‘ محنت اور ذہانت
مقصود حسنی
ابوزر برقی کتب خانہ
اپریل ٦١٠٢
مندرجات
معاشرہ محنت اور ذہانت کے تحت ترقی کرتا ہے
جمہوریت سے عوام کو خطرہ ہے
معاشرہ محنت اور ذہانت کے تحت ترقی کرتا ہے
میں امر کا بار بار اظہار کر چکا ہوں کہ برصغیر کے لوگ
بلا کے ذہین اور محنتی ہیں۔ کچھ گربت کے سبب تعلیم
حاصل کرنے سے قاصر رہتے ہیں اور ان کی بچپن ہی
سے ذہانت ہوٹلوں کے برتن دھونے میں ضائع ہو جاتی
ہے۔ کچھ سردیوں کی سرد راتوں میں گرم انڈے فروخت
کرتے کرتے جوان ہو کر معاشرے کی بےحسی کا ثبوت بن
جاتے ہیں۔ بڑی کرسیوں پر برجمان اپنی عیش وعشرت کا
سامان بہم کرنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ انھیں کسی کے
دکھ درد اور بھوک پیاس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔
اربوں جمع کرکے بھی مزید کی ہوس ان کا نصیبہ بن جاتی
ہے۔
یہ معاشرے کے اپنے بچے ہیں۔ معاشرہ ان کی محنت اور
ذہانت کے تحت ترقی کرتا ہے۔ بڑی کرسی والے خود
غرض سہی معاشرے کو تو انھیں ہر حال میں سمبھالا دینا
چاہیے۔ اہل ثروت یہ دیکھتے ہیں کہ انھیں اس سے کیا
فائدہ ہو گا۔ انھیں فائدہ نہ سہی' دیکھنا یہ ہے کہ ان سے
معاشرے کو کیا فائدہ ہو گا۔ ذہانت کو واپسی ملنے والے
فائدہ کے ترازو پر رکھا جائے گا تو بات نہیں بن سکے
گی۔ اس معاملے کو یوں بھی لیا جا سکتا ہے کہ یہ
خوشحال ہوں گے تو ان کی قوت خرید بڑھے گی۔ قوت
خرید بڑھنے سے تاجر حضرات کے کھیسے بھریں گے۔
جو بچے ٹیکنیکل کاموں کی طرف چلے جاتے ہیں اپنی
فطری ذہانت کے بل بوتے پر حیرت ناک کام انجام دیتے
ہیں لیکن ان کی ذہانت گوشہ ء گمنامی کا شکار رہتی ہے۔
ان کی کوئی حوصلہ افزائی نہیں ہو پاتی۔ اس کے دو
نتیجے برآمد ہوتے ہیں
اول۔
بھوک و پیاس اور حالات کی تنگی ترسی برداشت کرتے
کرتے مر کھپ جاتے ہیں۔
دوم۔
مجبورا غربت اختیار کرتے ہیں۔ اس طرح ان کی ذہانت
سے غیر ولایتوں کے لوگ استفادہ کرتے ہیں۔
سے ٹی وی کی خبروں کے مطابق ایک صاحب نے پانی
گاڑی چلا دی ہے۔ اس کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے
مذاق اڑایا جا رہا ہے اسے فراڈ کہا جا رہا ہے اور یہ بڑے
ہی دکھ اور افسوس کی بات ہے۔ آخر اس میں فراڑ والی کیا
بات ہے۔ فراڈ قرار دینے والے جواب دیں بجلی کس سے
بنتی رہی ہے۔ ریلوے کے بڑے کالے انجن کس سے چلتے
تھے بھاپ سے اور بھاپ کس سے بنتی ہے پانی سے۔ اگر
اس نے محنت کرکے اور بھیجے کا استعمال کرکے ایسی
کٹ بنا لی ہے جو پانی سے نکلتی بھاپ کو انرجی میں
کنورٹ کرکے گاڑی چلا دی ہے یا اس کٹ کے ذریعے
بجلی حاصل کرکے گاڑی چلا دی ہے تو مجھے تو اس میں
فراڈ والی کوئی بات نظر نہیں آتی۔ ہاں البتہ بڑوں کا کمشن
اور خلیج کی عشرت کی لٹیا ڈوبتی ہے۔
کہا گیا ہے یونیورسٹی کے پروفیسروں سے حق سچ کی
مہر ثبت کرا ئیں گے۔ اگر وہ اتنے لا ئق پتر ہوتے تو بہت
پہلے یہی چیز تیار کر چکے ہوتے۔ یونیورسٹی کے
پروفیسروں کے پاس اتنا وقت کہاں ہے۔ ان بےچاروں کو
تو جوان کڑیوں سے ٹھرک جھاڑنے سے فرصت نہیں۔
اسکول ماسڑ اور کالج کے پروفیسر نہ ہوں تو ایجوکیشن
کا منشی کدہ تعلیم کو کب کا دریا برد کر چکا ہوں۔ سروے
کروا دیکھیں میرا کہا سولہ آنے سچ نکلے گا۔
تحقیق و تلاش کا سارا کام کالج کے پروفیسر نے ہی کیا
ہے۔ ڈگری کے لالچ کے بغیر یہ لوگ کام کر رہے ہیں
حالاں کہ انھیں اس مغز ماری کے حوالہ سے کبھی کچھ
حاصل نہیں ہوا۔
کیا پانی سورس آف انرجی نہیں ہے۔ اگر ہے تو حوصلہ
شکنی کے کیا معنی لیے جائیں۔ اس سے کمشن کے
گلچھرے ختم ہو جائیں گے۔ پڑول اور گیس کی قیمتوں میں
ہر دوسرے روز اضافے کی موجیں ختم ہو جائیں گی۔ یقینا
عیش وعشرت کی دنیا میں بھونچال آجائے گا۔
پانی ہر قسم کی گیس ہوا بھاپ ریت کچرا دھوپ گوبر
دھواں جانوروں کا پیشاب ہڈیاں وغیرہ انرجی کا ذریعہ ہیں۔
ان چیزوں سے بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر
قدیر زندہ ہیں ان سے دریافت کر لیں۔ دراصل تڑپنے
پھڑکنے کا نظارہ کرنے والوں کے یہ وارہ کی چیزیں نہیں
ہیں۔ لوگوں کو اذیت دے کر انھیں مزا آتا ہے۔
آپ کو یہاں کا بابا آدم ہی نرالہ نظر آئے گا۔ پہلی سے
انگریزی کی تعلیم شروع کر دی ہے۔ اتنی مشکل کتابیں ہیں
کہ دسویں پاس بھی انھیں پڑھ نہیں سکتا ہے۔ اس حوالہ
سے انگریز کی ٹی سی تو ہو جائے گی لیکن نسل کا بیڑا
غرق ہو جائے گا۔
کیا ان کو اباما کی کرسی پر بٹھانا ہے؟
اسی طرح میٹرک میں حساب میں پاس ہونا کامیابی کے
لیے ضروری ہے۔ کیا آرٹس کے بچوں نے آڑھت یا کسی
بنیک میں اکاؤنٹنٹ بننا ہے۔ جغرافیہ جو بڑی لازمی چیز
ہے لایعنی سا ہو گیا ہے۔ انگریزی اور حساب لازمی قرار
دے کر کھیسے تو بھرے جا سکتے ہیں لیکن نوجوان نسل
کو ناکارہ کیا جا رہا ہے۔ ان دونوں مضموں کو آپشنل ہونا
چاہیے۔ جو پڑھے گا شوق سے پڑھے گا اور قوم وملک
کے لیے کار آمد ثابت ہو گا۔
آخر میں قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اس ذہین شخص
کی زندگی کی دعا مانگیں کیونکہ جو گرہ کا دشمن ہوا ہے
اس کے پاسے کبھی باخیریت نہیں رہے۔
جمہوریت سے عوام کو خطرہ ہے
عبدالروف پڑھا لکھا آدمی تو نہیں ہے۔ آبائی مشقتی ہے۔
آج اس کی باتیں سن کر مجھے بڑی حیرانی ہوئی۔ اس قسم
کی باتیں تو اکثر پڑھے لوگ بھی نہیں کرتے۔ میں نے اس
سے دریافت کیا یہ باتیں تم نے کہاں سے سیکھی ہیں۔
کہنے لگا میں رات کو کام سے فارغ ہو کر خبریں سنتا
ہوں' تبصرے سنتا ہوں۔ دوہری حیرانی ہوئی اول تا آخر
پنجابی ہے پڑھا لکھا بھی نہیں اور انگلش گزیدہ اردو
کسی دقت کے بغیر سمجھ لیتا ہے۔ تیسری بڑی بات یہ کہ
اپنی رائے بھی رکھتا ہے۔ اپنی رائے کے حوالہ دلائل بھی
رکھتا ہے۔
اس کا کہنا ہے پاکستان دراصل انگریز کے چیلوں اور
تلوے چاٹنے والوں کو نوازنے کے لیے بنایا گیا۔ دو نمبر
لوگ حکومت کرتے آئے ہیں۔ شروع سے یہی کچھ ہوتا آیا
ہے۔ اس وقت میڈیا محدود اور حکومت وقت کا غلام تھا
اس لیے ان لوگوں کی کرتوتیں عوام تک نہیں پہنچ پاتی
تھیں۔ لوگ بے بسی یبچارگی کو حالات کا المیہ سمجھتے
تھے۔ حاکم نت نئے نعرے استعمال کرکے اپنے عرصہ
حکومت کو طوالت دیتے رہے۔ کشمیر کا نعرہ ایک عرصہ
چلا۔ روٹی کپڑا اور مکان والے نعرے میں بڑی جان تھی۔
کوئی یہ نہ سمجھ سکا کہ یہ نعرہ لگانے والا کس طبقے
سے متعلق تھا اور بھوک پیاس کیا ہوتی ہے سے آگاہ بھی
تھا یا بے خبر تھا۔ اس کے بعد اسلام جو یہاں کے عوام
کی نفسیاتی کمزوری ہے کو استعمال کیا گیا۔ جنرل مشرف
نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ دیا جو اسلامی روح
کے ہی خلاف تھا۔ آج جمہوریت کا نعرہ لگایا جا رہا ہے۔
جلد ہی کہا جائے گا جمہوریت خطرے میں ہے۔ کوئی نہیں
کہے گا کہ جمہوریت نے یہاں کے لوگوں کو خطرے میں
ڈال دیا ہے۔
جمہوریت عوام کا مسلہ نہیں ہے۔ آپ نے غور کیا ہو گا
الیکشن والے دن امیدواوں کے چمچے اور کہیں خود
امیدوار' لوگوں کو پکڑ پکڑ کر سو طرح کے سبز باغ دکھا
کر ووٹوں کے پیسے دے کر اپنی گاڑیوں میں بیٹھا کر
پولنگ اسٹیشن لے کر جاتے ہیں۔ اگر جمہوریت عوام کا
مسلہ ہو تو وہ الیکشن کے عمل میں حصہ نا لیں۔ عوام کا
مسلہ صرف روٹی کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرسی والوں
نے عوام کو روٹی کے چکروں میں ڈال دیا ہے۔ لوگ
کرسی والوں کی باندر پوٹوسیوں سے خوب آگاہ ہیں لیکن
کیا کریں انہیں بھوک نے نڈھال کر دیا ہے۔ آج ان کا مسلہ
صرف اور روٹی ہے۔
عدلیہ طاقت کے سامنے ڈٹی ہوئی ہے۔ عدلیہ ان کے لیے
مذاق بنی ہوئی ہے۔ یہ بھی ان چال بازوں کی ایک چال ہے۔
عدلیہ خط کے چکروں میں پڑی رہے اور اس کی توجہ
اداروں میں ہر روز ہونے والی اربوں کی کرپشن اور غبن
کی طرف نہ جائے۔ سارا قصور سیاست دانوں کا نہیں ہے
اداروں کے افسر یقین دلاتے رہتے ہیں کہ جناب فکر نہ
کریں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ افسر داؤ پیچ بھی بتاتےرہتے
ہیں۔ اس خیرخواہی کے صلے میں لمے نوٹ کما رہے ہیں۔
اس کا کہنا ہے جن لوگوں کا اپنا پیٹ نہیں بھرا اور وہ اس
حوالہ عدلیہ سے ٹکر لینے پر اترے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں
عدلیہ کو مجبور و بے بس کر دینے پر تلے ہوئے ہیں؛
اپنی اس سر کشی کو آئنی قرار دیتے ہیں۔ ان سے خیر کی
توقع رکھنا کھلی حماقت ہو گی۔
اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے
گلے میں سب زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔ اناج اور سبزیات پنجاب
مہیا کرتا ہے پھر بھی بتی سے اسے محروم رکھا جا رہا
ہے۔ بادشاہ کے لیے تو سب برابر ہوتے ہیں۔ کوئی اس کے
اس ڈنڈی مار پروگرام پر بات نہیں کر رہا۔ اسے تو سب
اچھا کی آواز سنائی دیتی ہو گی۔
اس کا موقف یہ ہے۔ لوگوں کے اختیار میں کچھ نہیں۔ لوگ
تو ان کا کھلونا ہیں۔ جمہوریت یعنی ان کی بادشاہت کو
کوئی خطرہ نہیں کیونکہ ساری گوٹیاں سارا گلہ افسر شاہی
اس کے ہاتھ میں ہے۔ افسر شاہی کو اس سے بڑھ کر
موجو میسر نہیں آ سکتا۔
عبدالروف کی باتوں سے اتفاق ہونا یا نہ ہونا قطعی الگ
بات ہے۔ ساری عوام بھی اس طور سے سوچے تو کچھ
فرق نہیں پڑتا۔ اصل سوچنے کی بات یہ ہے کہ لوگ
جہوریت یعنی حکومت کے بارے میں سوچنے لگےہیں۔
اس قسم کی سوچوں سے بےچینی بڑ ھے گی جو بادشاہ
لوگوں کی صحت کے لیے کسی طرح درست نہیں۔ عوام کی
جمہوریت کے حوالہ سے آگہی کسی وقت بھی بغاوت کا
دروازہ کھول سکتی ہے۔
آتے وقت کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر صرف ایک ٹی
وی چینل پی ٹی وی رہنےدیا جائے باقی سب بند کرا دیے
جائیں کیوں کہ یہ انتشار پھیلاتے ہیں اور ان کے باعث‘
نقص امن کا خطرہ ہے۔ کار سرکار میں یہ کھلی مداخلت
ہے۔ اسی طرح دو ایک سرکاری اخبارات سے بخوبی کام
چل سکتا ہے اور چلتا آیا ہے لہذا انھیں بند کرا دینے سے
جموریت کو اس کے اپنے قدموں پر رکھا جا سکتا ہے۔